Off shore companies are just a symptom – Part 2


اس قصے کو یہیں چھوڑتے ہوئے اب آتے ہیں آف شور بینک اور اف شور کمپنیوں کی طرف ۔ ۔

جب فرانس میں انقلاب آیا اور جاگیرداروں و سرمایہ داروں کے خلاف ان کی لوٹ کھسوٹ پر عوام کا غصہ عروج پر پہنچ گیا اور انہوں نے  امراء کے طبقہ کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کردیا تو ان سرمایہ داروں کو فکر لاحق ہوئی کہ کیسے اپنا مستقبل محفوظ بنائیں اور کیسے اپنا مالیاتی تسلط برقرار رکھیں. جب نپولین کو شکست ہوگئی تو فرانس کے امراء کو مزید فکر لاحق ہوگئی کہ انکے بڑھتے ہوئے سرمائے کا کیا بنے گا، اس زمانے میں ویانا اور چینل آئی لینڈز میں موجود سرمایہ داروں نے چھوٹے پیمانے پر بینک بنانے شروع کردئیے اور اور یورپ کے تمام بڑے سرمایہ داروں کو دعوت دینا شروع کردی کہ اپنے سرمائے کے تحفظ کیلئے اپنا پیسہ ، بانڈز/سٹاک اور کمپنیاں وہاں منتقل کردیں جہاں انکو مکمل راز داری مہیا کی جائے گی اور انکا سرمایہ ہر حال میں محفوظ رہے گا۔

یہ وہی زمانہ تھا جب یورپی سامراجیت نے دنیا بھر میں اپنے سامراجی پنجے پوری طرح گاڑ لئے تھے اور شمالی و جنوبی امریکہ اور افریقہ و ایشیا پر قبضے بھی مکمل کرلئے تھے. ان علاقوں پر لوٹ مار والے  قبضے کی وجہ سے دولت کی عام ریل پیل ہوگئی اور بے شمار لوگ طبقہ امراء میں شامل ہونا شروع ہوگئے، اس زمانے میں صنعتی انقلاب کی وجہ سے جاگیرداری کو زوال آنا شروع ہوگیا اورسٹاک بروکر ، بینکاروں، سٹاک کمپنیوں اور صنعتکاروں کے روپ میں سرمایہ داروں کا ایک نیا طبقہ وجود میں آیا، یہ نیا طبقہ بھی اس پرانے محدود سرمایہ دار طبقے کا جلد ہی حصہ بن گیا جو کہ بینک آف انگلینڈ اور اسی قبیل کے دوسرے بینکوں کا مالک تھا اور یورپ کے ملکوں کی معاشیات پر قابض اس محدود طبقے کے پاس دولت ، اثر رسوخ اور اختیار کی اتنی بھرمار ہوگئی تھی کہ عوام میں ایک بار پھر سخت قسم کی نفرت اور بغاوت پھیلنے کے اثار نظر آنے لگے. صنعتی انقلاب کی بدولت عوام میں علم و شعور بڑھا تو اس سرمایہ دار طبقہ کی دولت پر ٹیکس لگانے اور کچھ صورتوں میں ان پر قبضہ کرنے کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں۔

چونکہ لاطینی امریکہ کے ممالک پر یورپی ملکوں کا قبضہ تھا اور اس زمانے میں تجارت اور قدرتی وسائل سے زیادہ تر پیسہ انہی ممالک سے آرہا تھا تو سرمایہ دار طبقہ نے ایک بار پھر اپنے اثر ورسوخ اور سرمائے کو استعمال کرتے ہوئے ، چھوٹے چھوٹے جزیروں پر کمپنیاں اور بینک قائم کرنے کے اجازت نامے حاصل کرلئے اور نا صرف اجازت نامے بلکہ اس بات کی قانون سازی بھی کروا لی کہ وہاں پر موجود کمپنیوں کو ٹیکس ، سرمائے کی راز داری اور تحفظ  کی ضمانت بھی ہوگی اور جو جو ممالک و جزیرے جس کسی یورپی استعماری طاقت کے کنٹرول میں ہیں انکو اس استعماری طاقت کی تمام فوجی طاقت کا تحفظ بھی ہوگا. یعنی ایک بار پھر وہی سرمایہ دار جو پیسے کی رسد و طلب کے مالک بنے ہوئے تھے اپنے سرمائے ، اثر ورسوخ و اختیار کو بچانے میں کامیاب ہو گئے ، حضرت اقبال نے شائد ایسے ہی موقع کیلئے اپنا یہ شعر کہا تھا کہ

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار

انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

اور یوں ، برٹش ورجن آئی لینڈ ، کیمن آئی لینڈ ، چینل آئی لینڈ ، بہاماز، پانامہ ، ماریشس، بیلیز، برمودا ، قبرص، وغیرہ وغیرہ کی ٹیکس و سرمایہ بچانے کے محفوظ ٹھکانے وجود میں آگئے . ان محفوظ ٹھکانوں کی مکمل فہرست آپ انٹرنیٹ سے حاصل کر سکتے ہیں. روس میں ١٩١٧ میں آنے والے بالشویک انقلاب ، پہلی و دوسری جنگ عظیم اور مغربی و روسی بلاکس کی سرد جنگ میں سرمائے کے ان محفوظ ٹھکانوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی اور امریکی و مغربی یورپی سرمایہ داروں نے اپنے سرمائے کو عام لوگوں کی طرح ان پر لگنے والے بھاری ٹیکسوں سے بچانے کیلئے نت نئی چالوں ، کمپنیوں کے ڈھانچوں ، بینکوں کے ڈھانچوں اور قانون سازی سے اپنے سرمائے کو کاغذوں کی حد تک ان محفوظ پناہ گاہوں جنکو لوگ آج آف شور کمپنیاں یا آف شور بینک کہتے ہیں ، میں منتقل کردیا اس سارے قصے میں جو اصل بات غور کرنے کی اور سوالات جو اٹھانے والے ہیں انکی طرف کبھی بھی لوگوں کا دھیان نہیں جانے دیا جاتا. سب سے پہلی بات تو یہ کہ دنیا میں اسوقت جو نظام معیشت تسلط رکھے ہوئے ہیں وہ ہے نظام سرمایہ داری، اور اس نظام کو لانے والے ، نافذ کرنے والے ، تحفظ دینے والے اور پھیلانے والے وہی سرمایہ دار ہیں جنہوں نے اپنے سرمائے کے تحفظ کیلئے سرمائے کی محفوظ پناہ گاہیں بنائی ہیں. دنیا کا کوئی بھی آف شور بینک ، امریکہ ، برطانیہ اور یورپ کے ریاستی (نجی پڑھئیے) بینکوں کے ڈھانچے کا حصہ بنے بغیر کسی بھی قسم کا کاروبار یا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا اور ان ریاستی بینکوں پر قابض لوگوں کی ساری تاریخ میں اوپر بیان کر چکا ہوں دوسرے الفاظ میں یہ آف شور کمپنیاں اور آف شور بینک ، اصل میں اسی نظام سرمایہ داری کا جزو لاینفک ہیں اور اسی نظام نے اپنے مالکوں کے سرمائے کے تحفظ کیلئے ہی بنائی ہیں . اس لئے کسی بھی یورپی یا امریکی حکومتوں کی طرف سے ان پر واویلا یا ان پر پابندی لگانے کے مطالبے اصل میں نری منافقت اور سموک سکرین ہیں اور لوگوں کے غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے ہیں، کیا کوئی اس بات پر یقین کرنے کو تیار ہوگا کہ امریکہ اور یورپ کے ممالک محض اس شک پر کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے  پر تباہی والے ہتھیار ہیں  تو چڑھ دوڑیں اور ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں لیکن ٹیکس چوری اور ٹیکس بچانے والی محفوظ پناہ گاہیں جو چند سو مربع میل کے جزیرے ہیں کے بارے میں کچھ کرنے پر اپنے آپ کو بے بس اور بے اختیار پائیں۔

اب آتا ہوں موجودہ پانامہ لیکس کے قضیے کی جانب، جس دن پانامہ پیپرز کا غلغلہ بلند ہوا اور ساری میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص ہا ہا کار مچی ، میرا اسی وقت ماتھا ٹھنکا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کی جائے جبکہ یہ نظام اپنے ہی سرمائے کو محفوظ کرنے کیلیے ہو اس بابت کچھ ابتدائی تحقیق اور سوچ بچار کیا تو بات فورا کھل گئی اور دوسرے ہی دن میں نے ایک ٹویٹ میں اسکا اظہار کردیا تھا کہ اصل قصہ ہے کیا، تیسرے دن صدر اوبامہ کی تقریر اور امریکی محکمہ خزانہ کی ان معاملات کی تفتیش کرنے اور پھر جید امریکی و یورپی جریدوں میں اوپر تلے چھپنے والے مضامین نے میرے شک کو حقیقت میں بدل دیا کہ اصل قصہ وہی ہے۔ چلیں جی مزید کیا پہیلیاں بجھوانا ، اس بات کو بھی بیان کردوں کہ پانامہ پیپرز اور آف شور کمپنیوں و آف شور خفیہ اکاونٹس کے خلاف موجودہ مہم اصل میں کس لئے ہے۔

١٩٩٠ میں سوویت یونین کے خاتمے سے عالمی سرمایہ داری کو لاحق بڑا خطرہ ختم ہوگیا تھا اور دنیا کے باقی ماندہ وسائل پر بھی عالمی سرمایہ داروں کا قبضہ مکمل ہوگیا. اس قبضے کے نتیجے میں ایک نئی صورتحال یہ پیدا ہوئی کہ یورپی و امریکی سرمایہ داروں کے گروہ کے مقابلے میں روسی ، چینی ، بھارتی اور مشرق وسطی کے سرمایہ دار گروہ پیدا ہوگئے، شروع میں یہ سرمایہ دار گروہ چھوٹے اور کم اثر و رسوخ والے تھے اور انکا عالمی معاشی ہتھکنڈوں بارے تجربہ و علم بہت کم تھا اور یہ لوگ ان پرانے اصلی تے وڈے سرمایہ داروں کے گروہ کے ساتھ اور انکے نیچے لگ کر کام کرنے پر مجبور تھے لیکن چین ، روس ، انڈیا اور مشرق وسطی میں غیر یقینی سیاسی صورتحال نے ان نئے سرمایہ دار طبقوں کو بھی اپنے سرمائے کے تحفظ کیلئے ان آف شور بینکوں اور آف شور کمپنیوں کی راہ دکھلا دی۔

١٩٩٠ کے بعد سے پھیلائی جانے والی عالمگیریت، آزاد منڈی کی معیشت اور سرمائے کے آزادانہ بہاؤ نے ان نئے سرمایہ داروں کو اپنے ملکوں میں موجود قدرتی و معدنی وسائل سے  دولت کمانے کے بے پناہ مواقع فراہم کردئیے اور انکے پاس بھی دولت کے پہاڑ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اس دولت کو سرمائے کی ان محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کردیا اور ان محفوظ پناہ گاہوں کے اچھے خاصے حصے پر قابض ہوگئے. عالمی سرمایہ داری کے اصلی مالکوں کو یہ کیسے گوارا ہوسکتا تھا کہ مراثی کا بچہ گاؤں کے چوہدری بننے کے خواب دیکھے تو انہوں نے اس دوران اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کیلئے متبادل راستوں اور طریقوں پر غور و خوض شروع کردیا اور متبادل ڈھانچہ بنانا شروع کردیا۔

پچھلے چار پانچ سالوں سے مغربی میڈیا اور مغربی سیاستدانوں نے آف شور کمپنیوں اور آف شور بینکوں کے نظام پر شدید تنقید کرنا شروع کردی ہے اور حتی کہ سویٹزرلینڈ پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے بینکوں کے رازداری سے پردہ اٹھائے. یہ سب اس بات کا اشارہ تھا کہ اصلی تے وڈے سرمایہ داروں نے اپنے سرمائے کیلئے نئی محفوظ پناہ گاہوں اور ڈھانچے کا بندوبست کرلیا ہے اور موجودہ آف شور محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے اور نئے نئے سرمایہ داروں کو انکی اوقات دکھانے کا وقت آ گیا ہے. پانامہ پیپیرز کے افشاء کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے کہ اصلی سرمایہ دار طبقہ ، سرمائے کی آف شور محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے جارہا اور اس ضمن میں انکو روسی، چینی اور دوسرے مخالف سیاسی و سرمایہ دار لوگوں کو بدنام کرنے کا مفت میں موقع بھی مل رہا ہے۔

یعنی سرمائے کی آف شور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف مہم میں اصل نشانہ تو کوئی اور ہے اور اس میں شریف خاندان یا دوسری پاکستانی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تو خواہ مخواہ ہی پھنس گئی ہیں پانامہ پیپرز کے حوالے سے یہ بات بھی ذہن نشین کرلیں تحقیقی صحافیوں کی عالمی تنظیم نامی اکٹھ کو پیسے دینے والوں میں کون کون سے اصلی تے وڈے سرمایہ داروں کی فاؤنڈیشنز شامل ہیں۔

ختم شد

حصہ اول پڑھنے کیلئیے یہاں کلک کریں

One thought on “Off shore companies are just a symptom – Part 2

  • April 11, 2016 at 6:40 pm
    Permalink

    بہت معلوماتی تحریر اسی جانب وکی لیکس نے بھی اشارہ کیا تھا کہ اصل نشانہ روس اور دیگر نئے سرمایہ دار ممالک ہیں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *