Off shore companies are just a symptom -Part 1

آف شور کمپنیاں علامت ہیں اصل بیماری نہیں- حصہ اول

موضوع پر جانے سے پہلے تھوڑے سے تاریخی حوالے کہ انکے بغیر اصل کہانی سمجھ نہیں آئے گی۔

ملک ہے انگلینڈ ، بادشاہ ہے جیمز دوئم اور سال ہے 1688،  جیمز دوئم کے گھر پیدا ہوتا ہے اسکا بیٹا جیمز فرانسس ایڈورڈ المعروف جیمز سوئم . بیٹے کی پیدایش نے پہلے سے الجھے جانشینی  کے معاملات کو مزید الجھا دیا. بیٹے کی پیدایش سے پہلے جیمز دوئم کی بیٹی میری دوئم جس کی شادی ہالینڈ کے ولیم سوئم المعروف ولیم  آف اورنج کے ساتھ ہوچکی تھی ، تاج برطانیہ کی جانشین تھی۔

مسئلہ یہ آن پڑا تھا کہ جیمز دوئم کیتھولک تھا جبکہ اسکی بیٹی اور داماد پروٹسٹنٹ اور انگلینڈ میں اشرافیہ بھی پروٹسٹنٹ تھی۔ جیمز سوئم کی پیدایش نے اس بات کی راہ ہموار کردی کہ اب اگلا بادشاہ بھی کیتھولک ہوگا اور یوں انگلینڈ پھر سے کیتھولک بالادستی میں چلا جائے گا  . اس خدشے کے پیش نظر انگلینڈ کی اشرافیہ نے ولیم سوئم اور اسکی بیوی میری دوئم کو دعوت دی کہ وہ جیمز دوئم کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے برطانیہ پر قبضہ کرلیں اور یوں اسی سال جیمز دوئم کو اقتدار سے بیدخل کردیا گیا اور اس انقلاب کو شاندار انقلاب کا نام دیا جاتا ہے۔

ولیم سوئم اور میری دوئم برطانیہ کے اقتدار پر قابض تو ہو گئے لیکن اگلے کئی سالوں میں خانہ جنگی اور فرانس (جسکا جیمز دوئم کے ساتھ الحاق تھا ) کے ساتھ جنگوں میں الجھ کر برطانیہ کا تقریبا دیوالیہ نکل گیا۔ سال 1697 تک حالت یہ ہو گئی تھی کہ برطانیہ کا بادشاہ ولیم سوئم قرضدار ہوچکا تھا اور انگلینڈ ، سکاٹ لینڈ ، ائیر لینڈ میں جاگیرداروں پر مزید ٹیکس لگانے کی کوئی سبیل نہ تھی کہ سخت بغاوت کا خدشہ تھا۔

برطانیہ کو معاشی دیوالیہ اور بادشاہ کو اس صورتحال سے بچانے کیلئے کئی تجاویز پر غور شروع ہوا اور اس زمانے میں ایک سکاٹش شخص  ولیم پیٹرسن نے ایک بینک کے قیام کا خاکہ اور تجویز پیش کی. تجویز یہ تھی کہ بادشاہ کو درکار بارہ لاکھ پاونڈ کی رقم فراہم کی جائے گی اور اسکے بدلے میں بادشاہ ایک نجی بینک ، بینک آف انگلینڈ کا چارٹر سرمایہ داروں کے ایک گروہ کو دے گا اور یہ بینک ، نوٹ جاری کرنے اور جتنے مرضی نوٹ جاری کرنے  اور بادشاہ / برطانیہ کو دئیے گئے قرضہ کے عوض، عام عوام پر ٹیکس لگا کر اپنا قرض وصول کرنے کا حقدار ہوگا، یعنی کہ ریاست اور حکومت کے معاملات پر نجی سرمایہ دار انتہائی اثر و رسوخ والے بن بیٹھے چونکہ اس زمانہ میں کرنسی کا معیار سونا ہوا کرتا تھا اور سونے پر اجارہ داری سناروں اور خاص طور پر گولڈ سمتھ خاندان کی تھی تو انہوں نے درکار زیادہ تر سرمایہ فراہم کیا اور بینک میں بڑے حصہ دار بن گئے۔

اب حقیقت حال یہ ہو گئی کہ بادشاہ اس غرض سے بے نیاز ہوگیا کہ اپنے اللے تللوں اور جنگوں کے لئے درکار سرمائے کا کہاں سے بندوبست کیا کرے، اسکو جب بھی پیسہ درکار ہوگا وہ بینک سے لے لے گا اور بینک کے نجی سرمایہ دار اس قرض اور قرض پر چڑھے سود کی وصولی کیلئے مرضی سے نوٹ جاری کرنے اور عوام پر ٹیکس لگانے میں آزاد و خود مختار تھے اور اس بات میں بھی آزاد و خودمختار کہ کس کس شے اور خدمات پر ٹیکس لگا سکتے ہیں  اور بادشاہ کے لئے ہوئے قرض کو عوام پر قرض میں بدل کر اسے قومی قرض کا نام دیدیا گیا اور عوام سے کسی نے پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی کہ آیا آپ کو یہ قرض قبول بھی ہے کہ نہیں اور یوں دنیا میں ریاستی بینک کے لبادے میں نجی سرمایہ داروں کے کسی ملک کی اکانومی کو کنٹرول کرنے، قومی قرضہ نام کے عفریت اور عوام پر مستقل ٹیکس لگانے کی بنیاد رکھ دی گئی، ناصرف یہ بلکہ اس بات کی بنیاد بھی رکھ دی گئی کہ عوام کے اوپر ٹیکس لگانے، بڑھانے، کم کرنے یا ختم کرنے میں عوام کی مرضی و منشاء کا کوئی اختیار ، اثر یا رائے نہیں ہوگی۔

چلئے تاریخ کے پہئے کو تھوڑا آگے کو گھماتے ہیں، سال ہے 1810 اور مقام ہے واٹرلو ، نپولین کی فوجوں کو شکست ہو چکی ہے اور ڈیوک آف ویلنگٹن  فتح کے جھنڈے لہرا رہا ہے لیکن ٹھہرئیے، ڈیوک آف ویلنگٹن کے نیتھن روتھس چائلڈز کے ساتھ قریبی تعلقات کو نظرانداز نہ کیجئے. اصل میں ڈیوک آف ویلنگٹن کو اسکی فوج کے اخراجات کیلئے زیادہ تر سرمایہ نیتھن روتھس چائلڈز نے ہی فراہم کیا تھا، اور یہ نیتھن روتھس چائلڈز کی مالی امداد ہی تھی جس نےفرانس کی شکست کے نتیجہ میں برطانیہ کو دنیا کی سب سے بڑی استعماری سلطنت بننے میں مدد کی تھی.  ویسے تو اس خاندان نے نپولین بونا پارٹ کو بھی جنگ کیلئے سرمایہ فراہم کیا تھا۔

اب یہ نیتھن روتھس چائلڈز کون ہیں، یہ صاحب ہیں مشہور عام روتھس چائلڈز خاندان کے چشم و چراغ جنہیں اسکے باپ مائیر روتھس چائلڈز نے برطانیہ میں نام اور پیسہ کمانے کیلئے بھیجا تھا اور موصوف نے دنیا کی سب سے بڑی  بزنس ایمپائر کھڑی کی. تو جناب نیتھن روتھس چائلڈز نے ڈیوک آف ویلنگٹن کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میدان جنگ سے لیکر لندن تک تیز رفتار معلومات کی بہم رسانی کا اپنا متوازی نظام قائم کر رکھا تھا. جونہی نیتھن روتھس چائلڈز تک برطانیہ کی فتح کی خبر سب سے پہلے پہنچی ، اس نے اس خبر کو خفیہ رکھتے ہوئے، لندن کی سٹاک مارکیٹ میں اپنے سٹاک اور خاص طور پر پاونڈ اور بینک آف انگلینڈ کے سٹاک  فروخت کرنا شروع کردئیے. چونکہ نیتھن بہت بڑا سرمایہ دار تھا اور ڈیوک آف ویلنگٹن کے انتہائی قریب  تو باقی سرمایہ دار یہ سمجھے کہ برطانیہ کو جنگ میں شکست ہوگئی ہے تو انہوں نے فوری طور پر اپنے سٹاک اونے پونے بیچنا شروع کردئیے ، اسکی وجہ سے لندن کی سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی اور قیمتیں زمین پر آ گری، نیتھن روتھ چائلڈز نے اگلے تین دن جتنا ہوسکتا تھا لوگوں سے انکے سٹاک اونے پونے خریدنا شروع کردئیے اور جب تک لندن میں نپولین کی شکست اور برطانیہ کی فتح کی باضابطہ اطلاع آئی ، وہ برطانیہ کا سب سے امیر شخص بن چکا تھا. روتھ چائلڈ خاندان، اتنا امیر ہو گیا تھا کہ 1810 سے 1820 کے درمیان اس نے بینک آف انگلینڈ کو دیوالیہ ہونے سے بچنے کیلئے تمام درکار سرمایہ فراہم کیا اور ایک طرح سے باقی دوسرے سرمایہ داروں کے ساتھ ملکر  بینک آف انگلینڈ کا مالک بن بیٹھا اور انگلینڈ میں کرنسی،  اسکی رسد اور حکومتی بانڈز پر اسکی اجارہ داری قائم ہو گئی ، کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں اس نے یہ مبینہ مشہور الفاظ کہے تھے

Image1

شائد بہتوں کو یہ حقیقت معلوم نہ ہو کہ 1946 تک بینک آف انگلینڈ ایک نجی بینک تھا اور جب اسکو اسی سال قومیایا گیا تو چونکہ حکومت کے پاس اتنا سرمایہ موجود نہیں تھا تو حکومت نے قیمت کے بدلے حکومتی گارنٹی بانڈز یعنی سٹاک جاری کیے اور حکومت برطانیہ آج تک ان سٹاک کے اوپر منافع اور سود دینے کی پابند ہے، دوسرے الفاظ میں آج بھی نجی سرمایہ دار بینک آف انگلینڈ کے مالک ہیں۔

یہ کہانی بتانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ یہ کام امریکہ میں راک فیلر، روتھس چائلڈز، جے پی مورگن وغیرہ نے  پھر 1913 میں فیڈرل ریزرو کے نام پر کیا اور نجی بینکوں کا ایک کنسورشیم یعنی اکٹھ بنا کر کرنسی کی طلب و رسد اور اسکے اجراء پر قابض ہو گئے۔

1913 میں امریکی سٹاک مارکیٹ کو جان بوجھ کر تباہ کرنے میں یہی نجی بینکر شامل تھے اور بعد میں امریکی کانگریس سے عوام کو دھوکے میں رکھتے ہوئے فیڈرل ریزرو بنانے کی منظوری لے لی، شائد آپ کو جان کر حیرانی ہو کہ امریکی فیڈرل ریزرو، ریاستی یا سرکاری بینک  نہیں ہے بلکہ نجی بینکوں کا کنسورشیم ہے جس کو مرضی سے ڈالر چھاپنے، جاری کرنے کی پوری اجازت ہے اور یہی ڈالر چھاپ کر امریکی حکومت کو قرضہ دیتا ہے جسکو امریکی حکومت عوام پر ٹیکس لگا کر مع سود ان بینکوں کو واپس کرتی ہے۔

سرمایہ داروں کے اسی اثر و رسوخ، دھوکہ دہی اور روپے پیسے کے اوپر کنٹرول کی بات تھی کہ امریکی صدور تک یہ بات کہنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

Image2

Image3

Image4

Image5

Image6

To be Continued . . .

حصہ دوئم پڑھنے کیلئیے یہاں کلک کریں

3 thoughts on “Off shore companies are just a symptom -Part 1

  • April 10, 2016 at 8:50 pm
    Permalink

    بہت اچھا لکھا جناب۔ اب دوسرے حصے کا انتظار ہے

    Reply
  • April 10, 2016 at 8:53 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر، مصنف کی تاریخ پر گہری نظر نے حیران کر دیا

    Reply
  • April 10, 2016 at 8:58 pm
    Permalink

    بہت خوب شاہ صاحب، تحریر مطالعے کا شوق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اتنی اچھی تحریر پر مبارکباد قبولیئے۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *