Kya Yeh Dehshatgardi Nahi ?

علی نے بی کام کے امتحانات پاس کیے ہی تھے کہ اسکو نزدیکی کاٹن فیکٹری میں جاب مل گئی۔ جاب کے ابتدائی دنوں میں ہی گھر والوں نے علی پر شادی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کردیا۔ علی نے اپنے اماں ابا کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ ابھی تو جاب شروع ہوئی ہے اور آگے پڑھنا بھی ہے لیکن یہ ہی جواب آتا کہ بیٹا ہم تمھیں پڑھنے سے کب روک رہے ہیں تم اپنی پڑھائی کرتے رہنا اور آنے والی اپنا رزق ساتھ لے کر آئے گی اس کے آنے سے تمھارے رزق میں برکت ہی ہوگی۔ آخر کار علی نے بھی شادی کے لیے ہاں کردی۔ شادی ہوئی تو گھر والوں نےکہنا شروع کردیا کہ خوش خبری کب سنا رہے ہو آخر ہم بھی دادا دادی بننا چاہتے ہیں اور علی نے فرمانبرداری میں یہ خواہش بھی پوری کردی اور شادی کے پہلے ہی سال میں علی کے گھر چاند سی بیٹی ہوئی۔ جس وقت علی کے گھر بیٹی ہوئی اسی دن علی کے جگری دوست کے گھر بیٹا پیدا ہوا۔ علی کے اماں ابا کو اپنی خوشیاں ادھوری سی لگنا شروع ھوگئیں خود علی کے دل میں بھی بیٹے کی خواہش تھی۔ بمشکل سال ہی ھوا تھا کہ خوش خبری پھر تیار تھی۔

شادی کی دوسری سالگرہ والے دن ان کے گھر ایک اور ننھی شہزادی نے قدم رکھا۔ ڈاکٹر نے اس بار وقفے کی تاکید کی۔ لیکن بیٹے کی چاھت میں علی نےاوپر تلے تین بیٹیاں پیدا کرلیں۔ آج علی کی شادی کو دس سال ہو گئے ہیں۔ پہلی بیٹی نو سال دوسری آٹھ سال اور تیسری بیٹی چھ سال کی ہے۔ شادی کی دسویں سالگرہ میں علی کی بیگم نے ایک بار پھر علی کو خوشخبری سنائی کہ وہ پھر سے باپ بننے جارہا ہے۔ پچھلے چھ سال میں علی کے گھر میں دو بار خوشخبری آئی تھی لیکن کچھ ڈاکٹر کی غفلت اور کچھ علی کی بیگم کی صحت کی وجہ سے دونوں بار مس کیریج ہوگیا۔

اب ایک طرف اس کی بیگم کی طبیعت ہر وقت خراب رہتی تھی روزانہ ہسپتال کے چکر لگ رہے ہوتے تو دوسری طرف بچیوں کے اسکول کی فیس کا مسئلہ بھی۔ نا صرف اسکول کی فیس بلکہ تینوں بچیوں کے ٹیوشن فیس کا مسئلہ بھی۔ روز بہ روز علی کی پریشانی میں اضافہ ہی ہورہا تھا کہ وہ گھر کا خرچہ کیسے چلائے۔ بچیوں کے اسکول اور ٹیوشن کی فیس پوری کرے یا پھر بیگم کے روز کے ہسپتال کے خرچے اٹھائے۔ شادی کے بعد نہ وہ اپنی پڑھائی مکمل کرسکا اور نہ اپنی جاب میں کوئی اچھی ترقی کر سکا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا حالات مشکل سے مشکل تر ہوتے چلے گئے۔ بچیوں کا ٹیوشن چھڑوانا پڑ گیا۔ اور اب اسکول کی فیسوں کی ادائیگی بھی مشکل ہونے لگی حالات اس نہج پہ آ پہنچے کے بچیوں کو اسکول سے نکال دیا گیا۔

خیر سے ڈیلیوری کا وقت بھی آگیا اور علی کے گھر اس بار بیٹے کی ولادت ہوئی لیکن افسوس بیٹے کی ولادت کے دن ہی علی کی بیگم نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔

روزانہ کتنے لوگ مختلف قسم کے حادثات کا شکار ہوتے ہیں ، قتل ھوتے ہیں کتنوں کو اپنی خواھشات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔کیا علی نے بیٹے کی چاہت میں اپنی بیگم کی جان نہیں لی؟

علی کی زندگی بہت خوشحال ہو سکتی تھی اگر اس کے ماں باپ پہلے اس کو اس کی تعلیم مکمل کرنے دیتے اور اگر علی نے کم عمری میں شادی کر بھی لی تو بیٹے کے ہوس میں اپنے گھر کو برباد نہ کرتا۔ کاش علی پہلی بیٹی کی پیدائش کے بعد اس کی پرورش اچھی طرح سے کرتا اور ساتھ ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرتا تو شاید آج علی کے حالات کافی مختلف ہوتے.
یہ صرف علی کی کہانی نہیں ناجانے کتنی ایسی کہانیاں ہونگی ہمارے معاشرے میں ۔۔۔۔

بدقسمتی سے ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لڑکی ابھی انٹر پاس ہوئی نہیں، اس کی شادی کروانے کی فکر شروع ہوجاتی ہے۔ یہی خوف لاحق رھتا ہے کہیں اگر عمر نکل گئی تو اچھے رشتے آنا بند نہ ہوجائیں۔ لڑکا ابھی جاب میں لگا نہیں اس کی شادی کی بات شروع کروا دی جاتی ہے چاہے وہ ابھی صحیح طرح لائف میں سیٹ ہوا ہی نہ ہو۔ شادی ہوئی نہیں کہ خاندان شروع کرنے کے لیے دباؤ شروع کردیا جاتا ہے۔ اور اگر بیٹی ہوجائے تو اس کی پیدائش کے وقت سے اس کی شادی اور جہیز کی فکر۔ اور پھر بیٹے کی چاہت اور یہاں تک کہ بیٹے کی چاہت میں دوسری شادی بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے۔ ایک خواھش کے لیے ماں باپ کتنے جھمیلوں میں زندگی کو ڈال دیتے ہیں۔

کیا یہ ساری باتیں ایک طرح کی دہشت گردی نہیں۔ اور اگر ہے تو ہم بحثیت قوم اس دہشت گردی کا خاتمہ کب کریں گے؟؟

اگر اس دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے تو سب سے پہلے بیٹے اور بیٹی کا فرق مٹانا ہوگا۔ بیٹیوں کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی ان کی شادی کروائیں تاکہ وہ خود مختاری سے اپنی زندگی بسر کریں اور فمیلی پلاننگ جیسی باتوں کو سنجیدگی سے لیں…

18 thoughts on “Kya Yeh Dehshatgardi Nahi ?

  • April 9, 2016 at 6:31 pm
    Permalink

    Your First Blog on ChaiKhana.. Congratulations :))

    Wonderfully highlighting an important Point as always?
    Keep it up!

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    Reply
    • April 9, 2016 at 9:58 pm
      Permalink
      جزاک اللہ
      Reply
  • April 9, 2016 at 6:48 pm
    Permalink
    بہت اچھا لکھا ہے، خیال بھی عمدہ ہے۔ لکھتے رہو
    Reply
    • April 9, 2016 at 9:59 pm
      Permalink
      جزاک اللہ
      Reply
  • April 9, 2016 at 7:15 pm
    Permalink
    بہت عمدہ ??
    Reply
    • April 9, 2016 at 9:59 pm
      Permalink
      جزاک اللہ
      Reply
  • April 9, 2016 at 7:51 pm
    Permalink
    اچھی کوشش روانی اور ربط کیساتھ، ایک اہم سماجی مسئلہ کی نشاندہی کرتی ہوئی. میں نہیں سمجھتا دہشتگردی کی اصطلاح اس صورتحال پر فٹ بیٹھتی ہے، کیونکہ ہمارا معاشرہ جیسا بھی ہے اتنا بے حس نہیں کہ جان بوجھ کر ماں کو مرنے دے، ہاں کم علمی ایک بڑا مسئلہ ضرور ہے. اختلاف کی معذرت ?
    Reply
    • April 9, 2016 at 10:04 pm
      Permalink
      جزاک اللہ سر
      سر لا علمی ہی دہشت گردی کی اکثر وجہ بنتی ہے۔ خیر آپ کا اختلاف سر انکھوں پر ?
      Reply
  • April 10, 2016 at 6:09 am
    Permalink

    Superb. Really appreciate on that and things should be understand. Keep it up bro

    Reply
    • April 10, 2016 at 12:43 pm
      Permalink

      Thanks a lot Salman Bhai

      Reply
  • April 10, 2016 at 12:43 pm
    Permalink

    Please accept my congratulations on the success and another feather in the series if blogs!
    Enjoyed reading and keen to seek other publications too !

    Reply
    • April 24, 2016 at 9:59 am
      Permalink

      Thanks a lot brother your appreciation means a lot

      Reply
  • April 10, 2016 at 5:08 pm
    Permalink
    چائے خانہ پر خوش آمدید اسماعیل، بہت گھمبیر سماجی مسئلے پر قلم اٹھایا، عمدہ تحریر
    Reply
    • April 24, 2016 at 9:59 am
      Permalink
      شکریہ شعیب بھائی
      Reply
  • April 11, 2016 at 9:51 pm
    Permalink

    i am sorry but its not impressive I don’t know why people are praising, I understand the idea of encouraging new writers but ……. Anyhow I feel the idea of failed career is wrongly connected with early marriage and a lot of issues mixed and no justice to even a single one.

    Reply
    • April 24, 2016 at 10:04 am
      Permalink

      Thanks for reading and criticism 🙂

      Reply
  • April 12, 2016 at 9:07 am
    Permalink
    بہت عمدہ تحریر اسمعیٰل ہمیشہ کی طرح اور موضوع بھی بہت اعلی ???
    Reply
    • April 24, 2016 at 10:04 am
      Permalink
      شکریہ بلال
      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *