Bay Rabtiyan

مداری بڑے با کمال لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔۔
کام کا بے پناہ دباو  ہو تو فراغت کے بعد عجیب سے مستی آن گھیرتی ہے۔ ایسی ہی مستی  شدید قسم کی بھوک کے بعد مزیدار سا کھانا کھانے سےبھی آتی ہے۔ حالیہ عرصے میں کھانے کے بعد آنے والی مستی سے ہمیشہ مُرشد کے ساتھ جمنے والی ہماری دوسری محفل یاد آجاتی ہے۔ سٹاک ہوم میں مُرشد کے ساتھ ہماری پہلی محفل اس سے صرف ایک دن پہلے جمی تھی۔ لیکن  دونوں اسی دن سٹاک ہوم پہنچے تھے تو سفر اور دن بھر کے کام کاج کی وجہ سےلبنانی کباب پر ہی گزارہ کرنے کے ہم دونوں نے اپنے اپنے ہوٹل کا رستہ ناپ لیا۔ دوسرے روز لیکن ہم نے مُرشد کی رہنمائی میں چلی مصالحہ ڈھونڈھ نکالا۔ سکینڈنیویا میں اس سے اچھا دیسی رسٹورنٹ ابھی تک نہیں دیکھا۔ کھانا مزےکا تھا اور ہم دونوں نے کھایا بھی خوب۔ کھانے کے بعد ہم چلے تو اپنے اپنے ہوٹل کی طرف ہی تھے لیکن مزید گپ شپ کے لیے میرے ہوٹل کی لابی میں ہی محفل جما کر بیٹھ گئے۔ایسے ہی رنگ میں مُرشد نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے اچانک ہی پوچھ لیا۔  کبھی سوچا ہے کہ نوازشریف نے رائیونڈ کے فارم ہاوس کو اتنا بڑا کیوں بنایا؟۔ مُرشد کے اس اچانک سوال کے جواب میں کُچھ نا بنا تو ہم نفی میں ہی سر ہلا کر رہ گئے۔ ہمارےاس جواب کے بعد مُرشد گویا ہوئے ۔ جب  جنرل جیلانی نے بڑے بڑے سیاسی خانوادوں کو ایک طرف کرتے ہوئے نوازشریف کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوایا تھا تو  یہ سیاسی خانوادے طعنے دیتے تھے کہ  یہ کسے وزیراعلیٰ بنادیا ہے۔ نا تو یہ کوئی سیاستدان ہے اور نا ہی کوئی وڈیرا زمیندار۔ نوازشریف نے جواب میں رائیونڈ سٹیٹ کا عالی شان فارم ہاوس بنا ڈالا یہ سوچتے ہوئے کہ “تم سب کہتے تھے نا کہ یہ کونسا زمیندار  ہے ۔۔۔ یہ دیکھو اب۔
 
 مُرشد کی یہ بات اکثر اس وقت ذہن میں آتی ہے جب اپنےاپنے علاقوں میں خدا بنے ان  جاگیرداروں اور سرداروں کو رائیونڈ میں حاضریاں لگاتے دیکھتا ہوں۔  لیکن حالیہ دنوں میں یہ بات اس لیے بھی بار بار ذہن میں گھومنا شروع ہوگئی کہ حامد ناصر چٹھہ کا تازہ تازہ بیان دیکھنے کو ملا ۔ موصوف فرماتے ہیں کہ نوازشریف کے خلاف ان کی جدوجہد بیس برس پُرانی ہے۔ لگتا ہے بڑھتی عمر نے ان کے ذہن پر اثر ڈال دیا ہے ورنہ وہ تو شروع سے ہی نوازشریف کے خلاف تھے۔ نوازشریف جب وزیراعلیٰ بنے تھے تو وزارت عظمیٰ کا قلمدان محمد خان جونیجو نے سنبھالا تھا۔ محمد خان جونیجو کی وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے پسند تھے ملک اللہ یار لیکن جونیجو مرحوم کی اپنے باس کے سامنے چل نا سکی اور وزیراعلیٰ بن گئے شہری علاقے کی پڑھی لکھی قیادت پروگرام کے تحت سامنے لائے جانے والے نوازشریف۔ مگر نوازشریف پھر بھی جونیجو مرحوم کو قبول نا ہوئے تو ان کے نوجوان وزیر یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ایک اور سیاسی خانوادے چوہدری پرویز الٰہی کی کُھسر پُھسر کے توسط سے نوازشریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد آن وارد ہوئی۔ نوازشریف نے جب اپنی علیٰحدہ مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تھی تو تب بھی چٹھہ صاحب اس کے مخالف گروہ میں ہی جمے رہے۔ بعد میں نوازشریف کی مخالفت میں ہی وہ بی بی کے ساتھ بھی چلتے رہے۔ نوازشریف کا سفر مگر بلندیوں کی طرف گامزن رہا تو حامد ناصر چٹھہ کا پستیوں کی طرف۔ موجودہ دہائی میں تو علی پور چٹھہ کی آبائی نشست سے بھی ان کی شکست کا ساماں ہونے لگا۔ گذشتہ انتخابات میں اسی نشست کو واپس لینے کے لیے موصوف ایک دن رائیونڈ میں حاضری دینے چلے گئے۔ نوازشریف مگر ایک دفعہ پھر سے اپنا امیدوار سامنے لے آئے اور چٹھہ صاحب کو شکست کے گھپ اندھیروں میں پھینک دیا۔ مخالف کی شکست کو تسلیم نا کرنے کی ہماری عظیم الشان روایت جاری رہی اور بذریعہ سپریم کورٹ اس حلقے میں الیکشن کا بگل ایک دفعہ پھر سے بجا دیا گیا۔ اپنی طاقت کا مرکز یعنی اس حلقے کے دیہی علاقوں میں گھر گھر جا کر معافیاں مانگتے ہوئے حامد ناصر چٹھہ اپنے حامیوں کو راضی کرچکے تھے تو امید یہی تھی کہ اب کی بار قسمت  یاوری کر ہی جائے گی اور کسی زمانے میں بچوں جموروں کا دُم چھلا بننے کا صلہ بالآخر مل ہی جائے۔
بچوں جموروں سے یاد آیا اس انتخاب میں چٹھہ صاحب جیسے روایتی سیاست کے قائد کا کردار پوری آب و تاب کے ساتھ نبھا رہے تھے تبدیلی کے نشان جناب عمران خان۔ بلکہ دیہی علاقوں سے مطمئن ہونے کے بعد چٹھہ خاندان نےخان صاحب کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہی اس لیے کیا تھا کہ انھیں شہری علاقوں سے ووٹ ملے گا۔ سونے پے سہاگہ یہ ہوا کہ نوازشریف کی طرف سے میدان میں اتارا جانے والا امیدوار بھی اپنے حلقے سے یوں بے نیاز تھا جیسے کوئی ملنگ دُنیا سے بے نیاز ہو چُکا ہو۔اوپر سے جسٹس چیمہ صاحب کی اپنے حلقے میں موجود جماعتی رہنماوں کے ساتھ ساتھ پنجاب اسمبلی کے ممبران سے بھی ان بن چل رہی تھی۔ یہ انتخاب ایک ایسا بارہ مصالحہ بن چُکا تھا جس میں شامل ہر مصالحہ ہی نوازشریف کے خلاف دکھائی دے رہا تھا۔ لیکن کپتان نے پرانی پھر غلطی دہرا دی۔ موصوف کی روایت ہے کہ جہاں بھی بڑے بڑے جلسے کرتے ہیں شکست ہی ان کا مقدر بنتی ہے۔ اوریہاں تو جناب نے تین چار جلسے کھڑکا دیے۔ خان صاحب اگرچہ خود کو شہری علاقوں کے پڑھے لکھے ووٹ کا مالک سمجھتے ہیں لیکن ہوا یہ کہ نوازشریف کے امیدوار دیہی علاقوں سے بُری طرح پٹتے ہوئے اپنی آبائی یونین کونسل سے بھی شکست کھا نے کے باوجود شہری علاقوں کےلیگی ووٹروں کے بل بوتے پر ایک دفعہ پھر سے جیت گئے۔ نوازشریف کے نام پر پڑنے والے ووٹوں نے نا صرف دیہی علاقوں کا فرق ختم کیا بلکہ توقعات سے دُگنے فرق سے انھیں فاتح بھی ٹھہرا دیا۔
ایک زمانے میں کپتان کا عالم پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں والا تھا۔ محکمہ ذراعت و آبپاشی کی مہربانیوں سے کپتان کچھ عرصے کے لیےایسے دندنائے کہ جیسے محمد عمران خان نیازی نہ ہو بلکہ محمود سلطان غزنوی ہوں اور سومنات تک بس پہنچنے ہی والے ہوں۔ لیکن اب ان کے ساتھ  ایہہ نئیں اوں سجناں اصول پیار دے ، نکے نکے مُنڈے تینوں جُگتاں ماردے والا عالم ہو چُکا ہے ۔ لندن پلان میں “ہیرو” کا رول کرنا کپتان کے لیے سیاسی خودکشی بن گیا اور کپتان کی سیاسی ناکامی سے پیدا شدہ خلا اب محکمہ زراعت  و آبپاشی اب ضلع اور ڈویژن کی سطح پر مختلف معلوماتی، انکشافاتی اور جذباتی پروگرام منعقد کرکے پورا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کپتان کے حوالے کیے جانے والے تسبیح کے سارے دانے اب اپنے اپنے علاقوں میں چھوٹے چھوٹے بہادر شاہ ظفر بنے بیٹھے ہیں۔  بہادر شاہ ظفر کے ذکر سے یاد آیا کہ ایک ہمارے وزیراعظم بھی ہوتے ہیں۔ کبھی آتش جوان تھا تو بڑے بڑے سیاسی خانوادوں کی چھٹی کروانےکے بعد بڑے بڑے جرنیلوں ، ججوں اور سرکاری افسروں کو کھڑے کھڑے ہتھکڑیاں لگوا دیا کرتے یا گھر بھیج دیا کرتے تھے۔ اسی ادا نےشاید سویلین سپرمیسی کے پیروکاروں کے دل جیت لیے۔ سادہ طبعیت اور مشرقی روایات پر مبنی طرز زندگی نے ہر کسی کا لیڈر بنا ڈالا۔ جلاوطنی اور اس کے بعد کی سیاسی ڈاکٹرائن نے لیڈر سے رہنما بنا ڈالا۔ عوام نے تو انھیں  اپنا وزیراعظم بنا کر اسلام آباد بھیجا تھا اور ان کا آغاز بھی وزیراعظموں والا ہی تھا۔اب جن کی سلطنت وہ درہم برہم کرنے چلے تھے انھوں نے مزاحمت تو کرنی ہی تھی اور مزاحمت ہوئی بھی۔ لیکن مشکل وقت گزارنے لینے کے بعد جب بھلا وقت سر پر آرہا تھا تو وہ ہمت ہار بیٹھے۔ ہنسوں کی وہ جوڑی ، جو کہ انھیں ہر وقت گھیرے ہوئے محکمہ ذراعت و آبپاشی کے سربراہ کی ضمانتیں دیتی رہتی ہے  ، نے تیسری مال دار آسامی کو بھی ساتھ ملایا اور جھاڑیوں میں اٹکی سونےکی چڑیا کا جھانسا دلا کر ہاتھ میں پکڑی ہوئی چڑیا کو پُھر کروادیا۔ کچن کیبینٹ کےاندر پائی جانے والی اس کچن کیبینٹ نے طیب اردگان بننے کے مشورے دے دے کر انھیں بہادر شاہ ظفر بنا ڈالا۔ کچن کیبینٹ کے اندر پائی جانے والی یہ مثلثی کچن کیبینٹ اگرچہ بڑے کام کے لوگوں پر مشتمل ہے لیکن  کاش کہ کوئی دونوں دونوں ہاتھوں کو ہھتکڑیاں لگوانے والوں، طیارہ سازش کیس میں ان کے ساتھ مقدمے اور قید بھگتنے والوں ، سڑکوں یا  عقوبت خانوں میں پٹنے والوں اور سب سے بڑھ کر چاروں آمروں کے ہاتھوں تختہ مشق بننے والوں سے پوچھ ہی لیتا۔
کاش کہ کوئی ان کارکنوں سے پوچھ لیتا جو کہ ایک وقت میں سیاسی اور نظریاتی طور پر خود وقارزدہ ہوتے تھے لیکن نوازشریف کی قیادت نے ان کی سوچ کو بدل دیا۔ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ سویلین سپرمیسی کی باتیں بھی شاید ٹرک کی ایک بتی ہی تھیں۔ ہم تو اُمید ہی کرسکتے ہیں کہ میاں صاحب کو کبھی یہ یاد آجائے کہ  محمکہ زراعت تو انھیں بیرون ملک تحقیق کے لیے سکالرشپ پر بھیج چکا تھا۔ یہ  سویلین سپرمیسی نامی ٹرک کی بتی ہی تھی جس نے انھیں سیاست میں دوسرا جنم دیا ہے۔ لیکن انھوں نے خیالی وزیراعظموں کے جمگھٹے میں ٹرک کے پیچھے پیچھے چلتی ہوئی مخلوق کے بارے میں سوچنا گوارہ بھی نا کیا۔ اب خیالی وزیراعظموں کی بات چل ہی پڑی ہے تو یہ بات بھی ہوجائے کہ موجودہ حکومت کے اندر بھی کئی خیالی وزیراعظم پائے جاتے ہیں۔ ایک تو جناب برادر صغیر ہی ہیں۔ حوالے تو ان کے پنجاب کیا گیا تھا اور وہ بھی ان کی انتہائی تشویشناک صحت کے باوجود۔ لیکن  وہ اکثر بھا جی کے اردگرد ہی پائے جاتے ہیں۔ شروع شروع میں تو لگتا تھا بھا جی اگر کسی کرکٹ میچ میں باولنگ یا بیٹنگ کے دوران دوڑیں گے تو یہ بھی ساتھ ساتھ ہی دوڑنا شروع کردیں گے۔ وہ تو بھلا ہو ملکی قانون کا ورنہ یہ تو شاید وزارت عظمیٰ کے حلف برداری کے دوران بھی ساتھ ہی کھڑے ہو کر حلف لینا شروع کردیتے۔ایک یہ خیالی وزیراعظم ہیں تو دوسرے ہیں ان کے یار غار۔ موصوف کو بلاشبہ اس حکومت کا سب سے مشکل ترین محکمہ سونپا گیا تھا اور بلاشبہ ان کے محمکمے کے فیصلوں میں وزیراعظم ، سپہ سالا سمیت کئی لوگوں کی رائے شامل ہوتی ہے لیکن نزلہ صرف ان پر ہی گرتا ہے ۔ ان کی وزارت کے نتائج بھی بہترین ہیں ۔۔۔۔ لیکن شاید یہ ماحول ہی ان کے دماغ پر بھی اثر کرگیا ہےجو کئی دفعہ دوسروں محکموں بارے میں فیصلے بھی یوں کرجاتے ہیں جیسے وہ محکمے بھی ان کی زیرنگرانی ہی ہوں۔ پھر ناراض ہو کر خود ہی بیٹھ بھی جاتے ہیں۔ سب سے دلچسپ مرحلہ تو وہ تھا جب ایم کیو ایم محکمہ زراعت کی طرف سے اپنے کھیتوں کی تقسیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تمام اسمبلیاں چھوڑ رہی تھی لیکن اپنے تئیں وزیراعظم بنےان صاحب نے کسی بھی دوسرے سے مشورہ کیے بغیر سپیکر قومی اسمبلی کو کہہ دیا کہ استعفے منظور کر لیے جائیں۔ ہنسوں کی اس جوڑی میں اب مال دار آسامی بھی گھس چکی ہے۔ کام ان کا بھی مشکل تھا اسی لیے اختیارات بھی ان کے پاس بہت تھے فیصلہ سازی کے لیے۔ کام کیا بھی اچھا لیکن کبھی کبھار ان کے فیصلے دوسروں کو لے ڈوبتے ہیں۔ جیسے ملک میں تیل کے بحران کے وقت ہوا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہونے تھے اور مقصد ملکی ذر مبادلہ کی مقدار بھاری دکھانا تھا۔ چنانچہ پی ایس او کے ساتھ ضروری تعاون نا کیا گیا اور ملک میں پٹرول پمپس پر لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں ۔۔۔ الزام جناب نے دھر دیا  وزیر پٹرولیم پر۔ بات یہیں نا رُکی۔ دھرنوں کے خاتمے کے بعد وزیراعظم اپنی اسی کچن کیبینٹ کے اندرموجود کچن کیبینٹ کو لے کر مری چلے گئے۔ مقصد تھا سوچ بچار۔ لیکن دو دن کی اس سوچ بچار میں ہنسوں کی جوڑی نے معاملے سے باخبر ہونے کے باوجود بھی وزیرپٹرولیم اور پانی و بجلی کو فارغ کروانے کی رٹ لگائے رکھی۔ عوام کی بھاری اکثریت کے ووٹوں سے وزیراعظم بنے شخص کو ان خیالی وزیراعظموں اور محکمہ زراعت نے ایک کسان ممبر بنا کر رکھ دیا ہے۔ ویسے اب محکمہ ذراعت کو بھی چاہئیے کہ اپنے دفتر کے باہر بورڈ لگوالیں کہ ہمارے یہاں منتخب وزیراعظموں کو کسان ممبر بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ ساتھ میں فہرست بھی لگادیں گذشتہ دو دہائیوں میں وزیراعظم بننے والے ناموں کی۔
ویسے محکمہ زراعت اگر فہرست نا بھی لگائے تو لوگ ان کے صرف الفاظ پر ہی یقین کرلیں گے۔ اس بات کا مصدقہ علم تو نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ محکمہ آبپاشی بھی محکمہ زراعت کا ہی ایک ذیلی ادارہ ہے۔ نا بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ ہیں تو یہ دو قالب ایک جان ہی۔ محکمہ آبپاشی کا  ویسےبھی پانی پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔ وہ جہاں چاہیں پانی دیں اور جس کو چاہے انکار کردیں۔ فصل اچھی ہو یا بری ۔۔اس کا دارومدارموسم اور محکمہ آبپاشی کی منشا پر ہی ہوتاہے۔ کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ مختلف جگہوں پر بند توڑنے کا فیصلہ  بھی محمکہ آبپاشی ہی کررہا ہوتا ہے۔ اور بند تو ہمارے ہاں ایسے ٹوٹتے ہیں جیسے بند نا ہو بلکہ ریڈزون کا حفاظتی حصار ہو۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ریڈزون میں ہر کچھ عرصے کے بعد بغیر اجازت کے دراندازی ہورہی ہوتی ہے لیکن ہماری حکومتیں ان دراندازوں کےسامنے یونہی کھڑی ہوتی ہیں جیسے قصائی کے سامنے بکرا۔ ان دراندازوں کے سامنےحکومت ایک ایسا تماشائی بنی کھڑی ہوتی ہے جس کے گھر کے سامنے بنا پوچھے مداری نے تماشا لگا کر راہگیروں کا جمگھٹا اکٹھا کرلیا ہو۔ تماشائی بھی جانتا ہے کہ اب آٹا لیے بغیر مداری بھی یہاں سے نہیں ہلےگا۔ چنانچہ تماشائی بھی آٹا دینے میں پہل کرتا ہے۔ کچھ تماشائی تو مداری کے سارے گر جانتے بوجھتےہوئے بھی یوں کھڑے ہوتے ہیں جیسے کہ یہ تماشہ پہلی دفعہ دیکھ رہے ہوں۔ یہی نہیں بلکہ حیرت زدہ تبصروں کا اظہار بھی یوں کررہے ہوتے ہیں جیسے مداری نے کوئی ایسا گر آزمایا جو کہ تاریخ میں پہلی دفعہ دکھایا جارہا ہو۔ ایسے تماشائی اکثر مداری کے ساتھ ہی دیہاڑی پر نکلتے ہیں۔ بات گھوم پھر کے مداریوں پر آہی گئی۔ ویسے مداری بھی کئی اقسام کے ہوتے ہیں۔ کچھ مداری پٹاری سے سانپ نکالتے ہیں لیکن سانپ زہریلا نہیں ہوتا۔ کچھ مداری بندر یا ریچھ نچا کر آٹا لے جاتے اور کچھ مداری دکھاتےتو  جادو ہیں لیکن بیچتے انگوٹھی ہیں۔ واقعی ہی ۔۔۔ مداری بڑے باکمال لوگ ہوتے ہیں۔

6 thoughts on “Bay Rabtiyan

  • April 3, 2016 at 8:36 pm
    Permalink
    ہمیشہ کی طرح بہت بہتر ین مدثر سر
    Reply
  • April 3, 2016 at 8:49 pm
    Permalink
    پرمغز اور لگی لپٹی رکھے بغیر نوکدار تبصرہ آپ کی پہچان بن چکا ہے۔ ماشاءاللہ
    Reply
  • April 3, 2016 at 9:07 pm
    Permalink
    کچھ اندر کی باتیں، کچھ باہر کے خیال، کچھ اندر کے جوڑ توڑ، کچھ باہر کی طوطا چشمیاں سب پر یکساں نظر۔ ہمیشہ کی طرح بہت خوب تحریر، لکھتے رہئیے حضرت
    Reply
  • April 4, 2016 at 11:19 am
    Permalink
    کافی مفصل تبصرہ کیا تھا رات کو ، پتا نہیں کیوں پبلش ہی نہ ہوا – اب دوبارہ ہمت نہیں لکھنے کی ، اس لیے ویل ڈن ہی کہے دیتے ہیں :)))
    Reply
  • April 4, 2016 at 8:25 pm
    Permalink
    اصل سیاسی داستان گوئی کا فن ہے آپ کے پاس۔۔۔۔۔
    Reply
  • April 5, 2016 at 6:08 am
    Permalink
    بہت خوب مدثر صاحب، آپ نے خشک سیاسی حقائق ایک دلچسپ کہانی کی طرح بیان کیے ہیں
    مجھے زیادہ مزہ اس لئے آیا کہ میرا تعلق بھی گوجرانوالہ سے ہے، جسکا ایک علاقہ علی پور چٹھہ ہے
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *