Media aur Hum

اس میں کوئی شک نہیں کہ عصر حاضر کا میڈیا معاشرے اور لوگوں کی زندگي پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مخاطب کس
طرح راضی ہوتا ہے کہ ذرائع ابلاغ اور میڈیا اس کے لیے کسی چیز کا انتخاب کرے؟ ماہرین سماجیات میڈیا کو معاشرے کی ضروریات کو پورا کرنے والا قرار دیتے ہیں۔ اس لیے معاشرے کا ایک فرد میڈیا کو اپنے دوست اور مشیر کے طور پر منتخب کرتا ہے اور خود اس سے بات کیے بغیر اس کی باتیں سنتا ہے۔ البتہ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ افراد ٹی وی پروگرام دو مقصد کے تحت دیکھتے ہیں ایک وہ لوگ ہیں جو اپنی پسند کے پروگرام دیکھتے ہیں اور اگر ان کی پسنداور مقصد کا کوئي پروگرام نہ ہو تو وہ ٹی وی نہیں دیکھتے اور دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو بغیر کسی مقصد کے ٹی وی پروگرام دیکھتے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ ٹی وی پروگراموں سے زیادہ اثر نہیں لیتے ہیں لیکن دوسری قسم کے افراد پر ٹی وی پروگرام زیادہ اثرات مرتب کرتے ہیں اور وہ ٹی وی دیکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اسی وجہ سے ان کے طرز زندگی پر ٹی وی پروگراموں کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ تو بہتر ہے کہ ہم طرز زندگی کی بھی کوئي تعریف کریں۔ طرز زندگي، اقدار ، رفتار و کردار اور مجموعی طور پر انسان کی عادات کے مجموعے کا نام ہے جس میں اس کی زندگی سے تعلق رکھنے والی تمام چیزیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک معاشرہ بھی ایک خاص طرز زندگي کا حامل ہوتا ہے۔ طرز زندگی میں انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کے طرز زندگی شامل ہیں۔
اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ خود آزادانہ طریقے سے طرز زندگی کا انتخاب کرنا چاہیے اور یہ ان کے قانونی حقوق اور اختیارات میں شامل ہے۔ لیکن کیا آج کی دنیا میں ایسا ہوتا ہے۔
میڈیا سے وابستہ اکثر افراد کا یہ کہنا ہے کہ لوگ خود اپنے طرز زندگی کا انتخاب کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ مسلسل اپنے ناظرین کی رائے معلوم کرتے رہتے ہیں اور وہ ان کی رائے اور خیال کا احترام کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ان کے پروگرام ناظرین کی رائے کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں لیکن اسی سلسلے میں بعض بنیادی سواالات ذہن میں آتے ہیں اور تمام چیزیں اتنی سادگي سے انجام نہیں پاتی ہیں۔
میڈیا کے شعبے کے ماہرین اس سلسلے میں خبر پہنچانے میں میڈیا کے بعض طریقوں کا ذکر کرتے ہوئے عوام کی سوچ پر میڈیا کے اثرات سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ ایک روش خبر کے گیٹ کیپر کے نام سے ہے کہ جس کے تحت انتخاب کا حق میڈیا کو دیا جاتا ہے یعنی یہ کہ میڈیا سب باتیں نہیں کہتا ہے بلکہ وہ مسائل بیان اور نشر کرتا ہے جو اس کی اسٹریٹجی سے مطابقت رکھتے ہیں۔
میڈیا کی ایک اور روش ایجنڈا سیٹنگ ہے کہ جس کے تحت میڈیا تمام خبروں اور مطالب میں سے بعض مسائل کو نمایاں طور پر بیان کرتے ہیں جبکہ ممکن ہے کہ وہ حقیقت میں اتنے اہم نہ ہوں جتنا میڈیا ان کو اہم بنا رہا ہے۔
لیکن ان دو روشوں سے اہم تیسری روش ہے جسے فریمنگ یا خبر کو ایک خاص رنگ دینا کہتے ہیں۔ اس روش میں میڈیا ناظرین کے لیے ایک خاص فریم تیار کرتا ہے اور تمام مسائل اسی فریم کے تحت بیان کیے جاتے ہیں اور ان کی تشریح کی جاتی ہے۔ اس طرح ایک عرصے کے پروپیگنڈے کے بعد ناظرین میڈیا کے ساتھ ہم فکر ہو جاتے ہیں اور اسی فریم کے تحت دنیا کو دیکھتے ہیں۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ میڈیا کسی حد تک افراد کے فکری اور نظری نظام کی تشکیل میں مؤثر کردار کا حامل ہے۔ اور یہ فکری نظام ہی ہے کہ جو طرز زندگی کی بنیادوں کو واضح کرتا ہے۔ دوسری جانب میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا مسلسل طرز زندگی کی تعلیم دے رہا ہے۔ یہ کہ لوگ کس طرح اپنے فارغ اوقات بسر کریں، ان کا گھر کس طرح کا ہونا چاہیے۔ انہیں کہاں دوسروں سے بات چیت کے لیے ملاقات کرنی چاہیے اور سفر کے لیے کہاں جانا چاہیے اور کس کے ساتھ جانا چاہیے۔

9 thoughts on “Media aur Hum

  • April 3, 2016 at 12:50 am
    Permalink
    بہت عمدہ تجزیہ امجد صاحب
    Reply
    • April 4, 2016 at 6:04 pm
      Permalink
      شکریہ جناب
      Reply
  • April 4, 2016 at 9:50 am
    Permalink
    امجد بهائی بہت اچهی تحریر اور اس بات سے متفق کہ میڈیا ہمیشہ وہی چیز دکهائے گا
    جس سے اسکی ریٹنگ میں اضافہ ہو گا اور سنسنی پهیلے گی. اسے عوام کے احساسات سے کوئی مطلب نہی.

    لکهتے رہئے بهائی.

    Reply
    • April 4, 2016 at 6:05 pm
      Permalink
      شکریہ یاور
      Reply
  • April 4, 2016 at 11:12 am
    Permalink
    میڈیا نے گذشتہ کچھ سالوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل کی ہے.
    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    میڈیا کو یہ اہمیت ایک مسلسل جدوجہد کے بعد حاصل ہوئی ہے. بد قسمتی سے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا پر عروج مارشل لاء دور میں آیا م. یہاں تلفظ خوش گفتاری لباس اور خوبصورت چہرہ تو معیار بنا لیکن صحافت الیکٹرانک میڈیا کے لیے معیار نہ بن سکی چنانچہ غیر تربیت یافتہ طبقے نے میڈیا کو یرغمال بنا لیا.

    Reply
  • April 5, 2016 at 8:10 am
    Permalink

    Mashallah Amjad Saab…

    Reply
  • April 8, 2016 at 8:42 am
    Permalink
    بہت عمدہ تجزیہ
    Reply
  • April 12, 2016 at 9:21 am
    Permalink
    امجد بھائی بہت امپورٹینٹ نکتے کا ذکر کیا ہے۔۔۔
    ہمارا میڈیا ہر سچائی کو بیان نہیں کرتا اور اس کے برعکس یہ کہ جھوٹوں کے انبار ہیں
    بہت اعلی تجزیا اور عمدہ تحریر ??
    Reply
  • April 12, 2016 at 7:39 pm
    Permalink

    Lallaa U have written an astonishing blog in vch u have Showed the real face of media n as wel as some of the positive aspects of media.But media shows more negativity jst for their fucking points.Sorry for the abuse.Keep it up Lalla

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *