Chouraha

شہر کے بیچوں بیچ وہ چوراہا آمدورفت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا. لگ بھگ پورا دن گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں، رکشوں کا تانتا بندھا رہتا. خاص بات یہ کہ چوراہا کونے پر واقع پرانی آبادی کو باقی شہر سے ملانے کا واحد راستہ تھا، کیونکہ اس آبادی کو تین طرف سے ایک نالے نے گھیرا ہوا تھا. کہیں بھی جانے کے لیے آبادی کے باسیوں کو اسی چوراہے سے گزرنا ہوتا تھا .

مدثر اسی آبادی کا مکین تھا. ہونہار نوجوان جس کا تعلیمی ریکارڈ اس کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت تھا. بیوہ ماں اور چھوٹے بھائی کی امیدوں کا مرکز بس وہی تو تھا. ڈیڑھ سال تک جوتیاں چٹخانے کے بعد نوکری کی امید بندھی تھی، ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا تحریری امتحان اور ٹیکنیکل انٹرویو کلئیر کر چکا تھا. بس فائنل ایچ آر انٹرویو کال کا انتظار تھا. جسے کلئیر کرنا کچھ زیادہ مشکل نظر نہ آتا تھا کہ ایسے انٹرویو میں تو ظاہری رکھ رکھاؤ، بول چال کا انداز اور وقت کی پابندی ہی زیادہ ضروری عوامل ہوا کرتے ہیں. مدثر کی محنت کش ماں بھی اچھے دنوں کا ارمان دل میں لیے بیٹھی تھی جو کہ اب زیادہ دور نہ تھے .

سدرہ اور امین بھی اسی آبادی میں رہائش پذیر تھے. ان میاں بیوی کی آٹھ سالہ شادی شدہ زندگی میں اب تک ایک ہی کمی تھی کہ آنگن میں کوئی پھول نہ کھلا تھا. یہ کمی بھی اب دور ہونے کو تھی کہ ان کے ہاں پہلے بچے کی آمد آمد تھی. امین عجب سرشاری کی کفیت میں تھا، اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ سدرہ کو اپنی ہتھیلی کا چھالا بنا لے. اس نے پورا گھر کھلونوں اورآنے والے ننھے مہمان کے کپڑوں سے بھر دیا تھا. سدرہ بھی من ہی من میں جانے کیا سوچ سوچ کر زیرلب مسکراتی رہتی تھی. ڈاکٹر کی دی گئی تاریخ کے مطابق ڈلیوری کا دن نزدیک ہی تھا .

علی بھی اسی آبادی میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا. ایک ہونہار طالب علم جس کا خواب نیورو سرجن بننا تھا. جانے کیوں اسے ڈاکٹرز ہمیشہ سے ہی فیسی نیٹ کرتے تھے. بلا کا پڑھاکو، بچپن میں اسکول سے لے کر بورڈ کے امتحانات تک ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑتا آیا تھا. فرسٹ ائیر میں تو اس نے بانوے فیصد نمبر لے کر سب کو حیران کر دیا تھا. اب سیکنڈ ائیر کے امتحانات سر پر تھے اور وہ سر توڑ کوشش میں تھا تاکہ ملک کے بہترین میڈیکل کالج کی میرٹ لسٹ میں اس کا نام آ جائے .

ثاقب صاحب بھی اسی آبادی میں رہتے تھے. سرکاری ملازم تھے. عمر یہی کوئی پچپن سال کے لگ بھگ تھی. گھر کے واحد کفیل تھے. پانچ سال سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے مگر سرکاری طور پر علاج چل رہا تھا تو کسی کے زیر بار نہ تھے. ان کی سب سے بڑی پریشانی چار غیر شادی شدہ بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہونا تھا، یہی فکر انھیں اکثر بے چین رکھتی تھی .

رات گئےعلاقے میں مبینہ پولیس مقابلہ ہوا جس میں دو سگے بھائی مارے گئے. پولیس کا دعویٰ تھا کہ ڈاکو ایک گھر میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے، گشت پر مامور پولیس موبائل نے موقع پر پہنچ کر للکارا تو بھاگ کھڑے ہوئے. بار بار کی وارننگ پر بھی نہ رکے تو پولیس نے فائر کھول دیا. اس فائرنگ کے نتیجے میں دو ڈاکو ہلاک ہوئے جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے. دوسری طرف پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے بھائیوں کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ان بھائیوں کا ڈاکوؤں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، پولیس نے ذاتی دشمنی کی وجہ سے انہیں ڈکیتی میں ملوث کیا اور جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا ہے .

پوسٹ مارٹم کے بعد جب دونوں بھائیوں کی لاشیں گھر آئیں تو ایک کہرام برپا ہو گیا. ماں کو غشی کے دورے پڑنے لگے، باپ الگ غم کی شدت سے بے حال ہو رہا تھا. غم وغصے سے ابلتے ہوئے لواحقین نے پولیس کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا. علی الصبح دونوں بھائیوں کی میتوں کو چوراہے میں لایا گیا اور چوراہے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا. پولیس اور حکومت وقت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی گئی. کچھ لوگوں نے چوراہے سے گزرنے کی کوشش کی تو ان کو نہ گزرنے دیا گیا بلکہ لعن طعن بھی کی گئی کہ کیسے بے حس لوگ ہو، دو بے گناہ بھائی مر گئے مگر تمہیں صرف راستے سے گزرنے کی پڑی ہے. جن لوگوں نے زبردستی گزرنے کی کوشش کی انکی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا .

مدثر پوری رات مارے خوشی کے سو نہ سکا تھا. اسے ایچ آر انٹرویو کی کال آ گئی تھی، صبح ساڑھے نو بجے اس کا انٹرویو تھا. اس کا خیال تھا کہ وہ نو بجے ہی آفس پہنچ جائے گا تاکہ کسی قسم کی دیر کا کوئی چانس ہی نہ رہے. وہ اپنا انٹرویو بالکل پرفیکٹ چاہتا تھا. اس نے رات کو ہی کپڑے تیار کر لیے تھے – صبح سات بجتے ہی بستر سے اٹھا، شاور لیا – ناشتہ کیا – تیار ہوا – ماں کی دعا لی اور بائیک پر سوار ہو کر گھر سے نکل آیا .

سدرہ کی طبیعت فجر کے وقت سے ہی کچھ گری گری تھی. پہلے تو اس نے زیادہ اہمیت نہ دی کہ ڈاکٹر کی دی گئی تاریخ کے مطابق ابھی ایک ہفتہ باقی تھا، مگر کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ وقت آ گیا ہے. اس نے فوراً ساتھ سوئے ہوئے امین کو اٹھایا اور صورتحال سے آگاہ کیا. امین فوراً ہی اسے ہسپتال لے جانے کی تیاری کرنے لگا. گاڑی میں سامان رکھا، بیوی کو سہارا دے کر گاڑی میں بٹھایا اور گھر کا دروازہ کھولنے لگا .

صبح علی کا پہلا پیپر تھا. تیاری تو سب مکمل تھی مگر بورڈ کے امتحان کا اپنا ہی ایک رعب ہوا کرتا ہے. تھوڑی سی ٹینشن تو اسے ضرور تھی مگر یہ یقین بھی کہ اس کی تیاری بہترین ہے. اس کے میڈیکل کالج میں داخلے کا دارومدار انہی امتحانات پر تھا اور وہ کوئی پیپر تھوڑا سا بھی خراب ہو جانے کا رسک نہیں لے سکتا تھا. طے یہ پایا تھا کہ علی کے والد آفس جاتے ہوئے اسے امتحانی سینٹر چھوڑ دیں گے. صبح ہوئی تو علی بھی اپنے والد کے ساتھ امتحانی سینٹر جانے کے لیے گاڑی میں گھر سے روانہ ہوا .

ثاقب صاحب رات سے ہی کچھ بے چینی محسوس کر رہے تھے. ہوا کچھ یوں تھا کہ انکی بڑی بیٹی کو دیکھنے کچھ خواتین گھر آئی تھیں، جو کہ لڑکی پسند نہ آنے پر منہ پر ہی انکار کر گئی تھیں. اس بات کو ثاقب صاحب نے بہت زیادہ محسوس کیا – پوری رات کروٹیں بدلتے رہے اور اندر ہی اندر کڑھتے رہے – صبح ناشتے کی میز پر آئے تو کافی نڈھال تھے. ناشتہ کرتے کرتے ہی میز پر ڈھے گئے. علامات سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دل کا دورہ پڑا ہے – جلدی سے ہمسائے کو بلایا اور ثاقب صاحب کو گاڑی میں ڈال کر ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے .

آبادی سے شہر کی طرف جانے والا واحد چوراہا احتجاج کے باعث ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند تھا. مدثر ٹریفک جام میں پھنسا احتجاجیوں کی منت سماجت کرتا رہا کہ مجھے جانے دو، میرا انٹرویو ہے، مگر کسی نے اس کی بات نہ سنی – امین کی گاڑی کوشش کے باوجود بھی چوراہا کراس نہ کر سکی ، اس نے لڑ کر دیکھ لیا، ہاتھ جوڑ کر دیکھ لیا مگر جب جذبات ابل رہے ہوں تو کون کسی کی بات سنتا ہے، اس کی بیوی گاڑی میں تڑپتی رہی مگر کوئی احتجاجی ٹس سے مس نہ ہوا. علی بھی اسی بھیڑ میں پھنسا ہوا تھا، اسے اپنا خواب کرچی کرچی ہوتا نظر آ رہا تھا، مگر وہ اور اسکے والد اپنی گاڑی کے لیے چوراہے سے نکلنے کا راستہ نہ بنا سکے. ثاقب صاحب گاڑی کی پچھلی نشست پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے. مگر چوراہے سے گزرنے کا راستہ انھیں بھی نہ مل سکا .

اسی اثنا میں ٹی وی چینلز نے احتجاج کی لائیو کوریج شروع کر دی جس سے احتجاج میں اور زیادہ شدت پیدا ہو گئی. دو گھنٹے میں ہی پورے ملک کے الیکٹرانک میڈیا کی نظر میں سب سے بڑا مسئلہ صرف یہی احتجاج بن گیا. ان حالات کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن کیسے پیچھے رہ جاتی، فوراً اپنے دو لیڈر احتجاج میں شمولیت کے لیے روانہ کر دئیے. اپوزیشن کے سربراہ نے پولیس اور حکمران جماعت کو میڈیا میں آڑے ہاتھوں لیا اور مقتولین کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا. رائے عامہ اپنے خلاف بنتے دیکھ کے سوئی ہوئی حکومت بھی ہوش میں آئی. واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو معطل اور گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے. مقتولین کے لواحقین کی دادرسی کی گئی، بیس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان اور انصاف مہیا کرنے کا وعدہ کیا گیا. ان اقدامات کے بعد شام تک احتجاج نے دم توڑ دیا. مقتولین کی میتیں چوراہے سے اٹھا لی گیئں اور چوراہے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا .

اگلی صبح چوراہے پر ٹریفک اسی طرح رواں دواں تھا. لگتا ہی نہیں تھا کہ کل یہاں کوئی احتجاج ہوا تھا. مگر کچھ گھرانوں کی زندگی بدل گئی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی تھی. مدثر انٹرویو کے لیے نہ پہنچ سکا تھا اور نوکری دوسرے امیدوار کو مل گئی تھی. ہسپتال نہ پہنچ پانے کے باعث سدرہ کا مس کیرج ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ اب وہ کبھی ماں نہیں بن پائے گی. علی پیپر نہ دے سکا تھا، سپلی میں پیپر کلئیر کر کے شاید ڈاکٹر بن بھی جاتا مگر اپنے پسندیدہ میڈیکل کالج میں کبھی داخلہ نہ لے سکتا تھا کہ وہاں داخلے کی پہلی شرط ہی یہ تھی کہ کسی بھی مضمون میں سپلی نہیں ہونی چاہیے. ثاقب صاحب نے اسی چوراہے میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی تھی اور پیچھے ان کے گھر والوں کا کوئی والی وارث نہ تھا .

ہر وقوع پذیر ہونے والے واقعے کے ساتھ کچھ اور واقعات بھی جڑے ہوتے ہیں. مگر کسی کی نظر ان تک پہنچ نہیں پاتی. نہ میڈیا کی، نہ اپوزیشن کی اور نہ ہی حکومت کی. سوچنے کی بات بس یہ ہے کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والوں کے لواحقین کو تو شاید انصاف مل جائے، مگر یہ چار گھرانے کس کے ہاتھ پر اپنے ارمانوں کا لہو تلاش کریں گے. میں اس سوال کا جواب سوچنے کی کوشش کر رہا ہوں ، آپ بھی سوچئے .

2 thoughts on “Chouraha

  • April 3, 2016 at 12:49 am
    Permalink
    بہت خوب جناب، بہت عمدہ تحریر
    Reply
  • April 3, 2016 at 1:52 pm
    Permalink
    سماجی ، معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کو ناقابل یقین آسانی کے ساتھ ضابطہ تحریر میں لانے میں آپ یدطولیٰ رکھتے ہیں ۔۔۔ بہت خوب
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *