Muhabbat Sochney Walo

محبت سوچنے والو!

محبت سوچنے والو!
محبت پُوجنے والو!
رَہِ دَوراں کی مشکل کو
خَمِ جاناں تو کہتے ہو
سفر کی آبلہ پائی
بُھلا کر خواب بُنتے ہو
تمہارے فہم نے، سوچو
اَنا کی راہ کبھی پائی؟
تمہارے حرف نے، دیکھو
کبھی نفرت کو دیکھا ہے؟
وہ جو ایسے مُسلّم ہے
کہ جیسے ہَست قائم ہے
تمہارے سانس سے لوگو!
کہ جس کا رَبط دائم ہے
وہ جیسے شب کی تاریکی
دلیلِ صُبحِ روشن ہے
یہ قیدِ خوابِ الفت میں
وہی تنہا سا روزن ہے
محبت سوچنے والو!
محبت پُوجنے والو!
تمہاری رام لِیلا میں
اصل ہستی تو راون ہے
ہَری جس سے محبت ہے
یہ نفرت ایسا ساون ہے
محبت خواب ہے ایسا
ہر اِک کو جو نہیں دِکھتا
یہ نفرت آگ ہے ایسی
کہ ہر سینے میں جلتی ہے
فنا کی بات ہے ایسی
ہر اِک کو جو نہیں بھاتی
اَنا کی راکھ ہے ایسی
کہ ہر سر میں یہ اُڑتی ہے
محبت سوچنے والو!
محبت پُوجنے والو!
یونہی پھر خواب بیچو تم
لہو سے خاک سینچو تم
کہ مَیں تلخی کا شَیدائی
چُھپے سچ کا تمنّائی
دلِ ناشاد رکھتا ہوں
یہ کُلفت ساتھ رکھتا ہوں
محبت کر نہیں پاتا
مَیں نفرت ساتھ رکھتا ہوں

اِمتنان قاضی

 

3 thoughts on “Muhabbat Sochney Walo

  • March 29, 2016 at 8:04 pm
    Permalink

    وااااہ بہت اعلیٰ جناب پوری نظم ایک ایک مصرعہ بہت خوب

    Reply
  • March 29, 2016 at 8:15 pm
    Permalink

    بہت خوب امتنان بھائی بہت شاندار

    Reply
  • March 30, 2016 at 12:01 am
    Permalink

    ہمیشہ کی طرح بہت اعلی

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.