Youm E Tajdeed

[pukhto]

یومِ تجدیدِ

تئیس مارچ کا دن ہم چھٹی منا کر گزارتے ہیں لہذا کبھی نہیں بھلا پاتے.
مگر نئی نسل کو اس ملک کے قیام کی کہانی منتقل کرنا بھی ہماری ایک ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برا ہوئے بغیر ہم شائد ایک بہادر قوم نہ بن سکیں. تاریخِ پاکستان بیان کرتے وقت ہمیشہ ہماری نصابی و غیر نصابی کُتب میں اس طاقت کیساتھ متعصبانہ سلوک برتا گیا جو کہ قیام و حفظِ پاکستان کی علامت ہے. تو ساتھیو، قصہ ہے تئیس مارچ سنہء انیس سو چالیس کا. آج سے چھہتر برس قبل، اس ملک کی جری افواج نے انگریز سامراج سے چھٹکارے کی قراردار پاس کی. اپنے وقت کی طاقتور ترین فوج کیخلاف یہ عہد شائد خودکُشی کے مترادف تھا مگر بہادر افواج کی قربانیوں کے باعث صرف سات برس میں ہی انگریز کو کئی لاکھ مربع کلومیٹر علاقہ خالی کرنا پڑا اور آزادیِ پاکستان کا اعلان ہوا.اس سے پہلے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کا خواب میجر اقبال نے دیکھا جو ان دنوں جرمنی کی وار اکیڈمی میں اعلٰی حربی تعلیم کیلیئے گئے ہوئے تھے – جبکہ برطانیہ کی رائل ملِٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ کے کیڈٹ چوہدری رحمت علی نے اسکا نام “پاکستان” تجویز کیا – کیپٹن ایوب خان، میجر یحیٰی خان اور کرنل سکندر مرزا کی بے لوث اور نڈر قیادت نے نوجوانوں میں وہ ولولہ بھرا کہ دشمن افواج کو منہ کی کھانا پڑی. ہماری فوج کی خواتین بھی کسی سے پیچھے نہ تھیں. خواتین کور کی کمان سنبھالی میجر (بعد ازاں جنرل) رانی نے اور ایسے ایسے کارنامے سرانجام دئیے کہ لوگ عش عش کر اٹھے.
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد تکمیلِ پاکستان کا دور شروع ھوا تو افواجِ پاکستان نے ایک بار پھر عمل کی کمان سنبھال لی. جب سیاستدانوں نے ملک کے شمال میں موجود ان دیکھے پہاڑوں پر رالیں ٹپکاتے ھوئے فوج کو ان پر قبضے کا کہا تو فوج نے یکسر انکار کر دیا. فوج کو معلوم تھا کہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد تعمیر و ترقی کی ضرورت ہے نہ کہ دشوار گزار پہاڑوں پر قبضے کی لایعنی سعی کی.
بھارت سے ہجرت کرنے والے خاندانوں کو بہت سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور لاکھوں کی تعداد میں نئے شہریوں کیلئے قیام و طعام بھی ایک بڑا مسئلہ تھا. اسی طرح نئی نوکریوں کی گنجائش کیلئے صنعت و حرفت، تجارت، زراعت جیسے شعبوں میں بھی کام کی ضرورت تھی. پاک فوج نے قوم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر شعبے پر نظر رکھی.
سفر اور نقل و حمل کیلئے نیشنل لاجسٹک سیل کی بنیاد ڈالی گئی جبکہ رھائشی سہولیات کی خاطر ڈیفنس ہاؤسنگ اور عسکری ہاؤسنگ کو فعال بنایا گیا.
زراعت میں جدید تقاضوں کے ہم آھنگ ملٹری ڈیری فارمز، ملٹری فروٹ فارمز، ملٹری گرین فارمز کو تقویت دی گئی.
تجارت کے شعبوں میں ترقی کیلئے بینک، انشورنس کمپنیز، ٹریڈنگ کمپنیز کی داغ بیل ڈالی گئی.
کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے تعلیم اور صحت اہم ہوتے ھیں. ملک میں سرکاری ھسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی کمیابی کے باعث عوام بہت سا قیمتی سرمایہ نجی ہسپتالوں اور سکولوں میں خرچ کر دیتے تھے. ایسے قومی سرمائے کو محفوظ بنانے کیلئے ملٹری ہسپتال، فوجی ہسپتال، شفاء ہسپتال، کیڈٹ کالجز، بحریہ کالج، بحریہ یونیورسٹی، فضائیہ یونیورسٹی، آرمی کالج، آرمی پبلک سکولز اور ان گنت نئے تعلیمی و صحتی منصوبوں کی داغ بیل ڈالی گئی.
واپڈا، پی آئی اے، پاکستان سٹیل جیسے اداروں کی تنظیمِ نو ہو یا پاکستان ریلوے کو پٹڑی پر لانے کی کوشش؛ پاک فوج کے خردِ کُل جرنیلوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے. ملک کی بحری سرحدوں کیلئے آبدوزوں کی خریداری ہو یا دھوپ میں سڑتے کرکٹ سٹیڈیمز کی پُر بہار فوڈ سٹریٹس اور شادی ہالوں میں تبدیلی؛ گلشن کے ہر گُل پر سنتری بٹھانے کا کارنامہ بھی انہی جرنیلوں کے مرہونِ منت ہے.
الغرض پاک فوج آج سات دہائیوں بعد بھی کروڑوں بےکار، بے علم و ہنر افراد کا بوجھ سر پر اٹھائے اس ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی قطار میں کھڑا کرنے کی سعی کر رہی ہے.
آج کا دن یومِ پاکستان ہی نہیں، یومِ تجدیدِ وفا بھی ہے. آج کا دن دراصل یومِ سلامیِ افواجِ پاکستان کہلانا چاہئیے جن کی شبانہ روز کوششوں کے باعث آج ملک کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے جارہے ہیں. لہذا آج کا دن سو کر مت گزارئیے. آنے والی نسلوں کو بتائیے کہ آپ کن کی قربانیوں کے مقروض ہیں.

[/pukhto]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.