Baingan Aalu

بینگن آلو
سکول سے واپس گھر پہنچا تو داخل ہوتے ہی دروازے کے ساتھ کچھ بوسیدہ سامان پڑا نظر آیا – ایک نظر دیکھتے ہی اندازہ ہو گیا کہ ضرور پیر چناسی والی ماسی آئی ہو گی – برآمدے میں پہنچتے ہی تصدیق ہو گئی –
ماسی بھی ہمارے ہاں نظر آنے والے چند مستقل کرداروں میں سے ایک کردار تھی – مہینے میں ایک دفعہ تو ضرور آمد ہوتی تھی – یہ ایک غریب عورت تھی جس کا تعلق بکروال قبیلے سے تھا – اس کا خاوند معذورتھا اور بوجہ معذوری اپنے آبائی پیشے یعنی بکریاں چرّانے سے قاصر تھا – اکثر غریبوں کی طرح اولاد سے بھی مالامال تھے – ویسے یہ تعین کرنا ہمیشہ سے مشکل ہے کہ ہمارے لوگ غریب ہونے کی وجہ سے کثیر العیال ہوتے ہیں یا کثیر العیال ہونے کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں – خیر یہ ایک الگ بحث ہے – یہ لوگ شہر سے تھوڑا دور پیر چناسی نامی پہاڑ پر واقع ایک گاؤں کے مکین تھے – مظفر آباد کا یہ علاقہ خاصی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے زیادہ تر سرد موسم کا شکار رہتا ہے – مکین عام طور پر براۓ نام قسم کی کاشتکاری سے اپنا پیٹ پالتے ہیں اور شدید موسم اور ناہموار پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے عمومی طور پہ اس مقصد کو پورا کرنے سے قاصر ہی رہتے ہیں – ایسے علاقہ میں بے زمین ہونے کا مطلب انتہائی غریب ہونا ہے – یہ کنبہ بھی انہی میں سے ایک تھا – ارد گرد غربت ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو ہاتھ پھیلانے کیلئے بھی کئی کلو میٹر دور شہر کا رخ کرنا پڑتا تھا

بھاری بھرکم بستے کو تقریبا پھینکتے ہوئے میں نے برامدے سے ہی آواز لگائی
امی کیا پکا ہے؟
بیٹا، بینگن آلو – کچن سے آواز آئی
یہ بھی کوئی کھانے کی چیز ہے، اتنی دور سے بندہ بھوکا گھر آے اور آگے بینگن آلو، فضول، اس سے اچھا ہے بندہ بھوکا رہ لے
نہ بیٹا، بری بات، رزق کی بےحرمتی نہیں کرتے
ہونہہ، یہ رزق ہے؟ بینگن تو پتا نہیں رزق ہے بھی یا آپ لوگوں نے زبردستی بنا لیا ہے، مجھے نہیں کھانا، فریج میں کچھ پرانا پڑا ہوا ہے یا نہیں؟
نہیں – سب پرانے سالن میں نے ماسی کو دے دیے ہیں
ایک تو یہ ماسی بھی، خیر انڈا بنا دیں، فرائی، جیسا کہ میں کھاتا ہوں

کھانا کھا کے نکلا تو دیکھا کے ماسی اپنا سامان سمیٹ رہی تھی – اور امی اسے کچھ اور چیزیں دے رہی تھیں
اے وی لیجا، امی نے اسے کچھ تازہ سبزیاں دیتے ہوے کہا
اے کی اے؟ بینگن کو دیکھتے ہوے اس نے کہا
اے بتاؤں اے، تہاڈے ول نییں ہوندے؟
نہ جی، پر اِس کی پکاؤنا کس طرح اے، اسّ پہلی وارّ پکاؤنے

اچانک میری نظر اپنی ماں کے چہرے پہ پڑی تو انکی آنکھوں میں آنسو تھے

کئی سالوں تک میں نہیں سمجھ پایا کہ اگر اس بد سلیقہ عورت کو بینگن نہیں پکانے آتے تو اس میں رونے کی کیا بات تھی – بہت عرصے کے بعد جب ان آنسوؤں کی وجہ سمجھ میں آئی تو اور تو کچھ نہیں مگر میں نے بینگن، اروی اور کدو کھانا شروع کر دیا

25 thoughts on “Baingan Aalu

  • March 23, 2016 at 6:13 pm
    Permalink

    بہت عمدہ جناب یقینی طور پر کچھ واقعات زندگی میں بہت کچھ تبدیل کر دیتے ہیں. پہاڑی علاقوں میں بسنے والے ان لوگوں کے مسائل سے شاید ہی کوئی آگاہ ہو اور نہ ہی جاننا اہم سمجھا جاتا ہے
    ایسی تحریریں شاید چسکا فروشی کے دور میں بے سود محسوس ہوتی ہیں لیکن یقین جانیں یہ قلم کی زکوٰۃ ہے

    Reply
    • March 23, 2016 at 8:05 pm
      Permalink

      جزاک اللہ

      Reply
  • March 23, 2016 at 6:18 pm
    Permalink

    لاجواب تحریر زندگی کی کٹھن سچائیوں کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

    Reply
    • March 23, 2016 at 8:04 pm
      Permalink

      جزاک اللہ

      Reply
  • March 23, 2016 at 6:25 pm
    Permalink

    چائے خانہ والو اب جان لو گے کیا؟ بہت خوب بہت عمدہ تحریر

    Reply
    • March 23, 2016 at 8:00 pm
      Permalink

      جزاک اللہ

      Reply
    • March 23, 2016 at 8:00 pm
      Permalink

      جزاک اللہ

      Reply
  • March 23, 2016 at 6:29 pm
    Permalink

    اللہ ماں کےان آنسوؤں کو موتیوں سا اجر دے

    Reply
    • March 23, 2016 at 7:56 pm
      Permalink

      آمین، جزاک اللہ

      Reply
  • March 23, 2016 at 7:41 pm
    Permalink

    سادگی میں ہی اصل خوبصورتی چھپی ہوتی ہے۔۔۔
    اچھی تحریر۔

    Reply
    • March 23, 2016 at 7:56 pm
      Permalink

      جزاک اللہ

      Reply
  • March 23, 2016 at 7:47 pm
    Permalink

    مختصر تحریر میں آپ نے محرومی اور آسائش کے اثرات کو یکجا کر دیا۔ بہت عمدہ
    اللہ آپ کے اس تبدیلی کے عمل اور والدہ صاحبہ کے آنسؤوں کو اُن کے درجات کی بلندی کا سبب بنائے۔ آمین

    Reply
    • March 23, 2016 at 7:56 pm
      Permalink

      آمین، جزاک اللہ

      Reply
  • March 23, 2016 at 8:41 pm
    Permalink

    عسرت و عشرت کو ایک ہی سانس میں بیان کرکے جہاں ان دو کیفیات سے جڑے مسائل کی نشاندہی کی ہے وہیں بین السطور ایک نہایت لطیف نصیحت بھی۔

    اسی بین السطور کیفیت/نصیحت کو پڑھتے ہوئے 2 مشاہدے یاد آگئے جو کہ میرے جیسے کمزور انسان کی اصلاح میں معاون ثابت ہوئے۔

    اولاً نبی علیہ السلام کی سنت رہی ہے کہ آپ جناب علیہ السلام نے کبھی کھانے کے بے ذائقہ ہونے کی وجہ سے اسے تناول نہ کیا ہو یا اس میں نقص کی نشاندہی فرمائی ہو۔

    ثانياً بہت عرصہ ہوا ایمیریٹس ایئر لائن کے کسی بزرگ ملازم سے پہلی اور اب تک کی آخری ملاقات ہوئی تھی۔ اچھے لوگ اچھی بات کہنے کا موقع ضائع نہیں کرتے۔افتخار صاحب نے اپنی ایک عادت کے بارے میں بتاتے ہوئے نصیحت کی تھی کہ کبھی ماں کے پکائے ہوئے
    کھانے میں عیب جوئی نہ کرنا۔ منصور صاحب کی تحریر پڑھتے ہوئے مجھے دژاوو (deja vu)
    کا گمان ہو رہا تھا۔

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
    (آمین)

    Reply
  • March 23, 2016 at 9:37 pm
    Permalink

    بہت ہی عمدہ اسان فہم تحریر ہمیں واقعی ہی ہر چیز فور گرانٹڈ نہیں لینی چاہیے سر بہت ہی اچھے پیرائے میں بیان کیا ہے اپنے

    Reply
  • March 23, 2016 at 10:06 pm
    Permalink

    لاجواب..
    Touching, simple yet amazing!!

    Reply
  • March 23, 2016 at 10:11 pm
    Permalink

    بہت سے سبق ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں اور بھول بھی جاتے ہیں لیکن زندگی کا پڑھایا ہوا سبق ہمیں اصل زندگی بارے بتاتا ہے..بیت خوب لکھا.

    Reply
  • March 23, 2016 at 10:43 pm
    Permalink

    بہت کمال عمدگی سے لکھی گئی مختصر مگر پراثر تحریر
    لکھاری چند لائنوں میں بہت بڑا سبق سکھا گئے

    Reply
  • March 24, 2016 at 12:38 am
    Permalink

    مختصر اور جامع ضرور ھے کافی بہتر بھی !
    مگر میں جانے کیوں آپ کو اس سے بہت اُوپر دیکھتا ہوں ۔
    سُو انتظار ختم کروائیے اور لکھ ڈالئیے کوئی شاہکار ۔ انتظار ھے شدت سے !۔

    Reply
  • March 24, 2016 at 11:39 am
    Permalink

    عمدہ اور سبق آموز تحریر ، اور یہ اعتراف بھی کہ مجھے بھی بہت زیادہ نخرے کرنے کی عادت ہے کھانا کھاتے ہوئے –

    Reply
  • March 24, 2016 at 12:40 pm
    Permalink

    More power to your pen 👍🏻

    Reply
  • March 24, 2016 at 2:21 pm
    Permalink

    کبھی کبھی زندگی بہت تلخ تجربات سے گزارتی ہے انسان کو اور چند لوگ ان سے زندگی کو کیسے جینا ہے سیکھ لیتے ہیں

    Reply
  • March 25, 2016 at 2:08 am
    Permalink

    اکثر لوگ آلو بینگن نہیں کھاتے لیکن اگر وہ انتہائی غریب لوگوں کو دیکھ لیں تو دماغ کا فتور دور ہو جائے
    بہت اچھی تحریر ہے
    آلو بینگن

    Reply
  • March 25, 2016 at 2:24 am
    Permalink

    Shorbay walay bengan….
    Jazzak Allah

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *