Khara Jhoot

سفر شروع ہوا تو کچھ دیر تو میں دائیں جانب نظریں جمائے لاہور کی رونق بھری سڑکوں اور عمارتوں کو دیکھتا رہا۔ ونڈو سیٹ پر بیٹھا نوجوان فون پر محوِ گفتگو تھا تو اسے میرا یوں  منہ موڑے رہنا برا بھی نہ لگ رہا ہو گا۔ خیر مجھے پروا بھی نہ تھی۔ بس کینال روڈ پر آئی تو میں نے آنکھیں موند لیں، تین دن کے دفتری کام کے بہانے والدین کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد اب ڈائیوو کے ذریعے واپس اسلام آباد جا رہا تھا۔ عام طور پر بیگم کے ہمراہ گاڑی پر ہی آنا جانا ہوتا تھا مگر اس بار بوجوہ بس سے سفر کر رہا تھا۔
راوی ٹول پلازہ کے قریب بیگم کا فون آیا تو پنڈی ٹرمینل پر آمد کا وقت بتا کر ایک نگاہ ادھر ادھر دوڑائی۔ ساتھ والی سیٹوں پر ایک دبلا پتلا شخص اپنے دو بیٹوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ بچوں کی عمروں کو دیکھ کر ایک لمحے کو خیال سا آیا کہ یہ دونوں ایک سیٹ پر کیسے ایڈجسٹ کر رہے ہیں، مگر اس پر غور سے قبل ہی ان سے آگے بیٹھے افراد نے میری توجہ مبذول کرا لی۔ وہ دو کاروباری تھے جو شاید کسی وزیر سے ملنے اسلام آباد جا رہے تھے اور اونچی آواز میں فون پر مختلف افراد سے بات کرتے ہوئے اپنے پروگرام سے آگاہ کر رہے تھے۔  میں نے ایک بار پھر آنکھیں بند کر لیں، ساتھ بیٹھا نوجوان اپنی گرل فرینڈ کو منا کر پر سکون ہو چکا تھا اس لیے میری بھی آنکھ لگ گئی۔
“میں تینوں دوجی واری نئیں کہنا—-” گرجدار آواز میں یہ وہ جملہ تھا جس سے میری آنکھ کھلی۔ کاروباری افراد میں سے ایک بچوں کے والد سے مخاطب تھا اور تحکمانہ انداز میں کسی بات کا رعب جما رہا تھا۔ بچوں کا والد تقریباً منمناتے ہوئے “ٹھیک اے جناب——  ہن نئیں کردے ——- تسی سکون کرو” کی مختصر گردان کے بعد اپنے بچوں کو خاموش الفاظ سے ڈانٹنا شروع ہو گیا۔ میرا ہم نشین نوجوان واٹس ایپ میں مگن تھا، میں نے لیپ ٹاپ نکال کر اپنے دورے کی رپورٹ کے پوائنٹس لکھنے شروع کر دیے۔
ساتھ والی سیٹوں سے بچوں کی سرگوشیوں کی آوازیں آ رہی تھیں جس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ موٹروے پر پہلی بار سفر کر رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ان کا ہر چیز میں ایکسائٹڈ ہونا ایک فطری امر تھا۔ ان کا باپ سو رہا تھا یا آنکھیں بند کیے تھا، مجھے خبر تھی نہ پرواہ۔ مگر بچوں کی ہر نئی شے کو دیکھ کر “اوئے اے نہر ویکھ —— اوئے اسلام آباد ہجے 210 کلومیٹر رہندا جے ———- اوئے روڈ دے نال نال جالی چلدی جا رئی اے” جیسی باتیں کانوں میں پڑ رہی تھیں۔ ایک بار شاید انہوں نے باپ سے قیام و طعام کا مطلب بھی پوچھا مگر جواب نہ ملنے پر پھر سے باہر مگن ہو گئے۔
معلوم نہیں کیا ہوا مگر اگلی سیٹوں پر یکدم ہلچل مچی اور کاروباری افراد میں ایک موٹے شخص نے یکدم کھڑا ہو کر بچوں کے والد کو کندھے سے پکڑ کر دھمکانا شروع کر دیا۔ “اوئے تینوں کہیا سی ایناں نوں باز رکھ، توں فیر ایناں حرام دیاں نوں نئیں ڈکیا——– پورا سفر حرام کر دتا اے دھکے مار مار کے”۔ بچوں کا والد جو اب واضح طور پر ایک زیریں متوسط طبقے کا آدمی لگ رہا تھا صرف یہی کہہ پا رہا تھا “بچے نیں جی———- جان دیو—– میں سمجھا لاں گا——- تسی سکون کرو۔—— ہن نئیں کردے”۔ مگر موٹے کاروباری کا ہر لفظ کے ساتھ پارہ بلند ہو رہا تھا۔ بس ہوسٹس کو بھی مداخلت سے منع کر کے اس نے یک دم بچوں کے والد کو گندی گالی دے کر کہا”جے وکھری سیٹاں دے پیہے نئیں ہوندے تے ناں آیا کرو ڈیوو تے ٭٭٭—–  لے جا ایناں ٭٭٭٭ نوں لاری اڈے —— اوتھے پاویں اک سیٹ تے چھ بٹھا لے ٭٭٭ دیا—- ٭٭٭ ساڈا سفر کیوں حرام کر رہیا ایں کسے ٭٭٭ دیا بچیا——“
میری طرح بس کا ہر مسافر اس منظر کو دیکھ رہا تھا۔ میری اگلی سیٹ پر بیٹھے بزرگ نے موٹے کاروباری شخص کو بازو سے پکڑ کر “جاندی کرو یار، برداشت کرو، رہن دیو بس بہہ وی جاؤ”  کے رسمی الفاظ کے ساتھ مداخلت کی اور کامیاب رہے۔ موٹا کاروباری خشمگیں نگاہوں سے بچوں اور انکے والد کو گھورتے ہوئے سیٹ پر بیٹھا اور بس ہوسٹس کو پانی کا آرڈر کر کے اپنے ہمسفر کو کاروائی کی تفصیل بتانے لگ گیا۔
بچوں کا باپ اگلی نشست سے آتی مغلظات پر دانت پیسنے اور اپنے بچوں کو اشاروں اور آنکھوں میں دھمکانے لگا۔ مگر جلد ہی خود بھی سر جھکا کر خاموش ہو گیا۔ بچے بہت سہم گئے تھے۔ ایک نے خالی نظریں اپنے پاؤں پر اور دوسرے نے شیشے پرجمارکھی تھیں مگر واضح تھا کہ وہ شیشہ ہی دیکھ رہا تھا اس سے باہر نہیں۔
کچھ دیر بعد بھیرہ سٹاپ اوور آ گیا۔ میں نے واش روم سے باہر آ کر چائے لی اور پارکنگ کی طرف بڑھا۔ ایک کونے میں باپ اپنے مجرم بنے کھڑے بیٹوں کو ڈانٹنے میں مگن تھا۔ میں نے قریب جا کر بسکٹ کا پیکٹ آفر کیا تو شکریے کے ساتھ انکار کر دیا۔
میں نے اصرار کے ساتھ پیکٹ بچوں کو پکڑایا اور ان کے والد کو ساتھ لے کر ایک طرف چل پڑا۔ پہلے تو وہ کچھ بولنے کے موڈ میں ہی نہ تھا، مگر یکدم پھٹ پڑا “تسی دسو جناب میرا کی قصور اے، میں کی غلط کیتا ——  میں واقعی افورڈ نئیں کر سکدا پر منڈیاں دی ضد سی کہ مامے دی شادی تے اسی ڈیوو تے جانا اے —–  میں مجبور بندا، میرے کول نئیں ہیگے اینے پیہے —–  اک دوست ڈیوو تے ہیلپر ہیگا  اے۔ اوہنے کہیا، کوئی نئیں توں دو سیٹاں تے چلا جائیں، تینوں کوئی کجھ نئیں کہندا”۔ میں نے اسے تھپکی دی تو تھوڑا نرم ہو کر بولا “بچے نیں، شرارتاں کردے نیں تے تھوڑے بہت دھکے لگ ای جاندے نیں” پھر تقریباً روہانسا ہو کر بولا “اوس بندے نے تے مینوں میرے منڈیاں دے اگے ذلیل کر دتا —– صرف ایس لئی کہ میں اک سیٹ تے دو بچے بٹھان دا جرم کر دتا اے۔”
بچوں کی طرف دیکھ کر کہنے لگا “مینوں پتہ اے دونویں ڈر گئے نیں پر ایناں دے ذہن اچ اے گل بیہہ گئی اے کہ ساڈا پیو اینج ای ذلیل ہوندا رہندا اے —— حالانکہ خدا شاہد اے جناب میں کدی اپنے گھر دیاں نوں تتی ہوا نئیں لگن دتی—– بھانویں دو نوکریاں کر کے خرچہ  پورا کراں، ایناں نوں کمی نئیں ہون دتی ——- اج ڈیوو دے شوق نے مینوں اپنے منڈیاں اگے ذلیل کرا دتا اے”
خیر اسے سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا اور ہم بس کی طرف بڑھے، اپنے ہم نشین نوجوان سے درخواست کر کے سیٹوں کی ترتیب تبدیل کرائی اور باقی سفر ہم نے بچوں اور انکے والد کی جگہ پر گزارا۔ جبکہ دوسری طرف وہ نسبتاً خاموشی سے بیٹھے رہے۔
پنڈی پہنچے تو بارش ہو رہی تھی۔ بیگم گاڑی لے کر موجود تھیں۔ میں نے ڈرائیونگ سنبھالی اور ہم گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ بارش تیز ہو گئی تھی، جی 13 والے گول چکر پر پہنچے تو حسب معمول کافی رش تھا۔ گاڑیاں رینگتے ہوئے کشمیر ہائی وے پر برق رفتاری کو بے قرار تھیں۔ عین بیرئیرز کے درمیان میری گاڑی کے آگے ایک موٹرسائیکل رک گئی۔ بائیک پر ایک مرد اور ایک عورت سوار تھے، عورت نے کوئی بچہ کمبل میں لپیٹا ہوا تھا جبکہ آگے بھی ایک بچی بیٹھی ہوئی تھی۔ مرد نے بائیک کو ککس مارنی شروع کیں۔ ایک —- دو — تین —- میں نے ہلکا سا ہارن بجایا۔ بائیک سوار نے ہاتھ  سے ایک منٹ کا اشارہ کیا اور پھر ککس مارنے لگا—- ایک — دو—-  تین—-
اسی اثنا میں میرے پیچھے سے بھی ہارن بجا۔ اب میں نے ہارن پر ہاتھ رکھ دیا۔ عورت نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور پھر مرد کے کان  میں کچھ کہا۔ بائیک سوار نےموٹر سائیکل کو زور لگا کر بیرئر سے آگے نکالا اور دائیں جانب رک گیا۔ میں نے اسکے قریب لے جا کر شیشہ نیچے کیا اور بولا “اوئے لے جا ایس کھٹارے نوں کتھے کباڑیاں کول —–  کیوں باقی ٹریفک دی آتما رول رہیا ایں—-“
مرد نے تو ہاتھ سے مجھے جانے کا اشارہ کیا جبکہ اس کی بچی میری استہزائیہ ہنسی اور باپ کے بےچارگی والے غصے کو خالی نظروں سے دیکھنے لگی۔ میں نے شیشہ اوپر کیا اور گاڑی بھیگتی کشمیر ہائی وے پر چڑھا کر بیگم سے باتیں شروع کر دیں۔

45 thoughts on “Khara Jhoot

  • March 21, 2016 at 7:40 pm
    Permalink

    واہ واہ جناب بہت عمدہ تحریر

    Reply
  • March 21, 2016 at 7:49 pm
    Permalink

    بہت عمدہ اور دلنشیں اسلوب، سادہ بیان اور جامع۔ ایک ایسی تحریر جو آپکو اپنے ارد گرد تیرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لکھتے رہیئے جناب

    Reply
    • March 21, 2016 at 11:10 pm
      Permalink

      اسلوب کو کچھ اس لیے بھی سادہ رکھا کہ اصل پیغام گم نہ ہو جائے۔ امید ہے اس کا اثر قاری پر بھی مثبت ہو گا

      Reply
  • March 21, 2016 at 7:58 pm
    Permalink

    کیا بات ہے سر جی ۔۔ چھا گئے ہو تُسی

    Reply
  • March 21, 2016 at 8:12 pm
    Permalink

    معاشرے کی بے حسی پر زبردست تحریر واقعی آجکل معاشرے کا یہی حال ہے اور کو نصیحت خود بابا وصیت

    Reply
  • March 21, 2016 at 8:35 pm
    Permalink

    آپ نے جھنجھوڑ دیا
    اس سائٹ پر اب تک کی سب سے بہترین تحریر
    آنکھیں پر نم ہیں
    اللہ ہم پر رحم کرے
    عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں
    یا الللہ
    ہمیں کمزوروں کو عزت دینے والا بنا

    Reply
    • March 23, 2016 at 9:14 pm
      Permalink

      اللہ تکبر سے بچائے رکھے۔ آمین۔

      Reply
  • March 21, 2016 at 8:43 pm
    Permalink
    Everybody of us is doing the same thing. We dont show tolerance and patience. Karma.
    Reply
  • March 21, 2016 at 8:44 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر. ہماری بولتی بند !!!!!!

    Reply
  • March 21, 2016 at 8:47 pm
    Permalink

    بُہت اعلی تحریر ،اور بُہت ہی عُمدہ الفاظ میں آپ نے مُعاشرے کی بے حِسی کی عکاسی کی۔ اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق دے اور آپکو ہمیشہ ایسا اچھا لِکھنے۔ جزاک اللہ

    Reply
    • March 23, 2016 at 9:15 pm
      Permalink

      شکریہ شازب
      اللہ ہمیں تکبر سے بھی بچائے رکھے۔ آمین

      Reply
  • March 21, 2016 at 10:51 pm
    Permalink

    الفاظ نہیں ہیں جو اس تحریر کی تعریف پر پورے اتر سکیں، ایسا لگا جیسے آئینے میں اپنا ہی بھیانک چہرہ دیکھ لیا ہو –

    Reply
    • March 21, 2016 at 11:13 pm
      Permalink

      گول چکر اور کھلی شاہراہ میں جتنا فاصلہ ہے وہی حساسیت کے واسطے ہمارے اٹینشن سپین کا دورانیہ ہے۔ تبھی ایک سانحے کے چند دن بعد ہی اس کے اثرات زائل نظر آتے ہیں

      Reply
  • March 21, 2016 at 10:57 pm
    Permalink
    Saddening n really heart touching…
    Reply
  • March 21, 2016 at 11:28 pm
    Permalink

    بہت ہی عمدہ اور بہترین طریقے سے معاشرے میں اس بڑھتے ہوئے دھرے معیار کی نشاندھی

    Reply
  • March 22, 2016 at 1:32 am
    Permalink

    بہت عمدہ۔ آپ سے ایسی ہی توقع رہی ہمیشہ۔ اُمید ہے اس موضوع پہ مزید لکھیں گے اور طویل لکھیں گے۔ شاد رہئیے۔

    Reply
    • March 23, 2016 at 9:17 pm
      Permalink

      جزاک اللہ

      Reply
  • March 22, 2016 at 2:44 am
    Permalink

    صبح سے اس تحریر کی تعریف چاروں اطراف سے سن رہا تھا لیکن وقت کی مجبوری بھی تھی اور پڑھنے کی شدت بھی ایک ایسا سچ جس کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا ہم سب اس میں مبتلا ہیں.
    Speechless, I have no more Words left . .

    Reply
  • March 22, 2016 at 10:26 am
    Permalink

    بہت اعلیٰ تحریر، شاندار، مزید الفاظ لکھنے کی تاب نہیں

    Reply
  • March 22, 2016 at 10:42 am
    Permalink

    ھم سب کی کہانی.
    ھمارے اندر اُبلتی منافقت ھمیں کبھی اپنے گریبان میں جھانکنے ھی نہیں دیتی.

    Reply
  • March 22, 2016 at 10:49 am
    Permalink

    ہم ابتزال کا شکار ہیں اور یہ سادہ تحریر
    اسکی عکاس ہے

    Reply
  • March 22, 2016 at 11:12 am
    Permalink
    Empathy is rare!!
    Reply
  • March 22, 2016 at 11:25 am
    Permalink

    عمدہ اور بہت ہی عمدہ

    Reply
  • March 22, 2016 at 11:29 am
    Permalink
    bahoot aala, janab !
    iss tehreer ke aaine mein aap ne hum sub ko apna apna chehra dikha dia.
    Waqar Ahmad
    Reply
  • March 22, 2016 at 11:35 am
    Permalink

    .کڑواسچ ھےجناب

    Reply
  • March 22, 2016 at 11:45 am
    Permalink
    Thought provoking.
    Reply
  • March 22, 2016 at 2:15 pm
    Permalink

    لکھا کیجیے جناب۔۔۔۔۔ بہت خوب

    Reply
  • March 22, 2016 at 3:18 pm
    Permalink

    بہت اچھا افسانہ لکھا ہے. بہت معنی خیز.
    بہت سی داد

    Reply
  • March 22, 2016 at 4:15 pm
    Permalink

    واہ کیا عمدہ لکھا ہے ، سادہ اور دل کو موح لینے والے الفاظ سے کتنی بڑھی بات کتنی آسانی سے سمجھا ڈالی۔۔۔۔
    واقعی” پانی کا بھاؤ ہمیشہ نیچے جانب ہی ہووے”ا

    Reply
  • March 22, 2016 at 5:02 pm
    Permalink
    Thank you highlighting our usual hypocrisy!
    Reply
  • March 22, 2016 at 9:34 pm
    Permalink

    کہا کہوں بس کچھ الفاظ بولے نہی جاتے لیکن آنکھوں سے رواں ہو گئے.

    Reply
  • March 23, 2016 at 2:05 am
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر، بیک وقت تلخیِ اوقات، معاشرتی عدم برداشت، جہالت اور منافقت سب کو نہایت سادہ و پراثر طریقے سے واضح کرتے ہوئے، آپ کی مختصر نویسی کو دیکھتے ہوئے آپ سے بلاگ میں بھی ایسی ہی تحریر کی امید تھی، لکھتے رہیے

    Reply
    • March 23, 2016 at 9:13 pm
      Permalink

      شکریہ جناب

      Reply
  • March 23, 2016 at 12:05 pm
    Permalink
    Khajal khuwari ka aik both khubsurat manzar pash kia aap ny, ghareeb o ameer sabhi Adam bardasht ka shikar milty hn,
    Reply
  • March 23, 2016 at 3:23 pm
    Permalink
    Three words on this comprehensive Blog

    Wake up call..

    Reply
  • March 23, 2016 at 8:53 pm
    Permalink

    قدرت نے آپ کی تحریر کو ایک اچھوتا حسن اور انداز عطا کیا ہے. تحریر کی اثر پذیری کمال کو چھو رہی ہے. ہمارے معاشرتی رویوں کی کیا لاجواب عکاسی کی ہے. مزید تحاریر کا انتظار رہے گا.

    Reply
  • March 24, 2016 at 1:51 pm
    Permalink
    Great Sir …Speechless
    Reply
  • March 24, 2016 at 4:18 pm
    Permalink

    ماشاالله دل کی کیفیت کا مت پوچھین اپنا ھی عکس نطر ایا الله کرے زور بیان اور ھو زیاده

    Reply
  • March 24, 2016 at 5:41 pm
    Permalink
    i am totally speechless no words harsh reality of our society,
    Reply
  • March 24, 2016 at 6:13 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر ہے، ہمارے معاشرے میں غریبوں کے ساتھ ایسا ہی رویہ ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.