Lambi Hai Ghum Ki Shaam

لمبی ہے غم کی شام
“آج کھانا باہر ہی کھاؤں گا”
یہ کہہ کر علی نے فون رکھ دیا اور لیپ ٹاپ بیگ اٹھا کر دفتر کی پارکنگ کی طرف چل پڑا. عاصم سے فون پہ ریستوران کا پتہ پوچھا اور پھر گاڑی اُس جانب موڑ لی۔ آج بہت سال بعد تینوں پرانے دوست اکٹھے ہو رہے تھے۔ جواد اور عاصم دونوں علی کے بہت پرانے دوست تھے مگر تلاش رزق نے ایسی جدائی ڈالی کہ پہلے شہر بدلے پھر ملک، مگر آج بہت سال بعد جواد آسٹریلیا سے واپس آیا تھا تو عاصم بھی کراچی سے لاہور چلا آیا تھا تاکہ تینوں دوست پھر سے ایک محفل جما سکیں اور پرانی یادیں تازہ ہو جائیں۔

ریستوران کے داخلی دروازے پر علی کی نگاہیں اپنے دوستوں کو تلاش کر ہی رہی تھیں کہ اتنے میں ایک ہاتھ اسکے کندھے پر پڑا، مڑ کر دیکھا تو جواد اور عاصم اسکے پیچھے کھڑے مسکرا رہے تھے. تینوں دوست گلے ملے، جوش دیدنی تھا، ایک کونے پہ میز تلاش کیا گیا جہاں کم سے کم لوگ تینوں کی گفتگو میں مُخل ہو سکیں۔ اپنی اپنی مصروفیات کے قصے سناتے سناتے تینوں پرانی یادیں ٹٹولنے لگے. یکا یک جواد نے سعدیہ کا ذکر چھیڑ دیا. سعدیہ، علی کی جوانی کی محبت تھی جو حسبِ روایت علی کو داغِ مفارقت دے گئی تھی. بیچاری کرتی بھی کیا، والدہ کی وفات کے بعد اسکے باپ نے اپنے ایک دوست کے بیٹے سے جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ کر دیا تھا۔ علی کے چہرے پہ ایک لمحے کو اداسی چھلکی مگر جلد ہی عاصم اور جواد نے اسکی دیوانگی کے قصے سنا کر اسے ہنسنے پر مجبور کر دیا۔ تینوں دوست پرانی یادوں کو ٹٹولتے رہے اور کب رات کے دس بج گئے پتہ بھی نہ چلا. علی کو اسکی بیوی کا فون آیا تو اس نے دوستوں سے اجازت مانگی اور محفل کو برخاست کر کے تینوں دوستوں نے باہر پارکنگ کا رخ کیا. باہر نکلے تو لوگوں کا ایک مجمع اکٹھا تھا. ایک شخص اپنے بیٹے کو پیٹ رہا تھا اور گالیوں کی بوچھاڑ بھی جاری تھی. قریب ہی اسکی بیوی سوجی ہوئی آنکھ کو سہلا رہی تھی. عاصم نے اس شخص کا بازو پکڑا اور اس سے وجہ پوچھی تو تین چار گندی گالیاں نکال کر اس شخص نے بتایا کہ وہ بیٹے کو اس لئیے مار رہا ہے کیونکہ گھر سے بھاگنے میں اپنی ماں کی مدد کرتا پکڑا گیا تھا۔ اتنے میں کسی بھلے مانس نے پولیس کو فون کر دیا اور پولیس پہنچ گئی. پولیس کو دیکھتے ہی وہ شخص بھاگ گیا. پولیس نے دونوں بچوں اور انکی ماں کو وین میں ڈالا. علی کی نظر جب اس زخمی عورت پر پڑی تو اسکا دماغ سُن ہو گیا. وہ عورت اسکا جوانی کا پیار سعدیہ تھی۔ علی نے فوراً عاصم اور جواد کو ساتھ لیا اور پیچھے پیچھے تھانے پہنچ گیا۔ اتفاقاً ایس ایچ او اسکا پرانا محلے دار تھا. اُس نے عورت کو کرسی پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور معاملہ دریافت کیا تو وہ زار و قطار رونے لگی. سعدیہ پچھلے پندرہ سال سے اپنے خاوند سے مار کھا رہی تھی، اسکا واحد قصور یہ تھا کہ جس پلاٹ کی امید پر اس کے خاوند نے فوراً شادی کی حامی بھری تھی، وہ پلاٹ پہلے ہی گروی تھا اور شادی کے چند ماہ بعد ہی بینک نے ضبط کر لیا تھا. بس وہ دن اور آج تک جہیز نہ لانے کے طعنوں کے ساتھ ساتھ اکثر دو چار تھپڑ بھی رسید ہو جاتے، بڑھتے بڑھتے بات یہاں تک پہنچی کہ اسکا خاوند اور دیور دونوں اکثر اسے پیٹنے لگے تھے. اسکا بیٹا بڑا ہو رہا تھا دیکھا نہ گیا تو ماں اور چھوٹے بھائی کو لے کر گھر سے بھاگ نکلا. ابھی کچھ ہی دور گئے تھے کہ باپ نے آن پکڑا. پہلے سعدیہ پہ لاتوں اور مکوں کی بارش ہوئی اور پھر اس کے بیٹے پر غصہ اترنا شروع ہوا. سعدیہ یہ کہانی سناتے سناتے بیہوش ہو گئی۔ علی نے اپنے وکیل کو فون کیا اور نئے قانون کے مطابق مقدمہ تیار کرنے کی تاکید کی، سعدیہ اور اسکے بچوں کو قریبی ایدھی سینٹر چھوڑ کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا. راستے میں اسکے ذہن میں وہ پرانا وقت گھوم رہا تھا جب سعدیہ کہ ہاتھ میں کانٹا بھی چُبھ جاتا تو اسکی ماں رو رو کر بے حال ہو جایا کرتی تھی۔
نجانے کب تک سعدیہ کو اس معاشرے میں یہ وزن اٹھا کر جینا ہے، اپنے آس پاس ٹٹولیے، سعدیہ جیسی بیشمار خواتین ہماری معاشرتی بے حسی کا وہ باب ہیں جو ہر ایدھی سینٹر، وومن سٹیشن، کچہری میں نظر آتا ہے۔ ہم ان سے نظریں تو چُرا سکتے ہیں، ہم ان پر “غیرت” کی نام نہاد چادر تو چڑھا سکتے ھیں، مگر ان کے زخموں سے رستا ہوا خون ہر پیرہن پر اپنا نشان چھوڑے گا۔ ہم نہیں تو شائد ہمارے بعد کسی کو یہ نشان صاف کرنے کے بجائے زخموں کو ٹھیک کرنے کا خیال آجائے. مگر کیوں نہ ہم ہی آگے بڑھ کر یہ درستگی کر لیں؟ کیوں نہ ہم اپنے بچوں اور بچیوں کو وہ محفوظ مستقبل دے کر جائیں جس میں کوئی ظالم ان پر ظلم کا سوچ بھی نہ سکے. آئیے اس معاشرتی مسئلے کو مسئلہ سمجھیں اور اس کے تدارک کی تدبیر کریں۔ اور اگر ہم ان کے دکھوں کو کم نہیں کر سکتے تو کم از کم اس نئے پاس ہونے والے حقوقِ نسواں بل کی مخالفت سے انکے زخموں پر نمک بھی نہ چھڑکیں۔

5 thoughts on “Lambi Hai Ghum Ki Shaam

  • March 18, 2016 at 8:26 pm
    Permalink

    بہت اچھا لکھا ہے نا جانے ایسی کتنی کہانی ہمارے معاشرے میں ہونگی جو روز ظلم برداشت کرتی ہونگی.

    Reply
  • March 18, 2016 at 9:28 pm
    Permalink

    ہم منافقت بھرے معاشرے میں جی رہے ہیں, شُتر مُرغ کی طرح سر ریت میں دینے کو تیار مگر ایک معاشرتی ناسور کو حقیقت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں, بہت خوب وقاص بھائی ہمیں ایسی اور بھی تحاریر سامنے لانا ہوں گی تب کہیں جا کر شاید ہماری آنکھیں کھُلیں. عمدہ تحریر اور عمدہ اسلوب

    Reply
  • March 18, 2016 at 10:01 pm
    Permalink

    اچهی تحریر…. مگر جواد بهائی کو آسٹریلیا کا ویزا کب ملا ؟ ?

    Reply
  • March 24, 2016 at 11:53 am
    Permalink

    ابھی نظر پڑی اس تحریر پر ، بہت اچھا لکھا ہے وقاص بھائی ، معاشرے کے اجتماعی رویے کی عکاس تحریر

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *