Nuskha-e-Kimiya

انسان کے لیے کبھی کبھار کچھ لمحات ادراک کے لمحات ہوتے ہیں جن میں مالکِ کائنات جلِ جلالہُ کچھ باتوں کے معنے کھولتا اور انکی وسعت کو عیاں فرماتا ہے.
سرکارَ دو جہاں سرورِ کائنات آقائے محمد ص کا ارشاد گرامی ہے
?جو چیز اپنے لیے پسند کرتے ہو
?وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرو

یقین جانیے کہ جوں جوں اس فرمانِ عالی قدر کی معنویت میں ڈوبتا جاتا ہوں اتنا ہی عش عش کر اٹھتا ہوں اگر اسی اکیلے فرمانِ ذی شان کا نفاذ اپنی زندگیوں پر کر لیا جاےء تو خدا کی قسم زندگی سہل ترین ہو جاےء اور ہم لوگ اسی معاشرے میں پہنچ جائیں جس معاشرے کو آپ ص کی ذات گرامی قدر اپنے نور سے منور کرتی تھی.

اس کلام مبارک کو عموما ایک محدود تناظر میں دیکھا جس کا مطلب یہ ٹھہرا کہ شاید یہ فرمان ذی شان صرف مادی اشیا سے متعلق ہے جبکہ حقیقت میں اسکی عملیت و وسعت پورے جہان کے معاملات پر حاوی ہے ہمارے ہر ایک تعلق ہر ایک رشتے کے لیے ایک مثبت ترین لائحہ عمل اس شاندار حدیث مبارکہ میں سمو دیا گیا ہے.یقین جانیے کہ اگر ہم اپنے روزمرہ کے معاملات اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں طے کرنا شروع کر دیں تو ہماری زندگیوں میں انقلاب برپا ہو جاےء.

جس تعلقداری یا رشتے میں ہم اپنے لیے عزت پسند کرتے ہیں تو ہمیں اس تعلق اس رشتے کو اتنی ہی عزت سے نوازنا چاہیے جسقدر ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں. جس رشتے یا تعلقداری سے ہم اپنے لیے محبت کی توقع کرتے ہیں اس تعلقدار یا رشتے دار پر اتنی ہی محبت نچھاور کریں. جس رشتے داری یا تعلقداری میں ہمیں خلوص کی تلاش ہے اسی رشتے یا تعلقداری کو اپنے خلوص سے آبیار کیجیے. اور پھر دیکھیے اس سب کا کمال! ہماری زندگیوں میں مالک کائناتِ ذوالجلال والاکرام کا فضل شامل ہو جاےء گا. کیونکہ
منشاے خداوندی ہی یہی ہے کہ اسکی مخلوق کے ساتھ معاملات میں خوش اسلوبی اختیار کی جاے. جیسے ہم ذات باری تعالٰی سے اپنے لیے درگزر پسند کرتے ہیں اسی طرح مخلوق خدا کے ساتھ معاملات میں جہاں پر ہمیں اللہ تعالی نے دوسری مخلوق سے بہتر اور اونچا مقام دے رکھا ہے درگزر سے کام لیں. کسی کی بھی تحقیر سے بچیں کیونکہ ہم اپنے لیے بھی تحقیر پسند نہیں کرتے.
کسی سے نفرت نہ کی جاےء کیونکہ ہم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ہم کسی کی نفرت کا نشانہ بنیں.
یقین کیجیے یہ نسنخہ کیمیا آپ کو ولایت کا درجہ دلا سکتا ہے. اولیاء اللہ اسی لیے مخلوق میں عزت و محبت و خلوص پاتے ہیں کہ وہ مخلوق میں عزت و محبت و خلوص بانٹتے ہیں.اس دنیا سے پردہ کر جانے والے اولیاء اللہ کا نام آج بھی ایسی محبت’ عزت اور خلوص سے لیا جاتا ہے جیسا کہ انکی زندگیوں میں لیا جاتا تھا حالانکہ ان میں بہت ساروں کو اس دنیا سے گزرے سیکڑوں سال بیت گئے. ان اولیاءاللہ کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جاےء تو یہ قدر ان سب میں مشترکہ ملتی ہے اور یہی قدر انکے قرب الہی کا سبب بنی. اکیلی اس حدیث مبارکہ پر عمل کرنے سے ہم اپنے لیے دین و دنیا دونوں کما سکتے ہیں.

اللہ پاک ہمیں اس نسنخہ کیمیا پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماے. اللہ پاک ہمیں ایک دوسرے سے محبت عزت اور خلوص سے ملنے اور ایک دوسرے کے ساتھ درگزر کرنے کی سعادت نصیب فرماےء اور ہم سبکو اپنے بھائیوں کے لیے وہی پسند کرنے کی توفیق عطا فرماےء جو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں.

والدِ محترم کے لیے دعاےءِ مغفرت کی درخواست ہے یقیناً اللہ پاک اپنے بندوں کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے.

One thought on “Nuskha-e-Kimiya

  • March 26, 2016 at 1:50 am
    Permalink

    نسخہ کیمیا۔۔ اگر اس پر لوگ عمل کریں تو معاشرے سے بہت سی بُرائیاں ختم ہو جائیں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *