Apnay Hi Marwatay Hain

اپنے ہی مرواتے ہیں

کسی گاؤں میں ایک لکڑہارا اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ رہتا تھا زندگی آسان تو نہیں تھی مگر گزارہ ہو جاتا تھا لکڑہارہ منہ اندھیرے ہی جنگل میں لکڑیاں کاٹنے نکل جاتا اورجو لکڑیاں ملتیں انھیں شہر میں فروخت کر دیتا زندگی یوں ہی گزارہ کرتے کرتے گزر رہی تھی ،

بچے اب بڑے ہو رہے تھے اس کی بیوی نے لکڑہارے سے کہا میں نہیں چاہتی کہ ہمارے بچے بھی ہماری طرح زندگی گزاریں اس لئے انہیں گاؤں کے مدرسہ میں داخل کروا دیتے ہیں تاکہ یہ پڑھ لکھ کر اچھی زندگی گزار سکیں

اگلے دن تینوں بچے اسکول میں داخل کروا دیئے گئے ،قلم دوات اور کاپیوں کے آئے دن کے مطالبات نے لکڑہارے کو اور زیادہ کام کرنے پر مجبور کر دیا

ایک تو جنگل میں ویسے بھی سوکھی لکڑیاں مشکل سے ملتی تھیں دوسرا اب اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اتنا کام کر سکے جس سے گھر کے اخراجات پورے ہو سکیں ،آخرکار اس نے اپنی بیوی سے کہہ ہی دیا کہ بچوں کا مدرسہ چھڑوا کر انہیں میرے کام میں ہاتھ بٹانا پڑے گا تا کہ گھر کے اخراجات پورے ہو سکیں ،

مگر بیوی نے صاف صاف کہہ دیا کہ تم جو مرضی کرو میری بلا سے مگر بچے تو مدرسہ میں ہی جائیں گے، ہاں میں لوگوں کے گھر کام کاج کر لیا کروں گی اگر تم اجازت دو تو،

لکڑہارے نے کہا میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ تم لوگوں کے گھروں میں کام کرو ،

لکڑہارے نے اور زیادہ محنت کرنا شروع کر دی مگر جتنی بھی محنت کرتا نئے خرچے پہلے سے تیار بیٹھے ہوتے،

آہستہ آہستہ گھر میں لڑائیاں شروع ہو گئیں چھوٹی سی بات پر بھی لکڑہارے کی بیوی اور اس میں زبردست تو تو میں میں معمول بن گیا

انسان کتنا بھی برداشت کر لے آخر کار صبرٹوٹ ہی جاتا ہے ، لکڑہارا ایک دن لکڑیاں کاٹنے جنگل میں گیا تو سارا دن کی محنت کے بعد بھی لکڑیاں نہ ملیں اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے ، دل برداشتہ ہو کر لکڑہارے نے لکڑیاں باندھنے والی رسی لے کر اس کا پھندہ بنا کر گلے میں ڈالا اور پاس والے درخت پر چڑھ گیا رسی کا دوسرہ سرا درخت کی شاخ سے باندھ کر اس نے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور اپنی بیوی بچوں کے حق میں دعامانگ کر اس نے خودکشی کیلیۓ جونہی قدم بڑھایا ایک غائبی آواز نے اسے رکنے کا کہا لکڑہارے نے ادھراُدھر نگاہ دوڑائی مگر کوئی نظر نہ آیا آواز دوبارہ آئی اور اسے درخت سے نیچے اترنے کو کہا
مگر تم ہو کون ؟ لکڑہارے نے تجسس بھرے لہجے میں کہا !

میں ملک الموت ہوں، اور میری لسٹ میں فی الحال تمھاری موت نہیں لکھی اس لئے چپ چاپ نیچے آجاؤ کودنے کی کوشش کی تو ہڈی پسلی مفت میں تڑوا بیٹھو گے اور پھوٹی کوڑی تمھاری جیب میں نہیں ہے،

تو آپ ہی بتائیں میں کیا کروں ؟

تم کام بدل لو ،ایسا کرو حکیم بن جاؤ

کیوں میری غربت کا مزاق اڑا رہے ہیں ہمارے اباؤ اجداد میں سے کبھی کوئی حکیم نہیں گزرا مجھے تو حکمت کی الف بے کا بھی نہیں پتا

میں ہوں نا تم پریشان کیوں ہوتے ہے ؟ تم صرف حکمت شروع کر دو ، جیسے ہی کوئی مریض تمھارے پاس آئے تو تم اس کی چارپائی کی طرف دیکھنا اگر تو میں اس مریض کی پاؤں کی طرف کھڑا نظروں تو تم اسے راکھ کی پڑیا بھی دو گے تو وہ ٹھیک ہو جایا کرے گا اور اگر میں اس کے سر کی طرف کھڑا نظر آوں تو تم کہہ دیا کرنا کہ آپ کا مریض ٹھیک نہیں ہو گا ،

اب تم سے اگلی ملاقات تمھارے مریض کے ساتھ ہوگی اور ہاں اس بات کو راز ہی رکھنا ورنہ میں تمھاری مدد نہیں کر سکوں گا،

اگلے ہی دن لکڑہارے نے حکمت کا کام گھر پر ہی شروع کر دیا، چند دن کے بعد پہلا مریض ساتھ والےگاؤں سے آیا جسے چارپائی پر شہر لے کر جا رہے تھے، کسی نے انہیں بتا دیا کہ اس گاؤں میں ایک حکیم ہے اسے ایک دفعہ دکھا لیں ہو سکتا ہے اس کی سمجھ میں بیماری آجاۓ ،

حکیم صاحب نے چارپائی کو غور سے دیکھا تو ملک الموت اس مریض کے پاؤں کی طرف کھڑے تھے بس حکیم صاحب نے اسے چولہے سے راکھ کی پڑیا دی اور اسے کہا اسے کھا لو مریض کو وہ راکھ کھلوانے کی دیر تھی کہ وہ مریض اچھا بھلا ہو گیا جو زندگی سے ما یوس ہو چکا تھا

بس پھر کیا تھا مریض بڑھنا شروع ہو گئے حکیم صاحب چار پائی کو دیکھتے اور پڑیا پکڑا دیتے یا پھر سیدھا جواب دے دیتے

حکیم صاحب کی بلے بلے ہو رہی تھی کہ بڑے پہنچے ہوۓ حکیم ہیں زندگی عیاشی سے گزنے لگی

ایک دن حکیم صاحب کے پاس کچھ شاہی سپاہی آئے اور انہیں اپنے ساتھ چلے کو کہا کہ بادشاہ سلامت کی اکلوتی بیٹی سخت بیمار ہیں بڑے بڑے حکیم علاج نہیں کر پائے آپ کی بہت شہرت سنی ہے لہذٰا آپ کو ہمارے ساتھ جانا پڑے گا ۔

حکیم صاحب مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ڈرتے ڈرتے شاہی محل پہنچے اور راستے میں دعائیں کرتے رہے کہ ملک الموت شہزادی کی پاؤں کی جانب ہی کھڑے ہوں

آخر کا ر حکیم صاحب کو شہزادی کی آرام گاہ میں لیجایا گیا حکیم صاحب نے کن اکھیوں سے شہزادی کے مخملیں بستر کو دیکھا اور ملک الموت کو شہزادی کے پاؤں کی طرف کھڑے دیکھ کر ان کی جان میں جان آئی، بس پھر کیا تھا حکیم صاحب نے اپنی زنبیل سے راکھ کی پڑیا نکالی اور شہزادی صاحبہ کو کھلانے کا کہا راکھ کھانے کی دیر تھی کہ شہزادی ایسے ہو گئی جیسے کبھی بیمار ہی نہ تھی بادشاہ سلامت کو شہزادی کی حالت کے بارے میں بتایا گیا،

یہ سننا تھا کہ بادشاہ سلامت نے نے پورے ملک میں جشن کا اعلان کر دیا ، اور حکیم صاحب کو شاہی حکیم کا درجہ بھی دے دیا اور خزانے کا منہ کھول دیا کہ جتنا دھن لیجانا چاہو لے جاؤ

زندگی اچھی لگنے لگی نوکر چاکر اعلیٰ پوشاکیں پہنے اس کی بیوی اور بچے اترا کر چلتے

لیکن کہا نا ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ،

کیا ہوا کہ ایک دن حکیم صاحب کے پیٹ اچانک شدید درد اٹھا جو کہ اسقدر نا قابل برداشت تھا کہ حکیم صاحب بیہوش ہوگئے ، گھر والے بھی اس ناگہانی کیفیت سے گھبرا گئے جلدی سے ایک اور قابل حکیم کو بلوایا گیا ،انھوں نے کچھ جڑی بوٹیوں کا رس منہ میں ٹپکایا تو حکیم صاحب ہوش میں تو آگئے مگر درد ابھی بھی جوں کا توں تھا

اسی شش و پنج میں کیا دیکھتے ہیں کہ ملک الموت حکیم صاحب کے سر کی طرف کھڑے مسکرا رہے ہوتے ہیں حکیم صاحب کو سارا درد بھول گیا اور جلدی سے اپنا سر چارپائی کی پائینتی کی طرف کر لیا اور پاؤں سرہانے کی طرف، ملک الموت بھی گھوم کر پھر اس کے سر کی طرف کھڑے ہو گئے ، حکیم صاحب کو کچھ نہیں سوجھ رہا تھا کہ کیا کرے بس چارپائی پر پھر گھوم گئے ادھر موت کا فرشتہ بھی گھوم کر ان کے سر کی طرف کھڑا ہو گیا بس پھر حکیم صاحب کا سر کبھی پائینتی کی طرف اور کبھی سرہانے کی طرف

گھر والوں نے سمجھا شاید حکیم صاحب کو کوئی دورہ پڑ گیا ہے جو ایسی حرکتیں کر رہے ہیں انہوں نے اسے اسی لکڑیاں باندھنے والی رسی کے ساتھ چارپائی پر باندھ دیا تا کہ حکیم صاحب کا گول گول گھومنا بند ہو اور کچھ آرام کر سکیں

ادھر ملک الموت نے حکیم صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوے کہا سنا بچے آخر پکڑا گیا نا ! اب مرنے کیلئے تیار ہو جاؤ

حکیم صاحب نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور ملک الموت سے کہا مرتا تو شاید میں اب بھی نہ مگر مجھے میرے اپنوں نے مروا دیا ،

اپنوں کو مروانے کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے،تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کبھی ہمیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے، کوئی نقصان ہوتا ہے ، انفرادی حیثیت میں ہو یا اجتماعی حیثیت میں ہمیشہ اس میں آپ کو اپنے ہی ملوث ملیں گے،

2 thoughts on “Apnay Hi Marwatay Hain

  • March 20, 2016 at 2:07 am
    Permalink

    لکھتے رہیے جناب۔۔۔۔۔۔ کہانی بننا آتی ہے آپ کو۔

    Reply
  • March 25, 2016 at 2:02 am
    Permalink

    اچھی کہانی ہے واقعی اکثر ہمارے اپنے ہی ہمیں مرواتے ہیں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.