Asal Kahani

اصل کہانی
اس کی نانی اور والدہ ریلوے پرائمری سکول میں آیا تھیں۔بارہ سالہ ریحانہ اکثر اپنی نانی کے ساتھ ہمارے گھر آیا کرتی جب اماں سے کچھ رقم ادھار لینی ہوتی۔پھر سنا کہ ریحانہ کے پیٹ سے دس کلو ملپ آپریشن کرکے نکالے گئے ہیں۔کچھ عرصہ بعد جانے کیا سوجھی کہ اماں کے پاس زبردستی شاگردہ بن بیٹھی۔ “بس باجی میں تو آپ سے کٹائی،سلائی سیکھوں گی۔نانی دور نہیں بھیج سکتی۔اور پڑھنا میرے دماغ کا روگ نہیں۔” بہت سمجھایا مگر جیت ریحانہ کی ہوئی۔یونہی کچھ ماہ گزر گئے اور ایک روز چھٹی لینے آگئی کہ گجرات میں ایک مزار سے آنکھوں پر تیل لگا کر نانی کی بصارت واپس مل سکتی ہے،لہذا اُسے بطور اٹینڈینٹ ساتھ جانا تھا۔

ایک ہفتے بعد ریحانہ کی نانی اکیلی لوٹیں اور کالونی بھر میں بچے بچے کو خبر مل گئی کہ جب نانی دربار کے چراغ سے تیل آنکھوں پر لگائے بیٹھی تھی تو بیت الخلاء گئی ریحانہ واپس ہی نہ آئی۔پرچہ کٹوا دیا گیا۔یہ میاں نوز شریف کے دوسرے دورِ حکومت کا واقعہ ہے۔اُن دنوں وزیرِ اعظم ہاؤس میں عوام سے ٹیلی فونک رابطہ اور کھلی کچہری کا چرچا تھا۔ریحانہ کی والدہ ہمارے گھر سے فون ملاتے اپنا پلو بھگوتی رہتیں۔جب کوئی امید دکھائی نہ دی تو کھلی کچہری پہنچ گئیں۔ معاملہ پریس کے سامنے آیا اور وزیرِاعظم نے فوری کاروائی کی یقین دہانی کروا دی۔کچھ ہفتوں میں وقفوں سے اُس ہی علاقے سے لڑکیاں اغواء کرکے علاقہ غیر بھجوانے والے دو گروہ پکڑے گئے۔مگر ریحانہ نے ملنا تھا نہ ملی۔
سال تھا دو ہزار چار،ابا کی ملازمت میں ترقی کے بعد ہم دوسری کالونی کے بڑے گھر میں منتقل ہو چکے تھے جب پرانی کالونی سے خبر ملی کہ ریحانہ واپس آگئی ہے۔کسی نے بتایا کہ خود آئی ہے ، کوئی کہتا پولیس نے بازیاب کروایا اور چند ایک نے بتایا کہ عرصہ ہوا والدین کو مل چکی تھی مگر باقی بیٹیوں کا گھر بسانے کی خاطر ماموں کے ہاں چھپا رکھا تھا۔غرض کہ جتنے منہ اُتنی کہانیاں۔
ایک روز ریحانہ کی والدہ ہمارے ہاں آئیں اور جو کہانی انہوں نے سنائی اس کا لُبِ لباب یہ ہے کہ محلے کے ڈیرے دار کو ریلوے ٹریک پر ایک جھَلی سی لڑکی بنا دوپٹے کے بیٹھی مِلی۔جو بار بار کہہ رہی تھی ۔۔۔”امی ، ٹریناں ، گھر نانی ، میں ریحانہ۔۔۔” ان صاحب نے فوری کڑیاں ملائیں اور ریحانہ کی ماں کو بلوایا (نانی وفات پا چکی تھیں) جس نے بیٹی کو پریشان حال میں پہچان لیا تھا۔
میڈیا اُن دنوں آزادی کا نیا ذائقہ چکھ رہا تھا۔پہلے تھانے میں اطلاع کی گئی اور پھر بچی کو نہلا دھلا کر اچھے لباس اور صاف ستھرے حلیے میں میڈیا کے سامنے لایا گیا ۔اخبار میں اشتہار بھی دے دیا گیا۔تیسرے روز ایک میلا کچیلا بندہ دو بچوں کیساتھ نکاح نامہ پکڑے ریحانہ کے شوہر ہونے کا دعویدار بنا کھڑا تھا۔لاہور سے آیا تھا جِس نے اپنے حصے کی کہانی بیان کی کہ ظالم بھیڑیے ریحانہ کو مختلف انجیکشنز کے زیرِ اثر رکھ کر اپنے مقاصد کیلیے استعمال کررہے تھے۔اور دوا کے زیادہ استعمال نے اس کی ذہنی صلاحیتیں بالکل مفلوج کرڈالی تھیں۔ سات آٹھ سال قبل جب چھاپے پڑ رہے تھے تو کس طرح ریحانہ نشے کی حالت میں وہاں سے بھاگی اور اِس شخص کے تندور کے سامنے بیہوش ہوگئی۔یہ شخص لاوارث تھا کچھ مہینوں بعد اہلِ علاقہ نے اس کا نکاح نیم پاگل ریحانہ سے کروادیا۔مگر وہ اکثر اپنے والدین اور گھر کی دھندلی یادوں کو دہراتی دو بچے پیدا کرچکی تھی۔
اس تمام داستان میں درجنوں جھول تھے جو کوئی بھی ذی ہوش تلاش کرسکتا تھا۔پہلا سوال ہی یہ تھا کہ گھر سے آدھا میل دور ریلوے ٹریک تک پہنچی کیسے،کس نے پہنچایا اور اُس سے آگے گھر کا راستہ کیوں نہ یاد آیا۔مگر اماں نے مبارکباد دی کہ بیٹی مِل گئی اور ہماری دادی کا مشہورِ زمانہ تبصرہ “پُتر موئے دا صبر آجاوندا اے،گواچے دا نئیں۔۔آس بنی رہیندی تے بندہ کُرلاندا ریہندا اے۔” (بیٹا ! مَرے کا صبر آجاتا ہے مگر گُم ہوئے کا نہیں۔آس بندھی رہتی ہے اور زندگی سسکتی رہتی ہے)
مقصد اِس آنکھوں دیکھے واقعہ کو بیان کرنے کا صرف یہ ہے کہ آٹھ مارچ کو سابق گورنر پنجاب کے مغوی بیٹے شہباز تاثیر کی چار سال سات ماہ کے بعد اچانک واپسی نے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیرِ داخلہ کا انکشاف ،ترجمان بلوچستان حکومت کا بیان ، آئی،ایس،پی،آر کے دعوے (لمحہ بہ لمحہ تصویری حال کے ساتھ) اور تاثیر خاندان کے مؤقف کے علاوہ ہماری ٹی۔وی سکرینوں پر بیٹھے بقراط ۔۔۔ کسی ایک کا بیانیہ دوسرے سے میل نہیں کھا رہا۔ایسے میں سوشل میڈیا پر سازشی تھیوریز گھڑنے،دائیں اور بائیں بازو کے دعویداروں کا رویہ بھی خاص قابلِ تعریف نہیں۔
عرض فقط یہ ہے کہ اگر معاملہ صرف تاوان کا تھا تو پانچ پارٹیز کے ہاتھوں مغوی کو بیچا ہی کیوں گیا۔اگر اغواء ہی نہ ہوا تھا تو تشدد زدہ اور ریت میں گردن تک دھنسے شہباز کی تصاویر کِس نے جاری کی تھیں ۔ یو۔ای۔ٹی کا وہ طالب علم کیا ہوا۔اچھا تو داعش کے چنگل سےافغان طالبان کمانڈر نے رہائی دِلوائی۔ٹھیک۔۔۔تو اِس نام نہاد کاروائی میں گرفتاریاں کہاں ہیں نیز اُس طالبان کمانڈر سے ڈیل کِس نے اور کِن شرائط پر کی اور اگر مشہورِ زمانہ السلیم ہوٹل میں بیٹھا شہباز تاثیر جیب میں پڑے ساڑھے تین سو روپوں کے برتے رُوش تناول فرما رہا تھا تو آپریشن،بازیابی،کاروائی جیسی اصطلاحات کے نئے مفہوم سے قوم کو متعارف کروانے پر ہم واقعی مشکور ہیں۔
ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ جب بڑے نقصان سے کمر ٹوٹی ہو اور ایسے میں دوسری قیمتی شے نقصان کرنے والے کے ہمدردوں کے قبضے میں ہو تو سزا دینے میں تب تک تاخیری حربہ استعمال کرو جب تک اپنی شے تحویل میں نہ آجائے۔اب یہ کامیابی خبر کی صورت کب اور کیسے سامنے لانی ہے مرضی ہے مالکان کی۔بس یہ دھیان رہے کہ اصل کہانی میں ایسا جھول نہ ہو جو جگ ہنسائی کا باعث بنے۔

5 thoughts on “Asal Kahani

  • March 11, 2016 at 6:51 pm
    Permalink

    بہت ہی عمدہ تحریر اور سوالات ان سب سوالات کے جوابات پتہ نہیں ہمیں ملیں یا ایک اور کانسپیریسی تھیوری ان میکنگ 🙁

    Reply
    • March 12, 2016 at 5:12 am
      Permalink

      شکریہ جناب… جواب ان معاملات میں سوال سے پیشتر تراش لیا جاتا ہے ☺

      Reply
  • March 11, 2016 at 6:57 pm
    Permalink

    اصل پیغام تو کہانی کی اختتام پر ہی ہے ، باقی واقعہ تو زیب داستاں کے لیے ، بہت اچھی کاوش

    Reply
    • March 12, 2016 at 5:13 am
      Permalink

      شکریہ شعیب بهائی….. اصل پیغام تو دادی کا جملہ ہے… اختتامیہ تو مشورہ ہے 😜

      Reply
  • March 13, 2016 at 12:11 pm
    Permalink

    بچپن سے ہی ہنود اور یہود کی سازشوں کے آموختے پر جوان ہونے والی نسل واقعات کو ہمیشہ اسی تناظر میں دیکھنے کی عادی ہوچکی – سب سے بڑھ کر ہمارا میڈیا جس کے نزدیک آزادی کا مفہوم جھوٹ بولنے کی آزادی ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *