Mukalma

مکالمہ
بہت ظلم ہوا ہے ، ان کا قصور نہیں تھا ، ان کو ورغلایا گیا تھا ، ان کی برین واشنگ کی گئی تھی – انہوں نے تو اپنی طرف سے ٹھیک قدم اٹھایا تھا ، ان کو برا مت کہو – برے صرف وہ ہیں جنہوں نے ان کے جذبات ابھار کر ان سے یہ کام کرا لیا – ان کی اپنی نیت تو پاک صاف تھی –

مگر دوست یہ بات کچھ پلے نہیں پڑھ رہی ، ایک جوان جہاں عاقل بالغ شخص کیسے بہکاوے میں آ گیا ؟ اور اگر کسی کی باتوں میں آ بھی گیا تھا تو ایسا انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے کچھ اپنی عقل سے سوچنا تو چاہیے تھا نا –

یار جب بات عقیدے پر آ جاتی ہے تو بندہ ایسے ہی جذباتی ہو جاتا ہے ، ان کو تو بس یہی بتایا گیا تھا نا کہ فلاں نے ایسی نیچ حرکت کی ہے – اب خون تو جوش مارتا ہے ایسی بات سن کر – چلو انھیں عمر قید دے دیتی عدالت مگر پھانسی کی کیا تک بنتی تھی –

میرے دوست ، خودکش بمبار تیار کرنے والے بھی ایسی ہی بات کرتے ہیں – خود کش حملے کرنے والوں کا بھی ایسے ہی برین واش کیا جاتا ہے – انھیں بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ عقیدہ خطرے ہیں ہے ، فلاں اور فلاں عقیدے کے لیے خطرہ ہیں ، اس خطرے کو ختم کر دو – کیا آپ ان خودکش بمباروں کو بھی جذباتی کہیں گے ؟ کیا آپ خودکش بمباروں کے لیے بھی دل میں نرم گوشہ رکھیں گے ، کیا انھیں بھی ایک موقع ملنا چاہیے کہ انکا عمل تو بس عقیدے کے لیے ہی تھا ، بس یہ کہ انھیں کسی نے غلط پٹی پڑھا دی –

کیا بات کر رہے ہو یار ، کہاں خود کش بمبار دہشتگرد ، کہاں ان کا عمل – دونوں میں کوئی مماثلث نہیں ، عجیب بات کرتے ہو آپ – کن جانوروں کو کس ہستی سے ملا رہے ہو – خودکش بمباروں کو تو جنازہ بھی نصیب نہیں ہوتا جبکہ یہاں تو پورا شہر امڈ آیا تھا جنازے پر –

دوست اگر اپنی دلیل بارے خود ہی سوچیں تو دونوں میں کوئی فرق نہیں ریاست کی نظر میں – دونوں ہی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہے تھے ، ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے – دونوں کا انجام ایک سا ہی ہونا تھا کہ قانون تو سب کے لیے ایک سا ہے –

یہ قانون یہ عدالتیں یہ حکومت سب غلام ہیں – بہت زیادتی کی ہے انہوں نے ، اور اگر تم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہو تو برائے مہربانی مجھے معاف کرو – میں اس بحث میں پڑ کر اپنی عاقبت نہیں خراب کرنا چاہتا – مجھے تو تم سے دوستی برقراررکھتے ہوئے بھی اپنا ایمان خطرے میں نظر آتا ہے – آئندہ مجھ سے بات مت کرنا – والسلام

12 thoughts on “Mukalma

  • March 8, 2016 at 6:32 pm
    Permalink

    بہت خوب شعیب اور ایک دفعہ پھر سے ایک انتہائی اہم موضوع کا انتخاب۔ویسے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جس دن سلمان تاثیر کا قتل ہوا تھا اس دن ممتاز قادری کے حمایتی زیادہ تھے اس کی پھانسی والے دن سے۔ اب سوچنا ہوگا کہ آخر چند برسوں میں کن باتوں نے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کی سوچ میں تبدیلی پیدا کردی۔

    Reply
    • March 8, 2016 at 6:35 pm
      Permalink

      میرا خیال ہے کہ بہت زیادہ تبدیلی نہیں آئی ، میں تو ہل گیا ہوں یہ دیکھ کر کہ کیسے کیسے لوگ قاتل کے حق میں کہاں کہاں سے دلائل لا رہے ہیں – کیا پڑھے لکھے کیا جاہل ، تقریباً سب ایک سے ہی ہیں یہاں – بہت محنت کرنی پڑے گی اذہان کو تبدیل کرنے کے لیے – لوگ حق بات بولتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں کوئی اعتراض نہ کر دے –

      Reply
      • March 8, 2016 at 6:43 pm
        Permalink

        ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن میرا ذاتی تجربہ خاصا مختلف رہا ہے۔ تاثیر کے قتل کے وقت انتہائی پڑھے لکھے اور ایک غالب اکثریت قادری کے عمل کو جائز قرار دے رہی تھی لیکن قادری کی پھانسی کے وقت انھی لوگوں کی سوچ مختلف تھی۔ ممکن یہ بات صرف میرے ذاتی تجربے تک ہی محدود ہو

        Reply
        • March 8, 2016 at 7:23 pm
          Permalink

          میں متفق ہوں۔ میں خود قادری کا حمایتی تھا۔ ان لرن کرنا بہت دشوار ہے۔ کوشش کی۔۔ کچھ اللہ نے رحمت کی

          Reply
      • March 8, 2016 at 6:43 pm
        Permalink

        اذہان تبدیل جلدی ہو جائینگے اگر انصاف ہونا شروع ہو جائے یک طرفہ انصاف ہمیشہ ایسی ہی تبدیلیاں لاتا۔۔۔

        Reply
  • March 8, 2016 at 7:12 pm
    Permalink

    لکھتے رہیے۔۔ خوبصورت تحریر

    Reply
  • March 8, 2016 at 7:45 pm
    Permalink

    عمدہ لکھا. موضوع اچھا خاصہ نازک اور اچھی طرح سنبھالا.

    Reply
  • March 8, 2016 at 8:15 pm
    Permalink

    اس حساس موضوع پر لکھا جانا ضروری تھا، خوشی ہوئی کہ آپ نے قدم آگے بڑھایا اور ایک مخصوص زہنیت کو تصویر کا دوسرا اور اصل رُخ دیکھانے کا حوصلہ کیا کہ ‘ہمارے زمہ تو بات صاف صاف آگے پہنچا دینا ہی ہے’۔ بہت خوب بہت خوبصورت تحریر

    Reply
  • March 8, 2016 at 9:41 pm
    Permalink

    بہت بہترین سر. ہمیشہ کی طرح بہت خوب لکھا ہے.

    Reply
  • March 8, 2016 at 10:55 pm
    Permalink

    بہت خوب مکالمہ۔قادری کی پھانسی نے بہت سے چہرے بےنقاب کئے۔ مدثر بھائی کی بات سے اتفاق۔ جب سلمان تاثیر کا قتل ہوا تھا تو میں بھی اسوقت قادری کے حمایتیوں میں سے تھا۔

    Reply
  • March 9, 2016 at 1:02 pm
    Permalink

    بہت اچھا لکھا اور اس سے ملتا جلتا مکالمہ ایک دوست کے ساتھ ہوا تھا اور ان کا جواب بلکل یہ ہی تھا کہ عمر قید ہی دے دیتے پھانسی ضروری تھی

    Reply
  • March 13, 2016 at 12:17 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر، اصل میں ہمارے اذہان اب دنیا کو نظریے کی عینک سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں اسلیئے اب ہم بہت بنیادی چیزوں کی تشریح و تشخیص بھی درست انداز میں کرنے سے قاصر ہیں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *