Khana-I-Khuda

ایک عبادت گاہ
ایک مسجد
ایسی بھی بنائ جائے
جہاں صرف الله کی عبادت ہو
جہاں صرف کتاب الله ہی پڑھی اور پڑھائی جائے
جہاں نفرت نہ سکھائی جائے
جہاں انسانوں سے محبت کا درس دیا جائے
جہاں آنے والوں کا مسلک نہ پوچھا جائے
کاش ہر شہر میں صرف ایک مسجد تو ایسی ہو
جو خانہْ ملا نہ ہو
خانہْ خدا ہو
ارے مسجد نبوی میں یہودی ٹھہراے جا سکتے ہیں دور نبوت میں
تو آج کی مساجد میں فرقوں کی تفریق کیوں
وہ مسجد جو مکتب تھی
جو عدالت تھی
جو جائے سکوں تھی
جو جائے امان تھی
جو مساوات کی پہچان تھی
جہاں محمود و ایاز ایک صف میں کھڑے ہوتے تھے
جہاں عورت بھی نماز کی ادائیگی کو جاتی تھی
اسکا اصلی روپ لوٹا دو
جی بھر بناؤ اپنے مسالک کی عبادت گاہیں
پر بنام خدا اسے خانہ خدا نہ کہو

4 thoughts on “Khana-I-Khuda

  • March 8, 2016 at 11:59 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت لکھا ہے۔ لکھتی رہیئے

    Reply
  • March 13, 2016 at 12:19 pm
    Permalink

    خانہ خدا تو نہیں البتہ ہم نے اب خدا کو خانوں میں بانٹ دیا ہے، عمدہ موضوع پر اچھی تحریر

    Reply
  • March 25, 2016 at 1:55 am
    Permalink

    کاش ایسا ہو جائے کہ سب مساجد فرقہ واریت سے پاک ہو جائیں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *