Ustadi

اُستادی
ایک تجربہ کار اور جہاندیدہ مکینک کے پاس ایک بچّے کی ماں کِسی جاننے والے کے توسط سے پہنچی – اس نے لجاجت کے ساتھ درخواست کی کہ اسکے بیٹے کو کام سیکھنے کیلِئے رکھ لیا جائے کیونکہ اسکے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اسکا بچہ کام سیکھ کر گھروالوں کا سہارا بن سکے – اسکے بچے کوگاڑیوں کا کام سیکھنے کا بہت شوق ہے اور اس نے استاد کے بارے میں بہت سُن رکھا ہے اور بہت متاثر ہے وغیرہ وغیرہ

تعلق دار کی سفارش اور خاتون کی مِنت سماجت کے زیر اثر مکینک نے خاتون کے بچّے کو کام پر رکھنے کی حامی بھر لی – بچّے نے کام پر آنا شروع کردیا – بچّہ ذہین تھا اور اسکا فِطری میلان بھی اس کام کیطرف تھا اِسلیئے اُس نے جلد ہی اچھا کام شُروع کردیا – اسکی ذہانت اور لگّن کی وجہ سے اُستاد نے بھی اُس پرخصوُصی دستِ شفقت رکھا

چند ماہ بعد ہی ایک دِن بچّے کی والدہ ورکشاپ پر آئی – آکر اُس نے اُستاد کا شُکریہ ادّا کیا جِس نے اُسکے بچّے کے ساتھ خصُوصی شفقت روا رکھی اور اُسے ذاتی توجّہ سے کام سِکھایا – اِس تمہید کے بعد اُس نے اُستاد سے کہا کہ وہ اصل میں اپنے بچے کو لینے آئی ہے کیونکہ اُس نے اب مُکمل کام سیکھ لیا ہے اور ایک عزیزکی سرپرستی میں وہ اپنی ذاتی ورکشاپ کھولنا چاہتا ہے

اُستاد کیلیئے یہ سب کُچھ حیران کُن تھا مگر اپنی جہاندیدگی اور تجرُبے کی بِنا پر اُس نے اپنی حیرت کو چہرے پر ظاہر نہیں ہونے دیا اور بچّے کو بُلوایا – اُستاد نے اُس سے پُوچھا کہ بیٹا تُم نے میرے پاس بہت اچھا وقت گُزارا ہے اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں

بچّے کے بولنے سے پہلے ہی اس کی ماں بولی “اُستاد جی ماشاءاللہ میرے بچّے نے آپ سے سب کُچھ سیکھ لیا ہے اب کِسی چیز کی ضروُرت نہیں بسّ آپ بچّے کواپنی دعائیں دیں” اُستاد نے مُسکراتے ہوئے بچّے سے پُوچھا کہ پھربھی کوئی سوال، کوئی مسلہ ہو کام سے متعلق تو مُجھے بتاو، مُجھے خُوشی ہوگی اگر میں جاتے جاتے بھی تُمہاری کوئی مدد کرسکوں

اُستاد کے اِصرارپر بچّہ بولا “اُستاد جی آپکی رہنُمائی اور تربیت کی وجہ سے اب میں اِس قابل ہوگیا ہُوں کہ بغیر کِسی دوُسرے کی مدد کے اِنجن پُورا کھول لیتا ہوں اور دوبارہ بند بھی کرلیتا ہوں اور اِس عمل کے دوران کوئی مُشکل پیش نہیں آتی مگر ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے اسے حل کردیں”

اُستاد نے کہا کہ بتاو کیا مسلہ ہے مُجھے حل کرکے خُوشی ہوگی؟

بچّہ بولا”اُستاد جی میں اِنجن کھول بھی لیتا ہُوں اور بند بھی کرلیتا ہوُں مگر انجن بند کرنے کے بعد بھی مُٹھی بھر پیچ اور قابلے بچ جاتے ہیں جِن کے بارے میں کُچھ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کہاں پہ لگنے ہیں

اِس حکایت کا راوی اِس سے آگے خاموش ہے کہ اِس سوال کے جواب میں اُستاد کا ردعمل کیا تھا مگر آج کل نہ جانے کیوُں کبھی کسی ذُوالفقار مِرزا، کسی عُذیربلوچ اور کسی مُصطفٰی کمال کو اور اُنکی ماں کی پھُرتیاں دیکھ کر یہ حکایت یاد آجاتی ہے

13 thoughts on “Ustadi

  • March 7, 2016 at 6:06 pm
    Permalink

    منصور بھائی انجن کے نٹ پیچ تو بچ ہی جاتے ہوں گے میری موبائل مرمت کی شاپ ہے مجھے یاد نہیں پڑتا میں نے کبھی کوئی موبائل کھولا ہو تو اس کے سارے پیچ لگاے ہوں ایک آدھ بھول سے بچ ہی جاتا ہے

    Reply
  • March 7, 2016 at 6:06 pm
    Permalink

    بہت خوب – پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ایسے چھوٹے اور انکی مائیں ہر پانچ دس سال بعد استادیاں لگانے کی کوشش میں مصروف نظر آتی ہیں – اب تو استادوں نے بھی ان کی ناکامی استادیاں دیکھ کر انکے حال پر ہی چھوڑ دیا ہے – بہت شاندار اور حسب حال لکھا –

    Reply
  • March 7, 2016 at 7:42 pm
    Permalink

    ماؤں کی جلد بازی نے بہت سے ‘چھوٹوں’کا ٹیلنٹ خراب کر دیا
    .اب تو شائد استاذہ نے بھی فکر چھوڑ دی ہے حسب حال اور عمدہ

    Reply
  • March 7, 2016 at 8:14 pm
    Permalink

    بہت عمدگی سے حکایت کے زریعے حالاتِ حاضرہ کو واضح کردیا. خوبصورت بیانیہ, بات میں گہرائی اور دور کی لانا آپ کا کمال ہے.

    Reply
  • March 7, 2016 at 9:43 pm
    Permalink

    آجکل لوگ سمجهتے ہیں یو ٹیوب سے ہی ہم ہر چیز کا فن حاصل کر لیں گے چاہے انجن ٹهیک کرنا ہو یا سیاست کرنی ہو.

    Reply
  • March 8, 2016 at 11:07 am
    Permalink

    انہی بچے ہوئے نٹ بولٹ سے رونق اور گرمئ بازار ہے

    Reply
  • March 8, 2016 at 3:17 pm
    Permalink

    ماوں کی جلد بازی تو ایک طرف ۔۔۔ چھوٹوں کا وقت سے پہلے ہی خود کو بھی استار سمجھ لینا بھی ایسے شاگردوں کی ناکامی کا سبب بنتا ہے

    Reply
  • March 8, 2016 at 3:20 pm
    Permalink

    بہت خوب۔۔۔آپ نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔۔۔سمجھنے والے سمجھ گۓ نہ سمجھے وہ۔۔۔۔۔۔۔

    Reply
  • March 8, 2016 at 3:55 pm
    Permalink

    بہت خوب. استادی شاگردی والے معاشرے میں پرزے بچتے ہی رہتے ہیں. ترقی یافتہ دنیا میں پرزوں کو صحیح کھپانے کے لئے سسٹم بنائے گئے ہیں. سسٹم سے نکلے ہوئے اوسط اور نچلے انجن جوڑ لیتے ہیں.درجے کے لوگ بھی بڑی آسانی سے

    Reply
  • March 8, 2016 at 4:54 pm
    Permalink

    بہت ہی اختصار کے ساتھ وہ سب کہہ دیا جو مقصود تھا. ہم نے ہتھیلی پر سرسوں اگانے کی جتنی بھی کوششیں کی ہیں ساری ناکام ثابت ہوئی ہیں. ایک طویل تاریخ ہے لیکن صرف ایک مسئلہ کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں. مسئلہ کشمیر پاکستان نے تمام مسائل میں سر فہرست رکھا اور پھر عجلت میں کیا کیا ہوا وہ الگ تاریخ ہے. بہت عمدہ اللہ کرے کوئی سمجھ لے کہ اب کیا کرنا چاہیے

    Reply
  • March 25, 2016 at 1:39 am
    Permalink

    اس تحریر میں تینوں کردار ہی استاد ہیں جب ہر کوئی اپنی استادی دکھانے لگے تو پھر شاگردی کون کرے بہرحال ایک اچھی تحریر ہے

    Reply
  • July 3, 2016 at 3:52 am
    Permalink

    منصور بھائ بہت ہی عمدہ تحریر کوزے میں دریا کو بند کر دیا بہت اعلی

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *