Tayyaqun


تیقّن کا بکھرا بدن چار سُو ہے

تیقّن کا بکھرا بدن چار سُو ہے
یہی تو عدو کی بس اک جستجو ہے
ہر اک کے لبوں پہ ہے نعرۂ تقسیم
ہجومِ جہالت کہاں ایک سُو ہے

بساطِ الم کی جو چالیں بنے ہیں
جَبَر کی وہ زندہ مثالیں بنےہیں
بیانِ تعصب کو دُہرا رہے ہیں
جو مفلوج سوچوں کی ڈھالیں بنے ہیں

ہاں جوشِ خطابت تو اُبلا پڑا ہے
ہر اک کو بلاغت کا دَورہ پڑا ہے
وہ تیرا لہو تھا یہ میرا بدن ہے
مَرنے پہ انساں کے جھگڑا پڑا ہے

بھلا کب سے خُوں کا بھی مذہب ہوا ہے؟
بھلا کب سے سانسوں کا مسلک ہوا ہے؟
ہے خوشیوں کی وردی کبھی تم نے دیکھی؟
بھلا کب سے احساس کافر ہوا ہے؟

اب مقتول و قاتل کے فرقے بچے ہیں
یہ باقی مباحث تو وجہِ فروع ہیں
اب ان کے سِوا کچھ حقیقت نہیں ہے
کہ مظلوم و ظالم! یہی دو بچے ہیں ۔۔۔

اِمتنان قاضی

One thought on “Tayyaqun

  • March 7, 2016 at 1:51 am
    Permalink
    واہ واہ کیا کہنے, کچھ شوخیِ حالات کا بھی تذکرہ ہو گیا
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *