Justju Shanakhat Badalnay Ki

جُستجُو شناخت بدلنے کی
میاں محمد نواز شریف کی سیاست میں آمد شاید ایک حادثہ تھا. ایسا حادثہ جو نہ بھٹو مرحوم  نے نیشنلائزیشن کے وقت سوچا ہو گا اور نہ ہی جنرل جیلانی نے سیاسی تربیت کے دوران خیال کیا ہو گا . حادثات یا تو زندگیاں مسخ کر دیتے ہیں یا پھر نئی زندگی بخشتے ہیں.نوازشریف نے دوسری صورت اختیار کی ایک نئی زندگی جو یقیناً منصوبہ سازوں کے گمان سے بھی آگے. ایک ایسا لیڈر جو بے پناہ دولت کے باوجود کبھی پرایا نہیں لگتا. ایسی باتوں پر رنجیدہ جو عام لوگوں کو پریشان رکھتی ہیں. خوشی بھی تلاش کرنا تو روایتی انداز میں. بریلوی ہے کہ وہابی لوگ بس قیاس کرتے رہ گئے ہماری اکثریت عوام ایسی ہی ہے کوئی واضح نشانیاں لیے نہیں گھومتی. محفل میلاد کا انعقاد کرتا ہوا یہ شخص سنا ہے کبھی کبھی سہ روزہ کے لیے تبلیغ کے سفر پر بھی رہا ہے. نیم مذہبی طبقے کا ترجمان. مغرب سے تعلق بھی مضبوط لیکن مغربی کسی طور نہیں. اولاد سے لیکر خود تک تعلیم اور روزگار کا آغاز پاکستان سے ہی کیا. البتہ ایک کشمکش میں وہ کافی سالوں سے مبتلا نظر آتے ہیں. ضیاء الحق مرحوم کے مشن کی تکمیل کا اعادہ کرتے رہے لیکن یہ احساس بھی ساتھ ہی جاگتا رہا کہ جمہوریت ہی پاکستان کی بقا ہے. عام شناخت اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ہوئی لیکن وہ اس سے جان چھڑاتے نظر آئے. اس نئی صورتحال پر وہ جلدی میں بھی نظر آئے تین فوج کے سربراہان سے برائے راست کشیدگی بھی اس کی وجہ سے عمل میں آئی لیکن ہر مرتبہ وہ کامیاب رہے وقتی نقصان پہنچا لیکن عوام نے مسترد نہیں کیا. شاید لوگ بھی جرنیلی انقلاب سے خائف تھے. لیکن ان دنوں وہ نئی الجھن کا شکار نظر آتے ہیں. الجھن بھی نئی ہے نتائج بھی مختلف ہو سکتے ہیں. اسی نئی الجھن پر لکھنے کی کوشش ہے.

میاں محمد نواز شریف پاکستان کے ایک بڑے حلقے کی قیادت کرتے ہیں. ان کو فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے ان کے بظاہر کئی غلط فیصلے بعدازاں درست ثابت ہوئے ہیں شاید یہی کارکن اور قیادت کا فرق ہوتا ہے. لیکن ان کے فیصلوں پر رائے رکھنے کا حق کارکنوں کو بہرحال حاصل ہے. شجر اپنی ہی مٹی میں پلے تو عمر پاتا ہے. نواز شریف کی مقبولیت کی جہاں ہزار وجوہات ہوں گی وہاں میرے نزدیک ان کی دیسی ساختہ شخصیت ہے. وہ نہ ہی ہم عصر لوگوں کی طرح انگریزی بول سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی پسندیدہ خوراک کانٹی نینٹل طرز کی ہے. یہی وہ بات ہے جو کروڑوں لوگوں کو ان کا گرویدہ بناتی ہے. ان کے نظریات بھی عام پاکستانیوں کی طرح کے رہے ہیں وہ نہ ہی انتہا پسند نقطہ نظر رکھتے ہیں اور نہ ہی اس قدر آزاد خیال کے کسی برائی کی وکالت کرنے میں عمر گزار دیں. ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کے عمل سے نہ جانے کتنے سرکاری کام تاخیر کا شکار ہوتے ہیں لیکن آپ سے پیار کرتے لوگ خودساختہ دلیلیں تراشتے رہتے ہیں انہیں اس بات پر خوشی ہوتی ہے کہ ان کی قیادت شعائر اسلام کی پابندی کرتے ہیں. پاکستان میں اگر کوئی مشترک تلاش کی جائے تو وہ اسلام کے ساتھ وابستگی ہے. کمزور سے کمزور عمل کا مسلمان بھی توہین مذہب پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے. یہ یونہی بے سبب نہیں ہے اس قوم کی تربیت اسی نہج پر ہوئی ہے. قائد اعظم سے لے کر ساری قیادت کوئی پیشہ ور ملاں نہ تھے وہ بھی عام مسلمان تھے اور انہی عام مسلمانوں نے ایک ایسی تحریک برپا کی جس کی بدولت پاکستان معرض وجود آیا.

شرمین عبید چنائے نے ڈاکومنٹری کے ذریعے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے محنت لگن اور پیشہ وارانہ مہارت کو ایک جگہ یکجا کر دیا ہے. بلاشبہ اس وقت اس شعبے میں ان کا نام سب سے اوپر آتا ہے. ان کی گزشتہ فلم کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا. موجودہ فلم بھی نامزدگی کے مراحل طے کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے. شرمین عبید چنائے نے جن موضوعات کا انتخاب کیا ہے وہ واقعی ہمارے معاشرے کے بد روح عناصر کی نشاندہی کرتے ہیں. مذہبی حلقے اور روایتی مسلمان ان موضوعات کو اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش سمجھتے ہیں. ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں بہت کچھ مثبت بھی ہوتا ہے وہ بھی دکھایا جانا چاہیے. لیکن وہ جدت کو قبول کرنے میں عموماً تاخیر کا شکار رہے ہیں. ان کی زبانی کلامی مخالفت اس لہر کی تشہیر کا باعث بنتی ہے اس مخالفت سے یہ مشن نہیں رکنے والا. ٹی وی اور فلم شاید کسی حد تک اس اس طبقے میں بھی حلال ہوتا جا رہا ہے گزشتہ موقف سے دستبرداری اختیار کی جا رہی ہے. پہلے جوعلماء اپنے بیانات کی بھی ویڈیو گرافی کے خلاف تھے اب ٹی وی شوز میں باقاعدہ حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں. اب مخالفت برائے مخالفت کا زمانہ نہیں رہا. دوسروں کے کام میں رکاوٹ بننے کے بجائے اپنے کام میں بہتری کے لئے میدان عمل میں آنا ہو گا. پاکستان میں سماجی شعبے کی بہتری کے لئے مذہبی طبقہ نمایاں خدمات انجام دے رہا زلزلے کا وقت ہو یا سیلاب بہت سے کارکنان محض اللہ کی رضا کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں. تھر میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ہو یا تھیلا سیمیا کے مریض بچوں کے لیے خون کا بندوبست میں نے اس طبقے کو سب سے آگے دیکھا ہے. چند مدارس کی وجہ سے مدارس کا عمومی تاثر منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے. حالانکہ بہت سے یتیم اور نادار بچے وہاں زیور تعلیم سے آراستہ ہوتے ہیں. اتنی بڑی تعداد میں یہ بچے کسی این جی او کے زیر کفالت ہوتے تو ہم ہفتہ میں پرائم ٹائم شو میں لازمی اس این جی او کے کسی کارندے کو ٹی وی اسکرینوں پر ظاہر ہوتے دیکھتے. شرمین عبید چنائے کی مخالفت کے بجائے ان پہلوؤں کو اسکرین پر لے کر آئیں کوئی دوسرا آپ کا چہرہ نمایاں ہر گز نہیں کرے گا. سماجی خدمات بہت حد تک کاروبار کی شکل اختیار کر چکے ہیں. اس سلسلے میں جماعت اسلامی اور حافظ سعید صاحب کی جماعت کو آگے آنا ہوگا وہ ٹیکنالوجی کا نسبتاً بہتر استعمال جانتے ہیں. روایات کے ساتھ جڑا رہنا ایک اہمیت ضرور رکھتا ہے لیکن روایات کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنا اس سے بھی ضروری ہے.

میں جس موضوع پر بات کرنے نکلا تھا شاید اس سے دور نکل گیا ہوں واپسی کی کوشش کرتا ہوں حکمران جماعت ان دنوں جس کشمکش کا شکار ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے پرانے پس منظر کے ساتھ موجود رہے یا پھر نئے لبرل منظر نامہ کو تخلیق کرے. یہ کشمکش ہر سطح پر محسوس کی جا سکتی ہے. مسلم لیگ کی نمائندگی کرتے پرانی شناخت کے لوگ خال خال ہی کسی ٹی وی اسکرین پر نظر آتے ہیں. مشرف دور میں راجہ ظفر الحق، صدیق الفاروق ایسے لوگ روشن خیالی کا جو آپریشن کیا کرتے تھے آج کل پس منظر میں چلے گئے ہیں. کئی سالوں سے جو لوگ مسلم لیگ کا نظریاتی چہرہ نظر آتے تھے موجودہ کارکنان کے ساتھ ان کا رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے. ایک تقریر میں وزیراعظم نے لبرل پاکستان کی بات کی تو یوں لگا جیسے وزیراعظم نے حاضرین کا دل رکھنے کی کوشش کی لیکن جلد ہی کچھ کام ایسے ہوتے دکھائی دیے کہ یہ سب حقیقت کی جانب دکھائی دیتا محسوس ہوتا ہے. شرمین عبید چنائے کی فلم کی وزیر اعظم ہاؤس میں نمائش ہو یا پنجاب اسمبلی میں تحفظ نسواں بل کی منظوری یہ اس نئی جانب پہلے قدم دکھائی دے رہے ہیں. بلاشبہ یہ دونوں باتیں علامتی حد تک ہی ہیں ان پر بحث ہوتی رہے گی. پاکستانی معاشرہ نہ ہی روایتی مذہبی معاشرہ ہے اور نہ ہی روایتی لبرل ہمارا معاشرہ نسبتاً قدامت پسند معاشرہ ہے. سیاسی جماعتوں کو عوام کی نمائندگی کرنی چاہئے ان پر نظریات مسلط کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو گی . یہ کوشش ضیاء الحق اور مسٹر مشرف اپنے ادوار میں کر چکے ہیں. نظریات کو ارتقائی انداز میں پروان چڑھنے دیں. دہشتگردی ایک سنگین مسئلہ ہے اور موجودہ بیانیے میں تبدیلی ناگزیر لیکن تبدیلی تبھی ممکن ہے جب تمام طبقات کی مدد سے اعتدال پسند بیانیہ ترتیب پائے گا کسی طبقے کو فتح کر کے نفاذ کی کوشش بغاوت کو جنم دے گی اور بغاوت معاشرے کی تشکیل میں کسی طور مددگار ثابت نہیں ہوتی.

آخر میں ایک بات کہ اگر یہ سب بلاول بھٹو زرداری کا راستہ روکنے کی کوشش ہے تو یقین جانیں راستے نہیں رکتے. بی بی مریم سر پر دوپٹہ لیے نظریں جھکا کر لبرل ازم کی نمائندہ  ہر گز نہیں کہلا سکتیں. ان کی ڈیمانڈ کچھ اور ہے. بلاول بھٹو زرداری ان موضوعات پر بہت کھل کر بات کر سکتے ہیں جو مسلم لیگ کے بس کی بات نہیں. کل کو اگر بلاول بھٹو زرداری فقط یہ کہہ دیتے ہیں کہ قادیانیوں کو کافر قرار دینے والی قرارداد کا پارلیمنٹ ازسر نو جائزہ لے تو کیا مسلم لیگ کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ایسا کر گزرے. میرے خیال سے مسلم لیگ ن کی لبرل ازم کی ساری عمارت صرف ایک بیان سے زمین بوس ہو جائے گی. ہر جماعت کی اپنی کیمسٹری ہوتی ہے اور اس تبدیل کرنے سے صرف ردعمل پیش آتا ہے. پاکستان اس وقت نظریاتی تحلیل کا شکار ہے اسے نظریات کے ساتھ جوڑ کر رکھنے سے ہی یہ قوم بنے گی.

7 thoughts on “Justju Shanakhat Badalnay Ki

  • March 6, 2016 at 8:38 pm
    Permalink
    ارشد ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح آپ نے بہت اچھا لکھا۔ اتنی اہم باتوں کو انتہائی اختصار کے ساتھ بیان کردینا آپ کا ہی خاصہ ہے۔ ایک دلچسپ بات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ میاں صاحب جب نئے نئے سیاست میں آئے تھے اور اپنی جگہ بنا رہے تھے تو اس وقت ان کی تقاریر محترمہ کلثوم نواز لکھا کرتی تھیں کیونکہ انگریزی سکولوں سے پڑھے ہونے کی وجہ سے ان کے لیے اردو لکھنا آسان نا تھا۔تاہم بائیں بازوں کے لوگ میاں صاحب کی سادگی وجہ سے انہیں اردو میڈیم مشہور کرتے رہے۔میاں صاحب کی سادگی اور شرمیلا پن کے ساتھ ساتھ ان کا روایتی مشرقی طرززندگی ہی ہے جو کہ انھیں عام عوام میں مقبول بناتا ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے ۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ میاں صاحب بائیں بازوں کے ووٹوں کے لیے ایسا کچھ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ میاں صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ بائیں بازوں کے لوگ جو کہ خود کو پیدائشی طور پر اس ملک کی ایلیٹ کلاس بھی سمجھتے ہیں ۔۔ انھوں نے کبھی بھی نوازشریف کو قبول کیا ہے یا کریں گے۔ عباس شریف کی فاتحہ خوانی کے لیے آنے والی فوزیہ قصوری کے وہاں سے باہر نکلتے ہی سامنے آنے والے خیالات اس کا واضح ثبوت ہیں۔ ٹویٹر پرپائے جانے اکئی ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو کہ مڈل کلاس اور اس سے جڑی ہوئی اقدار کے بارے میں اپنے انتہائی حقارت آمیز سوچ کو چھپانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ میاں صاحب کے حالیہ اقدامات کی جو توجیہہ ، کم از کم ، مجھے نظر آتی ہے وہ یہی ہے کہ ان کی نظر میں ملک کو آگے لے جانے کے لیے یہ کام کرنا ضروری ہیں۔ باقی ایک دفعہ پھر سے انتہائی اہم موضوع پر بہت اچھا لکھنے کی مبارکباد قبول کیجئیے۔
    Reply
  • March 6, 2016 at 9:14 pm
    Permalink
    رڈیکلائیزیشن اس ملک کو سوائے پیچھے لے جانے کے اور ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کے اس ملک کو اور کچھ نہ دے سکی۔ آگے جانا ہے تو ایک دوسرے کے لئیے برداشت پیدا کرنا ہوگی جس میں اس ملک میں رہنے والی اقلییتوں کو بھی زندہ رہنے کا اتنا ہی حق دینا ہو گا جتنا کہ آپکو اور مجھے حاصل ہے۔ بس یہ سوچ ہے میاں صاحب کی اور کوئی اسکو حسب خواہش جو مرضی رنگ دیتا ریے۔ بہرحال اچھی تحریر اور عمدہ اسلوب۔ لکھتے رہیئے۔
    Reply
  • March 7, 2016 at 2:05 am
    Permalink
    چند ایک اختلافات کے باوجود تحریر اچھی لگی – بس اتنا عرض کروں گا کہ لبرل ازم کی روح سمجھنے والے کو مریم بی بی کے دوپٹے پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا – یقین مانیے آپ کی تحریر پڑھنے سے پہلے کبھی میرا دھیان اس طرف گیا ہی نہیں تھا کہ وہ ہر وقت سر پر دوپٹہ اوڑھے ہوتی ہیں

    لکھتے رہا کیجئے

    Reply
  • March 7, 2016 at 6:59 am
    Permalink
    حساس (بالاعتبارِ حسِ مشاہدہ) موضوع پہ ایک عُمدہ تجزیہ ہے۔۔۔

    رہنما کا بنیادی وصف ہی نبّاض کی مانند وقت کو جانچنا ہے ، تشخیص درست نکلے تو امر ورنہ خاک۔۔۔

    Reply
  • March 7, 2016 at 8:45 am
    Permalink
    عمدہ لکھا ہے ۔ ۔ریاست پاکستان کی تشکیل ہونا باقی ہے ۔ اس خطے کے لوگ کبھی بھی وحشی یا انتہا پسند نہیں رہے۔سندھی ، سرائیکی ، بلوچی ، پنجابی ، پشتو ، پوٹھوہاری ،کشمیری بلتی غرض کئی طرح کی \ثقافتیں اس دھرتی کی پہچان ہیں ۔ انہیں پھلنے پھولنے دیں انتہا پسندی اپنے آپ مرجائے گی۔ ملاں کا مقام مقامی ثقافتوں اور شاعری میں بس مسیت تک ہی محدود ہے۔ خواجہ فرید نے کہا
    ملاں نہیں کہیں کار دے ،
    شیوے نہ جانن یار دے
    واقف نہ مول اسرار دے
    تھئے سر دے بھرنے ونج دھڑئیں
    کیا تھیا جو تیڈی نہ بنی
    تھیسی اوہا جو رب گنی
    مقامیت کو موقع دیں پھردیکھیں
    ریاست بننے دیں ابھی ریاست کی تکمیل مکمل نہیں ہوئی
    جمہوری قوتیں ہی جدید ریاست کے قیام کی ضمانت بن سکتی ہیں۔ آمریت ،انتہاپسندی کو جنم دے سکتی ریاست
    توڑ سکتی ہے اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتی۔
    جیوے بلاول ، جیوے نواز ، جیوے جمہوریت
    Reply
  • March 7, 2016 at 12:18 pm
    Permalink
    تمام احباب کے خیالات پڑھے بہت شکریہ کہ نہایت توجہ کے ساتھ تحریر کو پڑھا گیا. متفق نہ ہونا اور پھر اس کا اظہار میرے نزدیک اتفاق کر لینے سے زیادہ صحت مند رحجان ہے. میرا خیال ہے کہ کسی بھی نظریے کی روح کو سمجھنے والے لوگ دوسروں کے لیے کم ہی تکلیف کا باعث بنتے ہیں. لبرل ہوں کہ مذہبی تکلیف کا باعث تب بنتے ہیں جب وہ جب وہ اپنے اپنے علم پر متشدد ہو جاتے ہیں. اعتدال پسندی کا وجود یہ ہے کہ مذہبی ہو یا لبرل بحیثیت انسان اس کا احترام کرنا چاہئے تاوقتیکہ وہ بزور طاقت اپنا نظریہ مسلط کرنے کی راہ ہموار کرنے کی سعی شروع نہ کر دے
    Reply
  • March 7, 2016 at 1:32 pm
    Permalink
    توجہات تو ہر طرز کی تراشی جا سکتی ہیں. بنیادی مقصد ایک صحت مند مقابلے کی فضا قائم کرنے کی کوشش ہے. جہاں کسی بھی طرز کی شدت پسندی کی اجازت نہ ہو. بتدریج سفر جاری رکھا جائے تو انشاءاللہ منزل مل جائے گی. میاں نواز شریف صاحب کے لیے یہ بات کہتا چلوں کہ وہ مملکت کے رہنماؤں میں ایک علیحدہ پہچان اور وصف رکھتے ہیں. وہ عمل سے وہ سب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو دوسرے محض اعلان کر سکتے ہیں. وہ گھاس کھا کر جنگ کی ترغیب ہرگز نہیں دیتے نہ ہی کسی بڑے فورم پر خط پھاڑ کر دلیری دکھاتے ہیں. البتہ ایک بات ہے جس پر ہمیشہ تحفظات رہے ہیں کہ وہ ہمیشہ جلد بازی میں نظر آتے ہیں رفتار میں اعتدال کی درخواست ہے
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *