Orange Line Blunder By Dr. Farrukh Saleem

فرخ سلیم کا اورینج لائن بلنڈر

ڈاکٹر فرخ سلیم کا دی نیوز میں اورینج لائن پر چھپا آرٹیکل پڑھنے کا اتفاق ہوا ڈاکٹر صاحب نے اورینج لائن سے متعلق ایسے ہولناک انکشافات کئے کہ دل دہل گیا – آگے بڑھنے سے پہلے وہ لوگ جو ڈاکٹر فرخ سلیم صاحب کو نہیں جانتے ان کے لئے ڈاکٹر صاحب کا تعارف کرانا بہت ضروری ہے – ڈاکٹر صاحب اس سے پہلے میٹرو اسلام آباد / راولپنڈی کے بارے میں بھی انکشافات کرچکے ہیں میٹرو کو دنیا کا مہنگا ترین پراجیکٹ قرار دیا تھا انتہائی صفائی کے ساتھ میٹرو کے 11 کلومیٹر overhead bridge اور underground حصے کا ذکر گول کردیا یہ وہی عظیم ہستی ہیں جنہوں نے LNG کی ڈیل سائن ہونے سے پہلے ہی اسے دنیا کی مہنگی ترین LNG کا درجہ دیا اور سینکڑوں ارب کی کرپشن کا انکشاف کئے ڈاکٹر صاحب کے ایسے کئی روح کو گرما دینے والی تحاریر موجود ہیں

ڈاکٹر صاحب نے اپنی تازہ تحریر میں تو کمال ہی کردیا ہے کہ میرا جیسا بندہ بھی مجبور ہوگیا کہ یار اب بہت ہوگئی اب ڈاکٹر صاحب کی تعریف کرنا ضروری ہوگیا ہے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ 162 ارب روپے کی میٹرو کو ڈھائی لاکھ لوگوں کے لئے بنایا گیا ہے مطلب ایک بندے پر تقریبا 648000 ہزار روپے لگائے جارہے مطلب اتنے پیسوں کا ضیاع اتنی تھوڑی عوام کے لئے کرنا انتہائی ظلم ہے ڈاکٹر صاحب نے انتہائی معصومیت کے ساتھ یہ assume کرلیا کہ شہباز شریف ڈھائی لاکھ ن لیگ کے ورکروں کو اسپیشل کارڈ دیں گے جو روزانہ میٹرو پر چڑھیں گے باقی ایک کروڑ ان کا منہ تکتے رہیں گے ہزاروں لوگ جو روزانہ لاہور کام کی غرض سے آتے ہیں ان کا بھی اورینج لائن پر چڑھنا منع ہوگا ڈاکٹر صاحب نے حکومت کی نااہلی کی منظر کشی بھی کی کہ کس طرح یہ پیسے اسکولوں پر لگائے جاتے تو ہزاروں بچوں کا بھلا ہوجاتا کس طرح ہزاروں اسکولوں میں missing facilities کے مسائل حل کئے جاسکتے تھے ڈاکٹر صاحب نے انتہائی مہارت سے بتایا کہ یہ سب رقم حکومت ایک سال میں خرچ کرنے جارہی ہے انتہائی معصومیت سے پورے ملک کے تعلیمی اعدادوشمار پنجاب کے کھاتے میں ڈال دئیے

چلیں آئیں چند گزارشات ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں ہم بھی عرض کرتے ہیں ہم ڈاکٹر صاحب جیسے پڑھے لکھے تو نہیں ہیں لیکن کوشش کرتے ہیں کہ شائد ڈاکٹر صاحب کے نالج تک پہنچ سکیں اگر جناب کوشش کرتے اور ڈھائی لاکھ لوگوں کو تیس سے ضرب دیتے پھر ان کو بارہ سے ضرب دیتے تو یہ تقریبا 9 کروڑ لوگ بنتے ہیں جو ہر سال میٹرو پر سفر کریں پھر یہ سفر کئی دہائیوں تک جاری رہے گا اب آپ اگر سمجھدار ہیں تو قیمت خود ہی نکال لیں پھر ڈاکٹر صاحب نے نہائت انکساری کے ساتھ یہ بتانا پسند تک نہ کیا کہ یہ 162 ارب روپے چائنا کی حکومت پنجاب کو سافٹ لون دے رہی ہے یہ آنے والے 20-27 سال میں واپس کرنا ہے جو ہر سال 10 ارب بھی نہیں بنتا مطلب اگر ہم یہ بھی assume کرلیں کہ اگلے بیس سال تک پنجاب کا بجٹ یہی رہے گا پھر بھی یہ ہر سال بجٹ کا 1% بھی نہیں بنتا حالانکہ پنجاب کا بجٹ گزشتہ پانچ سال میں ڈبل ہوگیا ہے مزے کی بات یہ ہے کہ کیونکہ یہ سافٹ لون ہے اس پر مارک اپ صرف 2.4% ہے ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی بتانا گوارا نہ کیا کہ پنجاب میں ایجوکیشن بجٹ کا تقریبا 25% ہے جو لگ بھگ 267 ارب روپے بنتا ہے تازہ الف اعلان کی رپورٹ کے مطابق پنجاب missing facilities, teacher attendance, enrolment وغیرہ کے اعدادوشمار میں باقی تمام صوبوں سے آگے ہے اس لئے اورینج لائن کا مقابلہ تعلیم سے کرنا شدید مذاق ہے وہ بھی ایک ایسے منصوبے کے ساتھ جسے چائنا فنڈ کررہا ہے جس سے کروڑوں لوگوں کو فائدہ ہوگا جس کا پنجاب بجٹ پر بوجھ انتہائی کم ہوگا جبکہ تعلیم کے لئے پنجاب ہر سال بجٹ کا خطیر حصہ خرچ کررہا اس بات پر بحث ہوسکتی کہ پیسہ صحیح استعمال نہیں ہورہا ابھی بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے لیکن حقائق کو مسخ کرنا زیادتی اور بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے

مجھے قوی یقین ہے کہ ڈاکٹر صاحب بھولے آدمی ہیں ان کے پاس موجود کیلکولیٹر ان کو دھوکہ دے دیتا ہے یا پھر جس یونیورسٹی سے جناب نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی وہاں اعدادوشمار نکالنے کا یہی طریقہ تھا ورنہ ڈاکٹر صاحب جیسا معصوم بندہ ایسا کیوں کرے گا؟ لیکن ایسے اعدادوشمار پاکستان کے سب سے بڑے اخبار میں شائع ہونا لمحہ فکریہ ہے کم از کم ان اعدادوشمار کو verify تو کریں

9 thoughts on “Orange Line Blunder By Dr. Farrukh Saleem

  • March 1, 2016 at 6:18 am
    Permalink

    میرے خیال میں میں تو پیمرا کو ایسے دو نمبر لفافیوں کے خلاف ایکشن لینا چاہیے اور ڈاکٹر کی لتر پریڈ ہونی چاہیے
    ماشاءاللہ زبردست تحریر لکھتے رہے

    Reply
  • March 1, 2016 at 8:40 am
    Permalink

    چائے خانہ پر ویلکم ڈاکٹر صاحب، ماشااللہ لکھا بھی خوب اور مدلل جوابات کے ساتھ اچھی خاصی تواضع بھی کردی۔ سر لکھتے رہئیے اور قوم کو حقائق سے آگاہ کرتے رہئیے۔

    Reply
  • March 1, 2016 at 8:41 am
    Permalink

    بہت اچھا لکھا فیصل رانجھا صاحب

    Reply
  • March 1, 2016 at 8:43 am
    Permalink

    ڈاکٹر فرخ سلیم بھینسوں کو ٹیکے لگانے والے ڈاکٹر ہیں نا؟ بہت خوب جواب دیا فیصل رانجھا صاحب

    Reply
  • March 1, 2016 at 9:00 am
    Permalink

    Yeh zamana bhi misinformation ka hay jesa pichhlay zamanon maen hota tha…all we can do is provide to correct information against any, that we feel and know, is incorrect.

    Thanks for the rebuttal dr saab.

    Reply
  • March 1, 2016 at 11:54 am
    Permalink

    Well there were many blunders in Dr.s article. I don’t have space to burst all the facts but i can do that on request so just focusing on first fact see the dishonesty yourself.

    Fact: Cost of Rail Metro declared the most expensive in the world….. For the record….165B= 1.571BUS$ and per KM cost= 57.35MUS$/KM. First Doc compared it with Lahore Metro Bus even a primary guy can’t do that. Second below are the costs of per KM for other projects on “planet earth” as claimed by Dr.
    1: Singapore Thomson MRT Line: not yet under construction, expected to open 2019-21, S$18 billion for 30 km. This is $600 million/km
    2:Singapore Downtown MRT Line: under construction since around 2008, to be completed in 2017; S$20.7 billion for 42 km: $493 million/km
    3:Budapest Metro Line 4: under construction since 2006, completion expected in 2014, 400 billion forint for 7.4 km. This is $358 million per km
    4:Stockholm City Line: to open in 2017, 16.8 billion kronor (2007 prices) for 6 km of tunnel and 1.4 km of bridge: $259 million/km.
    5:Cairo Metro Line 3, Phase 1: opened 2012 with construction since 2006, LE4.2 billion for 4.3 km. This is $310 million/km
    6:Bangalore Metro Phase 2: to be opened by 2017, 264 billion rupees for 72.1 km. This is $164 million/km

    Reply
  • March 2, 2016 at 2:57 am
    Permalink

    Excellent article !!!

    Reply
  • March 26, 2016 at 12:10 am
    Permalink

    فرخ سلیم کو کرارا جواب دیا ہے رانجھا صاحب نے
    بہت اچھا کیا

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *