Factory Ka Ghughu – 4 (Last Part)


فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ چہارم

یہ منظر تھا ایوانِ اقبال لاہور کا اور مسلم لیگ کے یومِ تاسیس کے موقع پہ خطاب کررہے تھے نوازشریف

 اب یہ ملک مزید کسی مارشل لاء کا متحمل نہیں ہوسکتا- بہت غوطے کھائے ہیں اس ملک نے، اس قوم نے بہت سزا بھگتی ہے-آج مارشل لاز کا نتیجہ آپ دیکھ لیں کہ ملک کے اندر افراتفری ہے،  ملک کے اندر دہشتگردی ہے،  بدامنی ہے،  ترقی نہیں ہے،  بیروزگاری ہے، غربت ہے اور لوڈشیڈنگ ہے.  ہم نے تینتیس سال جو  ہیں وہ گنوادیے۔  ان مارشل لاوں کی نظر کردیے اور اگر آج بھی سبق نہیں سیکھنا،  آج بھی اپنی اصلاح نہیں کرنی تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ من حیث القوم ہم اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہورہے ہیں —————- ہم کسی پُتلی تماشے کا حصہ نہیں بنیں گے۔  اب آپ میرے ساتھ دہرائیے [حاضرین نوازشریف کے ساتھ دہراتے ہیں] ہم کسی پُتلی تماشے کا حصہ نہیں بنیں گے- ہم اسی گندی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کرچکے ہیں۔
مسلم لیگ کے یومِ تاسیس کے موقع پر 30 دسمبر 2010 کے روز نوازشریف کی تقریر سے اقتباس
********** 
یہ منظر تھا پارلیمان کے مشترکہ ان-کیمرہ اجلاس کا جبکہ خطاب کررہے تھے چوہدری نثار علی خان

 

آئی ایس آئی ایبٹ آباد واقعہ پر غلطی کا اعتراف کرتی ہے تو ذمہ داران کا تعین ہونا چاہئیے۔ آئندہ ملک کے تحفظ کے جامع حکمت علمی ترتیب دی جائے ۔۔۔۔ مجھے اعتراف ہے کہ ائیرچیف اور ڈی جی ملٹری آپریشنزکی بریفنگ واقعی ہی پیشہ ورانہ تھی لیکن ڈی جی آئی ایس آئی کی بریفنگ تو بریفنگ سے زیادہ ایک جذباتی تقریر تھی۔ انھوں نے بریفنگ کو نہ صرف غیرموثر کردیا ہے بلکہ ماحول بھی کشیدہ کردیا ہے۔ جس انداز سے بریفنگ دی گئی ہے اس میں بہت سے گڑے مردے اکھاڑے گئے ہیں ۔ اگر توجہ واحد موضوع کی طرف رہتی تو بہتر تھا ۔۔۔ اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا؟؟
چوہدری نثار کی اس تقریر کے دوران ہی بریفنگ دینے آئے ہوئے جنرل احمد شجاع پاشا بول اٹھے کہ
مجھے علم ہے کہ لیڈرآف دی اپوزیشن کیوں مجھ سے ناراض ہیں۔  آپ نے مجھ سے ایک کام کہا تھا جو کہ کرنے سے میں نے انکار کردیا تھا اور اس کے بعد سے ہی آپ نے میرے خلاف مہم شروع کررکھی ہے لیکن میں وہ یہاں نہیں بتاوں گا
یہ بات سنتے ہی چوہدری نثار ، اپنی شہادت کی انگلی سے جنرل پاشا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، بولے
آپ یہاں بریفنگ دینے آئے ہیں ۔۔۔ بریفنگ دیں ۔۔ دھمکیاں نہ دیں۔
پارلیمان کے 13 مئی 2011 کے روز ہونے والے مشترکہ ان-کیمرہ اجلاس کی روداد سے اقتباس

 

*************
یہ منظر تھا گڑھی خدا بخش  کا اور محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر خطاب کررہے تھے آصف علی زرداری

 

ہم نے جو بنیادیں ڈالی ہیں وہ وقت بتائے گا۔ لیڈر بنیاد ڈالتا ہے۔ اس کو سوچ رکھنی ہے کہ آنے والی نسلیں کیا چاہیں گی۔ اس کو پانچ سال کا پروگرام نہیں بنانا کیونکہ یہ ٹیکنوکریٹس کا کام ہے کہ پانچ سال کا بجٹ بنانا ہے، یہ بنانا ہے، وہ بنانا ہے۔  مگر انشااللہ ہمارے اور آپ کے درمیان یہ ہم آہنگی ہے کہ ہم جمہوریت کو بچائیں گے۔  تمام سیاسی قوتیں اس بات پر ایک ساتھ کھڑی ہیں کہ ہم جمہوریت کو بچائیں گے۔ خیبر پختونخواہ میں ہمارے جمہوری دوست ہیں،  ہمارے بلوچستان میں جمہوری دوست ہیں، ہمارے پنجاب میں اپنی پارٹی کے علاوہ جمہوری دوست ہیں اور سب کا یہی ارادہ ہے کہ ہم نے جمہوریت کا ساتھ دینا ہے۔  جمہوریت لانے کے لیے تو دنیا میں عرب سپرنگ کروایا جارہا ہے۔ مگر کوئی اگر سوچتا ہے کہ مصری ماڈل پاکستان میں لائے گا تو اس کی غلط فہمی ہے۔ اس مصری ماڈل کو ہم نہیں چلنے دیں گے۔
گڑھی خدا بخش میں 27 دسمبر 2012 کے روز آصف علی زرداری کے خطاب سے اقتباس

 

************
 
نواز زرداری گٹھ جوڑ

 

یوں تو کہانی کا پس منظر بہت طویل ہے لیکن کہانی کا آغاز ایک خاتون کی اپنے قیدی خاوند کے ساتھ ہونے والی  ملاقات سے کرتے ہیں۔
عباس اطہر مرحوم ان گنے چنے لوگوں میں تھے جنہوں  نے فاتح کارگل کے فاتح پاکستان بننے کے ساتھ ہی سرعام ان کی مخالفت کرنا شروع کردی تھی۔ اس کے چند ہی دن بعد عطاالحق قاسمی کھل کر سامنے آئے۔ باقی تمام نام نہاد آزاد نامہ نگار ، کالم نگار و تجزیہ نگار بے ڈھبی کہانیوں میں کھوئے رہے۔ ان دو حضرات کے علاوہ اگر کوئی جنرل مشرف کے خلاف سب سے پہلے سینہ تاننے کی کہانی سناتا ہے تو سمجھ جائیے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ عباس اطہر مرحوم نے اپنے ایک کالم میں کلثوم نواز اور نصرت بھٹوکا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے گمان ظاہر کیا تھا کہ اگر کلثوم نواز سیاسی میدان میں اترتی ہیں تو وہ مشرفی آمریت کو اسی طرح چیلنج کرسکتی ہیں جس طرح کسی زمانے میں نصرت بھٹو نے ضیائی آمریت کے خلاف مزاحمت کی داغ بیل ڈالی تھی۔ خیربات ہورہی تھی ایک قیدی کی اور یہ قیدی تھے اس وقت کے معزول وزیراعظم نوازشریف۔ افواج پاکستان کی معیت میں سیاست کے اندر آگے بڑھتے ہوئے نوازشریف وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے تو تھے لیکن اس کے بعد انھوں نے خود کو وزیراعظم سمجھنا بھی شروع کردیا تھا۔ خود کو وزیراعظم سمجھنے کی  غلطی ہی ان کی پہلی بے دخلی کی وجہ بنی تھی۔ دوسری دفعہ وزارت عظمیٰ ان کے حصے میں اگرچہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئی تھی مگر اب کی بار نتیجہ پہلے سے بھی بھیانک رہا تھا۔ اکیس گریڈ کے ایک افسر کو نوکری سے برخواست کرنے کی پاداش میں  ایوان وزیراعظم سے بندوقوں کے سائےتلے اور ہتھکڑیوں میں جکڑے جانے کے بعد لاپتہ ہوانے والے وزیراعظم کئی دن کے بعد کراچی سے “برآمد” ہوئے اور پھر انتیس روز تک بغیر کسی الزام کے سلاخوں کے پیچھے قید رہے۔ طیارہ سازش کیس میں  سول ایوی ایشن کے چئیرمین امین اللہ چوہدری مرحوم پر خصوصی “محنت” رنگ لے آئی تھی اور وہ نوازشریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے تو اس کے بعد نوازشریف کے خلاف کے ان کے ساتھیوں سمیت زمین سے طیارہ اغواء کرنے کا مقدمہ شروع کردیا گیا تھا ۔ نوازشریف ان دنوں اٹک قلعے میں قید تھے اور ایک لمبے عرصے تک گمشدہ رہنے کے بعد انھیں خاندان کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کرنے دی جارہی تھی۔ تاہم خاندان کے تمام مرد یا تو انھی کی طرح گمشدہ تھے یا پھر بیرون ملک تھےاور پاکستان میں درپیش حالات کی وجہ سے انھیں وطن واپسی سے روک دیا گیا تھا۔ فوجی بغاوت سے پہلے نوازشریف کے دایاں بایاں   بازو اور آج کل ایک دفعہ پھرسے برادرم بنے  لوگ ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپتے ہوئے مسلم لیگ ہاوس پر لشکرکشی کرچکے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ ان کی سیاست کا ستارہ اب غروب ہوچکا ہے۔ عباس اطہر  مرحوم کا مذکورہ کالم چپھنے کے چند ہی دن بعد کلثوم نواز،  نوازشریف سے ملاقات کے لیے آئیں تو نوازشریف نے یہی کالم انھیں دکھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ یہ کردار ادا کرنے کو تیار ہیں؟ کلثوم نواز کا جواب اثبات میں تھا جس کے بعد وہ سیاسی میدان متحرک ہوگئیں اور مشرفی آمریت کے لیے پریشانیوں کا ساماں کرنے لگیں۔ طاہرہ اورنگزیب اور تہمینہ دولتانہ کی معیت میں انھوں نے ، مسلم لیگ ن کے کئی سرکردہ رہنماوں کی بے رخی کے باوجود بھی، حسب توفیق احتجاج بھی کیا اور بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کے ساتھ درپیش صورتحال کے تناظر میں مذاکرات بھی کیے۔  یہ انھی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ نوابزادہ نصراللہ کی سربراہی میں اے آر ڈی نامی سیاسی اتحاد قائم ہوا جس میں پہلی دفعہ نوازشریف اور  بینظیربھٹو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے۔ ایک طرف کلثوم نواز کی عملی سیاست تو دوسری طرف  نوازشریف کے سعودی دوستوں کی جانب سے بڑھتا ہوا دباو کارگر ہوا اور نوازشریف کال کوٹھڑی سے تختہ دار تک پہنچنے  یا پھراپنے وکیلوں کی مانند سرراہ کسی “حادثے” کا شکار ہونے کی بجائے سعودی عرب  پہنچ گئے۔  جنرل مشرف نوازشریف کو کس انجام سے دوچا کرنا چاہتے تھے، سعودی دباو کس انداز میں کارگر ہوا،نوازشریف نے یہ فیصلہ کیوں کیا، یہ سب باتیں الگ موضوع ہیں۔ تاہم آج کی حقیقت  یہی ہے کہ اسی فیصلے کی بدولت نوازشریف آج بقائمی ہوش و حواس اور زندہ و سلامت ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تیسری دفعہ وزیراعظم  بھی ہیں۔
بینیظیر بھٹو کا قصہ ذرا مخلتف ہے۔ وہ اپنے والد کی پھانسی اور باقی ماندہ  خاندان پر بیتنے والی داستان  کے اثر سے کبھی بھی باہر نا نکل سکی تھیں۔ اسی خوف کے زیراثر انھوں نے کبھی بھی فوج سے ٹکرانے کی کوشش نہیں کی بلکہ الٹا ۔۔۔۔ ہمیشہ سے شہراقتدار کا سفر براستہ راولپنڈی ہی طے کیا۔ پہلی دفعہ اقتدار میں آئیں تو جنرل اسلم بیگ کے ساتھ معاملات طے کرنے کے بعد۔  وہ منظر انتہائی دلخراش تھا جب وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد فیصل مسجد میں وہ شکرانے کے نوافل ادا کررہی تھیں تو ان سےاگلی صفوں میں نوافل ادا کرنے والا  ، غلام اسحاق خان ، وہی شخص تھا جسے  بی بی کے والد کو پھانسی چڑھانے کے مرکرزی کرداروں میں سے گردانا جاتا تھا۔ سونے پہ سہاگہ یہ تھا کہ اس شخص کو صدر بھی بی بی کے ذریعے ہی منتخب کروایا گیا تھا۔ دوسری دفعہ بھی وہ ایک اور سیاسی جرنیل عبدالوحید کاکڑ کے سیاسی عزائم کا حصہ بن گئیں۔ جنرل کاکڑ کو نوازشریف پسند نہ آئے تو موصوف نے اپوزیشن میں موجود سیاستدانوں کے ساتھ ملاقاتیں کرنی شروع کردیں جن میں وہ یہی پوچھا کرتے کہ حکومت کیوں نہیں چل رہی۔ ایسی ہی ریشہ دوانیوں کے سائے تلے ایوان صدراور وزیراعظم ہاوس میں چھڑنے والی جنگ بھی علیحدہ سے ایک موضوع ہے۔ جنرل کاکڑ مگر اس ماحول سے فائدہ اٹھا رہے تھے تو بی بی نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔ مگر لانگ مارچ کے  آغاز سے بھی قبل جنرل کاکڑ نے بی بی کو اسلام آباد بلالیا تانکہ معاملات طے کیے جاسکیں۔ بی بی کو وزارت عظمیٰ سونپنے کے لیے اس دفعہ اگرچہ قاضی حسین احمد کی “رہنمائی” میں پاکستان اسلامک فرنٹ ترتیب دینا پڑا مگر بی بی کو ایوان وزیراعظم میں واپس لوٹنے  کا موقع مل ہی گیا۔ نتیجہ مگر ایک دفعہ پھر پہلے جیسا ہی رہا۔ بی بی نے اپنے دونوں ادوار میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کو بہترین رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ اسٹیبلشمنٹ کی افغانستان فتح کرنے کی پالیسی کو نہ صرف قبول کیا بلکہ کوریا سے حاصل ہونے والے میزائل بھی اپنے طیارے میں چھپا کر لانے جیسے واقعات ان سے سے منسوب رہے۔ خاکی دربار میں قبولیت مگر انھیں پھر بھی نہ مل سکی۔ دونوں ادوار ملا کر بھی وہ  پانچ برس کے لیے بھی وزیراعظم نہ رہ سکیں۔ خاوند ان کے مسلسل جیلوں میں پڑے رہے جبکہ سیف الرحمان انھیں بھی جیل بھیجنے کے درپے تھے۔ سیاست میں ملنے والی  اوپر تلے یہ ناکامیاں اور ان کے بوجھ تلے دبی دلخراش ذاتی زندگی نے بالآخر انھیں وہ فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا جس کے تحت انھیں اپنے بچوں کی پرورش کی خاطر خودساختہ جلاوطنی ہی اختیار کرنی پڑی۔ اس جلاوطنی کے دوران بھی وہ شہراقتدار کا رستہ بذریعہ راولپنڈی تلاش کرنے کے جتن کرتی ہی رہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وزیراعظم نوازشریف کے خلاف جنرل مشرف نے جب اپنے رنگ دکھانے شروع کیے تھے  تو ان مقاصد کی تکمیل کے لیے  تشکیل دیے جانے والے اتحاد میں جہاں تمام جماعتیں اکٹھی ہوگئیں تھیں وہیں پیپلزپارٹی بھی اس سے دور نہ رہی۔ پھر جب جنرل مشرف کی آمد اقتدار میں ہوئی تو بی بی نے اسے ماضی ہی کی طرح اپنے لیے ایک اور موقع گردانتے ہوئے گمان کیا کہ ایک دفعہ پھر سے ان کے معاملات فوج سےطے ہوسکتے ہیں۔ جنرل مشرف کو خوش آمدید بھی انھوں نے اسی نیت سے کیا تھا  اور جنرل مشرف کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ بنانے کی خواہش کے اظہار کے پیچھے بھی یہی وجہ تھی ۔ لیکن فاتح کارگل کسی اور ہی موڈ میں تھے۔ بی بی بے شک انتخابی و اقتداری میدان میں اپنے والد کا اثاثہ سنبھالنے میں ناکام رہی ہوں ۔۔۔ سیاسی شطرنج پر چالیں چلنے کی  مگر وہ ماہر تھیں۔ جیسے ہی انھیں یقین ہوگیا کہ فوج اس دفعہ ان کے ساتھ معاملات طے کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی تو ان کے پاس اے آر ڈی میں شامل ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ پھر نوازشریف بھی جلاوطن ہوگئے اور پاکستان کے اندر سیاست ٹھنڈی پڑگئی۔
پاکستان کے اندر تو جو کھچڑی پکائی جانی تھی وہ  پکائی جاچکی تھی۔ ہرکوئی یہی خیال کیے بیٹھا تھا کہ میاں اور بی بی کی سیاست اب ختم ہوچکی ہے اور ان کی واپسی کا کوئی رستہ نہیں بچا۔ لیکن پاکستان سے باہر کچھ اور ہی ہوتا نظر آرہا تھا۔ جلاوطنی میں بیٹھے نوازشریف اور بینظیر بھٹو کو یہ احساس ہوچکا تھا کہ ساری عمر انھیں آپس میں لڑایا جاتا رہا تھا اور اب انھیں دودھ سے مکھی کی طرح نکال باہر پھینک دیا گیا تھا۔ یہی وہ سوچ تھی جس کے تحت دونوں جماعتوں کے تعلقات پر جمی دہائیوں پرانی برف پگھلنا شروع ہوئی اور دونوں جماعتیں عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے باہمی سمجھوتے کی طرف گامزن ہونا شروع ہوئیں۔ جوں جوں دونوں جماعتیں میثاق جمہوریت نامی اس سمجھوتے کی طرف بڑھتی جارہی تھیں ، توں توں پاکستان پر قابض فاتح کارگل کی بے چینی میں بھی اضافہ ہوتا جارہا تھا اور اسی خوف کے زیراثر وہ میثاق جمہوریت کے اس عمل میں رخنہ انداز ہونے کی کوششوں میں تیزی لاتے جارہے تھے۔ صورتحال کچھ ایسی تھی کہ نوازشریف ، جنرل مشرف کے ساتھ بات چیت کے لیے بالکل بھی تیار نہ تھے لیکن بی بی نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنے دروازے کھلے رکھے۔ جہاں نوازشریف کے ساتھ ان کا مفاہمتی عمل آگے بڑھ رہا تھا وہیں وہ اس مفاہمتی عمل کو پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر دباو بڑھانے کے لیے بھی استعمال کررہی تھیں۔ یہ اسی دباو کا نتیجہ تھا کہ جنرل مشرف نے کئی برسوں سے جیل میں قید آصف علی زرداری کو بالآخر ضمانت پر رہائی دلوا کر واشنگنٹن ڈی سی پہنچادیا۔ آصف علی زرداری اگرچہ اگلے برس لاہور فتح کرنے لیے واپس آئے لیکن چوہدری پرویز الٰہی کی پنجاب پولیس نے انھیں پر پھیلانے سے بھی پہلے دوبئی واپس لوٹنے پر مجبور کردیا۔ چوہے بلی کے کھیل کی مانند بی بی کے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اور بی بی کے نوازشریف کے ساتھ متوازی مذاکرات جاری رہے۔ بی بی مگر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کچھ بات بن جانے کی امید میں نوازشریف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی رفتار دانستہ سست رکھے ہوئے تھیں۔ یہاں تک کہ میثاق جمہویت پر دستخط ہونے کے آخری لمحات تک انھیں امید تھی کہ پرویزمشرف انھیں اس عمل سے باز رکھنے کے لیے کوئی بڑی پیشکش کردیں گے جس کے بعد ان کے خلاف موجود مقدمات ختم ہوجائیں گے ۔ ہوا یوں کہ میثاق جمہوریت کے مسودے پر دستخط ہونے کا دن آیا  تو اس روز بی بی کی جانب سے اسے  ٹالنے کی کوشش کی گئی۔ بی بی جانتی تھیں کہ ان کے دوسرے دور حکومت میں نوازشریف اور شہبازشریف کے والد میاں محمد شریف کے ساتھ روارکھے گئے سلوک کی وجہ سے  رحمان ملک ان دونوں بھائیوں کے سینے میں کسی کانٹے کی طرح چبھتے ہیں۔ چنانچہ اس تقریب کے لیے اس روز نوازشریف کو دعوت بھی لندن میں موجود رحمان ملک کے گھر آنے کے لیے ہی  دی گئی۔ مقصد یہی تھا کہ نوازشریف اپنے ذاتی جذباتی ابال کے تحت آج کے دن اس بات کو ٹال دیں گے اور انھیں جنرل مشرف پر دباو بڑھانے کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔ معاملہ ہوا بھی کچھ ایسا ہی۔ اس دعوت کے بعد نوازشریف خاصے تذبذب کا شکار ہوئے تو انھیں اپنے انتہائی قریبی ساتھیوں کی جانب سے رحمان ملک کےگھر نہ جانے کا کہتے ہوئے یہ مشورہ بھی دیا گیا تھا کہ دستخط کسی اور روز بھی ہوسکتے ہیں۔ نوازشریف اسی تذبذب میں اٹھے اور اپنے کمرے میں محصور ہو گئے۔ کچھ دیر تنہائی میں گزارنے کے بعد اپنے کمرے سے نکلے اور اپنے وفد کے ہمراہ رحمان ملک کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے جہاں بی بی کو اس دن نہ چاہتے ہوئے بھی میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے ہی پڑے۔
سیاست کی بساط پر کھیلی جانے والی شطرنج کی یہ بازی ہماری سیاسی تاریخ کی دلچسپ ترین داستانوں میں سے ایک ہے۔ بی بی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک دفعہ پھر سے معاملات طے کرنے کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے  نوازشریف کے ساتھ مفاہمتی عمل کو ضرورت کے تحت پس منظر سے منظر عام پر لاتی تھیں تو دوسری طرف نوازشریف جانتے تھے کہ ایک دفعہ بی بی پاکستان واپس لوٹنے میں کامیاب ہو گئیں تو پھر ان کا رستہ روکنا بھی ممکن نہیں رہے گا ۔ چنانچہ  وہ بی بی کو اپنا سیاسی کھیل کھیلنے کا بھرپور موقع دیے جارہے تھے۔ ہمیشہ کی طرح وقت نے ایک دفعہ پھر پلٹا کھایا۔ جنرل مشرف نے اپنے دست و بازو کے نام پر جمہوری حکومت کے لبادے میں  بھان متی کا جو کنبہ تیار کررکھا تھا وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت کرنے کی بجائے الٹا اپنی ڈرامے بازیوں میں مصروف تھا۔ اسی طرح جنرل مشرف کی سرکردگی میں ان کا ادارہ اپنی اسی کی دہائی میں پھنسی ڈبل کراس نامی پالیسی سے آگے سوچنے کے قابل ہی نہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دنیا بیوقوف ہرگز نہیں۔ امریکیوں کو جب اس ڈھانچے سے اپنے مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے تھے تو وہ گھاٹے کے اس سودے میں اپنا وقت اور پیسہ کیوں پھونکتے رہتے؟ چنانچہ امریکہ نے جنرل مشرف کے زیرسایہ چلنے والی جمہوری  حکومت کے خانے میں پیپلزپارٹی کو فٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کونڈالیزا رائس اور جان نیگروپونٹےکے دباو کے سامنے فاتح کارگل کی ایک نہ چل سکی  اور صدرمشرف جمع وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو نامی انتظامی ڈھانچے کی تیاری کے لیے مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔ بی بی کی فرمائش پر ہی جنرل مشرف کی جانب سے مذاکرات کے لیے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اشفاق پرویز کیانی کا انتخاب کیا گیا جبکہ دوسری طرف سے معاملات بی بی خود دیکھ رہی تھیں۔ امریکی دباو اور بی بی کی نوازشریف کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے دباو کے نتیجے میں جنرل پرویزمشرف ایک ایک کرکے تمام مطالبات تسلیم کرتے گئے اور یوں این آر او طے پاگیا۔ بی بی کے خلاف قائم تمام مقدمات واپس لے لیے گئے جبکہ پیپلزپارٹی نے جنرل مشرف کی جانب سے دم تورٹی اسمبلیوں سے اپنے دوبارہ انتخاب کے موقع پر مستعفی نہ ہوکر اس عمل کو جلا بخشی۔ اسی این آر او کے بدلے میں بی بی نے نہ صرف لال مسجد میں ہونے والے آپریشن کی  حمایت کی بلکہ لندن میں نوازشریف کی جانب سے بلائی جانے  والی اے پی سی سے بھی دوری اختیارکی۔ نوازشریف نے باقی ماندہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ علیحدہ سے اپنا سیاسی اتحاد قائم کرلیا اور یوں میثاق جمہوریت اڑان بھرنے سے بھی پہلے ہی آنجہانی ہوگیا۔
آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ موضوع نواز زرداری گٹھ جوڑ ہے لیکن کہانی میثاق جمہوریت کی سنائے جارہا ہوں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ میثاق جمہوریت طے پانے کا ہی عمل تھا جس نے دونوں جماعتوں کے ذہنوں میں یہ بٹھا دی تھی کہ اگر وہ اکٹھے مل کر چلیں گے تو فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تگنی کا ناچ نچاسکیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ تمام مدوجزر کے باوجود بھی دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر اپنے دروازے بند نہیں کیے تھے۔ جسٹس افتخار چوہدری کے قصے میں بھی دونوں جماعتوں نے اسی سوچ کے تحت اپنا تمام تر وزن عدلیہ کے پلڑے میں ڈالے رکھا تھا۔ 2008 کے انتخابات کی تیاری میں بھی یہی سوچ کارفرما نظر آئی جہاں این آر او کے تحت پیپلزپارٹی کو  فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے رعایتیں تو دی جارہی تھی مگر پنجاب میں اس کے برے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دست شفقت ق لیگ کے سر پہ تھا۔ مطمع نظر یہی تھا کہ اگر ق لیگ کی نشستیں زیادہ ہونگی تو وزارت عظمیٰ کے معاملے پر بی بی کی بجائے چوہدری پرویزالٰہی کو فوقیت دینا آسان ہوجائے گا۔ دوسری طرف نوازشریف کے پاس مقبولیت تو  تھی لیکن مضبوط امیدوار ناپید تھے جبکہ وہ اپنی پیٹھ میں خنجر گھونپنے والوں کو سبق سکھانے کے بھی درپے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ پھر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتی ہوئی نظرآئیں۔ یوں نوازشریف نے پنجاب کے اندر کم از کم پینسٹھ نشستوں پر پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی حمایت کی اور مسلم لیگ ق کے “ستاروں” کو خاک چٹانے کا بندوبست کرلیا گیا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور نوازشریف کی بے پناہ مقبولیت نے ان دونوں جماعتوں کو قومی اسمبلی کے اندر پہلی اور دوسری پوزیشن تو دلوادی مگر اپنی زندگی میں کیے جانے والے ان فیصلوں کا ثمر دیکھنے کا موقع  بی بی کو نہ مل سکا۔ بی بی کے سرراہ قتل نے منظرنامے میں آصف علی زرداری کو داخل کیا جو کہ بی بی کے مقابلے میں بالکل مختلف سوچ کے حامل ہیں۔ وہ روز اول سے ہی اس بات پر قائل ہیں کہ چاہے وہ آسمان سے تارے بھی توڑ لائیں، انھیں وقتی ضرورت کے تحت استعمال تو کیا جاسکتا ہے لیکن مستقل بنیادوں پر قبول کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ اسی لیے وہ سمجھتے ہیں کہ جمہوری سیاستدانوں کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی کوششیں جاری رکھنی ہونگی۔ چنانچہ آصف علی زرداری نے جنرل مشرف کے ساتھ طے شدہ مفاہمت کے تحت ق لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی بجائے نوازشریف کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا اور رائیونڈ پہنچ گئے۔  بھوربن میں حکومت کی تشکیل کے لیے طے پانے  والے معاہدے تک آصف علی زرداری نے تین دفعہ نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سنبھالنے کی پیشکش کی لیکن نوازشریف  بیساکھیوں کے سہارے وزیراعظم بننے کو تیار نہ تھے۔انھی ملاقاتوں میں میثاق جمہوریت کا دوسرا ورژن اور انتہائی قابل عمل فارمولہ طے پایا جس کے بارے میں مخالفین آج کل نواززرداری گٹھ جوڑ کے نام سے دہائی دیتے پائے جاتے ہیں۔ فارمولہ انتہائی سادہ ہے۔ دونوں جماعتیں اپنی اپنی سیاست کرنے میں مکمل آزاد ہیں جب تک کہ جمہوری ڈھانچے کو خطرہ نہ ہو۔ جیسے ہی جمہوری ڈھانچے کو خطرہ درپیش ہوا ۔۔۔ دونوں جماعتیں مل کر اس کا مقابلہ کریں گی۔
آصف علی زرداری کی تشکیل دی گئی جمہوری حکومت پانچ برس تک قائم رہی اور اس حکومت نے وہ پانچوں برس سُولی پر ہی گزارے۔ ان پانچ برسوں تک نوازشریف نے ماضی کی تمام روایتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے  حکومت گرانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نا کی۔ الٹا ہر سہ ماہی انھیں اپوزیشن میں رہتے ہوئے حکومت کو بچانا پڑتا۔ ایک کے بعد ایک وار ہوتا رہا اور ناکامی کا منہ دیکھتا رہا۔  سب سے دلچسپ واقعہ تو عدلیہ بحالی کے لیے کیا جانے والا لانگ مارچ تھا۔ بی بی کے سرعام قتل کے بعد پاکستان کھپے کے نعرے سے ابھرنے والے آصف علی زرداری سیاسی منظر نامےپر چھائے ہوئے نظر آتے تھے۔  سادہ اکثریت سے بھی محروم ہونے کے باوجود اتحادی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوجانے کے بعد انھوں نے نہ صرف جنرل مشرف کو بے دخل کردیا بلکہ خود ایوان صدر کے مکین بھی بن گئے۔ بھوربن میں طے پانے والے معاہدے سے پیچھے ہٹتے ہوئے انھوں نے عدلیہ بحالی سے بھی انکار کردیا تھا اور اب پنجاب فتح کرنے کی نیت سے شہبازشریف کو بذریعہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نااہل قرار دلوانے کے بعد نہ صرف گورنر راج نافذ کرچکے تھے بلکہ گجرات کے چوہدریوں کے ساتھ مل کر پنجاب حکومت بھی تشکیل دینے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ عام تاثر یہی بن رہا تھا کہ  آصف علی زرداری نے سیاسی شطرنج پر نوازشریف کو چاروں شانے چت کردیا ہے۔ لیکن  لانگ مارچ کے ایک دن نے اس سارے تاثر کو چند ہی گھنٹوں میں ایک سو اسی کے زاویے پر گھما کر رکھ دیا۔ پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کے بعد پورے ملک اور خصوصی طور پر پنجاب میں ہونے والے کریک ڈاون نے لانگ مارچ کی کامیابی مشکوک بنا کر رکھ دی تھی۔ نوازشریف کو نظربند کرنے کے احکامات صادر ہوچکے تھے اور تمام چھوٹے بڑے انقلابی رہنما یا تو راول جھیل کے کنارے کشتیوں میں اپنے چند پیروکارں کے ساتھ روپوش تھے یا پھر مرگلہ کی پہاڑیوں میں لوٹے سنبھالے ہوئے بیٹھے تھے۔  وکلاء رہنما یا تو نظربند ہوچکے تھے یا پھر کچہری چوک لاہور میں سندھ سے لائی گئی پولیس کے ہاتھوں “تواضح” کروانے میں مصروف تھے۔ نوازشریف بذات خود اپنے چند قریبی ساتھیوں کے ساتھ ماڈل ٹاون میں موجود تھےجبکہ ان کی رہائش گاہ کے باہرصرف ڈیڑھ سو کے قریب کارکنان موجود تھے۔ ایسےماحول میں نوازشریف لانگ مارچ کے لیے نکلے تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں کیا ہونے جارہا ہے۔ عام تاثر یہی تھا کہ نوازشریف کو باہر نکلنے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی لیکن موقع پر موجود کورکمانڈر لاہور نے نوازشریف کو سیلیوٹ مارا اور بولے “میاں صاحب ۔۔۔۔۔ جاو تُسی”۔ نوازشریف کا قافلہ ماڈل ٹاون کی گلیوں میں نکلا تو ان کے ساتھ  صرف دو سو کے قریب کارکنان تھے لیکن ماڈل ٹاون سے نکلنے سے بھی پہلے یہ قافلہ حجم میں بڑھنا شروع ہوچکا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے لاہور کی سڑکوں پر انسانی سیلاب آگیا۔ مائیں اپنے بچے اٹھائے ہوئے اس قافلے میں شامل تھیں تو عام لوگ نوازشریف کی گاڑی کے ساتھ ساتھ دوڑتے چلے جارہے تھے۔ ان چند گھنٹوں نے سارا نقشہ ایسے پلٹا کہ راوی کے پل پر پہنچنے سے پہلے ہی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے نوازشریف کو فون کرکے معاملات طے کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے چند گھنٹوں کی مہلت طلب کرلی ۔ نوازشریف کی قیادت میں لانگ مارچ جب مریدکے پہنچا تھا تو ان کےمطالبات تسلیم ہونے کی اطلاع نوازشریف تک پہنچ چکی تھی۔ لیکن پھر وہ ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ ہر کسی کا خیال تھا کہ اگر نوازشریف آگے بڑھتے ہیں تو آصف علی زرداری عدلیہ بحالی تو کیا امریکی صدر باراک اوبامہ کو معطل کرنے کا وعدہ کرنے پر بھی مجبور ہوجائیں گے۔ نوازشریف کے لیے حکومت گرا کر خود حکومت میں آنے کا یہ سنہری موقع تھا اور چند منصوبہ ساز ذہن اسی انتظار میں ہی بیٹھے تھے۔ لیکن ہوا یہ کہ نوازشریف نےعدلیہ بحالی کے اعلان کے انتظار میں گوجرانوالہ میں ہی ڈیرے ڈال دیے اور جیسے ہی وزیراعظم نے قوم کے نام اپنے خطاب میں عدلیہ بحالی کا اعلان کیا تو نوازشریف نے لانگ مارچ ختم کیا،  پوری قوم کے ساتھ ساتھ یوسف رضا گیلانی و آصف زرداری کو مبارکباد دی اور وہیں سے لاہور واپس چل دیے۔ لانگ مارچ کی کامیابی نے جہاں نوازشریف کو 1997 کی پوزیشن پر واپس لاکھڑا کیا تھا وہیں آصف علی زرداری کی سیاست کو وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا۔  لانگ مارچ کے اس نتیجے نے دھڑن تختہ دیکھنے کے خواہشمندوں کو بھی یہ بات سمجھا دی کہ نوازشریف کے ساتھ ان کے عہدرفتہ کے تعلقات کی تجدید اب ممکن نہیں اور  انھیں کوئی نیا کندھا تلاش کرنا ہوگا۔ ایسا ہی کچھ ایبٹ آباد میں امریکی حملے کے بعد ہوا تھا۔ ماضی کے دوران ایسے واقعات کے نتیجے میں توپوں کا رخ ہمیشہ سے ہی سیاستدانوں کی طرف رہتا تھا مگر اب کی بار نوازشریف اور ان کی جماعت کے سرکردہ رہنماوں نے جنرل کیانی اور جنرل پاشا کے ایسے لتے لیے کہ ان کی چیخیں نکل گئیں۔ مگر اُس حکومت کا باقی ماندہ وقت یوں گزرا تھا کہ فیکٹری کے مالک اور ملازمین ہرسہ ماہی کوئی نہ کوئی نیا فارمولہ تراشتے رہے جبکہ نوازشریف انھیں ناکام بناتے رہے ۔آصف علی زرداری کے خلاف مائینس ون فارمولوں کا لنڈا بازار سجایا گیا ہو یا پھرمیموگیٹ کو بند دروازوں کے پیچھے نکال کر عدالت کے سامنے لانا ہو۔ خفیہ اشاروں کے تحت حکومت میں شمولیت اور اخراج کے کھیل میں مصروف ایم کیو ایم کو ڈرا دھمکا کر دوبارہ حکومت میں بھیجنا ہو یا پھر سہ روزہ دھرنوں کے غبارے سے ہوا نکالنا ہو ۔ نوازشریف نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ جمہوری حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے۔ حتیٰ  کہ آصف علی زرداری بھی ایسے مواقع پر اپنی جماعت کو انھی الفاظ میں دلاسہ دیتے پائے جاتے کہ فکر نہ کریں ۔۔ نوازشریف ہماری انشورنس پالیسی ہیں۔
عام انتخابات 2013 میں منعقد ہوئے تو فاتح مسلم لیگ ن رہی۔ نوازشریف نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تو ان سے حلف لینے والا کوئی اور نہیں بلکہ آصف علی زرداری ہی تھے۔ جس آصف علی زرداری کو دھکے دے کر ایوان صدر سے نکالنے کی باتیں ہوتی تھیں اسے مدت پوری ہونے کے بعد نوازشریف نےانتہائی عزت و احترام کے ساتھ ایوان صدر سے رُخصت کیا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ صدارت کے عہدے سےفارغ ہونے کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف کے کئی مقدمات تو دوبارہ کھلنے ہی ہیں مگر نوازشریف کئی نئے مقدمات بنانے پر بھی مجبور ہوجائیں گے لیکن نوازشریف نے یہ رستہ دوبار چننے سے اجتناب ہی برتا۔ دوسری طرف آصف علی زرداری کو نوازشریف کے خلاف استعمال کرنے کی بھرپور کوششیں کی جاتی رہیں حتیٰ کہ لندن پلان نامی براڈوے شو میں بھی پیپلزپارٹی کو شامل ہونے کی دعوتیں دی جاتی رہیں مگر آصف علی زرداری نے نوازشریف کا ہی ساتھ  دیا۔ دھرنوں کے دنوں میں اگرچہ پیپلزپارٹی پنجاب کے کئی نامی گرامی رہنما اس کوشش میں رہے تھے کہ پیپلزپارٹی اپنا وزن دھرنوی گروپ کے پلڑے میں ڈال دے، حتیٰ کہ قمرزمان کائرہ تو نگران وزیراعظم ہونے کے امیدوار بھی بنے پھر رہے تھے، لیکن آصف علی زرداری نے نہ تو اس وقت ایسا کوئی فیصلہ کیا  اور نہ ہی وہ آنے والے دنوں میں ایسا کوئی فیصلہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آج کی حقیقت یہی ہے کہ اس نواز۔زرداری گٹھ جوڑ کے تشکیل پانے کے بعد سیاستدنواں کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال باہر کرنے والی قوتیں مسلسل اپنا سر پٹک پٹک پاگل ہوئے جارہی ہیں لیکن ان کی کامیابی کی کوئی امید نظر نہیں آرہی۔ کوششیں مگر اب بھی جاری ہیں۔ کبھی ڈاکٹر عاصم پر مہینوں برباد کرکے بھی کچھ نکالنے میں ناکامی ملتی ہے تو کبھی عزیربلوچ اچانک انتہائی پرسکون حالات میں گرفتاری دیتا پایا جاتا ہے۔ مطمع نظر یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح آصف علی زرداری کو شکنجے میں کسا جاسکے تاکہ نواز-زرداری گٹھ جوڑ پر کاری ضرب لگائی جاسکے۔ لیکن  معاملہ یہ ہے کہ جب تک آصف علی زرداری سلاخوں کی پہنچ سے دور ہیں ۔۔۔ تب تک اس گٹھ جوڑ میں دراڑ آنے کا کوئی امکان نہیں۔ باقی نظر آنے والی ہلکی پھلکی فائرنگ صرف خالی جگہیں پر کرنے کے لیے ہی ہے۔
انگلی گروپ کے نام سے مشہور بچہ جمورہ سیاستدان آپ کو اکثر نواز-زردای گٹھ جوڑ پر روتے دھوتے نظر آئیں گے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اس گٹھ جوڑ نے گذشتہ سات آٹھ برسوں میں فیکٹری اور اس کے ملازمین کو اس قدر زچ کرکے رکھ دیا ہے کہ وہ ٹرک کی بتیاں ایجاد کرتے کرتے نڈھال ہوچکے ہیں لیکن کامیابی خواب و خیال بن کر رہ گئی ہے۔ اور اگر یہ گٹھ جوڑ آئندہ بھی اسی طرح جاری رہا تو حکومتیں بدلنے پر فیکٹری والوں کی قدرت ماضی کا حصہ بن کر رہ جائے گی۔ گذشتہ آٹھ برسوں کی طرح آئندہ بھی نواز-زرداری ایک دوسرے کے خلاف بھرپور سیاست کرتے رہیں گے مگر جیسے ہی جمہوری نظام کو خطرات درپیش ہوئے تو یہ دونوں ہمیشہ اکٹھے نظر آئیں گے۔ انگلی گروپ کا مسئلہ یہی نہیں ہے بلکہ اس گٹھ جوڑ میں شامل ہوتے مزید سیاستدانوں کا بھی ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں محمود خان اچکزئی ، اسفندیارولی خان اور مولانا فضل الرحمان جیسے بڑے نام بھی اس گٹھ جوڑ میں شامل ہوچکے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ جمہوری نظام  کے تحفظ کے لیے یہ گٹھ جوڑ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ حجم میں بھی پھیلتا جائے گا۔ میری ذاتی رائے میں یہ گٹھ جوڑ پاکستانی تاریخ میں گیم چینجر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس لئے اگر کوئی نا سمجھ اس گٹھ جوڑ کو برائی کے زمرے میں گردانے تو اس پر دفاعی انداز اختیار کرنے کی بجائے موصوف کی تکلیف پر اظہار ہمدردی زیادہ مناسب رویہ رہے گا۔ سیاست میں گٹھ جوڑتو ہوتے رہتے ہیں لیکن پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ یہ گٹھ جوڑ اس سطح پر طے پایا ہے کہ بچوں جموروں تو کیا ان کے سرپرستوں کو بھی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کریں بھی تو کیا کریں۔ سیاست میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے لیکن اگر اسی طرح حکومتیں تبدیل کرنے کا اختیار فیکٹری والوں کی پہنچ سے دور رہا تو وہ دن بھی دور نہیں جب پاکستان میں حکومتیں سکون سے کام کرسکیں گی اور ہمارے موضوعات حکومتی لائحہ عمل ہوا کریں گے نا کہ ہر روز ٹرک کی ایک نئی بتی۔
************
 
یہ منظر تھا رائیونڈ کا اور اپوزیشن رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہےتھے نوازشریف

 

صحافی: عمران خان نے صدر زرداری کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اس سلسلے میں ن لیگ اور ابھی نظر آنے والی اتحادی جماعتوں کا کیا مطالبہ ہے؟
نوازشریف: پتا نہیں میں اس کا جواب کیسے دوں یا کیا دوں۔ انھوں نے زرداری صاحب کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، آپ نے کہا کہ عمران خان صاحب نے بھی کیا ہے اور مولانا طاہر القادری صاحب نے بھی کیا ہے۔ تو کیا یہ آپس میں کوئی ملی بھگت ہے؟ جسے آپ پنجابی میں کبھی کبھار مک مکا بھی کہتے ہیں۔ یہ اس کی وجہ سے کیا گیا ہے یا پھر شاید کوئی اور وجہ ہے۔۔۔۔۔ کہ زرداری صاحب سے اگر آج استعفیٰ طلب کر بھی لیا جاتا ہے یا وہ مستعفی ہوبھی جاتے ہیں تو پھر اس وقت تو  پیپلزپارٹی کی اکثریت ہے قومی اسمبلی میں، اکثریت ہے سینیٹ میں۔ تو کیا پھر پیپلزپارٹی کو ہم یہ موقع دےدیں کہ وہ اگلے پانچ سال کے لیے پھر پیپلزپارٹی کا صدر قوم پر مسلط کردیں؟ اسی اسمبلی سے دوبارہ اس کو منتخب کروالیں؟ کیا آپ لوگوں نے کبھی اس پہ غور کیا ہے؟ یا عمران صاحب نے یا مولانا طاہرالقادری صاحب نے اس پہ غور کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ آئین و قانوں کو سمجھتے ہیں تو پھر یہ مجھے مک مکاو کا سودا لگتا ہے۔
متحدہ اپوزیشن کے رہنماوں کے اجلاس کے بعد   16 جنوری 2013 کے روز نوازشریف کی پریس کانفرنس سے اقتباس

 

*************
یہ منظر تھا بلاول ہاوس لاہور کا اورپیپلزپارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کررہے تھے آصف علی زرداری

 

ہمیں گو گو کے نعرے نہیں لگانے کیونکہ ہمیں ملک بنانا ہے۔ ملک بند کرنا درست نہیں —- جو لوگ بیس بیس برسوں سے بستروں پر پڑے ہوئے تھے میں نے انھیں بھی اہم عہدے دیے مگر آج وہ گروہ بندیوں میں مصروف ہوچکے ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آئندہ کی سیاست ایمپائر کی انگلی کے اشارے پر چلے گی انھیں کہتا ہوں کہ اگر آپ شہیدوں کے لہو کا قرض ادا نہیں کرسکتے تو پھر آپ چلے جائیں ایمپائر کی انگلی والوں کے ساتھ ۔۔۔ مجھے آپ کی ضرورت نہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کے موقع کے پر 2 دسمبر 2014 کے روز آصف علی زرداری کےخطاب سے اقتباس

 

**************
پسِ تحریر: اس قوم کو ٹرک کی بے شمار بتیوں کے تعاقب میں لگایا جاتا رہا ہے جیسے سوئس بنک اکاونٹس،  ڈرون حملے،  قومی اثاثے اور سٹریٹجک ڈیپتھ وغیرہ وغیرہ۔ ان کا مکمل احاطہ کرنے بیٹھیں تو یہ سلسلہ برسوں تک پھیل جائے۔ تاہم حالیہ عرصے میں چند کھڑکی توڑ کاروبار کرنے والی ان بتیوں کے ساتھ ہی یہ سلسلہ یہیں تمام کرتے ہیں کیونکہ مقصد اس بارے میں آگاہی پھیلانے کی ایک کوشش کرنا
تھا جو کہ امید ہے کسی نہ کسی حد تک پورا ہوگیا ہوگا۔

8 thoughts on “Factory Ka Ghughu – 4 (Last Part)

  • February 21, 2016 at 1:37 pm
    Permalink

    Comprehensive analysis…well knitted

    Reply
  • February 21, 2016 at 6:42 pm
    Permalink
    بہت عمدہ تسلسل معلومات سے بھرپور کاوش کافی دنوں بعد نظر آئے لکھتے رہا کریں
    Reply
  • February 22, 2016 at 8:00 am
    Permalink
    اتنے سارے واقعات اور انکی جزئیات یاد رکھنا اور پھر ان سب کو ایک لڑی میں پرو دینا آپ کا ہی کمال ہے. لکھتے رہیں
    Reply
  • February 22, 2016 at 4:24 pm
    Permalink
    بہت گہری نظر حالات و واقعات پر. ایک جامع انداز میں ان کا جائزہ لیا ہے زبردست انداز,میں حالات وواقعات کی کڑیاں ملائی ہیں بہت خوب.
    Reply
  • February 22, 2016 at 4:46 pm
    Permalink
    بہت ہی شاندار ، شطرنج کی بساط پر مہروں کی مانند پھیلے مختلف واقعات کو آپس میں سمو کر بگ پکچر دکھانا آپ کا ہی خاصہ ہے – اس سیریز کی سب سے اچھی بات یہ کہ سیاسی تاریخ مرتب ہوتی جا رہی ہے جو کہ آج سے بیس پچیس سال بعد بھی ان واقعات کو سمجھنے میں آسانی دے گی – لکھتے رہئے اور ہمیں محظوظ کرتے رہئے –
    Reply
  • February 26, 2016 at 8:25 pm
    Permalink
    ماشاء اللہ. سننے میں آیا ہے کہ پچھلے دنوں میاں نوازشریف نے گریوی ٹیشنل ویوز بھی دریافت کی ہیں.
    Reply
  • March 26, 2016 at 12:50 am
    Permalink
    اچھی تحریر ہے مدثر اقبال صاحب
    Reply
  • March 26, 2016 at 12:51 am
    Permalink
    کیا فیکٹری کے گھگھو کا پانچواں حصہ بھی آئے گا؟؟؟؟؟؟؟
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *