Insan Ashraf-ul-Makhlooqat

انسان اشرف المخلوقات

انسان اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے. ہیئت سے زیادہ شعور نے اس مقام کو ممتاز کیا ہے. انسان شعور کی پختگی کے باوجود ہمیشہ تصورات اور خوش گمانیوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکا ہے. یہ شاید کوئی احساس محرومی ہوتی ہے کہ انسان خواہش کرتا ہے کہ حقیقت بھی ویسی ہی ہو جیسے اس نے سوچ رکھی ہے. مگر قدرت کا اپنا نظام ہے اور ہر کوئی اسی کے تابع ہے. کبھی کبھی میں تصور ہی تصور میں بوڑھا ہو جاتا ہوں کئی لوگ کھو جاتے ہیں حالت انتہائی کسمپرسی کی ہو جاتی ہے ایسے میں کوئی آواز یا آہٹ مداخلت کر کے مجھے اس ماحول سے چھٹکارا نصیب کرتی ہے اور میں دیر تک خود پر ہنستا رہتا ہوں. یہ کیفیت اکثر انفرادی سطح پر ہی رونما ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی قوموں کی قومیں یا پھر بڑے گروہ ایسے تصورات کا شکار رہتے ہیں. مراٹھوں کے دیش کی طلسماتی کہانیاں ہوں یا پھر ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کی حکایات. بہت کچھ تصوراتی دنیا میں الجھائے رکھتا ہے. اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایک غالب اکثریت بے عملی کا شکار ہو جاتی ہے. مندرجہ بالا تصورات ایک پاکیزہ مشن کی صورت رکھتے ہیں اور ان کا ایک مذہبی پس منظر بھی ہے لہٰذا اس پر کسی نئی بحث کا آغاز نہیں کرنا چاہتا. ستم ظریفی یہ ہے کہ کچھ بالکل ہی سطحی نوعیت کے تصورات پر بھی اصرار کیا جاتا ہے کہ انہیں بھی اسی عقیدت سے قبول کیا جائے. فرد کی اہمیت کو یہ چورن فروش کبھی کبھی اداروں پر فوقیت دے کر ہم سے داد کے طلبگار دکھائی دیتے ہیں تو بھلا یہ کیوں کر ہو جائے ایک مرتبہ تھوڑا ہی ڈسے ہیں جو بھول جاتے. تاہم ایک حوصلہ افزا بات جو دکھائی دی ہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی تقریباً ساری کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں اور یہیں سے حوصلہ ملتا ہے.

     یہ ہمارے کالج کا زمانہ تھا مشرف صاحب کا مارشل لاء اپنے عروج پر تھا. بلاشرکت غیرے تین سال حکمرانی کو پورے ہونے کو تھے عمران خان یا میاں اظہر کو میری کلاس کے ساتھی دن میں کئی مرتبہ وزیراعظم بناتے اور اتارتے تھے. انتہائی پسماندہ پس منظر ہونے کے باوجود دل ان باتوں سے مرغوب نہیں ہوتا تھا. چنانچہ دل ہی دل میں ٹھان لی کہ مشرف صاحب کے عظیم مخالفین کے کارواں کا مسافر ہوا جائے. لگے ہاتھ متحدہ مجلس عمل میسر آئی پیپلز پارٹی کی جانب دل کھبی مائل ہی نہ ہو سکا. ڈاکٹر ارشد شاہد سرگودھا سے مجلس عمل کے امیدوار تھے اور ہم ان کے نام نہاد رفیق انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور بس یوں سمجھئے کہ جیتتے جیتتے ہار گئے اس زمانے میں ہمیں بھی دھاندلی کا خدشہ تھا. ہمارے ہاسٹل کے کمرے میں چار سے پانچ ٹی وی سیٹ ترتیب کے ساتھ رکھ دیے گئے تھے. اس وقت کا ایک عمدہ کنٹرول روم ہم نے دوستوں کے تعاون سے تخلیق کر لیا تھا. اے آر وائی پر ڈاکٹر شاہد مسعود جیو پر کامران خان اور دیگر چینلز پر بیٹھے اکابرینِ صحافت ہماری معلومات میں اضافہ فرما رہے تھے. منظر اس قدر پرسوز تھا کہ ابھی تک دل اس ایمانی کیفیت کو تلاش کرتا ہے. حالت یہ تھی کہ جب کسی حلقے کا نتیجہ ایم ایم اے کے حق میں موصول ہوتا کمرہ نعرہ تکبیر سے گونج اٹھتا تھا. ساتھی اٹھتے اور شکرانے کے نوافل ادا کرنے میں مصروف ہو جاتے تھے. شروع میں نتائج اس قدر تیزی سے ہمارے حق میں آ رہے تھے ہمارا بیشتر وقت مصلے پر گزر رہا تھا لیکن اچانک حالات مختلف ہونا شروع ہو گئے وضو اب تحیتہ الوضو تک محدود ہو گیا کئی مرتبہ وضو کر کے بیٹھتے لیکن کوئی خوش خبری موصول نہیں ہو رہی تھی. وضو کے آخری لمحات میں نوافل ادا کر کے اس کا حق ادا کر دیا جاتا رہا. شنید یہی تھی کہ پنجاب میں نتائج تبدیل ہو رہے ہیں اور عالمی قوتیں دباؤ بڑھا رہی ہیں. پھر بھی صوبہ سرحد کی حکومت کوئی معمولی تحفہ نہ تھا. بی بی سے منسوب ایک چٹکلا جو اس زمانے میں انتہائی غیر معتبر لگا تھا کہ سرحد میں ملاں ملٹری الائنس کو حکومت تفویض کر دی گئی ہے. سترہویں ترمیم نے بدذن کیا اور جذباتی اور انقلاب فروش جماعتوں کے چنگل سے خود کو آزاد کر لیا.

     وقت پر بھلا کس کا ہاتھ ہے گزرتا گیا اور ہم بھی اس کے ارتقاء میں تبدیل ہوتے گئے مشاہدے کی کوفت پالنا شروع کر دی تھی تو بی بی شہید ہو گئیں تو بغض بھی بتدریج رفع ہونا شروع ہو گیا. پاسداران انقلاب ٢٠٠٨ کے انتخابات میں اس غیر اسلامی نظام سے دور تھے. خالص دنیا داری کے تحت نواز شریف کو رہبر چنا اور انھوں نے مایوس نہیں کیا. جو وعدے کیے اس کے کافی حصوں پر اپنے تناظر میں عمل کر کے دکھایا. مجھے ایم ایم اے آج بھی سلامت لگتی ہے بس صرف کردار بدل گئے ہیں اور موجودہ میڈیا ملٹری الائنس اس کی عملی شکل ہے. اس نئے اتحاد نے تصور فروشی کا قبح کاروبار اب بھی جاری رکھا ہوا ہے. موجودہ حکومت کے دور میں ان چورن فروشوں نے پہلے پہل تبدیلی کو فروخت کرنا چاہا لیکن جلد ہی اس غبارے سے ہوا نکل گئی. لیکن اس سیاسی یتیمی کے باوجود کہاں بعض آنا تھا پوری کوشش کی گئی کہ حکومت اور فوج میں تقسیم کو گہرا کیا جائے اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نام نہاد لوگوں نے سپاہ کے ترجمان کی حیثیت اختیار کر لی. آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اقدامات نے کافی داد وصول کی لیکن میرا دل ان اقدامات کو اس لیے قبول کرنے سے انکاری رہا کہ انتہائی مستعد ترجمان کے ادارے کے سپاہ سالار ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی ان ہیجان افروز کنبے کو شٹ اپ کال نہیں دی تھی. جس سے بظاہر فوج اور حکومت کے ایک پیج پر ہونے کی کہانی لفاظی ہی معلوم ہوتی تھی. لیکن آج سو سنار کی اور ایک لوہار کی کے مطابق ایک ہی بیان نے ان جذبات فروشوں کے کنبے میں آگ لگا دی کہ وہ بروقت ریٹائرڈ ہو جائیں گے. بہت سے میڈیا پرسنز کی دلی خواہش تھی کہ جنرل صاحب مارشل لاء لگا دیں یا پھر کم از کم موجودہ حکومت کو کسی طرح گھر بھیج دیں. آج ماتم کنعان دکھائی دے رہے ہیں. مجھے ان کی اس حالت پر ترس آتا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ ہیجان فروش کل کوئی نیا خدا تراش لیں گے. ایک جماعت کے کارکنان جو #شکریہ_راحیل_شریف کے خالق گردانے جاتے ہیں ان کا ماضی گواہ ہے کہ وہ جسے ٹوٹ کر چاہتے ہیں اسے توقعات پر پورا ہوتا نہ دیکھ کر گالیوں سے نوازتے آئے ہیں. امید ہے کہ شاید رویوں میں کچھ تبدیلی آ گئی ہو.

     آخر میں جمہوریت پسند حلقوں سے گزارش ہو گی کہ وہ اپنے اختلافات ضرور رکھیں لیکن جمہوریت کے استحکام کے لئے یک زبان ہو کر سفر جاری رکھیں. جنرل صاحب کا دل کی گہرائیوں سے سے شکریہ کہ تمام تر کوششوں کے باوجود یہ لوگ ان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکے. ایک بھر پور عوامی تائید اور سیاسی عدم استحکام انہیں اس بات کی دعوت دے رہا تھا کہ عزیز ہموطنوں سے برائے راست مخاطب ہو سکتے تھے لیکن انہوں نے آئین کو مقدم جانا اور خاندانی پس منظر کی لاج رکھ لی

3 thoughts on “Insan Ashraf-ul-Makhlooqat

  • February 17, 2016 at 2:51 am
    Permalink

    بہت خوب ڈاکٹر صاحب آپکا انداز اور بات کو بیان کرنا ایسا ہی جیسے استاد کسی شاگرد کو سمجھاتا ہے.

    Reply
  • February 19, 2016 at 12:02 am
    Permalink

    بہت خوب ارشد بھائ
    ????

    Reply
  • February 23, 2016 at 12:34 am
    Permalink

    بہت مہربانی جناب یہ خود کلامی ہے جناب سیکھنے کا عمل بہرحال جاری رہتا ہے وہ میں لوگوں سے سیکھتا ہوں ہو سکتا ہے کوئی مجھ سے بھی سیکھ رہا ہو

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *