Khabar Arz

خبرعرض

خبر1
عزیر بلوچ کی وجہ سے امریکہ نہہیں آ سکا. بلاول

عرض
عزیر بلوچ کی وجہ سے امریکہ نہیں جا سکے ادھر وہ اندر گئے اور ادھر موصوف باہر, ایسے مسائل اور پریشانیاں محبوب لیڈر کو پہلی بار پیش نہیں آیئں ڈاکڑ عاصم کی وجہ سے دبئی جانا بھی لیٹ ہو گیا تھا آپ کی پروازیں بھی اندرون و بیرون ملک  پی آئی اے پروازوں کی طرح کافی گھبراہٹ کا شکار ہیں میاں صاحبان کی وجہ سے لاہور والی سائیڈ پر جانے کو جی نہیں چاہتا پشاور کی طرف خان صاحب کے علاوہ دو تیںن اور ناقبلِ بیان پریشانیاں گھیر لیتی ہیں بلوچستان کو تو محبوب لیڈر سی پیک مکمل ہونے کے بعد اوپر سے دیکھ لیں گے یا زیادہ سے زیادہ  یو ٹیوب پر بھی دیکھ سکتے ہیں اور تو اور اپنے صوبے میں بھی نکلتے ہوئے دل کو گھبرا سا پڑتا ھے ایک طرف ذوالفقار مرزا کا شہر تو دوسری طرف تھر کے بچے اور والد صاحب کی شہرت بھی سائے کی طرح ساتھ رھتی ھے. کوئی ایک مصیبت ہے؟

خبر2
وعدوں کا وقت نہیں رہا حکمراں عمل کر کے دکھایئں. سراج الحق
عرض
آپ نے درست فرمایا وعدوں کا وقت بلکل گزر چکا اور عمل کے لیئے حکمران جماعت جیسے تیسے برسرپیکار ہے کامیاب رہے تو 2 سال بعد میٹھا پھل کھایئں گے ورنہ دھکے مقدر ھوں گے. مگر مولانا صاحب آپ بھی تو کچھ عمل کر دکھایئں, عمل بھی اگر مشکل کام ہے تو کم از کم کچھ ایسا فرمایئں جس سے یہ قوم آپ کو سنے بلکہ آپ کی سنے۔
افسوس پچھلے 3 سالوں میں آپ کی ایک وڈیو ہی میڈیا پہ پھیلی جس میں آپ نے عید کی نماز کی امامت فرماتے وقت نمازیوں کے ساتھ وہی کیا جو آپ جماعت اسلامی کےساتھ کر رہے ہیں۔
ایک واقعہ یاد آ رہا ہے کے گاؤں کی مسجد کے امام صاحب جو کے بہت ضعیف  تھے امامت کرواتے جب دوسرے سجدے سے اٹھ کر کھڑے ہوئے تو بلند آواز میں اللہ اکبر کہنا بھول گئے جسکی وجہ سے بقیہ تمام لوگ سجدے میں ہی رہ گئے تھوڑی دیر بعد پچھلی صف میں شاید کوئی صاحب ‘خاں صاحب برادری’ سے تھے سجدے  میں ہی مولوی صاحب کو مخاطب کر کے کہنے لگے ‘مولوی صاحب ساڈے لئی کی حکم اے؟’  کچھ ایسے ہی حکم کی منتظر نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ  پوری پاکستانی قوم ہے جسے آپ کی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے امید ہے کے آپ تنہا بھاگ دوڑ کرنے کی بجائےقوم کو یا کم از کم اپنی جماعت کو ساتھ لے کر چلیں گے

خبر:3
حکومت وژن لیس ہے, کمیشن کے لیئے سڑکوں کی توڑ پھوڑ کی جا رہی ھے. اپوزیشن
عرض
جناب عالی مئودبانہ گزارش ھے کہ جہاں بھی ترقیاتی کام شروع کئے جاتے ہیں وہاں وقتی طور پر دھول مٹی تو اڑتی ہے اور چھوٹے چھوٹے چند ایک اور وقتی مسائل جنم لیا کرتے ہیں۔ لیکن کام مکمل ہو جانے کے بعد آیئندہ آنے والی نسلوں تک فوائد  منتقل ہوتے ہیں
اپوزیشن کے اس بیان پر تھوڑا سا غور کیا جائے تو اپوزیشن شکوہ اور جواب شکوہ پیش کر نے کا شاندار مظاہرہ محض ایک بیان میں پیش کر رہی ہے یعنی ویژن تو صاف ظاھر ھو چکا کہ  ‘آگے ترقیاتی کام جاری ہیں لہٰذا کوئی اور راستہ اختیار کریں
جب  تک ترقیاتی منصوبہ جات مکمل ہوں گے تب تلک الیکشن کی بھی آمد آمد ہو گی اور عوام کی اکثریت تو یہی دیکھے گی کس نے اپنے اپنے صوبے میں کیا کام کیئے, کون سڑکوں کو توڑ کر نئے منصوبے بناتا رہا کون آخری دم تک کرپشن میں مشغول رہا کون روتا رہا کون ڈانس کے نت نئے انداز متعارف کرواتا رہا اور کون بھنگ والے سگریٹ کا لمبا کش لے کر کہتا رہا کہ ‘کچی شراب پی کر ہلاک ہونے والے بھی شہید ہوتے ہیں۔

خبر 4
چین سے دوستی اپنی جگہ، خراب انجنوں کی انکوائری ہو گی پی آئی اے کے لئیے مجھے بلانا آسان واپس بھیجنا مشکل ہو جائے گا. سعد رفیق
عرض.
چائینہ میں اے بی سی ہر کوالٹی کا مال ملتا ہے جیسی قیمت ادا کی جائے گی ویسی کوالٹی حاصل کی جا سکتی ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ دینے والوں نے آپ سے ایک نمبر مال کے پیسے لئیے ہوں اور مال بی یا سی کوالٹی کا دے دیا ہو؟ بہرحال آپ کافی سمجھدار اور عملی طور پر کام کرنے والے وزیر ہیں امید ہے کہ آپ معاملے کی تہہ تک ضرور پہنچیں گے۔
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک گاؤں میں ایک سنیاسی آیا اور  آتے ہی  آواز لگائی کہ ‘اجڈ حکیم آگیا علاج کروا لو’ پاس ہی کسی کے اونٹ کی آخری سانسیں چل رہی تھیں جس نے ایک عدد ثابت تربوز نگل لیا تھا جو گلے میں پھنس چکا تھا اجڈ حکیم کی خدمات حاصل کی گئیں اس نے اونٹ کی گردن کے نیچے پتھر  رکھا اور ایک اوپر دے مارا تربوز پھٹااور  اونٹ کی سانسیں نارمل ہو گئیں حکیم کی بہت واہ واہ ہوئی اور مشہور ہو گیا. اگلی جگہ کوئی عورت بیمار تھی جس کو گلے میں تکلیف کی وجہ سے سانس میں دشواری تھی حکیم نے پھر وہی فارمولہ لگا دیا عورت مر گئی لواحقین کو بہت غصہ آیا انھوں نے اسے روک لیا اور کہا کے اب تجہیز و تکفین تک ساتھ رہنا ہو گا جب جمازہ لے جایا جا رہا تھا تو سزا کے طور پر چارپائی کے پچھلی جانب حکیم کو تنہا لگا دیا, پوٹھوہاری سر زمین کا ناہموار  راستہ اور راستے میں اچھی خاصی چڑھائی بھی تھی آخر قبرستان تک پہنچتے پہنچتے خود مرنے کی حالت کروا بیٹھا تدفین ہوئی تو جان بخشی ھوئی
اگلے گاوں پہنچا تو اگلے مریض کے گھر والوں نے پوچھا کہ حکیم صاحب کیا آپ مریض کا علاج کر سکتے ہیں؟ حکیم صاحب نے جواب دیا
‘علاج تو میں کر دوں گا لیکن دفن آپ کو خود کر نا ھو گا’

یہاں مرض بھی اور ھے  نوعیت بھی, لہٰذا فارمولہ بھی اور چاہیئے ہو گا. شاید پی آئی اے میں ریلوے والا فارمولا فٹ نہ آ سکے. سعد رفیق صاحب غور ضرور کیجیئے گا۔

One thought on “Khabar Arz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *