Hawas Ka Pujari

ہوس کا پجاری

زمانہ قدیم سے آج تک ایسا ہوتا آیا ہے  کہ انسان اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیئے جانوروں سے بڑھ کر سرکش اور خودغرض ہو جاتا ہے.  پرانے زمانے میں اسکے لیئے  اسے ایک کیا پوری پوری بستی تباہ کرنے موقع ملتا تو گریز نہیں کرتا تھا۔   ایسے ہی ان لوگوں نے بے پناہ ظلم و زیادتیاں کیں،  لیکن عموماً مہذب اقوام  نے جنگ کے اخلاقی اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھا اور تاریخ میں عالمی مقام پایا۔ سائیرس دی گریٹ, سکندر اعظم، صلاح الدین ایوبی، فریڈرک دی گریٹ، محمد بن قاسم وہ جرنیل تھے جہاں سے گزرے لوگ آج بھی انہیں جنگجو ہونے کے باوجود اچھے نام سے یاد کرتے ہیں۔ دوسری طرف چنگیز اور  ہلاکو بھی آئے وہ جس شہر کو فتح کرتے انسانی سروں کے مینار بناتے اور خون کی ندیاں بہاتے۔ آج دنیا میں کسی شہر یا شاہراہ کا نام ان کے نام پر نہیں ہے۔

بات خواہشات سے چلی اور اخلاقیات تک آ گئی  درحقیقت ان دونوں کا  آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے  خواہشات کی تکمیل کےلئیے اخلاقیات کو مدنظر رکھنے کا اصول صرف میدان جنگ ہی نہیں  بلکہ ہماری روز مرہ کی زندگی کے تمام شعبوں تک نافذ ہوتا ہے اس میں سیاسیات بھی اتنی ہی شامل ہے جتنا زندگی کا کوئی دوسرا شعبہ. مغربی دنیا اس راز کو پا چکی  ہے جبکہ ہم جنوب مغربی ایشیا والے ابھی اس دور سے گزر رہے ہیں جب اس بات کا احساس ہونا شروع ہوتا ہے کہ اخلاقیات کے سوا زندگی گزارنے کا اور کوئی بہتر چارہ نہیں بالخصوص پاکستان میں نوے کی دہائی میں  پنپنے والی سیاست سے بمشکل نجات حاصل ہوئی تو موجودہ دہائی کے شروع میں اسکا  پھر سے  اعادہ ہو گیا۔  اسکا سہرا جناب عمران خان صاحب کے سر جائے گا۔  آپ نے اپنے بچپن کی نامعلوم محرومیوں کی بنیاد پر تعمیر ہونی والی شخصییت اور ایک بیمار زہنی حالت کی وجہ سے وہ مثالیں قائم کیں کہ الامان والحفیظ. مخصوص ضدی طبیعت جسکو آپ اپنی خاصییت  گردانتے ہیں کے باعث  پہلے تو اپنی والدہ کی نصیحت پر عمل نہ کر کے اور مغرب میں شادی کرکے قوم کو وہ تحفہ دیا کہ سب حیران رہ گئے. اس سے جان چهٹی تو ہوس اقتدار کو مٹانے کے لیئے اپنے ہی ملک کی عزت کو داؤ پر لگا دیا جب آپ کے بے بنیاد احتجاج نے دنیا بھر میں وطن عزیز کو تماشہ بنا کر رکھ دیا۔.

 دھرنے کے نام پر ایک سو چھبیس دن کی اس ذہنی اذیت اور ہیجان کے دوران ایک موقع ایسا بهی آیا کہ کوئی بعید نہی تها  کہ اس ہوس کے پجاری  کو اگر ہزاروں کی تعداد میں لاشیں بهی گرانا پڑتی تو منظور ہوتا  مگر چار ماہ کی کھچ کھچ کا انجام جب شادی پر ہو گیا تو کون سا مسئلہ، کہاں کا دستور  اور کون سا بیان، سب خاک میں ملے اور صاحب لگ گئے اپنی ہوس مٹانے۔.

اب سننے میں آرہا ہے کہ جناب اپنی مرضی سے کی گئی شادیوں پر نادم ہیں اور بالآخر  اب بہنوں کا کہا ماننے کے لیئے تیار ہو گیے ہیں۔ دیکھتے ہیں وطن عزیز کے نام پر اب کونسا چاند چڑھاتے ہیں۔.

بس دعا یہ ہے کہ اس بار ملک پاکستان کی خیر ہو.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.