Kuch Na Kuch Note Na Karnay Kay Liey

کچھ نہ کچھ نوٹ نہ کرنے کے لیے

غزل

کچھ نہ کچھ نوٹ نہ کرنے کے لیے
ڈائری ساتھ لئے پھرتے ہیں

ہم ستاروں کی گزر گاہوں میں
روشنی ساتھ لیے پھرتے ہیں

جن!! نظر آتے ہیں ۔۔ دادا ابا!!
اور، پری ساتھ لیے پھرتے ہیں

اجنبی بن چکے کب کے سب دوست
ہم — وہی ساتھ — لیے پھرتے ہیں!

ایک، دو، تین : کہیں بھُول نہ جائیں
اے، بی، سی ساتھ لیے پھرتے ہیں

ادریس بابر

2 thoughts on “Kuch Na Kuch Note Na Karnay Kay Liey

  • February 9, 2016 at 9:36 pm
    Permalink
    ہم ستاروں کی گزر گاہوں میں
    روشنی ساتھ لیے پھرتے ہیں

    واہ!!!

    Reply
  • February 10, 2016 at 3:32 am
    Permalink
    بہت خوب، ادریس بھائی
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *