Kuch Na Kuch Note Na Karnay Kay Liey

کچھ نہ کچھ نوٹ نہ کرنے کے لیے


کچھ نہ کچھ نوٹ نہ کرنے کے لیے
ڈائری ساتھ لئے پھرتے ہیں

ہم ستاروں کی گزر گاہوں میں
روشنی ساتھ لیے پھرتے ہیں

جن!! نظر آتے ہیں ۔۔ دادا ابا!!
اور، پری ساتھ لیے پھرتے ہیں

اجنبی بن چکے کب کے سب دوست
ہم — وہی ساتھ — لیے پھرتے ہیں!

ایک، دو، تین : کہیں بھُول نہ جائیں
اے، بی، سی ساتھ لیے پھرتے ہیں

ادریس بابر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.