Khood Kushi

دو ستمبر 2015

پاکستان کے سب اخبارات کے پہلے صفحے پر سرخی لگی کہ کراچی میں سولہ سالہ اسکول کے بچے نے اپنی پندرہ سالہ محبوبہ کو گولی مار کر خود بھی جان دے دی – وجہ یہ معلوم ہوئی کہ لڑکے کے گھر والے لڑکی سے اسکی شادی کرنے پر راضی نہ تھے سو لڑکا لڑکی کو بچھڑنے سے زیادہ آسان جان دینا محسوس ہوا یہ  خبر پڑھ کر لوگوں نے مختلف تبصرے کیے – ایک تبصرہ یہ سنا کہ کیا
زمانہ آ گیا ہے ، پہلے زمانے میں تو ایسا نہ ہوتا تھا – یہ تبصرہ سن کرماضی کے کچھ تلخ واقعات یاد آ گئے کہ زمانہ شاید ازل سے ایسا ہی تھا اور ابد تک غالباً ایسا ہی رہے گا۔

دو تلخ واقعات اور ان کی کوکھ سے جنم لیتے ان گنت سوالات – قریب پندرہ سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد سوچتا ہوں کہ  قلم بند کر کے قارئین کی نظرکروں، شاید کوئی شافی جواب مل سکے – واقعات سے جڑے نام بوجوہ تبدیل کر دئیے ہیں کہ بہت سے کردار آج بھی حیات ہیں۔
********************************************
نام : جہانداد کھیتران

عمر : بیس سال 1981- 2001

پروفیشن : طالبعلم

کھیتران صاحب سرکاری افسر تھے اور اپنے قبیلے کے سردار بھی. نوکری کی ضرورت چنداں نہیں تھی مگر اپنی تعلیم کو استعمال میں لانے کے متمنی تھے۔
کھیتران صاحب، نفیسہ بیگم اور تین بچے، یہی کل کائنات تھی اس خاندان کی.  جہانداد بچوں میں سب سے چھوٹا تھا اور اسی بنا پر ماں کا لاڈلہ بھی تھا- جانتا تھا کہ ماں اسکی کوئی فرمائش ٹال نہیں سکتی، اسی لیے کئی بار ماں کی اس کمزوری کا فائدہ بھی اٹھاتا تھا- وقت گزرتا گیا اور جہانداد بیس سال کا ہو گیا، بات اب چھوٹی چھوٹی فرمائیشوں سے کچھ آگے بڑھ چکی تھی۔
“امی مجھے ستارہ سے شادی کرنی ہے، آپ ابو سے کہیں نا” جہانداد تقریباً ایک ہفتے سے روزانہ ہی اپنی ماں کے کان کھا رہا تھا – ماں ہنس کر بات ٹال دیتی تھی- “بچہ ہے، ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے، شادی گڈے گڑیا کا کھیل تھوڑا ہی ہے جو ایسی باتوں پر کان دھرے جایئں” دل ہی دل میں ماں سوچتی دن گذرتے گئے ماں کو اس معاملے پر بالکل بھی توجہ نہ دیتا دیکھ کر جہانداد کے لہجے میں تلخی آنا شروع ہو گئی. جہانداد کو زندگی میں پہلی بار اونچی آواز میں بات کرتے دیکھ کر ماں دہل گئی، بات ضد کی حدود سے آگے نکل چکی تھی – “اگر اس کے باپ کو پتا چل گیا تو قیامت ہی آ جائے گی”، ماں نے سوچا. دھانسو بیوروکریٹ اور اپنے قبیلے کے  سردار بھی، کھیتران صاحب کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ سے والے مقولے پر عمل کرتے تھے۔
ماں نے سمجھانے کی کوشش کی مگر جہانداد کے سر پر عشق کا بھوت سوار ہو چکا تھا. گھر میں جہانداد کا رویہ دن بدن روکھا ہوتا جا رہا تھا – ایک دن کھانے کی ٹیبل پر پورا خاندان ساتھ بیٹھا تھا تو باپ نے پوچھ ہی لیا
“جہانداد پتر، تو آج کل بہت اکھڑا اکھڑا رہتا ہے، سب خیر تو ہے نہ”
جہانداد نے فوراً ہی کہہ دیا کہ ماں سے پوچھ لیں ان کو سب پتا ہے. ماں تو مانو ایسے ہو گئی جیسے گونگے کا گڑ کھا لیا ہو  “ہاں بھئی نفیسہ، کیا مسئلہ ہے ہمارے پتر کا”، کھیتران صاحب نے بیوی سے پوچھا – “کچھ نہیں، بس ایسے ہی فضول ضد کر رہا ہے، میں سمجھا دوں گی”، ماں نے دھیمی آواز میں کہا  “امی یہ فضول ضد نہیں ہے، میں دو ماہ سے آپ سے کہہ رہا ہوں کہ میں ستارہ سے ہی شادی کروں گا”، جہانداد چلایا – جہانداد کی بات سن کر کھیتران صاحب ہنس پڑے، ان کی ہنسی سب کے لیے ہی ایک سرپرائز تھی. سب خاموش ہو کر کھیتران صاحب کی طرف دیکھنے لگے سب کو اپنی طرف متوجہ پا کر کھیتران صاحب بولے، “میاں صاحب زادے پہلے زمین سے اگ تو لو، اس کے بعد عاشقی واشقی کے بارے میں سوچنا – اپنی پڑھائی پر توجہ دو، پہلے کچھ بن جاؤ پھر شادی کی بات ہو گی”  نفیسہ کو ایسا محسوس ہوا کہ طوفان ساحل کو چھو کر واپس چلا گیا ہے اور باپ نے شاید صورتحال کو ٹھیک سے ہینڈل کر لیا ہے، مگر یہ ان کی غلط فہمی تھی۔
رات کو کھیتران صاحب نے نفیسہ کو کہا کہ بیٹے کے دماغ سے عشق کا خناس خود ہی نکال دو تو بہتر ورنہ جس طریقے سے میں نکالوں گا وہ شاید گھر میں کسی کو پسند نہ آئے – نفیسہ نے جہانداد کو بہت سمجھایا مگر وہ جو کہتے ہیں کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں کی دوا، کچھ ایسا ہی جہانداد کے ساتھ بھی ہوا جہانداد کی تعلیم الگ متاثر ہو رہی تھی – گھر کی فضا میں بھی عجیب سی کشیدگی در آئی تھی. کھیتران صاحب جہانداد سے کلام کرنا قریب قریب چھوڑ چکے تھے. کچھ ماہ ایسے ہی گزرے اور پھر جہانداد نے اپنے والد کے ساتھ بھی اونچی آواز میں بات کرنا شروع کر دی. باپ نے اونچ نیچ سمجھائی  قبیلے کے رسوم و رواج کا بتایا، یہ بھی سمجھایا کہ اس گھرانے کی لڑکی کا ہمارے گھر میں ایڈجسٹ ہونا بہت مشکل ہے، سب سے بڑھ کر جہانداد کی کم عمری اور نامکمل تعلیم. مگر جہانداد نے یہ سب باتیں اپنی ماں سے سن کر بھی کوئی اثر نہ لیا تھا، سو اپنی ضد پر اڑا رہا۔
اتوار کا دن تھا، سب ناشتے کے لیے ٹیبل پر بیٹھے تھے. اچانک جہانداد نے سب کو مخاطب کر کے کہا، “اگر آپ لوگ میرا رشتہ لے کر ستارہ کے گھر نہ گئے تو میں نہر میں کود کر اپنی جان دے دوں گا” – کھیتران صاحب نے غصے سے کہا، “میاں وہ لوگ ہی اور ہوتے ہیں جو جان دیتے ہیں، جا بیٹا شاباش کود جا نہر میں، اتنی ہمت ہی نہیں ہے تیرے میں، یہ گیدڑ بھبکیاں کسی اور کو دینا، میں باپ ہوں تیرا”  جہانداد غصے سے ناشتے کی ٹیبل سے اٹھا اور گھر سے باہر چلا گیا. بڑے بھائی نے پیچھے جانے کی کوشش کی تو کھیتران صاحب نے سختی سے منع کر دیا اور کہا، “جانے دو، خود ہی واپس آ جائے گا تھوڑی دیر تک ـ
ایک گھنٹہ گزرا ہو گا کہ بھائی کا سیل فون بجا، سنا تو پریشان ہو گیا  جہانداد کے دوست کی کال تھی، اس نے بتایا کہ جہانداد نہر کے پل پر کھڑا ہے اور دوست کے کہنے کے باوجود بھی پیچھے نہیں ہٹ رہا. دوست نے کہا کہ بھائی آپ اور انکل فوراً نہر پر آ جایئں، ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے”  بھائی نے فوراً کھیتران صاحب کو صورتحال سے آگاہ کیا اور دونوں باپ بیٹا سرپٹ کار چلاتے ہوئے  نہر کے پل کی طرف روانہ ہو گئے وہاں پہنچے تو دیکھا کہ جہانداد پل کی ریلنگ پکڑے کھڑا تھا  باپ کو دیکھتے ہی جہانداد بولا، “ابو آپ نے کہا تھا نہ کہ وہ لوگ ہی اور ہوتے ہیں جو جان دیتے ہیں  آج میں آپ کو غلط ثابت کر دوں گا” – کھیتران صاحب کے رہے سہے
اوسان بھی خطا ہو گئے، بولے “بیٹا تم ریلنگ سے اترو تو بیٹھ کر بات کرتے ہیں، مسئلے کا حل نکالتے ہیں”  جہانداد نے جواب دیا، “ابو اب بات کرنے کا وقت گیا، مجھے پتا ہے آپ کبھی نہیں مانیں گے اب بس آپ مجھے یاد کر کے ساری زندگی رونا” – یہ کہہ کر جہانداد نے پل سے نہر کےعین درمیان چھلانگ لگا دی کھیتران صاحب یہ دیکھ کر صدمے سے زمین پر گر گئے  جہانداد کے بھائی نے اسے بچانے کے لیے چھلانگ لگانے کی کوشش کی تو جہانداد کے دوست نے اسے بڑی مشکل سے روکا کہ وہ تیرنا نہیں جانتا تھا
تین دن بعد جہانداد کی لاش پل سے آٹھ کلومیٹر آگے ملی – ایک بیس سالہ لڑکا جس نے ابھی ٹھیک سے  دنیا بھی نہ دیکھی تھی ، اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کا چراغ گل کر گیا

********************************************

نام : نیاز ٹوانہ

عمر : اکتیس سال 1970 -2001

پروفیشن : سرکاری ملازم

“ابا ابا میں نے ایف ایس سی بہت اچھے نمبروں سے پاس کر لی”، نیاز چلاتا ہوا گھر میں داخل ہوا – “او نیازیا تجھے پتا بھی ہے کہ مجھے یہ کٹ مٹ سمجھ نہیں آتی، سیدھی طرح یہ بتا کہ کتنی جماعتیں پاس کر لیں تو نے”، باپ نے پوچھا – “ابا بارہ جماعتیں”، نیاز نے کہا – “چل پھر اتنی پڑھائی بہت ہے، اب میرے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ زمین سنبھال”، باپ نے کہا – “ابّا میں آگے پڑھنا چاہتا ہوں، مجھے آگے پڑھنے دیں”، نیاز منمنایا – “پتر تو اتنا پڑھ لکھ کر کیا کرے گا، کرنی تو تو نے وائی بیجی ہی ہے، زیادہ پڑھ کر تو تو میرے ہاتھوں سے بھی نکل جائے گا، شہر جا کر نوکری ڈھونڈ لے گا، ایسی پڑھائی کا ہمیں کیا فائدہ”، ابا نے سنجیدگی سے کہا – “ابّا میں پڑھ لکھ کر جہاں بھی نوکری کروں گا، رہوں گا تو آپ کا فرماں بردار بیٹا ہی نا، آپ بس مجھے آگے پڑھنے دیں”، نیاز نے لاڈ سے کہا  “اچھا پتر تو پڑھ لے، میں ہی ہار مان لیتا ہوں”، ابا نے سر جھکاتے ہوئے کہا – شکریہ ابا کہتے ہوئے نیاز باپ سے لپٹ گیا

وقت کا پہیہ گھومتا رہا، بی ایس سی کے بعد نیاز نےیونیورسٹی میں ایڈمشن لیا اور ایم ایس سی کیمسٹری میں گولڈ میڈل حاصل کیا – ایم ایس سی کرنے کے بعد مختلف سرکاری ملازمتوں کے لیے اپلائی کیا اور گاؤں واپس آ کر انٹرویو کال کا انتظار کرنے لگا. نیاز کے باپ کو آس پاس کے لوگ کہتے رہتے تھے کہ منڈا پڑھ لکھ کر ہاتھ سے نکل گیا ہے مگر نیاز کا باپ ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ نیاز جتنا مرضی پڑھ لکھ جائے، رہے گا میرا فرماں بردار بیٹا ہی مختلف اداروں میں انٹرویو دینے کے بعد نیاز کو ایک وفاقی ادارے میں نوکری
مل گئی، نوکری بھی گریڈ سترہ کی – جب اس کا اپائنٹمنٹ لیٹر گھر آیا تو اسکی خوشی دیدنی تھی، البتہ اس کے ماں باپ پریشان ہو گئے ماں تو بیٹے کے دور جانے پر افسردہ تھی مگر باپ اس وجہ سے پریشان تھا کہ نیاز اپنی عملی زندگی گاؤں سے دور شروع کرے گا تو دھیرے دھیرے گاؤں سے اسکا تعلق کمزور ہوتے ہوتے بالکل ٹوٹ جائے گا – باپ کو نیاز اپنے سب بچوں میں سب سے زیادہ پیارا تھا، اس کا اس طرح گاؤں سے دور ہو جانا اور مستقبل میں گاؤں سے اسکا تعلق ٹوٹ جانے کا خیال ہی باپ کے لیے سوہان روح تھا – دل پر پتھر رکھ کر ماں باپ نے نیاز کو نوکری کرنے کی اجازت دے دی اور اس طرح نیاز شہر منتقل ہو گیا۔

شہر نیاز کے لیے کوئی نئی جگہ نہ تھی، دوران تعلیم بھی نیاز شہر میں رہتا تھا – مگر مالی طور پر باپ پر انحصار کرتے ہوئے طالب علم کی حثیت سے شہرمیں رہنے اور ملازمت کرتے ہوئے مالی خودمختاری کے ساتھ شہر میں رہنے میں زمین آسمان کا فرق تھا. اسے آفیسرز کالونی میں بیچلر آفیسرز ہوسٹل میں کمرہ بھی مل گیا – دوران تعلیم تواس نے سوائے پڑھائی کے کسی طرف دھیان نہ دیا تھا، مگر اب اس کے پاس شام کو آفس سے واپسی کے بعد وقت ہی وقت تھا، سو اس نے آفیسرز کلب جوائن کر لیا اور شام میں ٹیبل ٹینس اور بیڈ منٹن کھیلنا شروع کیا. ہوسٹل میں مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے آفیسرز نیاز کے ساتھ رہتے تھے، جن سے میل ملاپ کے بعد نیاز کا طرز زندگی تبدیل ہوتا جا رہا تھا۔

شہر منتقل ہونے کے بعد نیاز جب پہلی بار چھٹی پر گاؤں آیا تو ماں باپ دونوں نے ہی کہا کہ نیاز تو بہت بدل گیا ہے- نیاز نے یہ بات ہنسی میں اڑا دی اور ماں باپ کو شہر اور نوکری کے قصے مزے لے لے کر سناتا رہا چھٹی ختم ہونے پر نیاز تو واپس شہر چلا گیا مگر باپ کو گہری سوچ میں مبتلا کر گیا۔

پانچ سال گزر گئے، وقت کے ساتھ ساتھ نیاز کا گاؤں آنا جانا کم ہو گیا پہلے دو ماہ میں ایک بار گاؤں آیا کرتا تھا، مگر اب تو چھ چھ ماہ تک گاؤں کا رخ نہیں کرتا تھا  شہر کی زندگی میں جذب ہونے کے بعد گاؤں میں رہنا اسے مشکل لگتا تھا – نیاز کا باپ یہ سب دیکھ رہا تھا اسی لیے اس نے ایک بڑا فیصلہ کر لیا – اس بار نیاز گاؤں آیا تو باپ نے اسے شام کو پاس بیٹھا کرکہا “پتر تو تیس سال کا ہو گیا ہے، سوچتا ہوں تیری شادی کر دوں، تیرے چاچے کی لڑکی مجھے اور تیری ماں کو تیرے لیے پسند ہے – میں نے تیرے چاچے سے بات بھی کر لی ہے – بس اگلی بار جب تو آئے گا تو تیرے نام کی مندری لڑکی کو ڈال دیں گے”  نیاز کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اسکا کا باپ یہ بات چھیڑے گا  اس نے کہا “ابا کوثر تو بالکل انپڑھ ہے، وہ شہر میں میرے  ساتھ کیسے گزارا کرے گی، میرا اور اس کا مزاج بہت مختلف ہے، ہمارا شادی کے بعد نباہ ہونا بہت مشکل ہے”  ابا نے غصے سے کہا، “نیازیا پنڈ کے سب لوگ مجھے  کہتے تھے کہ پڑھ لکھ کر نیاز کا دماغ خراب ہو جائے گا اور وہ ایک دن تیرے سامنے کھڑا ہو جائے گا، میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ میرا نیاز ایسا نہیں، وہ کبھی میرے سامنے چوں بھی نہیں کرے گا مگر آج تو نے پنڈ کے لوگوں کو سچا اور مجھے جھوٹا ثابت کر دیا – جا چلا جا یہاں سے اور مجھے شکل تبھی دکھانا جب تو اس شادی پر راضی ہو”. “ابا آپ میری بات تو سنیں، مجھے آپ کی مرضی سے شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ، مگر کم از کم لڑکی تو کوئی ایسی چنیں جو میرے ساتھ چل سکے”. “لڑکی میں نے چن لی ہے نیاز، اور تیرے چاچے کو زبان بھی دے دی ہے، اب میں اپنی زبان سے پھر نہیں سکتا – شادی تو تیری چاچے کے گھر ہی ہو گی”، نیاز کے باپ نے سختی سےکہا  “اچھا ابا مجھے سوچنے کا موقع دیں، میں آپ کو کچھ دن میں جواب دوں
گا”، نیاز بولا – “نیاز پتر، ہاں کے علاوہ کوئی جواب قبول نہیں ہو گا” باپ نے کہا، “تو شہر جا اور اچھی طرح سوچ سمجھ کر جواب دینا ” یار نیاز، جب سے تم گاؤں سے آئے ہو، کافی پریشان ہو، سب خیریت تو ہے نا،” آفس کی لنچ بریک میں نیاز کے کولیگ نے پوچھا “بس یار سب ٹھیک ہی ہے، ایک گھریلو مسئلے میں پھنسا ہوں”، نیاز نے جواب دیا – “یار میں تمہارا دوست ہوں، مجھے بتاؤ شاید میں کوئی صلاح دے سکوں”، کولیگ بولا
“یار خالد، بات یہ ہے کہ گھر والے میری شادی کرنا چاہتے ہیں اور میں راضی نہیں” – “اوہو یار ایسا کیوں، کیا تمہیں کوئی اور لڑکی پسند ہے؟” خالد نےسوال کیا – “نہیں یار، بات کسی اور کو پسند کرنے کی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ گاؤں کی جس لڑکی سے میرے گھر والے شادی کرنا چاہتے ہیں وہ بالکل انپڑھ ہے
،ہمارا گاؤں اتنا پسماندہ ہے کہ وہاں ابھی تک خواتین بھی دھوتی پہنتی ہیں ، ایسی لڑکی کیا میرے ساتھ شہر میں ایڈجسٹ ہو پائے گی ؟ کیا وہ میرے آفس کولیگز کی بیویوں کے ساتھ میل جول رکھ پائے گی ؟ بس یہی سوال مجھےاندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے”، نیاز نے کہا- “اوہ، یہ تو بہت ہی گھمبیرمسئلہ ہے، واقعی تمہاری زندگی تو جہنم بن جائے گی، لائف پارٹنر کا ہم مزاج ہونا بہت ضروری ہے کامیاب شادی کے لیے، میرا خیال ہے کہ تم اپنے گھروالوں کو راضی کرنے کی کوشش کرو کہ وہ چاہے اپنی مرضی سے مگر کسی پڑھی
لکھی لڑکی کے ساتھ تمہاری شادی کر دیں، اگر گھر والے تم سے پیار کرتے ہیں تو وہ تمہاری بات سمجھ لیں گے”، خالد بولا لنچ بریک ختم ہونے پر بات آئی گئی ہو گئی مگر نیاز کا ذہن ان امکانات پر سوچنے لگا

“ابا میں بہت سوچنے کے بعد اس فیصلے پر پہنچا ہوں کہ میں کوثر سے شادی نہیں کر سکتا”، چھٹی پر گاؤں آنے کے بعد نیاز نے اپنے باپ سے دو ٹوک لہجےمیں بات کرتے ہوئے کہا “آپ اپنی مرضی سے میرے لیے لڑکی تلاش کریں، مجھے کوئی اعتراض نہیں، مگر لڑکی پڑھی لکھی ہونی چاہیے جو میری ذہنی سوچ سےمطابقت رکھتی ہو اور جسے شہر لے جاتے ہوئے مجھے کوئی شرمندگی نہ ہو، میں کسی گنوار انپڑھ لڑکی سے آپ کے کہنے پر شادی کر بھی لوں تو ساری زندگی نبھا نہ کر پاؤں گا، اس لیے بہتر ہے کہ میں کوثر سے شادی نہ ہی کروں، اسکے جوڑ کے بہت مل جایئں گے گاؤں میں ہی، آپ مجھے اپنی انا پر قربان مت کریں ابا”، نیاز نے التجا کی “اوئے نیازیا، تو چاہتا ہے کہ میں اپنی زبان سے پھر جاؤں ، او بڈھے ویلے میرے سر اچ کھے پایئں گا تو، میں نے تیرے چاچے کو زبان دی ہے، اب تیری شادی یہیں ہو گی بس، سچ کہتے ہیں سیانے، تعلیم اولاد کو ماں باپ کا نافرمان بنا دیتی ہے، میری ہی مت ماری گئی تھی جو تجھے اتنا پڑھایا لکھایا – جا دفع ہو جا یہاں سے، نکل میرے گھر سے، اب واپس تبھی آنا جب تو اس شادی پر راضی ہو”  باپ نے یہ کہتے ہوئے نیاز کو گھر سے نکال کر دروازہ بند کر دیا  نیاز باہر کھڑا باپ کو آوازیں دیتا رہا مگر باپ نے دروازہ نہ کھولا، ماں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو اسے بھی سختی سے منع کر دیا. نیاز بہت دیر تک دروازے پر کھڑا رہا اور پھر شہر واپس چلا گیا.

ہوسٹل واپس آ کر وہ پوری رات سوچتا رہا، کوئی راستہ سجھائی ہی نہ دیتا تھا ، ایک طرف باپ کی شفقت اور لاڈ پیار یاد آتے تھے، دوسری طرف اپنی نوکری اور شہری زندگی. کبھی خیال آتا کہ نوکری چھوڑ کر واپس گاؤں چلا جائے، جب گاؤں میں ہی رہے گا تو شاید اسکی کوثر سے ذہنی مطابقت ہو ہی جائے، مگر اگلے ہی لمحے اپنے روشن مستقبل اور شہری سہولتوں کا خیال آتا تو دماغ پھر سے بغاوت پر آمادہ نظر آتا.  سوچوں کے بھنور میں پھنسے اسے صبح ہو گئی اور آخر کار وہ ایک فیصلے پر پہنچ ہی گیا

“کل نیاز کی چھٹی ختم ہو گئی تھی، وہ آج آفس نہیں آیا، کیا وہ گاؤں سے واپس نہیں آیا؟” خالد نے لنچ بریک میں دوسرے کولیگ سے پوچھا “مجھے تو کوئی پتا نہیں، اسے دیکھا نہیں ہے ہوسٹل میں بھی”، کولیگ نے جواب دیا
“چلو شام کو ہوسٹل جا کر دیکھتے ہیں، شاید آج واپس آ گیا ہو”، خالد بولا “شام کو ہوسٹل میں خالد نے نیاز کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو کوئی جواب نہ ملا – البتہ ایک غیر مانوس سی بو کمرے سے آتی محسوس ہوئی جسےخالد نے زیادہ اہمیت نہ دی – اگلی صبح نیاز  کے ساتھ والے کمرے کے مکین نے ہوسٹل ایڈمنسٹریشن کو شکایت کی کہ نیاز کے کمرے سے شدید بدبو آ رہی ہے، ہوسٹل ایڈمن نے اضافی چابی سے دروازہ کھولا تو سامنے ہی کرسی پر نیاز کی لاش پڑی تھی، نیاز کی کنپٹی پر گولی کا نشان تھا، زمین پر ریوالور پڑا تھا – کمرے میں خون اور شدید بو پھیلی ہوئی تھی، محسوس ہوتا تھا کہ نیاز کو خود کشی کیے ایک دو دن سے زیادہ ہو چکے ہیں. سامنے ٹیبل پر نیاز کا لکھا ایک خط پڑا تھا جو کہ اس کے باپ کے نام تھا – خط کے مندرجات کچھ یوں
تھے

“ابا، میں نافرمان نہیں ہوں، بس یہ ہےکہ جو زندگی آپ میرے لیے منتخب کر رہے ہیں، اسے گزار پانے کا حوصلہ میں اپنے اندر نہیں پاتا  آپ کی نافرمانی کرنے یا آپ کا حکم ماننے سے زیادہ آسان میں اپنی جان دینے کو پاتا ہوں، سو جان دے رہا ہوں

آپ کا فرمانبردار بیٹا،

نیاز

********************************************

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان سوچ کی اس نہج پر پہنچ جاتا ہے کہ اسے زندہ رہنے سے آسان اپنے ہاتھ سے اپنی جان لے لینا لگتا ہے. لوگ کہتے ہیں کہ خودکشی بزدل کرتے ہیں، مگر خود اپنی جان اپنے ہاتھوں لینا کسی بزدل انسان کے لیے ممکن نہیں. شاید اس سوال کا کوئی آسان جواب نہیں  شاید انسان اپنے رویوں میں تھوڑی لچک پیدا کریں اور دوسروں کی زندگیوں کے فیصلے خود کرنے کی بجائے جن کی زندگی ہے، انکی بات کو بھی اہمیت دیں تو بہتری آئے دوسری طرف اگر دوسروں کی مناسب اور مستحسن بات کو سمجھنے اور اختیارکرنے کی کوشش کی جائے تو بھی بات بن سکتی ہے لیکن اگر سوچوں پر تالےلگے رہیں اور فیصلوں کے بوجھ تلے زندگی اتنی مشکل اور کٹھن  ہو جائے کہ دل و دماغ موت میں ہی عافیت ڈھونڈیں تو پھر خودکشی آسان آپشن لگتی ہے

یہ سب کچھ لکھ ڈالنے کے باوجود میں یہ سوچ رہا ہوں کہ لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں ؟ آپ بھی سوچئے

14 thoughts on “Khood Kushi

  • February 7, 2016 at 2:49 pm
    Permalink

    سب اپنی انا کے پجاری ہیں ہم کوئی بھی دوسرے کی بات سننا ماننا گوارا نہیں کرتا صبر برداشت اور اسلام سے دوری ہے یہی ساری اسکی وجہ شاید

    Reply
    • February 7, 2016 at 4:57 pm
      Permalink

      وجوہات تو نامعلوم ہیں میرے نزدیک ، ہر کہانی میں وجوہات مختلف ہوا کرتی ہیں – اس لیے کوئی عمومی رول آف تھمب نہیں ہے کہ ایسا کس وجہ سے ہوتا ہے –

      Reply
  • February 7, 2016 at 3:16 pm
    Permalink

    آپ کا اندازِ بیاں اور گہرا مشاہدہ۔۔۔
    لکھتے رہیے۔

    Reply
    • February 7, 2016 at 4:54 pm
      Permalink

      پڑھنے اور رائے دینے کا شکریہ مرشد ، ایسے ہی رہنمائی کرتے رہیں –

      Reply
  • February 7, 2016 at 8:12 pm
    Permalink

    شعیب بهائی آپ کا مشاہدہ غضب اور انداز بیان بہت خوبصورت ہے
    لکهتے رہیے اور فیض یاب کرتے رہیے

    Reply
  • February 7, 2016 at 8:15 pm
    Permalink

    خوفِ خدا سے دوری ہمارے بیشتر سماجی مسائل کی بنیاد بنتی جا رہی ہے۔ دل کو موہ لینے والی تحریر

    Reply
  • February 7, 2016 at 8:48 pm
    Permalink

    شعیب ۔۔۔۔ جس خوبصورتی سے آپ نے انسانی ذہن کی پیچیدگیوں کے بارے میں لکھا ہے وہ آپ کا ہی خاصہ ہے۔ لاجواب تحریر

    Reply
  • February 7, 2016 at 9:15 pm
    Permalink

    اندازِ بیاں کے ساتھ بات کے دونوں رخ دیکھنے کی صلاحیت…

    Reply
  • February 8, 2016 at 12:04 am
    Permalink

    اچھی کاوش ہےمعاشرےکے ایک تلخ پہلو پر روشنی ڈالی
    ابھی لوگ سمجھ نہیں سکے کہ خود کشی سے کیسے بچا جا سکتا ہے کیونکہ تقریباً دنیا کے ہر معاشرے میں خود کشی کے واقعات ہوتے ہیں

    Reply
  • February 8, 2016 at 1:10 am
    Permalink

    لاجواب یار۔ زبردست موضوع زبردست تحریر۔ بہت خوب

    Reply
  • February 8, 2016 at 4:06 am
    Permalink

    خدا کے خوف سے عاری ہیں ہم خدا یاد بھی آتا ہے تو فقط اپنی کسی ضرورت میں, بہت خوب شعیب بھائی

    Reply
  • February 8, 2016 at 4:06 am
    Permalink

    خدا کے خوف سے عاری ہیں ہم خدا یاد بھی آتا ہے تو فقط اپنی کسی ضرورت میں, بہت خوب شعیب بھائی.

    Reply
  • February 8, 2016 at 1:32 pm
    Permalink

    بہترین تحریر .. سماجی مسائل کو اجاگر کرنا اور سوالات اٹھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے تاکہ کوئی تو حل نکلے .. چند زندگیاں بھی بچ جائیں اس سے تو یہ بھی کامیابی ہے

    Reply
  • February 9, 2016 at 5:28 pm
    Permalink

    خودکشی مایوسی کی انتہا پہ کیا جانے والا فیصلہ ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.