Factory Ka Ghughu – 3

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ سوئم

یہ منظر تھا ایوان وزیراعظم کا اور قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دے رہے تھے آرمی چیف جنرل راحیل شریف

۔۔۔۔۔ ضرب عضب شروع کرنے سے پہلے ہم نے وزیراعظم سے اجازت بھی لی تھی اور اس کے لیے تمام تیاریوں بارے انھیں بریف کرتے رہے تھے ۔۔۔۔۔

قومی سلامتی کمیٹی کے 9 اگست 2014 کے دن ہونے والے اجلاس سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے خطاب سے اقتباس

***********************************************

یہ منظر تھا قومی اسمبلی کا اور تحریک انصاف کے مستعفیٰ شدہ ممبران کو ڈی سیٹ کرنے کی قرارداد کے بارے میں اظہار خیال کررہے تھے فاروق ستار

سپیکر صاحب ۔ سب سے پہلے تو میں آپ کا شکریہ ادا کروں گا کہ آپ نے قائدتحریک محترم جناب الطاف حسین صاحب کی امانت کو جوں کا توں اس ایوان اور اس کی وساطت سے پوری قوم تک پہنچایا ۔ اور میں یہ کہوں گا کہ وزیراعظم نوازشریف صاحب ، لیڈر آف دی اپوزیشن جناب خورشید شاہ صاحب اور دیگر جماعتوں کے رہنماوں کی اپیل اور پھر اس کے بعد آپ کی اور مولانا فضل الرحمان صاحب کی جو کوششیں رہی ہیں ، اس کے نتیجے میں جب قائدتحریک نےاپنے رفقا سے مشاورت کی تو اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ہم اپنی قراداد کو غیر مشروط طور پر واپس لیں ۔ اور آج ہم نے آپ کی کوششوں سے ، وزیراعظم ، لیڈر آف دی اپوزیشن اور دیگر جماعتوں کے اکابرین کی اپیل پر یہ فیصلہ لیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر میں اس قرادار کے ذریعے مجھے امید ہے کہ اس ملک میں جو سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے ، چاہے وہ ملکی آئین سے متصادم ہو، جس طرح کی مہم جوئی کی جاتی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اس قرارداد کے ذریعے، جو آج ہم نے منظور کی ہے ، اس طرح کی مہم جوئیاں بھی

بند ہوجائیں گی اور آئندہ اس طرح کا کوئی عمل نہیں ہوگا کہ ۔۔۔

کُودا تیرے گھر میں کوئی یوں دھم سے نہ ہوگا

جو کام کیا ہم نے وہ رُستم سے نہ ہوگا

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کی 6 اپریل 2015 کے روز قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر سے اقتباسات

***********************************************

یہ منظر تھا جیو نیوز کا اور جیونیوز کے رپورٹر سے بات کررہے تھے فیصل واوڈا

میں زیادہ باتیں تو نہیں کروں گا آپ کو پتا ہے کہ میں جو کہتا ہوں وہ اللہ کی مہربانی سےکرتا ہوں، اپنی ٹیم کے ساتھ۔ اور جلد پاکستان اچھی خبر سنے گا اور عمران خان صاحب نے جیسے کہا ہے کہ کراچی ان کے حوالے کیا جائےگا ۔۔۔۔۔۔۔ اس سال کے آخر سے پہلے پہلے ۔

پی ٹی آئی کے رہمنا فیصل واڈا کی جیونیوز کے ساتھ 3 اگست 2015 کے روز کی گئی گفتگو سے اقتباس

***********************************************

چُلبلی سوتنیں

مولانا فضل الرحمان کی سیاسی جمع پونچی پر ہاتھ تو انتہائی آسانی سے صاف کردیا گیا تھا کیونکہ یہ جمع پونجی مولانا کے حوالے کرتے ہوئے بھی ایسا ہی انداز اپنایا گیا تھا ۔ لیکن جب اسی کہانی کو کراچی میں دہرانے کی کوشش کی گئی تو یہ کوشش ہماری سیاسی تاریخ میں ایک اور دلخراش باب کا اضافہ کرگئی ۔

ایم کیو ایم کا مینڈیٹ ہمیشہ سے ہی شکوک و شبہات کی زد میں رہا ہے ۔ اس کے جنم سے لے کے مختلف حکومتوں کے ساتھ ہونے والے اتحاد ہمیشہ سے ہی اسے بدنامی کی گہری دہائیوں میں دھکیلتے رہے ہیں ۔ اسے ملنے والے ووٹ ہمیشہ سے ٹھپا مافیا کی مرہون منت توگردانے جاتے رہے لیکن خفیہ اشاروں پر ایم کیو ایم کے “کتھک رقص” نے ہمیشہ اسے “محبوب” کی آنکھوں کا تارا بنائے رکھا ۔ حتیٰ کہ اس کی مجرمانہ سرگرمیوں کو بھی “محبوب” نے ہمیشہ کسی لاڈلی “محبوبہ” کی ادائیں سمجھ کر نظرانداز ہی کیے رکھا ۔ خرابی کا آغاز تب ہوا جب نوازشریف کے پہلے دور حکومت میں سندھ کے اندر ڈاکووں اور لٹیروں کے گروہوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز ہوا ۔ اسی آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے کارکنان اور دو فوجی افسران کے درمیان ہونے والی ناچاقی اور پھر انھی کارکنان کےہاتھوں ان فوجی افسران پر ہونے والے تشدد نے سندھ میں جاری اس آپریشن کا رُخ ایم کیو ایم کی طرف موڑدیا ۔ نتیجے میں ایم کیو ایم کو “محبوب” کی شان میں کی گئی اس گستاخی کی بھاری سزا بھگتنی پڑی جس نے ایم کیو ایم کے سارے کس بل اس طرح نکالے کہ ایم کیو ایم کے نزدیک دوبارہ نافرمانی کا سوچنا بھی گناہ کبیرہ ٹھہرا ۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں ایم کیو ایم کو جب کراچی کی نظامت سنبھالنے کا موقع ملا تو ان کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر میں کسی حد تک کمی آنا شروع ہوئی ۔ برصغیر پاک و ہند میں صدیوں سے پائی جانے والی غربت ، افلاس اور مطلق العنانیت نے یہاں ایک عام آدمی کا جس طرح استحصال کیا ہے، اس کے بعد عوامی خدمت میں ہونے والا تھوڑا بہت کام بھی تبدیلی دکھائی دیتا ہے۔ نعمت اللہ خان اور سید مصطفیٰ کمال کے نظامت کے ادوار میں بھی یہی معاملہ رہا ۔ کراچی کے اندر کام ہوا اور لوگوں نے اس تبدیلی کو دیکھا ۔ اپنے دور نظامت میں اچھے انداز میں کام کرنے کے معاملے میں جب ایم کیو ایم کا پلڑا بھاری رہا تو اس کی گونج باقی ماندہ پاکستان میں بھی سنائی دینے لگی ۔ 12 مئی 2007 کے دن نے بہرحال ایم کیوایم کے سارے کیے دھرے پر پانی پھیر دیا ۔ نوے کی دہائی میں ملنے والی سزا کے بعد ایم کیو ایم نے “فرمانبردار” رہنے کا ہی فیصلہ کیا تھا اور اسی سوچ کے تحت کے عدلیہ اور فوج کی جنگ میں “محبوب” کا ہی ساتھ دیا ۔ اسی فرمانبرداری کے تحت 12 مئی 2007 کے دن جسٹس افتخار چوہدری کو کراچی میں آزادانہ گھومنے پھرنے سے روکنے کی نیت سے شہرقائد کو کنٹینروں کی مدد سے مفلوج کرنے کے بعد آگ اور خون کی ہولی کھیلتے ہوئے لاشوں کے ڈھیر لگا دیے گئے ۔ آگ و خون کی اس ہولی کے معمار اس وقت کے صوبائی وزیرداخلہ وسیم اختر کو ٹھہرایا جاتا ہے ۔ قصہ مختصر یہ کہ ایم کیوایم ، جو کہ کراچی سے نکل کر باقی ملک میں اپنی جڑیں پھیلانے کی کوششیں کررہی تھی ، ایک دفعہ پھر سے کراچی تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ۔ تاہم اس تمام مدوجزر کے باوجود بھی “محبوب” کی محبت میں کمی نہ آئی ۔ کراچی کی سیاست پر ایم کیو ایم کی مضبوط گرفت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 12 مئی کے بعد ان کے خلاف بننے والی آب و ہوا سے عمران خان نے فائدہ اٹھانے کی کوشش تو کی لیکن نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ موصوف کئی برسوں تک کراچی میں داخلے سے بھی محروم رہے ۔ وقت مگر بدلتا ہے۔۔۔۔ جنرل مشرف کی روانگی کے بعد ایم کیوایم ، پیپلزپارٹی کی سربراہی میں بننے والی اتحادی حکومت کا حصہ بن گئی ۔ ایم کیو ایم این آر او کا بھی حصہ تھی اور اسی این آر او کے تحت بہت سے مجرم پیشہ لوگ بھی جیلوں سے رہا ہوئے جن کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہی جوڑا جاتا ہے ۔ بے پناہ کرپشن، انتہائی بری طرزحکومت والی حکومت کا حصہ بنے رہنے اور اس سے بھی زیادہ مخولیہ انداز میں ، جمہوری حکومت کو ہلکے پھلکے شاک دینے کی نیت سے ہونے والے خفیہ اشاروں پر چلتے ہوئے ، حکومت میں مسلسل آمد و روانگی نے ایم کیوایم کو شدید نقصان پہنچایا۔ دوسری طرف “محبوب” کو بھی عمران خان بھا چُکا تھا ۔ وہی عمران خان جسے کراچی میں داخلے سے روکنے کے لیے پروازیں ملتوی ہوجایا کرتی تھیں ، “محبوب” کی خوشنودی کی خاطر ایم کیو ایم کو کراچی کے اندر اب اسی عمران خان کے سونامی نامی غبارے میں ہوا بھی بھرنی پڑرہی تھی ۔۔۔۔ ایم کیو ایم کا خیال تھا کہ سونامی کراچی و حیدراآباد سے باہر کے لیے ہی مختص کی گئی ہے لیکن مختلف عوامل نے 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو کراچی سے خاصے ووٹ دلوادئیے۔ ایم کیو ایم کا پلڑا اگرچہ بھاری رہا تھا لیکن ان کی حمایت میں آنے والی کمی واضح تھی۔ تحریک انصاف جیسی ہوائی جماعت کو کراچی سے اتنے ووٹ ملنا بہرحال ایم کیو ایم کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہ تھا۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ مرکز اور سندھ میں دونوں جگہوں پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو اکثریت مل گئی اور اسی وجہ سے دونوں جماعتوں کو بیساکھیوں کی ضروت بھی نارہی۔ چنانچہ ایم کیو ایم کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپوزیشن کی نشستیں سنبھالنی پڑیں ۔

مسلم لیگ ن کی حکومت آنے سے پہلے کراچی میدان جنگ بن چکا تھا ۔ یہاں کئی عسکری گروہ اپنی جڑیں جماچکے تھے جن میں سے کچھ ایم کیو ایم سے بھی زیادہ “فرمانبردار” تھے۔ روزانہ کی بنیاد پر بیس پچیس لاشیں گررہی تھیں اورچھینا جھپٹی کے متعدد واقعات اس کے علاوہ تھے ۔ انہی معاملات سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کراچی میں آپریشن کا فیصلہ کیا تو اس وقت کے ڈی جی رینجرز رضوان اختر کو اس کی کمان سونپی گئی ۔ جہاں ایم کیو ایم کی بدنامی “محبوب” کے لیے درد سر بن چکی تھی وہیں 2013 کے انتخابی نتائج بھی “محبوب” کو قابل قبول نہ تھے۔ ایم کیو ایم ضرورت سے زیادہ طاقتور بھی ہوچکی تھی اور بعض معاملات میں “محبوب” کو نظرانداز کرتے ہوئے منہ زوری بھی دکھا رہی تھی۔ چنانچہ آپریشن کو ایک دفعہ پھر سے ایم کیو ایم کو “اوقات” میں لانے کے لیے ایک نادر موقع جانا گیا ۔ پھر یوں ہوا کہ کراچی کے اندر کئی گروہوں کے ساتھ نرم رویہ تو جاری رہا مگر ایم کیو ایم پر ہاتھ سخت رکھا گیا ۔ یہیں سے ایم کیوایم اور فوج کے درمیان پائے جانے والے رومانوی تعلقات میں ایک بار پھر سے دراڑ آنا شروع ہوئی ۔ ایک طرف تو جرائم پیشہ لوگ گرفتار ہورہے تھے تو دوسری طرف ایم کیوایم الزام لگارہی تھی کہ ان کے “اٹھائے” جانے والے کارکنان دوران حراست ہونے والی “تفتیش” کے توسط سے عدالت میں پیش سے ہونے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جارہے تھے ۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین تو اس معاملے میں کسی قسم کی لگی لپٹی بھی نہیں رکھ رہے تھے اور اسی چیخ و پکار نے رینجرز اور ایم کیو ایم کے درمیان اختلافات کو مزید ہوا دی ۔ ان الزامات کا رُخ براہ راست اس وقت کے ڈی جی سندھ رینجرز رضوان اختر کی طرف تھا اور یہی بات ان کی طبعیت پر ناگوار گزری جس کے بعد ایم کیوایم کو “نئی شکل” دینے کا فیصلہ کرلیاگیا۔

مائنس الطاف فارمولہ ماضی کے مائنس فارمولوں سے مختلف اس لیے بھی نہیں تھا کہ اس فارمولے کے تحت بھی ایم کیوایم اپنی موجودہ شکل میں ہی کام کرتی رہتی ۔۔۔۔ بس “قائدتحریک” ریٹائرمنٹ اختیار کرتے ہوئے پس منظر میں چلے جاتے اور ان کی جگہ کوئی نیا شخص “قائدتحریک” کے منصب پر فائز کردیا جاتا ۔ اس منصب کے لیے سب سے پہلا انتخاب کوئی اور نہیں بلکہ سیاسی حمایت کے شدید طلبگار “فاتح کارگل” تھے۔ مسئلہ مگر یہ تھا کہ الطاف حسین اپنی ساری عمر کی جمع پونجی سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھے تو فاتح کارگل کی سیاسی مقبولیت اتنی ہی تھی جتنی کسی بھی “سابق” سپہ سالار کی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس بیل کا منڈھے نہ چڑھنا اختلافات کو مزید ہوا دے گیا ۔ شور بڑھتا گیا اور “محبوب” کی سوئی “گستاخ” کو نشان عبرت بنانے پر اٹکی رہی جبکہ وقت حسب معمول آگے بڑھتا رہا ۔ رضوان اختر ڈی جی آئی ایس آئی ہوکر اسلام آباد روانہ ہوگئے مگر ان کے “گدی نشینوں” نے مائنس ون فارمولے پر کام جاری رکھتے ہوئے یہ بات ثابت کردی کہ مائنس الطاف کا فیصلہ کسی ایک شخص کی بجائے اب “ادارے” کا فیصلہ بن چُکا تھا ۔ پھر یوں ہوا کہ کبھی ایم کیو ایم کے حصے بخرے کرتے ہوئے یہاں کی سیاسی حمایت کے بٹوارے کی تجویز زیرغور آتی تو کبھی کراچی کو کسی شادی میں دیے جانے والے جہیز کی مانند عمران خان کے حوالے ، ان کی “دھرنوی” خدمات کے انعام کے طور پر ، کرنے کی بات چلتی ۔ مطمع نظر تھا کہ الطاف حسین پر دباو اتنا بڑھا دیا جائے کہ وہ خود ہی “گھر” چھوڑ کر کہیں چل دیں اور نئی نویلی “سُہاگن” کے حُسن سے “گھر” چمک اٹھے ۔ چنانچہ کبھی 16 برسوں سے سزائے موت کے منتظر صولت مرزا کا جیل سے پیغام نیشنل میڈیا پر پھیل جاتا تو کبھی دو برس سے فائلوں میں دبی ہوئی بلدیہ ٹاون کی انکوائری رپورٹ اچانک سامنے آجاتی ۔ کبھی نیبل گبول سے اچانک استعفیٰ دلوا کر کراچی میں الیکشن کا بگل بجایا جاتا تو کبھی زیرزمین سرمائے اور بھارت سے ملنے والی امداد کے ثبوت سامنے آنا شروع ہوجاتے ۔ الطاف حسین نے مگر ، حسب روایت بے پناہ لطیفے چھوڑنے کے ساتھ ساتھ، رینجرز اور پاک فوج کی اس پالیسی کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ۔۔۔۔ ان کے مسلسل حملوں نے “صاحب لوگوں” کو اس حد تک زچ کردیا کہ مجبور ہو کر ان کی آواز ہی بندکرنی پڑگئی ۔ اپنے اس بلیک آوٹ کےباوجود بھی سیاسی میدان میں وہ خود کو منہا کردینے والے فارمولے کے خلاف ڈٹے رہے ۔ ان پر ضمنی الیکشن تھوپا گیا ہو یا پھر میڈیا کے ذریعے ان کی سیاسی حمایت کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ ان کی جماعت کے اندر ناراض گروہ تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہو یا کوئی اور حربہ ۔۔۔۔ ہر جگہ وہ مزاج یار سے آشنا ہونے کے بل بوتے پر دو قدم آگے ہی نظر آئے۔

کراچی کی بادشاہت کی خاطر رچائے جانے والے اس سٹیج ڈرامے میں شطرنج کی کسی بازی کی مانند چالوں پر چالیں چلی جارہی تھیں ۔ الطاف حسین کوایم کیوایم کے اندر تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ٹھہریں۔ ایم کیو ایم کے اندر سے ایم کیو ایم برآمد کرنے کی کوششیں ناکام ٹھہریں ۔ کراچی کے اندر “شاہی جوڑے” کی قلفی نوش فرمانے کی چمک دھمک بھی رنگ نہ جما سکی تو آخری حربے کے طور پر ایم کیوایم کو ہی منفی کرنے کی چال چل دی گئی ۔ چال تھی بھی انتہائی خطرناک کیونکہ اگر پہلی دُلہن” گھر کے اندر موجود نہیں ہوگی تو دوسری “دُلہن” گھر کو درخشاں کرنے میں آزاد ہوگی ۔ بے پناہ دباو اور مسلسل تنہائی نے رنگ دکھایا اور ایم کیو ایم جال میں پھنستی ہوئی دکھائی دی ۔ ایم کیو ایم نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے تمام اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر ضمنی اور بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا تاثر دیا تو یوں لگا کہ بالآخر آپ اپنے دام میں صیاد آگیا والی بات ہوگئی ہے کیونکہ ایم کیوایم اگر ضمنی اور بلدیاتی انتخابات کا میدان خالی چھوڑدیتی تو کراچی کا انتخابی میدان تحریک انصاف کے نام کرنا انتہائی آسان ہوجاتا ۔ یہی وہ فارمولہ تھا جس کے تحت تحریک انصاف دعویٰ کرتی پائی گئی کہ دسمبر تک کراچی ان کے حوالے کردیا جائے گا ۔ نوازشریف مگر کراچی و حیدرآباد کی نمائندہ جماعت کو یوں بے دخل کیے جانے کے حق میں نہ تھے۔ انہوں نے معاملات کو سنبھالنے کی کوششوں میں ایک طرف اسحاق ڈار کو ذمہ داری سونپی کہ وہ ایم کیو ایم سے مذاکرات کریں اور انھیں سیاسی میدان خالی نہ چھوڑنے پر راضی کریں تو دوسری طرف جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ کو ذمہ داری سونپی کہ وہ اپنے پرانے “شاگردوں” سے بات کریں اور انھیں اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے علم سیاسیات کی اسناد تقسیم کرنے جیسے کاموں سے روکیں ۔ جنرل بلوچ تو اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہوسکے لیکن اسحاق ڈار کو کامیابی مل گئی ۔ ایم کیوایم نہ صرف اسمبلیوں میں لوٹ آئی بلکہ سیاسی میدان میں بھی بھرپور مقابلے کا فیصلہ کرلیا ۔ ایم کیو ایم کی اسمبلیوں میں واپسی کے بعد ضمنی انتخابات کے امکانات ہی ختم ہوگئے اور گھوڑے دوڑانے کے لیے صرف بلدیاتی انتخابات کا میدان ہی دستیاب رہ گیا تھا ۔

بلدیاتی انتخابات کا بگل بجا تو این اے 246 کے ضمنی انتخابات کے ڈراونے خواب سے سبق سیکھتے ہوئے ۔۔۔۔ اب کی بار جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو ایک اتحاد کی کی شکل میں میدان میں اتارا گیا ۔ ایک دفعہ پھر سے تمام تر خاکی و میڈیائی حمایت تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے حق میں نظر آئی ۔ زمینی حقائق مگر سیف ہاوسز میں بیٹھ کر کھینچے جانے والے نقشوں سے خاصے مختلف ہوتے ہیں ۔ ایم کیوایم سخت مقابلے کے لیے تیار تھی اور اس نے ٹی وی سکرینوں کی بجائے گلی گلی پہنچ کر اپنے حامیوں کو متحرک کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا اتحاد مگر “محبوب” کے وعدے کے ایفا ہونے کی آس میں ہی بیٹھا رہا ۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے متوقع نتائج اگرچہ کسی اندھے کو بھی صاف نظر آرہے تھے مگر تحریک انصاف و جماعت اسلامی کو دستیاب “خاص حمایت” آخری دن تک جاری رہی ۔ عمران خان اور سراج الحق ایک ہی ٹرک پر سوار کراچی میں گھومتے رہے جبکہ ایم کیو ایم کی ریلیوں کے خلاف مقدمات درج ہوتے رہے ۔ یہ انتخابات فوج کی زیرنگرانی ہوئے جبکہ میڈیا خصوصی توجہ کے ساتھ “دھاندلی” روکنے میں لگا رہا ۔ تمام تر جتن کرنے کے باوجود بھی نتائج مگر اس نئی نولی سوتن کے لیے انتہائی عبرت ناک ثابت ہوئے ۔ ایم کیوایم کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تو جماعت اسلامی و تحریک انصاف کے علاقائی صدور بھی شکست کھاگئے ۔ اس تمام کھیل کا نتیجہ یہ نکلا کہ مائینس الطاف نامی فارمولے کی فائل بالآخر بند کرنا ہی پڑی ۔ محبوب کی دلربائی کے لیے جھگڑنے والی ان چُلبلی سوتنوں اور ان دونوں کے درمیان پھنسے “محبوب” کے بیچ ہونے والی اس کشمکش کی بدولت ایم کیو ایم نہ صرف ٹھپا مافیا کے الزامات سےجان چھڑانے میں کامیاب ہوگئی بلکہ اپنے حامیوں میں مقبولیت کے اسی معیار پر دوبارہ پہنچ گئی جہاں وہ 12 مئی 2007 سے پہلے موجود تھی۔ یہی نہیں بلکہ کراچی کے اندر مئیر کے عہدے کے کا امیدوار بھی وہ شخص بنا جو کہ 12 مئی کے روز قتل عام کے ذمہ داران میں گنا جاتا ہے ۔ کاش کہ اس کھیل کی ناکامی اور نتیجے میں سمیٹی گئی بدنامی سے کچھ سیکھ لیا جاتا لیکن لگتا یہی ہے کہ ایک دفعہ پھر سے یہ خواہش صرف خواہش ہی رہ جانی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دو چار مہینوں کے بعد دہشتگردی کا کوئی نہ کوئی واقعہ ہمارا منہ چڑاتے ہوئے ہمیں یاد دلانے میں مصروف ہوتا ہے کہ خالص امن عامہ کے لیے اٹھائے والے اقدامات کا رُخ اگر سیاسی شکاروں کی طرف موڑ دیا جائے تو اچھی خاصی کامیابیاں بھی گہنا جاتی ہیں۔ ایسی کوتاہیوں کی ذمہ داری کس کے سر ڈالی جانی چاہئیے ۔۔۔ اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑا جاتا ہے ۔

الوداعی شکریہ

سیاست کو عام طور پر شطرنج کے کھیل سے تشبیہہ دی جاتی ہے جو کہ اتنا غلط بھی نہیں ۔ پاکستانی سیاست کو شاید ایک اور کھیل سے بھی تشبیہہ دی جاسکتی ہے ۔ تاش کے پتوں سے کھیلا جانے یہ کھیل پاکستان میں انتہائی مقبول ہے اور اسے عرف عام میں “رنگ” کا نام دیا جاتا ہے ۔ چار میں سے ایک قسم کے پتوں کو “رنگ” قرار دے کر ویٹو پاور عطا کردی جاتی ہے اور اس رنگ کے پتوں میں سے ایکا یا یکا مضبوط ترین پتہ قرار پاتا ہے جس کا توڑ کسی دوسرے پتے سے نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں تک پاکستانی سیاست کا تعلق ہے تو اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے اور آج کے حالات کو کسی بھی صورت اس تاریخی پس منظر سے جدا کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ۔ موضوع کی طرف آتے ہوئے مختصر ترین الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جنرل مشرف کی روانگی جس انداز میں ہوئی اور اس کے بعد جس طرح ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے جمہوریت پر پے درپے حملے ناکام ہوتے رہے ، اس کا نتیجہ بالآخر لندن پلان کی صورت میں نکلنا ہی تھا۔ لندن پلان تو خیر ناکام ہوگیا مگر اس سازش کی ناکامی کا براہ راست اثر اس کے منصوبہ ساز ادارے کی ساکھ پر پڑتا تھا۔ جمہوریت پر جسقدر تیاری اور طاقت کے ساتھ یہ حملہ کیا گیا تھا ، اس تناظر میں اسے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اپنا رنگ کا ایکا پھینکے کے مترادف ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ نتیجہ مگر یہ رہا کہ رنگ کا یہ ایکا بازی پلٹنے میں ناکام رہا۔۔۔۔۔۔۔ اور جس کھلاڑی کا پھینکا ہوا رنگ کا ایکا ہی پٹ جائے ۔۔۔۔ اس کے پلے رہ ہی کیا جاتا ہے؟

پاکستان میں چند برس پہلے ہی لوٹ کر آنے والی جمہوریت پر یہ کوئی پہلا حملہ تو نہ تھا ۔ امریکی و برطانوی دباو پر جب جنرل مشرف پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات طے کرنے پر راضی ہوئے تھے تو محترمہ بینظیر بھٹو کی خواہش پر ہی جنرل مشرف کے نمائندے کے طور پر ان مذاکرات کے لیے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو منتخب کیا گیا تھا۔ جنرل کیانی نے جہاں باقی معاملات طے کیےتھے وہیں اپنے سپاہ سالار بننے کی راہ بھی ہموار کرلی تھی ۔ اس وقت وہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے اور انہی کی منصوبہ بندی کے تحت گذشتہ کئی برسوں سے تابعداری کا مظاہرہ کرنے والے “آزاد” میڈیا نے جنرل مشرف کو سولی پر چڑھانے کا آغاز کیا تھا۔ یہ جنرل کیانی کی جانب سے طے کردہ معاملات کا ہی نتیجہ تھا کہ امریکہ کی طرف سے جنرل پرویزمشرف کو وردی اتار کر سویلین صدر بننے کا مشورہ دیا گیا تھا ۔ یہ بھی امریکی مشورے کا ہی نتیجہ تھا کہ جنرل مشرف اپنی بیگم صہبا مشرف کے کزن جنرل ندیم تاج کی بجائے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو آرمی چیف مقرر کرنے پر مجبور ہوئے تھے ۔ آرمی چیف بننے کے بعد مگر جنرل کیانی نے صدر مشرف کو گھر بھیجنے میں ذرا دیر نہ لگائی ۔ سیاستدانوں نے “فاتح کارگل” کے مواخذے کے عمل کا آغاز کیا تو جنرل کیانی نے اس ماحول سےبھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلے سے لکھا ہوا استعفیٰ جنرل مشرف کو بھجوادیا اور انھیں محفوظ رستے کی ضمانت دینے کے بعد استعفے پر ان سے دستخط لے لیے ۔ اس تمام صورتحال میں جنرل کیانی جہاں جنرل مشرف کو گھر بھیجنے میں کامیاب رہے ، وہیں اس سارے عمل کے دوران سیاستدانوں کو بے پناہ مضبوط کر بیٹھے ۔ حالات ایسا رُخ اختیار کرگئے کہ وہ حق حکمرانی جسے افواج پاکستان اپنا پیدائشی حق سمجھتی تھیں، وہ ان کے ہاتھوں سے ہمیشہ کے لیے پھلستا ہوا نظر آرہا تھا۔ اس لیے جہاں جمہوریت کی واپسی مجبوری تھی، مگر وہیں اس کی مضبوطی کسی طور پر بھی قبول نہ تھی ۔ چانچہ آنے والی جمہوری حکومت کو کچھ ہی عرصے کے بعد گھر بھیجنا لازمی سمجھا گیا تاکہ دوسری جماعت بھی اپنی “باری” لے کر جلد از جلد ناکام سمجھی جائے اور حکمرانی کے ریموٹ کنٹرول کو دوبارہ مضبوطی سے دبوچا جاسکے ۔ اسی سوچ کے تحت پانچ برس تک ہر سہ ماہی میں ایک نہ ایک تماشہ لگایا جانا ضروری سمجھا جاتا رہا ۔ کبھی مارچ آجاتا تو کبھی بجٹ کے بعد کچھ ہونے کی نوید سنادی جاتی ۔ کبھی ماہ ستمبر کو ستنمگر بنا کر پیش کیا جاتا رہا تو کبھی دسمبر آنے کی خبر دے دی جاتی ۔ کبھی سینیٹ کے الیکشن سے پہلے دھڑن تختے کا انکشاف تو کبھی میموگیٹ نامی چوہے اور بلی کا کھیل شروع ہوجاتا ۔ کبھی سیاست نہیں ریاست بچاو کا نعرہ لگتا تو کبھی ڈرون حملوں کی آڑ میں سونامی کی اٹھان کی بنیاد ڈالی جاتی ۔ پاکستان کی خوش قسمتی کہیے یا پھر “ان” کی بدقسمتی کہ ہر حربہ ہی ناکام ٹھہرا کیونکہ مضبوط ترین اپوزیشن کا کردار نبھاتے نوازشریف وہ کندھا فراہم کرنے کو تیار نہ ہوئے جس پر رکھ کر بندق چلائی جاسکتی جبکہ متبادل تراشے گئے کندھے اس بندوق کا بوجھ سہارنے کے بھی قابل نہ تھے۔

خدا خدا کر کے وہ پانچ برس گزرے تو ہر طرح کی چارہ گری کے باوجود بھی نوازشریف حکومت میں لوٹ آئے۔ گذشتہ پانچ برسوں میں آصف علی زرداری نے ، سوائے گھر جانے کے ، ہر مطالبے پر سرِخم تسلیم کیا تھا۔ جنرل کیانی کی توسیع کے حق میں جب مہم جوئی کی رونمائی ، بذریعہ قبلہ انصارعباسی اور شاہین صہبائی ، کروائی گئی تو زرداری صاحب کا ابتدائی ردعمل یہی تھا کہ یہ کام میری لاش پر سے گزرکر ہی ہوسکے گا ۔ رفتہ رفتہ اس مہم میں تیزی لائی گئی تو زرادی صاحب نجی محفلوں میں اپنے ابتدائی ردعمل کا اعادہ کرتے نظر آئے ۔ اس معاملے میں انھیں نوازشریف کی حمایت بھی حاصل تھی جنہوں نے ایوان صدر میں بیٹھ کر مشورہ دیا تھا کہ کسی آرمی چیف کی توسیع حکومت کو ان کا حامی چیف نہیں دے سکے گی ۔ لیکن جب لوہا گرم ہوگیا تو ایک دن جنرل کیانی نے فون اٹھایا اور آصف علی زرداری سے رابطہ ہوتے ہی بین السطوراپنی توسیع کا مشورہ دیتے ہوئے بولے کہ توسیع “اگر” دینی ہے تو اعلان کردیجئے ۔ اس مشورے نے زرداری صاحب کی حکومت کو ایسے الف کی مانند سیدھا کیا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی رات کے ایک بجے قومی ٹی وی پر یوں نمودار ہوئے کہ کوٹ کا ایک کالر ادھر تو دوسرا ادھر ۔۔۔۔ اور انتہائی مختصر سی تقریر میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع کی “خوشخبری” قوم کے گوش گزار کرتے ہوئے چلتے بنے ۔ نوازشریف مگر مختلف مینڈیٹ اور ذہنیت کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے ۔ نوازشریف نے جب ستمبر2006 میں طویل جلاوطنی کے بعد وطن لوٹنے کی پہلی کوشش کی تھی تو اسلام آباد ائیرپورٹ پر دھکوں کے بل بوتے پر انہیں سعودی عرب بھیجنے کے لیے جہاز میں پھینکنے والوں کے سرغنہ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل کیانی ہی تھے۔ نوازشریف بعد میں اگرچہ وطن لوٹ آئے لیکن جنرل کیانی کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ ہی رہے ۔ جنرل کیانی کی طرف سے نوازشریف کو ملاقات کے پیغامات بھی جاتے رہے مگر نوازشریف نے ہمیشہ ان پیغامات کو نظرانداز ہی کیے رکھا۔ حیران کُن ماجرہ مگر تب ہوا جب 2013 کے عام انتخابات میں نوازشریف کی واضح جیت کے بعد جنرل کیانی خود ہی گاڑی چلاتے ہوئے رائیونڈ پہنچ گئے اور رائیونڈ کے دسترخوان پر دوران طعام میٹروبس کی تعریفوں کے پُل باندھتے دکھائی دیے ۔ نوازشریف جس وقت اقتدار میں آئے تو ان دنوں جنرل کیانی اپنی دوسری مدت ملازمت کے آخری ماہ گزار رہے تھے ۔ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ درپیش تھا لیکن جنرل کیانی کا حمایتی گروپ کچھ اور ہی کہانی سنا رہا تھا۔ کوئی انھیں ایک اور توسیع دلوارہا تھا توکوئی انھیں قومی سلامتی کا مشیر لگوا رہا تھا ۔ طلعت حسین اور محمدمالک کی جادوئی نظروں نے تو اس آئینی ترمیم کا مسودہ بھی دیکھ لیا تھا جس کے تحت چئیرمین چیف جوائنٹس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کو تمام تر اختیار سونپ کر جنرل کیانی کے حوالے کردیا جاتا اور ان کے ماتحت ایک یتیم و مسکین سا آرمی چیف تعینات کردیا جاتا ۔ اسی شور کے اندر ستمبر 2013 میں وزیراعظم ، وزیرداخلہ اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات ہوئی ، مقصد جس کا قومی سلامتی پالیسی پر مشاورت تھی ۔ جنرل کیانی نے مگر وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ قومی سلامتی پالیسی پر بحث اس وقت تک موخر کردینی چاہئیے جب تک کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوجاتا ۔ بین السطور یہ نوازشریف کے لیے بھی مشورہ تھا کہ انھیں ایک اور توسیع دی جائے ۔ نوازشریف نے مگر اپنے مخصوص انداز میں ، بین السطور ہی ، یہ پیغام دے دیا کہ جنرل صاحب یہ کام ضروری ہے کیونکہ بعد میں آپ نے اپنی الوداعی ملاقاتوں میں مصروف ہوجانا ہے ۔ جنرل کیانی ، جنرل اسلم خٹک اور جنرل اسلم ہارون کو مختلف انداز میں گھر بھیجنے کے بعد نوازشریف نے جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف مقرر کیا تھا اور اس کی وجوہات میں ان کا پیشہ ور اور غیرسیاسی جرنیل ہونا سرفہرست تھا ۔

جنرل مشرف اور جنرل کیانی کے طویل ادوار کا شاخسانہ مگر یہ بھی تھا کہ ان کے زیرسایہ ترقی پانے افسران ہر طرف موجود تھے اور آج تک موجود ہیں ۔ 2013 کے اواخر میں جب نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ درپیش تھا تو جی ایچ کیو کے معاملات پر “گرفت” رکھنے والے تجزیہ کاروں کی فہرست میں راحیل شریف کا نام تک بھی شامل نہیں ہوتا تھا ۔ لیکن راحیل شریف آرمی چیف ہوگئے ۔ ان کی آمد کے بعد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ نے ایک نیا رُخ اختیار کیا اور ضرب عضب نامی آپریشن کا آغاز ہوا ۔ دلائل چاہے جیسے بھی ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ضرب عضب کے آغاز کے بعد ایک دہائی سے خونی شب و روز دیکھنے کے عادی ہوجانے والے پاکستانیوں کو سکون کا سانس لینے کا موقع ملا ۔ کہانی کا مگر یہی ایک رُخ نہیں۔ جنرل راحیل شریف کو شروع سے ہی ان کے اپنے ادارے کے بے شمار بااختیار لوگ قبول کرنے میں تامل سے کام لیتے رہے تھے ۔ انہی میں سے ایک گروہ کی ریشہ دوانیوں کا نتیجہ لندن پلان کی صورت میں نکلا تھا ۔ راحیل شریف نے ، وجوہات چاہے جو بھی رہی ہوں، اس سازش کے “منطقی انجام” کو حقیقت کا روپ دینے سے احتراز ہی برتا اور اسی چیز نے انہیں ، ان کے ادارے میں موجود طاقتور مگر مخالف گروہ کے لیے ، مزید ناقابل قبول بنادیا ۔ لندن پلان کے تحت لگایا جانے والا براڈوے شو جب ہرگزرتے دن کے ساتھ یتیم و مسکین ہوتا جارہا تھا تو اس ادارے کے اندر پائے جانے والے خودساختہ صلاح الدین ایوبیوں کو یہی خدشہ درپیش تھا کہ اب جب ایک عام آدمی اس سارے کھیل کے بارے میں سوچے گا تو سب سے پہلے اس کے ذہن میں یہی بات آئے گی کہ “فرشتوں” کے پر اب کُترے جاچکے ہیں ۔ وہ ادارہ جو کسی زمانے صرف دو ٹرکوں کے بل بوتے پر پورے ملکی نظام کو تلپٹ کردینے پر قادر ہوتا تھا ، اب وہ حکومت کو فارغ کرنا تو دور کی بات ایک ٹی وی چینل کو مکمل طور بند کروانے میں بھی ناکام نظر آرہا تھا ۔ ایک طرف 28 اگست کے روز وزیراعظم ہاوس میں ہونے والی ملاقات میں لندن پلان کے منصوبہ سازوں کی لائن حاضری کی خبریں پہلے ہی زبان زدعام ہونا شروع ہوچکی تھیں تو دوسری طرف وزیراعظم کو مستعفی ہونے کا پیغام بھیجنے سے مُکرنے کی داستانیں عام عوام تک پہنچنا شروع ہو چکُی تھیں ۔ جہاں اپنے طاقتور مگر مخالف ماتحتوں کے سامنے یہ ثابت کرنا بھی مقصود تھا کہ معاملات پر ہماری گرفت مضبوط ہے وہیں لندن پلان جیسی سازش کے نتیجے میں سمیٹی گئی نفرتوں کو بھی قالین کے نیچے گھسانا مقصود تھا ۔ چنانچہ جنرل پرویز مشرف اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدح سرائی کا وسیع تجربہ رکھنے والے ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنے موجودہ باس کی خدمت گری میں وہ مہم شروع کروائی جو کہ بعد میں شکریہ راحیل شریف کے نام سے مشہور ہوتے ہوتے بالآخر “شکریہ راحیل شریف” نامی لطیفہ بن گئی۔ ہوا یوں ٹی وی سکرینوں پر براجمان بقراطوں کو اشارہ ہوا اور انھوں نے جنرل راحیل شریف کے اندر وہ خوبیاں بھی دریافت کرلیں جن سے شاید راحیل شریف خود بھی اپنی پوری زندگی میں واقف نہ ہوسکے تھے ۔ پاکستان کے اندر ہونے والے ہر اچھے کام کو راحیل شریف کے کھاتے میں ڈالا جانے لگا ۔ بات یہیں تک نہیں رُکی بلکہ لندن پلان کی ناکامی کے ذریعے اپنی سیاست کو اپنے ہاتھوں پھانسی دینے والے بچے جمورے سیاستدان بھی اس تحقیق میں مصروف نظر آئے کہ راحیل شریف کے لیے زیادہ تالیاں بجی ہیں یا پھر نوازشریف کے لیے ۔ اس ڈھنڈورے کے پیٹے جانے کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ راحیل شریف کی تصویر انتخابی اشتہاروں پر بھی نظر آنے لگی اور بنیان کے اشتہاروں پر بھی ۔ غرض کہ بات کا آغاز چاہے کہیں سے بھی کیا جاتا ۔۔۔ ۔۔۔ انجام اس کا شکریہ راحیل شریف کی صورت میں ہی نکلتا ۔ سب سے مزاحیہ دلائل تو وہ ہوتے جب جمہوری حکومت کا کریڈٹ بھی راحیل شریف کے قدموں میں نچھاور کیا جارہا ہوتا ۔ مثال کے طور پر کراچی آپریشن کے فیصلے کا کریڈٹ بھی جنرل راحیل شریف کے حوالے کردیا جاتا ۔۔۔۔۔ حالانکہ جس وقت کراچی آپریشن کا فیصلہ ہوا تھا ، ستمبر 2013 میں ، اس وقت راحیل شریف آرمی چیف بھی نہ تھے ۔ کچھ ہی عرصے کے اندر اس مہم نے اس تاثر کا رخ اختیار کرنا شروع کردیا کہ جیسے ملک کے اندر سول مارشل لاء نافذ ہوچکا ہے اور لندن پلان نامی سازش کا مقصد جمہوری حکومت کو کٹ ٹو سائز کرنا ہی تھا جو کہ کرلیا گیا ۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ چند احباب آج بھی اس وجدانی کیفیت سے باہر نہیں نکل سکے۔

شکریہ راحیل شریف نامی مہم شروع تو جمہوری حکومت کو سرنگوں کرنے کے لیے کی گئی تھی لیکن سرنگوں یہ اسے ہی کرگئی جس کے لیے یہ ساری محفل سجائی گئی تھی ۔ تبصروں تجزیوں میں بھلے ہی راحیل شریف کو سکندراعظم بنادیا گیا ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ موصوف اپنے ہی ماتحت ادارے پر اپنی اتھارٹی ثابت کرنے میں ناکام رہے تھے ۔ ان کے آس پاس سازشیں جنم لیتی رہتی تھیں لیکن نہ تو انھیں خبر ہوتی اور نہ ہی وہ انہیں روک پاتے تھے ۔ ادارے سے بڑھ کر ایک شخص کی پذیرائی پر دی جانے والی توجہ نے اس مہم کو جلد ہی سنجیدہ سے زیادہ مخولیہ بنا دیا اور افواج پاکستان کے بارے میں دو تنقیدی الفاظ نہ سننے کے روادار لوگ بھی کہتے پائے گئے کہ کچھ غلط ہورہا ہے ۔ میٹھا تیز سے تیز تر ہوتا گیا اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے جلد ہی راحیل شریف کی اس توصیفی مہم کو توسیعی مہم میں بدل دیا ۔۔۔۔ اور اسی عنصر نے راحیل شریف کے ماتحت مگر مخالف افسران کو مزید ہراساں کردیا ۔ ایک طرف راحیل شریف کے حامی ماتحتوں نے پولیس لائنز کے دورے شروع کردیے تھے تو دوسری طرف مخالفین ہرجگہ بیٹھے توسیع نامی خطرے کا رونا روتے دکھائی دیتے ۔ لیکن شکریہ نامی یہ مہم راحیل شریف کوبھی اپنے ساتھ بہا لیتی چلی گئی جس کا واضح ثبوت ان کی یوم دفاع کے موقع پر کی گئی تقریربھی تھی ۔ موصوف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں پر میڈیا کا شکریہ ادا کرنا تو لازمی سمجھا مگر تمام تر آئینی و سیاسی حمایت مہیا کرنے والی پارلیمان اور جمہوری حکومت کو اس معاملے میں شجرممنوعہ ہی ٹھہرایا ۔ اس کے علاوہ وہ مختلف مواقع پر کئی ممالک کے بلاضرورت دورے بھی کرتے پائے گئے ۔ لیکن مصنوعی طور پر قائم کیے گئے تاثر زورآور تو ہوسکتے ہیں مگر دیرپا تو نہیں ۔ شکریہ نامی مہم کو پہلی بریک تب لگی جب بڈبیرائربیس پر حملہ ہوا اور سوال اٹھنا شروع ہوئے کہ شاید اس جنگ میں اپنی کامیابی کے اعلانات قبل ازوقت تھے ۔ پھر وزیراعظم کے دورہ امریکہ میں ہونے والی غیرمعمولی پذیرائی ہضم نہ ہوسکی تو اس کا تاثر زائل کرنے کی سعی میں بڑے صاحب خود سے ہی امریکہ کو چل دیے ۔ لیکن الٹی ہوگئی سب تدبیریں کے مصداق پہلے تو یہ خبر آئی کہ یہ دورہ موصوف بغیر کسی دعوت کے اپنی خواہش پر کررہے ہیں اور پھر بات کھلی کہ نمازیں بخشوانے گئے تھے لیکن روزے فرض کروا کر لوٹے ۔ آرمی چیف امریکہ گئے تو وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے تھے لیکن امریکیوں نے بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کی حمایت پر راضی کرکے واپس بھیجا ۔ ایک طرف شکریہ نامی مہم کا زور ٹوٹ رہا تھا تو دوسری لندن پلان کے اثرات سے نکلنے کے بعد وزیراعظم ایک دفعہ پھر سے انتہائی متحرک ہوچکے تھے ۔ اسی سلسلے میں انھوں نے اپنی میڈیا ٹیم میں چند تبدیلیاں کرتے ہوئے پنجاب سے محی الدین وانی کو جوائنٹ سیکرٹری کوآرڈی نیشن مقرر کیا جنہوں نے معاملات کو بہتر انداز میں سنبھالتے ہوئے حکومتی موقف کو سامنے لانے میں کامیابی حاصل کی ۔ انتہائی کھوکھلی بنیادوں پر تعمیر کی گئی شکریہ راحیل شریف نامی یہ عمارت دراصل اسی وقت زمین بوس ہوگئی تھی جب اپنی چمک کھوتی ہوئی اس مہم کو سہارہ دینے کے لیے کورکمانڈر کانفرنس کے اعلامیے میں ملک کے اندر گورننس کے فقدان پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا ۔ بہت سے اہم مواقع پر خاموشی اختیار کرنے والی جمہوری حکومت نے اس دفعہ درگزر نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور خواجہ آصف کے ساتھ ساتھ مصدق ملک کے تفصیلی اور ترکی بہ ترکی جوابات نے کورکمانڈر اعلامیے کے غبارے سے ہوا چند ہی گھنٹوں کے اندر اندر نکال باہر کی۔ یہ صورتحال فوج کے پس منظر میں رہ کر حکومت کرنے والے تاثر کو بیچ چوراہے میں جھٹلا رہی تھی ۔ اور کوئی چارہ نہ تھا ۔۔۔۔۔ چنانچہ چوہدری نثار سے ایک دفعہ پھر ثالثی کی درخواست کی گئی ۔ چوہدری نثار نے وزیراعظم سے ایک لمبی چوڑی ون آن ون ملاقات کی اور یوں سیزفائر ہوگیا ۔ لیکن یہ سیز فائر حکومت کے ساتھ تھا اور اسی سیز فائر نے راحیل شریف کے ماتحت مخالفین کے خدشات کو مزید ہوا دی کہ فوج کے حق حکمرانی کو قائم کرنے میں ناکام راحیل شریف ہی شاید نوازشریف کے لیے موافق ہیں اور اسی لیے شاید انھیں کم از کم ایک برس کی توسیع تو مل ہی جائے گی ۔ سب سے بڑا خدشہ ان کے ہاں اس توسیع کا یہی تھا کہ یہ ایک برس بھی ان تیرہ ستاروں کو نگل جاتا جن میں سے چند کے اندر عقابی روح اپنا وجود رکھتی ہے ۔ حالیہ عرصے میں ہونے والے دہشت گردی کے چند واقعات ایسا تاثر دیتے ہیں کہ جیسے اپنے ادارے کے اندر ناپسند کیے جانے والے راحیل شریف کی کامیابیوں کا تاثر گہنانے کی کوشش کی جارہی ہو ۔ قصہ مختصر یہ کہ اگر آپ کا ادارہ ہی آپ کو مسلسل قبول کرنے میں تامل سے کام لے رہا ہو ۔ آپ جانتے ہوں کہ آپ کو توسیع دینے کا اختیار رکھنے والا شخص اپنے انتہائی قریبی ساتھیوں کے ایسے مشوروں کو بھی نظرانداز کیے جارہا ہے ۔ اور پھرآپ کے کریڈٹ پر موجود واحد کامیابی کو بھی متنازعہ بنانے کی کوششیں شروع ہوجائیں تو پھر آپ کیا کریں گے؟ یہی مخصمہ راحیل شریف کو درپیش تھا اور اپنی ساکھ بچانے کا ہی فیصلہ راحیل شریف نے بھی کیا۔ اپنی ریٹائرمنٹ کی مقررہ تاریخ سے بھی دس ماہ قبل ہی ۔۔۔۔ مقررہ تاریخ کو سابق ہوجانے کے اس اعلان کے پیچھے صرف میڈیائی مہم جوئی کارفرما نہیں ۔ میڈیا کو اس بارے میں چابی دینے والوں کے لیے کتنا مشکل ہوتا کہ وہ انھیں اس موضوع سے دور رہنے کا “کاشن” دے دیتے؟ راحیل شریف کے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کے اعلان کے پیچھے بھی پسِ پردہ خاکی سیاست ہی کارفرما ہے ۔ وہ شکریہ نامی مہم جو کہ راحیل شریف کی قدوقامت کو باقی ارباب اختیار سے اونچا کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہی مہم بالآخر ان کی رُخصتی کا سبب بن گئی۔

***********************************************

یہ منظر تھا 15 اپریل 2014 کے روز پرائم منسٹر ہاوس کا

جنرل پرویز مشرف پر سنگین غداری کے مقدمے میں فرد جرم عائد ہوچکی تھی تاہم خصوصی عدالت ان کی بیرون ملک روانگی کے لیے ای سی ایل سے نام ہٹانے کا فیصلہ حکومت کی صوابدید پر چھوڑ چکی تھی۔ صہبا مشرف وزارت داخلہ میں انھیں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے دینے کی اجازت کے لیے درخواست جمع کرواچکی تھیں ۔ آرمی چیف راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم سے ملاقات کے لیے ، جنوبی پنجاب میں فوجی مشقوں کا معائنہ کرنے کے بعد ، خصوصی ہیلی کاپٹر سے وزیراعظم ہاوس تشریف لائے تھے ۔ ان کی آمد سے پہلے ہی فوجی دستے ایوان وزیراعظم میں گھس کر وزیراعظم کے دفتر تک کا گھیراو کرچکے تھے ۔ نوازشریف اس وقت اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ اسی معاملے پر مشورہ کرنے میں مصروف تھے جب انھیں ان اعلیٰ عسکری شخصیتوں کی آمد کی اطلاع دی گئی ۔ ملاقات پہلے سے طےشدہ نہیں تھی لیکن پھر بھی وزیراعظم وہاں سے اٹھ کر ملنے چلے آئے ۔ اپنے دفتر تک آتے آتے وہ فوجی دستوں کی تعیناتی دیکھ چُکے تھے ۔ ان کے ساتھ اس ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اور مشیر خارجہ طارق فاطمی بھی موجود تھے ۔ ابتدائی علیک سلیک کے بعد اعلیٰ عسکری شخصیات کی جانب سے نواز شریف کو مشورہ دیا گیا کہ سر جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے ہٹادینا چاہئیے تاکہ وہ علاج کے لیے بیرون ملک جاسکیں۔ نوازشریف کے استفسار پر ہی بتایا گیا کہ فوج کی “پلّس رپورٹ” ٹھیک نہیں تھی کیونکہ یہ مقدمہ “جوانوں” کے مورال پر برا اثر ڈال رہا ہے ۔ نوازشریف نے فوری جواب دیا کہ وہ ابھی اپنی جماعت کے اجلاس سے اٹھ کر آرہے ہیں اور ان کی اپنی جماعت کے اندر کی “پلّس رپورٹ” بھی ٹھیک نہیں ۔ اس لیے عسکری قیادت کی جانب سے دیا گیا مشورہ قبول کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ۔ نوازشریف کا یہ انکار سننے کے بعد جنرل راحیل شریف نے موقف اختیار کیا کہ ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ جب جنرل مشرف پر فرد جرم عائد ہوجائے گی اس کے بعد انھیں بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی جائے گی ۔ نوازشریف کے لیے یہ بات خاصی حیران کُن تھی چنانچہ انھوں نے پوچھ لیا کہ یہ وعدہ آپ سے کس نے کیا تھا؟ عسکری شخصیات نے بتایا کہ چوہدری صاحب نے ۔ نوازشریف نے اپنے بائیں طرف دیکھا ، جہاں ساتھ والے صوفے پر چوہدری نثار علی خان اپنے روایتی انداز میں سینے پر ہاتھ باندھے سر جھکائے بیٹھے تھے، پھر عسکری افسران کی طرف دیکھا اور بولے ” میں نے کسی سے کوئی وعدہ نہیں کیا”۔ عسکری حکام اس ملاقات سے ناکام لوٹے اور اگلے دن صہبا مشرف کی درخواست مسترد کردی گئی ۔

اس واقعہ کی تصدیق جاویدچوہدری اپنے 17 اپریل 2014 جبکہ حذیفہ رحمان اپنے 11 مئی 2014 کے کالم میں کرچکے ہیں۔

***********************************************

پسِ تحریر: فیکٹری کے گھگو پر جل اٹھنے والی ٹرک کی بتیوں کا تدارک کیسے ہونا شروع ہوا؟ یہ کہانی اگلی قسط میں بیان کی جائے گی جو کہ اس سلسلے کی آخری قسط بھی ہوگی

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ اول پڑھیئے

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ دوئم پڑھیئے

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ چہارم پڑھیئے

8 thoughts on “Factory Ka Ghughu – 3

  • Pingback: Factory Ka Ghughu – 2 – Chaikhanah

  • February 6, 2016 at 6:21 am
    Permalink

    Wah mudassar bhai .
    I learnt so much . I was not aware of many incudents .
    Your ability to research and then connecting dots is fabulous !!!!👍🏻👍🏻👍🏻

    Reply
  • February 6, 2016 at 9:29 am
    Permalink

    zaberdast Mudasaar bhai
    Ajj to aapnay Karachi kay sayasat per likh dala 🙂

    Reply
  • February 6, 2016 at 11:53 am
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر
    آپکو واقعات کو کمپائل کرنا بخوبی آتا ہے

    Reply
  • February 6, 2016 at 1:54 pm
    Permalink

    Wonderful sir, all episodes are worth reading. Prayers and best wishes.

    Reply
  • February 6, 2016 at 6:05 pm
    Permalink

    بہت اعلیٰ طریقے سے ان تمام واقعات کے تانے بانے بننے ہیں آپ نے. بہت سی باتوں سے پردہ بھی اُٹھا. بہت خوب

    Reply
  • February 6, 2016 at 9:41 pm
    Permalink

    یوں دکھائی پڑتا ہے کہ مدثر بھائی کے پاس کوئی سلیمانی ٹوپی ہے جو پہن کر خاموشی سے سب دیکھتے رہتے ہیں 🙂 بہت خوب جناب

    Reply
  • March 26, 2016 at 12:37 am
    Permalink

    حقائق کو کافی دلچسپ انداز میں لکھاہےکہ کہانی کا مزہ آگیا

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *