Rashi Jee Ki Jay Ho


 

رشّی جی کی جے ہو

آج تک سوچتا ہوں کس بات نے مجھے اس دور دراز علاقے میں پوسٹنگ قبول کرنے پر مائل یا مجبور کیا؟ شاید مہم جوئی کی عادت اور چیلنج قبول کرنے کا شوق یا پھر سیدھی سادھی پہلی سرکاری نوکری کی مجبوری۔ بہرحال وجہ کچھ بھی ہو راجستھان کے شہر ناگپور سے جودھپور اور پھر وہاں سے ہوتے ہوئے جیسلمیر سے آگے آٹھ گھنٹے کی کچے پکے اور دھول سے اٹے راستوں کی مسافت نے مجھے پہلے دن ہی تھکا دیا۔ محکمہ ڈاک کے اسسٹنٹ پوسٹ ماسٹر کی حیثیت سے میرا کام کئی دہائیوں سے بند ڈاکخانہ کھول کر ڈاکخانے کو چالو کرنا تھا۔ اکثر محکموں کے پاس جب فاضل بجٹ بچ جاتا ہے تو اسے خرچ کرنے کیلئیے اس طرح کے عوامی بھلائی کے منصوبے شروع کئیے جاتے ہیں جنکی درحقیقت قطعاً کوئی ضروت نہیں ہوتی۔ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ پیسہ وفاق کو واپس نہ کرنا پڑے۔ ایسے ہی چند برس قبل ریلوے والوں نے لائن کے ساتھ ایسی انتہائی کلرزدہ زمین میں درخت لگوانے کا فریضہ بھی انجام دیا تھا جس میں نمکیات کی وجہ سے گھاس تک نہیں اگ سکتی تھی ۔ منصوبے کی زور شور سے اخبارات میں پبلسٹی کی گئی تھی۔
واضح کر دوں اسسٹینٹ پوسٹ ماسٹر کا عہدہ شاید میرے ایم اے ہسٹری اور ایم اے جغرافیہ کو مدنظر رکھ کر ہی دیا گیا تھا ورنہ اپنے دس ضرب بارہ فٹ کے ڈاکخانے کا کلرک، ڈاکیا، مہتر یہاں تک کے چائے والا بھی میں خود ہی تھا۔
جس دن میں گاؤں پہنچا اس سے ایک دن پہلے گاؤں کی کوئی محترم بزرگ شخصیت انتقال کر گئی تھی اس لئیے گاؤں کی فضا خاصی سوگوار تھی جسکا مظاہرہ انکے سرپنچ کےسرد مہر استقبال سے بھی ہوا۔ جلد ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ گاؤں کی آبادی کل دو اڑھائی سو نفوس اور سو ڈیڑھ سو گھروں پر مشتمل ہے جن میں زیادہ تعداد گارے اور سرکنڈے سے بنی جھونپڑیوں کی ہے۔ تعلیم جیسے تکلفات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ قریباً تمام کی تمام آبادی ایک مقامی جاگیردار اور سیاسی شخصییت کی ریتلی زمینوں پر کام کرتی تھی جنکا ذکر نہایت ادب سے وڈیرہ سائیں کہہ کر کیا جاتا تھا۔ پاکستان کے صوبہ سندھ سے ملحقہ ہونے کی باعث سندھی ثقافت اور لہجے کے اثرات نمایاں تھے۔ وڈیرہ سائیں خود تو شہر میں رہتے تھے مگر انکے ہرکارے گاہے بگاہے جیپوں میں بندوقوں سے لیس آتے اور دھمکاتے رہتے تھے۔ گاؤں کے مکینوں نے خود ہی اسی سالہ پربھو دھیرو کو اتفاقِ رائے سے سرپنچ تسلیم کر لیا تھا اور زیادہ تر معاملات میں پربھو دھیرو کی رائے حتمی تصور کی جاتی تھی۔ پربھو کی دیگر ذمہ داریوں میں وڈیرہ سائیں کے منشی سے معاملات طے کرنا اور مکینوں کی چھوٹی موٹی ضروریات کا زکر کرنا تھا جو کہ زیادہ تر صحت سے متعلقہ ہی ہوتیں۔ جس دن منشی خوش ہوتا اس دن پربھو کو انعام کے طور پر اسپرین اور پیراسیٹامول کی چند گولیاں دے دیتا جسے پربھو اپنی بڑی کامیابی تصور کرتا اور بوقتِ انتہائی ضرورت گاؤں کے مکینوں کو نہایت احسان کر کے دیتا۔
گاؤں کے زیادہ تر مکینوں کی حالت نہایت کم خوراکی اور ضروری غذائیت سے محرومی اور استحصال  کی مظہر تھی۔ گاؤں کے مرد سخت گرمی میں بارہ سے چودہ گھنٹے راجستھان کی ریتلی زمین کے کھیتوں میں کام کرتے اور اسے قابلِ کاشت بنانے کی کوشش کرتے، پانی ڈھونڈتے اور کھلیان تک ڈھوتے۔ عورتوں کو بہرحال سہولت حاصل تھی کہ صرف دس گھنٹے کام کر کے جا سکتی تھیں کیونکہ اسکے بعد انہیں کھانا پکانا گھر داری صفائی ستھرائی اور جانوروں کیلئیے چارہ وغیرہ تیار کرنا ہوتا تھا
مجھے خصوصی مہمان کا درجہ دیا گیا اور سرپنچ نے اپنے گھر میں جگہ دی اور اپنی ایک چارپائی میرے لئے خالی کر دی۔ گھر کی خواتین گھونگھٹ نکال کر پردہ کرتیں مگر اسکے باوجود میں انکے ادھ کھلے چہروں اور رویوں میں بزرگ کے انتقال کی شدت غم محسوس کئیے بغیر نہ رہ سکا۔ اگلے دن گاؤں کا جائزہ لینے نکلا تو گلی کوچوں میں بھی وہی افسردگی کا عالم۔ ایک اور چیز جو میرے مشاہدے میں آئی گلی محلوں میں کھیلتے بچوں کے نقوش مجھے ایک سے لگے۔ میں اپنے خیال پر خود ہی مسکرا دیا۔
دوپہر کے کھانے پر بکری کے دودھ کی چھاچھ پیتے ہوئے جب میں سرپنچ پربھو دھیرو سے پوچھے بنا نہ رہ سکا تو پربھو نے بتایا کہ اس گاؤں کو دیوی نے شراپ دے دیا اور ہماری ُلگائیوں کو بانجھ کر دیا تھا یہاں کسی کے ہاں اولاد نہ ہوتی برس ہا برس گزر جاتے اور ہم اسی فکر میں گھلتے رہتے کہ ہمارے بعد کیا ہماری نسل مٹ جائے گی، ہماری شادیاں ٹوٹنے لگیں اور ہمارے گھر برباد ہونے لگے۔ پھر ایک دن بھگوان نےکرپا کی اور چھ سات برس قبل رشی جی گاؤں میں پدھارے انہوں نے تپسیا کی اور گاؤں کی مہیلاؤں پر ایسا جنتر کیا کہ دیوی جی نے ہمیں آشیر باد دےدیا اور ہماری نسل بڑھنے لگی یہ کہتے ہی پربھو دھیرو کھڑا ہوا اور فخر سے بولا ‘ٹھہرو میں تمھیں سورگی رشی جی کی فوٹو دکھاتا ہوں’ جو شاید اسنے منشی جی کی منت سماجت کر کے رشی جی کے مندر پر لگانے کے لئیے لی تھی۔ پربھو فریم لے کر آیا تو تصویر دیکھتے ہی میں چونکا ذہن میں گلی کے بچے آ گئے، میں نے کہا ‘پربھو! رشی کی شکل تو آپ کے پوتوں سے بہت ملتی ہے’ پربھو ماتھے پر ہاتھ مارکر بولا ‘ہائے ہائے یہی تو رشی جی کا چمتکار تھا جس پر کرپا کرتے اسکو اپنا چہرہ بھی دےدیتے۔ ۔ ہے بھگوان رشی جی کی جے ہو

15 thoughts on “Rashi Jee Ki Jay Ho

  • January 31, 2016 at 9:43 pm
    Permalink

    whhattttt??? whattttt??? omggg lmaoo wowwww

    Reply
  • January 31, 2016 at 10:00 pm
    Permalink

    میرے خدایا ۔۔۔۔ کہانی کے اختتام تک سمجھ مقصد سمجھنے سے قاصر تھا لیکن اختتامی دو تین جُملوں بے ساختہ چُونکا دیا۔ لاجواب

    Reply
  • January 31, 2016 at 10:03 pm
    Permalink

    ھآھا ونڈر فل

    Reply
  • January 31, 2016 at 10:08 pm
    Permalink

    بہت زبردست آئیڈیا اور ہارڈ ہٹنگ اختتام۔
    میری خواہش ہے کہ اسے اور تفصیل اور جزئیات کے ساتھ قلم بند کیا جاتا تو تاثر اور بھی زبردست ہوتا۔
    کیپ رائٹنگ۔۔

    Reply
    • January 31, 2016 at 10:18 pm
      Permalink

      بہت شکریہ مرشد، آپکی گاٰیؑیڈنس رہی تو نکھار آتا جا ئے گا

      Reply
  • January 31, 2016 at 10:14 pm
    Permalink

    Very heart touching .

    Great.

    Reply
  • January 31, 2016 at 10:17 pm
    Permalink

    ہاہاہاہاہاہاہا ویسے اسکا اتفاق ہمارے پیر فقیر نام نہاد بابے بهی ایسے ہی کرتے ہیں جو اولاد کے خواہش رکهنے والے اللہ مانگنے کی بجائے ان کے پاس جاتے ہیں اور پهر انکی شکل جیسے بچے پیدا ہوتے ہیں

    Reply
  • January 31, 2016 at 10:26 pm
    Permalink

    زبردست ایسا لگتا ہے بندہ خود وہاں موجود ہو ماشاءاللہ بھائی اچھی کوشش جاری رکھیں

    Reply
  • January 31, 2016 at 10:29 pm
    Permalink

    An attention grabbing article which holds the reader till the end. Simple AALA…. ??

    Reply
  • January 31, 2016 at 10:38 pm
    Permalink

    Hahahah

    I was sensing the end like this when u mentioned the similarity in the faces of the children

    Brilliant ?????

    Reply
  • January 31, 2016 at 11:55 pm
    Permalink

    واہ درویش جی کیا مشائدہ کیا

    Reply
  • February 1, 2016 at 12:02 am
    Permalink

    واہ واہ زبردست جناب ????

    Reply
  • February 1, 2016 at 12:28 am
    Permalink

    زندگی کی جیسی آسان اور سادہ تحریر جو آسان لفظوں میں بھی آسان نہیں ہوتی اختتام پر بھی چونکا دیتی ہے

    Reply
  • February 1, 2016 at 12:35 am
    Permalink

    ایسا مسّلہ ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے یہ ضروری نہیں کسی دیہات میں ہو میں نے کافی پڑھے لکھے لوگ ان پیروں فقیروں رِشی جیسوں کی زینت بنتے دیکھا ہے.

    Reply
  • February 1, 2016 at 9:54 am
    Permalink

    نہایت شاندار، اختتام نے چونکا دیا –

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.