Factory Ka Ghughu – 2

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ دوئم

یہ منظر تھا مزارقائد کراچی کا اور جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے مولانا فضل الرحمان

یہ ادارے ہمیشہ اپنے ٹوڈی تلاش کرتے ہیں کہ کسی طرح ہمارے ٹوڈی اقتدار میں آئیں اور پھر ان کی کمانڈ ہمارے ہاتھ میں ہو۔ جمعیت علماء کا رستہ کھولو۔ سازشیں مت کرو۔دھاندلیاں مت کرو۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے من پسند لوگوں کو ، یہودی اور امریکی لابی کے ایجنٹوں کو پُشت پناہی مت دے۔ پھر دیکھیں ملک کے اندر ایک صاف اور شفاف سیاست ابھرتی ہے یا نہیں ابھرتی۔ ایک سنجیدہ سیاست ابھرے گی۔ ایک باوقار سیاست ابھرے گی۔ اور ملک کے اندر سکون آئے گا۔ لیکن اس کو اگر فلاحی مملکت بنانا ہے تب۔ اور اگر سیکیورٹی سٹیٹ بنانا ہے تو پھر ہروقت بے قراری اور بے اطمینانی کی کیفیت کو زندہ رکھنا پڑتا ہے۔ مقتدر قوتیں ، پسِ پردہ قوتیں، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی ۔۔۔ یہی قوتیں ہیں جو پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے رستے میں رکاوٹ ہیں

کراچی میں 28 جنوری 2012 کے دن مولانا فضل الرحمان کا جلسہ عام سے خطاب

***********************************************

یہ منظر تھا جیو نیوز کا اور حامد میر کے سوالات کے جواب دے رہے تھے خواجہ سعد رفیق

حامد میر : یہ بتائیے کہ کیا راولپنڈی سے حنیف عباسی کا ہار جانا عمران خان کے مقابلے میں ، یہ آپ کے لیے سرپرائز نہیں ہے؟ حنیف عباسی صاحب نے وہاں پہ کارڈیالوجی ہسپتال بنایا، وہاں انھوں نے بہت سے تعلیمی ادارے بنوائے، بہت سے ترقیاتی کام کیے۔ تو راولپنڈی کے لوگوں نے اس کے باوجود حنیف عباسی صاحب کے مقابلے میں عمران خان کو ووٹ دیا۔ یہ سرپرائز نہیں ہے آپ کے لیے ؟

خواجہ سعد رفیق: میرصاحب چونکہ انتخابات ہوگئے ہیں۔ ان کے نتائج آگئے ہیں۔ ہم ان نتائج کو مانتے ہیں- جہاں جیتے ہیں انھیں بھی مانتے ہیں اور جہاں ہم ہارے ہیں انھیں بھی تسلیم کرتے ہیں۔ کاش کہ باقی بھی ایسا کریں۔ میں زیادہ سخت بات کرنا نہیں چاہتا لیکن آپ کو ذاتی طور پر بھی پتا ہے کہ حنیف عباسی صاحب جو ہیں انھیں ایک ڈیزائن کے تحت کئی ماہ سے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اس میں بہت سے لوگ ملوث تھے۔ اور میرا خیال ہے کہ اس سے بھی انھیں نقصان پہنچا ہے۔ ان کا بڑا ٹرائل کیا گیا ہے کسی گناہ کے بغیر۔

جیونیوز کی عام انتخابات کی خصوصی نشریات میں 12 مئی 2013 کے دن خواجہ سعد رفیق کی گفتگو سے اقتباس

***********************************************

خرُوجِ ملک ریاض جج

کہانی کا تعلق اگرچہ براہ راست عمران خان سے تو نہیں مگر بحیثیت ہتھیار وہ ضرور استعمال ہوئے۔ وقفے وقفے کے ساتھ یہ کہانی دہرائی جارہی ہے اور اس کی بدولت ہمارے سیاسی منظرنامے پر نئے نئے کردار اور رحجانات جنم لے رہے ہیں۔ اس رحجان پر نصرت جاوید آج کل ریاض ججوں کی آمد کے عنوان سے تبصرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

30 دسمبر 2011 کی شام نوازشریف لاہور سے نکلے تو ان کے اس سفر کا مقصد گوجرانوالہ کے جناح کرکٹ سٹیڈِیم میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ بے پناہ لوگ ان کا استقبال کرتے رہے اور اسی وجہ سے وہ خاصی تاخیر سے جلسہ گاہ پہنچے تو جناح کرکٹ سٹیڈیم ان کے حامیوں سے کھچا کھچ بھرچُکا تھا۔ نوازشریف آئے اور ایک دھواں دھار تقریر کرکے واپس ہولیے۔ جلسے کے بارے میں رنگ برنگے تبصرے تو ہوئے لیکن ایک منظر تمام تبصرہ نگاروں کی نگاہ سے اوجھل ہی رہا۔ اور وہ منظر تھا سٹیج پر ایک نئے مہمان کی موجودگی کا۔ چوہدری نثار علی خان نے اس مہمان کی اسی سٹیج پر نوازشریف سے خصوصی ملاقات کروائی۔ یہ مہمان کوئی غیرمعروف شخصیت نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے نظریاتی کارکن ، سابق ایم پی اے اور سابق مئیر راولپنڈی آغا ریاض الاسلام تھے۔ آغا ریاض الاسلام اگلے چند دنوں میں پیپلزپارٹی کے ساتھ اپنی زمانہ طالبعلمی سے چلی آرہی رفاقت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے اور انھیں یہاں لانے والا کوئی اور نہیں بلکہ سدا سے ان کی مخالف میں سیاست کرنے والے چوہدری نثار علی خان ہی تھے۔ یقینی طور پر یہ اس کھیل سے نمٹنے کی تیاری تھی جسےراولپنڈی کے انتخابی حلقوں میں رچانے کا آغاز ہوچکا تھا۔

ڈی ایچ اے ، بحریہ ٹاون اور ملک ریاض جیسے ناموں سے پاکستان میں کون واقف نہیں۔ ملک ریاض اور چوہدری نثار ایک لمبے عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ سینگ پھنسائے ہوئے تھے۔ وجوہات کی فہرست طویل ہے اور ہمارے موضوع سے اس کا تعلق بھی نہیں ۔۔۔ اسی لیے آگے بڑھتے ہیں۔ ملک ریاض کی پشت پر جنرل مشرف کے بعد آصف علی زرداری کی دوستی ، اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائیوں کی کاروباری شراکت سمیت بے پناہ فوجی حمایت تھی تو چوہدری نثار کے پاس مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت کے ساتھ ساتھ ان کے بحیثیت اپوزیشن لیڈر اختیارات تھے۔ اس تصادم کی تفصیلات میں جائے بغیر اتنا کہہ دینا ہی کافی ہوگا کہ ملک ریاض ، چوہدری نثار کو اپنے کاروباری مفادات کے رستے میں ڈالی جانے والی رکاوٹوں کی پاداش میں سبق سکھانا چاہتے تھے اور اس کی تیاری انھوں نے 2013 کے عام انتخابات سے قبل ہی کرلی تھی۔ وہ اپنے ان خیالات کا اظہار کرنے سے قطعی طور پر نہ کتراتے تھے۔ ایک دفعہ وہ آصف علی زرداری کا پیغام لیے نوازشریف کے پاس آئے تو جاتے جاتے میاں صاحب کو اپنے ان عزائم کی اطلاع بھی دیتے گئے۔ اسی مقصد کےلیے ملک ریاض نے آصف علی زرداری کی مدد سے طارق ملک کو چئرمین نادرہ تعینات کروانے کے ساتھ ساتھ بحریہ ٹاون میں نادرہ کا دفتر کھلوایا اور راولپنڈی سے جہلم اور ٹیکسلا تک کے اپنے ملازمین اور ان کے خاندانوں کے ووٹ راولپنڈی کے مختلف حلقوں کے لیے بھی رجسٹرڈ کروائے۔ چوہدری نثارکے مخالفین کو ہر طرح کی مالی امداد بہم پہنچائی گئی۔ ملک ریاض تو چاہتے تھے کہ ٹیکسلا کی نشست سے عمران خان خود چوہدری نثارعلی خان کا مقابلہ کریں لیکن عمران خان خود اس نشست پر لڑنے سے گھبرا گئے کیونکہ اس سےزیادہ بڑا ثبوت اور کوئی نہ ہوتا کہ عمران خان کی ڈوریں کہاں کہاں سے ہلائی جارہی ہیں۔ تاہم وہ راولپنڈی کی ایک نشست سے الیکشن لڑنے کے راضی ہوگئے کیونکہ راولپنڈی سمیت پورے پوٹھوہار خطے میں بحرحال چوہدری نثار کا ہی طوطی بولتا ہے۔ اس لیے چوہدری نثار کے نامزد کردہ امیدواروں کو شکست دینا دراصل چوہدری نثار کو ہی زچ کرنے کے مترداف ہوتا۔ ملک ریاض کے اس کھیل میں “فرشتے” بھی بھرپور حصہ ڈالتے رہے۔ “مضبوط” امیدواروں کی تلاش میں ہی عمران خان اور شیخ رشید کی دوستی بھی کروائی گئی۔ ملک ریاض ہی کی خواہش پر ہی اے این ایف کے ڈی جی میجرجنرل شکیل اور ایفیڈرین کوٹہ سکینڈل کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ بریگیڈئیر فہیم نے راولپنڈی کے ایم این اے حنیف عباسی کو بھی اس کیس میں کھینچ لیا۔ بے پناہ تحقیقات کے باوجود بھی حنیف عباسی پر فردجرم عائد ہوتے ہوتے اڑھائی برس گزرگئے اور یہ کیس ابھی تک عدالت میں ہے۔ سیاستدان کوئی پیغمبر یا اولیاء نہیں ہوتے اور اس کیس کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ اللہ ہی جانے۔ ہمارا موضوع مگر وہ کھیل ہے جو ان الزامات کے اردگرد کھیلا گیا۔

12 اگست 2012 کے دن ملک ریاض کے لیے ہی کرائے کے کالم لکھنے کے لیے ہی مشہور جاویدچودھری نے ایفیڈرین کوٹہ سکینڈل بارے میں کالم لکھا جس میں اپنی ہی باتوں کو غیرتصدیق شدہ قرار دینے کے باوجود موصوف نے حنیف عباسی کو ایفیڈرین کیس میں ملزم قرار دیا۔ اسی کالم کو اٹھائے عمران خان مختلف ٹی وی چینلز پر نمودار ہوتے رہے اور حنیف عباسی پر الزامات کی بوچھاڑ ہوتی رہی۔ اسی شور کو بنیاد بنا کر حنیف عباسی کو عدالت سے بالا ہی بالا مجرم قرار دے دیا گیا۔ اے این ایف کی تحقیقاتی ٹیمیں حنیف عباسی کی فارماسویٹیکل فیکٹریوں میں گھسی مسلسل اسی انداز میں چھان بین کرتی رہیں جس انداز میں این اے 122 کے حلقے میں جسٹس کاظم ملک نے ووٹوں کی بار بار تصدیق کروائی۔ باہر بیٹھے ایک عام شخص کو بھی اندازہ ہوتا رہا کہ تمام توانائیاں اسی بات پر صرف کی جارہی ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے کچھ نہ کچھ نکل ہی آئے۔ بہرحال یہ الزامات تو ابھی تک ثابت نہیں ہوسکے لیکن ان الزامات کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے حنیف عباسی ، حنیف عباسی سے ایفیڈرین عباسی ضرور بنادیے گئے۔ پھر عمران خان کو 2013 کے انتخابات میں اسی حنیف عباسی کے مقابلے اتارا گیا جسے بدنام کرنے کی مہم میں خود اوپننگ بیٹسمین بنے تھے۔ جڑواں حلقے سے ملک شکیل اعوان ویسے ہی ایک کمزور امیدوار ثابت ہورہے تھے اور انھیں ٹکٹ بھی ان کا متبادل دستیاب نہ ہونے کے باعث ہی دیا گیا۔ اس ساری مہم کے سرپرست ملک ریاض کو پھر بھی بحریہ ٹاون/ ڈی ایچ اے کے ہر گھر جا کر “اپنے” امیدواروں بشمول غلام سرور خان ، حنا منظور، شیخ رشید اور عمران خان کے لیے ووٹ مانگنے پڑے۔ مزید بندوبست کے لیے تحریک انصاف کو پیپلزپارٹی کے در پر حاضری دینی پڑی جس کے بعد معاہدہ طے پایا کہ قومی اسمبلی کی نشستوں پر ملک ریاض کے امیدواروں کی حمایت کی جائے گی جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پیپلزپارٹی کی۔ یہ تمام جتن کرنے کے باوجود بھی چوہدری نثار اور ان کے امیدواروں کو کسی حد تک ہی زچ کیا جاسکا۔ مسلم لیگ ن مگرعام انتخابات جیت کر حکومت میں آگئی اور چوہدری نثار وزیرداخلہ بن گئے تو ان کے مخالفین آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھوتے گئے۔ ملک ریاض نے پھر خاموشی میں ہی عافیت جانی۔ راولپنڈی کی نشستوں کی سٹریٹجک اہمیت بھی بنتی ہے۔ حکومتیں گرانے کے لیے اسلام آباد میں لگائے جانے والے سٹیج ڈراموں کو مسلسل افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے یہ علاقہ اہم ہے۔ اسی مقصد کے لیے عمران خان کو پشاور اور میانوالی کی نشستیں چھوڑ کر راولپنڈی کی نشست پر قائم رہنے کا “کاشن” بھی دیا گیا تھا۔ عمران خان کے دھرنے کے دوران ہفتے کی آخری دنوں میں بڑھنے والی حاضری بھی انھی حلقوں میں پائے جانے والے ان کے حامیوں کی مرہون منت ہوتی تھی۔ اسی کھیل کے نتیجے میں یہ تاثر دیا جارہاتھا کہ جیسے راولپنڈی کسی حد تک تحریک انصاف کے حوالے کرنے میں کامیابی حاصل کرلی گئی ہے۔ دھرنے کے دنوں میں ہی مگر ایک اور واقعہ ہوگیا۔ تحریک انصاف راولپنڈی کے صدر صداقت عباسی کنٹینر میں داخلے کی کوشش کرتے ہوئے سیف اللہ نیازی کے ساتھ الجھ پڑے اور بالآخر نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی ۔ صداقت عباسی کے ساتھ زیادہ لوگ تھے جنہوں نے سیف اللہ نیازی کی ٹھکائی کرنے میں ذرا بھی دیرنہ لگائی۔ کپتان کو اپنے انتہائی قریبی کزن کی اس عزت افزائی پر طیش آیا تو اس نے اپنی جماعت کی راولپنڈی کی پوری تنظیم کو ہی معطل کردیا۔دھرنےکی ناکامی اور مذکورہ بالا واقعات کے ساتھ ان حلقوں کے منتخب اراکین کی اپنے حلقوں سے مسلسل غیرحاضری نے اثر دکھایا اور راولپنڈی سے تحریک انصاف کا صفایا ہونا شروع ہوگیا۔ دوسری طرف عام انتخابات میں راولپنڈی کے نتائج سے ناخوش نوازشریف کی ہدایت پر حمزہ شہباز اور حنیف عباسی ان حلقوں پر خصوصی نظر رکھے ہوئے تھے۔نتیجہ ۔۔۔۔ اہم رہنما ایک ایک کرکے تحریک انصاف چھوڑتے رہے ۔ پھر پہلے کنٹونمنٹ کے بلدیاتی انتخابات اور بعد میں عام بلدیاتی انتخابات نے تحریک انصاف کا راولپنڈی کے اندر مکمل صفایا کردیا۔ تحریک انصاف اہنے چئیرمین عمران خان کے حلقے میں ایک بھی یونین کونسل جیتنے میں ناکام رہی جبکہ جڑواں حلقے سے شیخ رشید صرف ایک یونین کونسل سے اپنے بھتیجے کو جتوانے میں کامیاب ہوسکے۔

یہ کہانی تو صرف راولپنڈی کے چند حلقوں کی تھی جہاں ایک ارب پتی نے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے ہرحد پھلانگی۔ یقینی طور پر آپ یہ کہانی راولپنڈی سے باہر کے حلقوں میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ این اے 122 کی طویل، مشکوک اور جانبدارانہ عدالتی جنگ کے اختتام پر ایک اور ارب پتی علیم خان نے کس طرح اپنی دولت کے بل بوتے پر نتیجہ قریب قریب اپنے حق میں کرہی لیا تھا۔ اوکاڑہ کے ریاض جج نے بھی یہی فارمولہ کامیابی کے ساتھ آزمایا اور اب حالیہ مثال جہانگیر ترین کی ہے جہاں پیسے کے بل بوتے پر مخالف امیدوار کا ناطقہ بند کردیا گیا۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا ہمیں ریاض جج جیسے لوگوں کے رچائے کھیلوں سے پریشان ہونا چاہئیے؟ میرے خیال میں بالکل بھی نہیں۔ کیونکہ ریاض جج تن تنہا پنپ نہیں سکتے۔ ایسے لوگ ایک آدھ دفعہ اپنی دولت کے بل بوتے پر جادو تو چلا لیتے ہیں مگر سیاسی جماعتوں کا لمبے عرصے تک مقابلہ ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ اوکاڑہ کے ریاض جج نے بھی منتخب ہونے کے بعد کئی دن دنوں تک بھاو تاو کی خاصی کوششیں کی تھیں۔ کبھی وزارت کا مطالبہ کیا تو کبھی اس خواہش کا اظہار کہ نوازشریف خود ان کے گھر آئیں اور مسلم لیگ ن میں ان کی شمولیت کا اعلان بھی کریں۔ دوسری طرف چوہدری سرور ان کے گھر کے پھیرے ہی لگاتے رہ گئےکیونکہ ریاض ججوں کو رُخ حکمران جماعتوں کا ہی کرنا ہوتا ہے۔ ریاض ججوں کو بالآخر ہار ماننا ہی پڑتی ہے۔ موجودہ ریاض جج بھی اپنے تمام تر مطالبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے خاموشی سے ایک دن شہبازشریف سے ان کے دفتر میں ہی ملے اور مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کے بعد آج کل کونے میں بیٹھے دہی کھارہے ہیں۔ ملک ریاض ، ریاض جج، علیم خان اور جہانگیر ترین جیسے کرداروں کا یہ آخری وار نہیں۔ اس کے بعد بھی ایسے واقعات پیش آتے رہیں گے۔ لیکن ریاض جج جیسے اکا دکا کردار سیاسی منظر نامے پر انتہائی کمتر حیثیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ویسے بھی یہ رحجان کوئی بہت زیادہ دیر تک چلنے والا نہیں کیونکہ پاکستانی سیاست کے اندر اگلے تین چار برسوں میں جو تبدیلیاں رونما ہونے جارہی ہیں، ریاض جج جیسی تبدیلیاں ان کے سامنے برائے نام سی حیثیت رکھتی ہیں

سیاسی جہیز

حالیہ عرصے میں عمران خان سے زیادہ استعمال ہونے والی ٹرک کی بتی شاید ہی کوئی دوسری ہو۔ اس بتی کو اس بے دردی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے کہ بتی خود بھی اب گھسی پٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان کی سیاست کے بارے میں یوں تو بہت کچھ لکھا جاچُکا لیکن ایک پہلو ایسا ہے جس پر بہت کم بات ہوئی ہے ۔۔۔۔ وہ ہے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کے تعلقات کی نرم گرم تاریخ۔

مولانا مفتی محمود ان رہنماوں میں شامل تھے جنہوں نے برصغیر پاک و ہند کی آزادی کے لیے برطانوی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے رکھے۔ برصغیر کی تقسیم کے اگرچہ وہ مخالف تھے لیکن پاکستان کو 1973 کا آئین دینے والے رہنماوں میں شامل تھے۔ سیاسی معاملات میں خاصے اصول پسند واقع ہوئے تھے۔ 1972 میں صوبہ خیبر پختونخواہ [ جو کہ اس وقت صوبہ سرحد کے نام سے جانا جاتا تھا] کے وزیراعلیٰ منتخب تو ہوئے لیکن گیارہ ماہ کی قلیل مدت کے بعد ہی ، ذوالفقارعلی بھٹو کی جانب سے بلوچستان کی صوبائی حکومت پر شب خون مارنے اور فوجی آپریشن کے آغاز کے خلاف ، احتجاج کرتے ہوئے مستعفی ہوگئے۔ جاننے والے بتاتے ہیں کہ مولانا مفتی محمود جب اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہے تھے تو اپنے صاحبزادے مولانا فضل الرحمان کو بہت سی نصیحتوں سے نوازتے رہتے تھے۔ بتانے والے ہی بتاتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی انتہائی حدوں کو چھوتی علمیت پسندی کا موجب بھی ان کے والد کی اصولی سیاست کا انجام اور آخری وقت میں کی گئی نصیحتیں ہی بنیں۔ بحرحال مولانا فضل الرحمان واقعی ہی ایک انتہائی علمیت پسند سیاستدان بن کر سامنے آئے بالخصوص جنرل پرویزمشرف کی چھتر چھایامیں چلنے والی “جمہوری” حکومت کے دوران۔

پاکستان میں ملٹری ملا الائنس کوئی نئی چیر نہیں اورمولانا فضل الرحمان کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا۔ پاکستان کے اندر “دائمی فیصلہ سازی” کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے والے ادارے جب امریکہ کے ساتھ کسی تزویراتی شراکت داری کے دور میں داخل ہوتے ہیں تو ایسے ہی عناصر کے ذریعے اپنے غیر ملکی شراکت داروں کو اپنی “مجبوریوں” کا احساس دلاتے ہیں۔ایسا ہی کچھ جنرل پرویزمشرف نے کیا تانکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی اہمیت اور ناگزیریت ثابت کرنے میں آسانی رہے۔ اسی مقصد کے لیے ایم ایم اے کے نام سے متحدہ مجلس عمل قائم کی گئی جسے یار لوگ ازراہ مذاق ملٹری ملا الائینس بھی قرار دیتے تھے۔ ایم ایم اے کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ملنے والی حمایت کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجئے کہ 2002 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے جہاں تمام جماعتوں کے امیدواروں کے لیے بی۔اے کی ڈگری لازمی قرار پائی، وہیں ایم ایم اے کے امیدواروں کو مختلف مدارس سے جاری کردہ اسناد کو ہی بی۔اے کے برابر تسلیم کرلیا گیا۔ عام انتخابات ہوئے تو ایم ایم اے اپنے انتخابی نشان کتاب کو اللہ کی کتاب قرار دیتے ہوئے امریکہ مخالف نعروں کے زور پر صوبہ سرحد / خیبر پختونخواہ میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بھی اکثریتی جماعت بن کر سامنے آگئی۔ مسلم لیگ ن کی حالت زار نے اسے ایم ایم اے کے ساتھ اتحاد پر مجبور کردیا اور ایم ایم اے پنجاب سے بھی کئی نشستیں جیتتے ہوئے قومی اسمبلی کے اندر تیسری بڑی جماعت بن گئی۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ایک طرف ایم ایم اے اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ اتنی زیادہ نشستیں جیت رہی تھی تو دوسری طرف بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کی سربراہی میں قائم اپوزیشن جماعتوں کے اے آر ڈی نامی اتحاد میں بھی شامل تھی۔ ان انتخابات کے بعد پاکستان کے اندر وزارتِ عظمیٰ کے امیدواران کی جتنی بڑی تعداد بھاگ دوڑ کرتی پائی گئی اتنی شاید نہ تو پہلے کبھی دیکھی گئی تھی اور نہ ہی آج تک دوبارہ نظر آسکی۔ جنرل احتشام ضمیر کی تمام تر “محنت” کی باجود بھی اے آر ڈی کے پاس اپنا وزیراعظم لانے کے لیے اکثریت موجود تھی۔ چنانچہ ایم ایم اے نے محبوب کے اشاروں پر اے آر ڈی کے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہوئے اے آرڈی سے بالآ ہی بالآ مولانا فضل الرحمان کو وزارت عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کردیا۔ پھر پاکستان کے اندر “کون بنے گا وزیراعظم” نامی وہ کھیل شروع ہوا کہ سارا سیاسی منظر نامہ مزاحیہ اداکاروں کے درمیان جُگتی مکالمہ بن کر رہ گیا۔ اسی کھینچا تانی کے درمیان نوابزادہ نصراللہ خان اپنے حُقے سے سُوٹے لگاتے ہوئے اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین، جو کہ قومی اسمبلی کے اندر دوسری بڑی جماعت تھی، کو مولانا فضل الرحمان کی حمایت پر راضی کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے تاکہ جنرل مشرف کو قومی اسمبلی کے اندر زچ کیا جاسکے۔ دوسری طرف ایم ایم اے، مسلم لیگ ق سے بھی اپنی حمایت کے بدلے میں وازرت عظمیٰ سے کم بات کرنے پر تیار نہ تھی۔ حیران کن طور پر جیل میں بیٹھے آصف علی زرداری اپنی جماعت کےلوگوں کو مولانا فضل الرحمان کی حمایت پر راضی کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ پھر ایک شام نوابزادہ نصراللہ خان نے مخدوم امین فہیم کی ہچکچاہٹ کو ڈھیلی ڈھالی سی ہاں میں تبدیل کروا ہی لیا۔ اعلان ہوا کہ اگلے روز باقاعدہ پریس کانفرنس میں اے آر ڈی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو وزارت عظمیٰ کو امیدوار نامزد کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں موجود امریکی سفیر کو یہ بات پسند نہ آئی تو انھوں نے دوبئی میں موجود محترمہ بینظیر بھٹو کو فون کردیا۔ بی بی نے وہیں سے مخدوم امین فہیم کو فون کرتے ہوئے ایسے کسی عمل سے دور ہی رہنے کی ہدایت کردی۔ مخدوم امین فہیم نے اس پیغام کے فوری بعد اپنا موبائل فون بند کیا اور کہیں غائب ہوگئے۔ نوابزادہ نصراللہ کی معیت میں اے آر ڈی اور ایم ایم اے اگلے روز انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ مخدوم امین فہیم کے بارے میں جب اگلی خبر آئی تو وہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ پیرسوہاوہ میں ناشتہ اڑاتے پائے گئے ۔ بہرحال جنرل مشرف نے مسلم لیگ ق کو اقتدار میں لانے کے لیے پیپلزپارٹی کے اندر سے “مُحب وطن” لوگ تلاش کرلیے اور میر ظفراللہ جمالی ایک ووٹ کی اکثریت حاصل کرتے ہوئے وزیراعظم بن گئے۔ ایم ایم اے صوبہ سرحد/ خیبرپختونخواہ میں اکثریتی اور صوبہ بلوچستان میں اتحادی حکومت بنانے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے لیے قائد حزب اختلاف کی نشست لے اڑی ۔۔۔۔۔ حالانکہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی نشستیں ایم ایم اے سے زیادہ تھیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ تھا وہ منظر جب مولانا فضل الرحمان کو ووٹ دینے والوں کی قطار میں میانوالی سے پہلی دفعہ منتخب ہونے والے ایم این اے عمران خان نیازی بھی کھڑے نظر آئے۔ اس کے بعد عمران خان کبھی مولانا فضل الرحمان تو کبھی قاضی حسین احمد کے آگے پیچھے پائے جاتے رہے۔ مولانا فضل الرحمان اور قاضی حسین نے اگلے پانچ برسوں تک :گُڈ کاپ ، بیڈ کاپ ” کا کھیل جاری رکھتے ہوئے فرینڈلی اپوزیشن کے کئی نئے عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ چاہے جنرل مشرف کے 12 اکتوبر 1999 کے اقدامات کو آئینی تحفظ فراہم کرنے والی بدنام زمانہ سترہویں آئینی ترمیم کے لیے لائن میں لگ کر ووٹ ڈالنے کا فریضہ ہو یا پھر صوبہ سرحد/خیبرپختونخواہ میں نیٹو کی سپلائی لائن کو محفوظ رستہ فراہم کرنے جیسے اقدامات ہوں۔ اپوزیشن کی سیاسی حرکیات کا ڈنگ نکالنا ہو یا پھر جنرل مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کی خواہش کے لیے اپنے صوبے کی اسمبلی کو بحال رکھنا ہو ۔۔۔۔ ایم ایم اے نے ہر کام “محبوب” کی منشا کے مطابق کیا۔ سب سے بڑا نقصان مگر پاکستان کو یہ ہوا کہ انھی پانچ برسوں کے دوران ایم ایم اے کے آشیرباد سے عسکریت پسندوں کو صوبہ سرحد/خیبرپختونخواہ میں محفوظ پناہ گاہیں دستیاب رہیں۔

وقت بڑی ظالم چیز ہے کیونکہ اچھا ہو یا برا ۔۔۔۔ یہ گزر ہی جاتا ہے۔ وہ پانچ برس بھی گزرگئے۔ 2008 کےانتخابات میں گذشتہ پانچ برس کی کارکردگی اور فنکاریاں ایم ایم اے کے گلے پڑگئیں اور انھیں پورے پاکستان میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا فضل الرحمان تاہم ، اپنے مسلک کی مضبوط حمایت دستیاب ہونے کے باعث ، اپنی روایتی نشستیں جیتنے میں کامیاب رہے۔ آصف علی زرداری کے ساتھ ان کی انتہائی پرانی اور انتہائی بے تکلفانہ قسم کی دوستی آصف علی زرداری کو مولانا فضل الرحمان کے دروازے پر کھینچ کر لے گئی اور جواب میں مولانا فضل الرحمان ، آصف علی زرداری کی اتحادی حکومت میں کھنچے چلے آئے۔ این آر او کے تحت بننے والی حکومت تھی اور شاید مولانا فضل الرحمان کے وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ انھیں اسٹیبلشمنٹ اور زرداری حکومت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان دونوں اطراف کی محبت کا دم بھرتے ہوئے آگے بڑھتے جارہے تھے کہ ایبٹ آباد میں 2 مئی کا واقعہ ہوگیا۔ نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن نے اسٹیبلشمنٹ کے ایسے لتے لیے کہ “بڑوں” کی بھی چیخیں نکل گئیں۔ حتیٰ کہ آصف علی زرداری بھی خاموشی سے یہ منظر دیکھتے رہے۔ مولانا فضل الرحمان مگر “محبوب” کی محبت میں سامنے آئے اور نوازشریف پر جوابی حملے کرنے شروع ہوگئے۔ نوازشریف پر کیے جانے والے حملے بھی مگر انھیں “محبوب” کی نظروں میں پہلے کی طرح معتبر نہ کرسکے کیونکہ “پِیا” کسی اور کو سہاگن بنا چُکا تھا۔

بنی گالہ میں موجود بچہ جمورہ جب اسٹیبلشمنٹ کا منظور نظر بنا تو اسے باقیوں کی طرح مولانا فضل الرحمان کے بارے میں بھی اپنی پرانی سوچ پرشرمندگی محسوس ہونا شروع ہوگئی اور مولانا کو بھی وہ مسلسل اپنے حملوں کی زد میں لانا شروع ہوگیا۔ وہ منظر خاصا مخولیہ ہوتا جب یہ بچہ جمورہ پنجاب یونیورسٹی میں اپنی “عزت افزائی” کی منصوبہ بندی کرنے والے قاضی حسین احمد کی محبت کا تو دم بھرتا لیکن مولانا فضل الرحمان کی طرف باونسر پر باونسر پھینکتا۔ حالانکہ اس وقت تینوں شخصیات ایک ہی تھالی سے کھانے میں مصروف تھیں۔ ہلکی پھلکی فائرنگ تو پہلے بھی چل رہی تھی مگر اب اندھا دھند فائرنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔ مولانا فضل الرحمان بھی بہت سے لوگوں کی طرح سمجھ چُکے تھے کہ نئے نویلے بچے جمورے کو پروان چڑھانے میں خیبرپختونخواہ اور صوبہ پنجاب کے ووٹوں پر خصوصی نظر رکھی گئی ہے اور انھی علاقوں میں ان کا پکا مسلکی ووٹ بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ مولانا نے میموگیٹ کے واقعے کے دوران بھی اپنے انتہائی قریبی دوست آصف علی زرداری کا ساتھ دینا ہی بہتر سمجھا تو اسٹیبلشمنٹ نے انھیں مکمل طور پر فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مولانا فضل الرحمان پر یکے بعد دیگرے دو خودکش حملے ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ مولانا پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیمیں پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنی نیازمندی کے لیے مشہور تھیں۔ مولانا نے اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ سے مدد اور حفاظت کی درخواست کی تو جواب میں انھیں انتہائی سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا۔ مقصد مولانا کی حرکت کو محدود کرنا تھا جس میں ان کے مخالفین کو کامیابی ہوئی۔ اسی طرح مولانا کی سیاسی ناکابندی کا بھی بھرپور بندوبست کیا گیا۔ وہ ایم ایم اے کے احیاء کی خواہش لیے جدھر بھی جاتے انھیں ادھوری کامیابی ملتی اور بالآخر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا۔ سب سے دلچسپ معاملہ ان کا جماعت اسلامی کےامیر منورحسن کے ساتھ ہوا۔ منورحسن کے سامنے جب بھی ایم ایم اے کے احیاء کا منصوبہ رکھا جاتا تو وہ طُرح دے کر پتلی گلی سے نکل لیتے۔ اے این پی اور پیپلزپارٹی تو پہلے ہی اپنی بدترین حکومتی کارکردگی کی بھینٹ چڑھ چُکے تھے لیکن دہشت گرد تنظیموں کے حملوں اور ان کی دھمکیوں نے ان جماعتوں کے لیے میدان میں نکلنا بھی ناممکن بنا دیا۔خیبرپختونخواہ کے اندر تحریک انصاف کے لیے مولانا فضل الرحمان واحد چیلنج ثابت ہوسکتے تھے لیکن انھیں بھی دستِ یار کی بیوفائی نے کونے میں دبا دیا اور خیبر پختونخواہ کا انتخابی میدان ” گلیاں ہو جان سُنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے” کا نظارہ پیش کرنے لگا۔ نتیجہ ۔۔۔۔۔ سونامی کا جادو چل گیا۔ یہ کہنا یقینی طور پر زیادتی ہوگی کہ عمران خان کی ہوا نہیں تھی بالخصوص صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تحریک انصاف ایبٹ آباد ، پشاور ، بنوں، مردان ، سوات اور شانگلہ جیسے علاقوں سے مضبوط مخالفین کو چاروں شانے چت نہ کر پاتی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت عمران خان کے سامنے کسی کو کھڑا ہونے ہی نہیں دیا گیا۔ پنجاب میں جہاں عمران خان کے سامنے مسلم لیگ ن کی صورت میں ایک مضبوط حریف پوری طاقت سے موجود تھا وہاں ان کی ہوا چلنے کی بجائے اکھڑ گئی۔۔۔۔ بحرحال عمران خان کی سونامی اب ڈھل چُکی ہے۔ خیبرپختونخواہ کے اندر ہی بلدیاتی انتخابات میں ان کی جماعت اور اتحادیوں کو اکثریتی اضلاع میں شکست سامنا کرنا پڑا۔ ہری پور اور دیر جیسے علاقوں سے شکست ان کے لیے خطرے کی گھںٹی سے کم نہیں اگر وہ سمجھ سکیں تو۔ پنجاب اور کراچی کے بلدیاتی انتخابات نے تو تحریک انصاف کے مستقبل پر شکوک و شہبات کے دبیز پردے لہرادیے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں داغ مفارقت کھانے کے بعد اب مکمل طور ہر سیاستدانوں کے درمیاں پھنس کر بیٹھے نظر آتے ہیں اور میموگیٹ کے بعد لندن پلان جیسی سازشوں کی مخالفت میں بھی جمہوری حکومتوں کا ساتھ دیتے نظر آئے۔ آج جب تحریک انصاف کے جلسوں میں مولانا فضل الرحمان کے خلاف انتہائی قابل اعتراض نعرے لگائے جاتے ہیں تو نعرے لگانے والوں کو شاید اس بات کا علم بھی نہیں ہوتا کہ جس سیاسی ورثے کا مالک ان کا لیڈر آجکل بنا پھر رہا ہے ۔۔۔ اس کا ایک بڑا حصہ کسی زمانے میں مولانا فضل الرحمان کی ملکیت میں دیا گیا تھا اوریہ سیاسی ورثہ مولانا فضل الرحمان سے ہی چھین کرسیاسی جہیز کی مانند عمران خان کے حوالے کیا گیا تھا۔

***********************************************
یہ منظر تھا بنی گالہ کا اور چئیرمین تحریک انصاف کے ساتھ ملاقات کررہے تھے تحریک انصاف راولپنڈی کے رہنما

عمران خان ۔ شیخ رشید اتحاد کی خبر نکل چکی تھی اور اسی بات پر احتجاج کرنے کے لیے راولپنڈی سے آئے طارق کیانی، چوہدری اصغر، فیاض الحسن چوہان ، راشد حفیظ اور راحت قدوسی نے کپتان کو گھیر رکھا تھا۔ احتجاج جب طوالت اختیار کرتا گیا تو لمبی بات نہ سننے کا عادی کپتان اٹھ کھڑا ہوا اور فرمایا ” آپ کی ساری باتیں درست ہیں، بس یہ سمجھیں کہ شیخ رشید ایک بوجھ ہے جو ہمیں ہرحال میں اٹھانا ہے”۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنا بایاں شانہ دو دفعہ تھپتھپاتے ہوئے بولا ” اُن کا حُکم ہے “۔

عمران خان کی تحریک انصاف راولپنڈی کے رہنماوں کے ساتھ 9 اگست 2012 کے روز ہونے والی ملاقات کی روداد سے اقتباس

***********************************************

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ اول پڑھیئے

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ سوئم پڑھیئے

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ چہارم پڑھیئے

پسِ تحریر: فیکٹری کے گھگو پر جل اٹھنے والی چند مزید ٹرک کی بتیوں کا ذکر آئندہ نشست میں بھی جاری رہے گا

12 thoughts on “Factory Ka Ghughu – 2

  • January 29, 2016 at 6:52 pm
    Permalink

    بہت خوب مدثر بھائی، بہت شاندار تجزیہ

    Reply
  • January 29, 2016 at 7:50 pm
    Permalink

    ہمیشہ کی طرح مدثر اپنے مخصوص رنگ میں سیاسی واقعات، انکا پس منظر اور پھر کڑی سے کڑی جوڑ کر اسکو ایک شاندار اور بےجھول تجزیے کی شکل دینا مدثر کا ہی خاصہ ہے

    Reply
  • January 29, 2016 at 8:36 pm
    Permalink

    Bht Zaberdast Sir Humesha ki tarha

    Reply
  • January 29, 2016 at 10:51 pm
    Permalink

    مختلف واقعات کے تناظر میں بات کی تہہ تک پہنچ جانا مدثر سے بہتر کوئی کیا جانے؟۔ بہت اچھا تجزیہ

    Reply
  • January 30, 2016 at 3:23 am
    Permalink

    انتظار کا حق ادا کردیا مدثر صاحب ۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔

    Reply
  • January 30, 2016 at 7:44 am
    Permalink

    Excellent like always Mudassar Bhai !!!
    Maza A gaya !!!

    Reply
  • January 30, 2016 at 10:47 am
    Permalink

    مدثر بھائی ایسا لگتا ہے جیسے کوئی جاسوسی ناول پڑھ رہا تھا بہت زبردست کڑی سے کڑی جوڑی آپ نے اور دھرنوں اور اس سےپہلے ایسٹیبلشمنٹ کے گندے کھیل کو صحیح ایکسپوز کیا آپ کا یہ تجزیہ کسی اخبار میں چھپ جائے تو تہلکہ مچ جائے ….اللہ نظر بد سے بچائے

    Reply
  • January 30, 2016 at 12:20 pm
    Permalink

    بہت عمدہ ، خفی سیاسی واقعات کو سیاق و سباق کے ساتھ بیان کرنا ختم ہے آپ پر

    Reply
  • January 30, 2016 at 12:45 pm
    Permalink

    Bravo !!!
    Mudassar bhai kuch roshni Dir se abai seat haarnay wale “qoumi aur visionary leader” ke kardar per bhi daalen.

    Reply
  • January 30, 2016 at 2:27 pm
    Permalink

    کمزور یاداشت والی قوم کی یاداشت کو جھنجھوڑتی ہوئی تحریر
    ماضی قریب کے جھروکوں سے مستقبل کے ٹھگوں سے ہوشیار کرتے ہوئے مدثر بھائی

    Reply
  • January 30, 2016 at 3:32 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر بار بار پڑھنے کو دل للچا رہا ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *