Selfie Aur Saalisy

‏٭٭٭سیلفی اور ثالثی٭٭٭

یہ موسم سرما کی ایک خُنک رات تھی۔ دُھند نے چاروں اطراف کو یوں گھیرے میں لیا ہوا تھا جیسے عاشق، محبوب کو بانہوں میں بھر لیتا ہے

جپھّی اک واری کُٹ کے توں پاء گُجرا

یہ ایک رومانٹک اور اداس کردینے والی کیفیت تھی۔ میں نے کتاب سے نظر ہٹائی اور سٹڈی کی کھڑکی کے دھندلے شیشے سے باہر دیکھا۔ ایک مطمئن سی اداسی میرے رگ و پے میں دوڑ گئی۔ چیبانگا موزونگو کی بھیجی ہوئی زمبابوین کافی کا گھونٹ بھر کے میں نے سر کو راکنگ چئیر کی پشت سے ٹکایا۔ ایک طویل ڈکار لیا۔ حیدر آبادی بریانی، بیف کباب اور کوک کی خوشبو سے ساری سٹڈی مہک اٹھی۔ میں نے آئی فون سکس (کسٹم میڈ) ٹیبل سے اٹھایا۔ اداس اور رومانٹک چہرے کی ایک سیلفی لے کر فیس بک پیج پر اپ لوڈ کی اور دوبارہ کتاب پر جھک گیا۔ اچانک فون کی بیل بجی۔ سکرین پر “میاں صاحب” کا نام جگمگا رہا تھا۔ میں حیران رہ گیا۔ یہ ایک خلاف معمول بات تھی۔ یہ کبھی گیارہ بجے کے بعد فون نہیں کرتے۔ یہ جانتے ہیں کہ میں ایک جوان جہان آدمی ہوں۔ میری ازدواجی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ یہ اس بات کو سمجھتے ہیں اس لیے کبھی مجھے ڈسٹرب نہیں کرتے۔ میں نے کال ریسیو کی۔ یہ بوجھل آواز میں بولے

یار جیدے ۔۔ کِی کرئیے؟۔۔۔ دوویں لڑ پئے نیں

یہ ایک نازک مرحلہ تھا۔ یہ دنیا کی تاریخ میں میک آر بریک والا معاملہ تھا۔ ایک غلط فیصلہ اس دنیا سے انسانوں کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا تھا۔ میں نے فون ٹیبل پر رکھا۔ ایک طویل سانس لی۔ گلاسز اتار کے شیشے صاف کیے۔ کافی کا گھونٹ بھرا۔ فون دوبارہ اٹھایا تو میاں صاحب بولے

دانشوراں آلی ایکٹنگ بعد اچ کر لئیں۔۔ پہلے میں جو پُچھیا او دس

 میں کچّا ہوگیا۔ مجھے شرم آگئی۔ میں نے فورا بات بدل لی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آج آپ نے ڈنر میں کیا کھایا۔ میاں صاحب نے پھر مجھے جگت کرادی کہنے لگے

چوہدری ای رہ، کلاسرہ نہ بن

میں فورا سنجیدہ ہوگیا۔ میں نے بادشاہ والی کہانی کی آواز بنالی اور یوں گویا ہوا

میاں صاحب، تاریخ آپ کی راہ دیکھ رہی ہے۔ عظمت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ عزّت آپ کے لیے نظریں بچھائے کھڑی ہے۔ ہسٹری آپ کو ویلکم کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ مؤرخ سنہری انک والا پین لے کر آپ کا منتظر ہے

میاں صاحب نے ایک طویل ہمممممم کیا اور فون بند کردیا۔ یہ ایک سرد صبح تھی۔ بیدار ہونے پر ایسا فِیل ہورہا تھا جیسے سب کچھ فریز ہے۔ اس لیے فریش ہونے کے لیے دو دفعہ کافی پینی پڑی۔ واک کے لیے جوگرز پہنے ہی تھے کہ میاں صاحب کا فون آگیا۔ انہوں نے دس منٹ کے اندر ائیرپورٹ پہنچنے کی ریکویسٹ کی۔ میرا ٹریول بیگ ہمیشہ ریڈی رہتا ہے۔ میں نے بیگ اٹھایا۔ جلدی میں بیگم کا پرپل کوٹ پہنا۔ یہ ایک آنسٹ مسٹیک تھی لیکن اس مسٹیک نے ہسٹری کا دھارا بدل دیا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔ فلائٹ ٹیک آف کرتے ہی میاں صاحب اور جنرل صاحب میرے پاس تشریف لے آئے۔ یہ ایک اچھی جوڑی ہے۔ دلیپ کمار/مدھو بالا، امیتابھ/ریکھا، انیل کپور/مادھوری، شاہ رخ/کاجل، بدرمنیر/مسرت شاہین، سلطان راہی/انجمن کے بعد شریف/شریف ایسی جوڑی ہے جو سُپر ہٹ ہونے کا پوٹینشل رکھتی ہے۔ یہ ایک دوسرے کو انڈرسٹینڈ اور رسپیکٹ کرتے ہیں۔ یہ سمارٹ بھی ہیں اور ہینڈسم بھی۔ یہ انٹیلیجنٹ بھی ہیں اور انٹلکچوئل بھی۔ یہ ناٹی بھی ہیں اور جولی بھی۔ میاں صاحب نے ادھر ادھر دیکھا اور آہستگی سے اپنی واسکٹ کی جیب سے ایک شاپر نکال کے میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے شاپر کھولا تو ہر طرف قیمے والے نان کی خوشبو پھیل گئی۔ میاں صاحب جانتے تھے کہ میں نے بریک فاسٹ نہیں کیا۔ آپ ان کے مینرز دیکھیے۔ آپ ان کی کرٹسی ملاحظہ کیجیے۔ ائیرپورٹ آتے ہوئے رستے میں انہوں نے گاڑی رکوا کر چار قیمے والے نان لیے۔ ایک نان جنرل صاحب کو دیا، ایک خود کھایا جبکہ دو نان میرے لیے رکھ لیے۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ یہ پہلے کسی کو نان کی ہوا نہیں لگواتے تھے۔ یہ کسی کو نان کی ایک بُرکی دینے کے روادار نہیں تھے۔ اب یہ خود ایک نان کھاتے ہیں۔ یہ دو نان دوسروں کو دے دیتے ہیں۔ یہ جان چکے ہیں کہ مل جل کر کھانا برکت کا باعث ہوتا ہے۔ پلین لینڈ کرنے کے بیس منٹ کے اندر ہم پیلس میں پہنچ چکے تھے۔ یہ ایک شاندار عمارت ہے۔ یہ رومن، گوتھک، اٹالین، سپینش اور عربک آرکیٹکچر کا شاہکار ہے۔ اس میں فوارے بھی ہیں اور باغ بھی۔ سوئمنگ پول بھی ہے اور مسجد بھی۔ ہم اس کے مرکزی ہال میں داخل ہوئے تو میزبان نے ہمارا استقبال کیا۔ یہ بہت تپاک سے ملے۔ انہوں نے میری چُمیاں بھی لیں۔ یہ پرپل کوٹ پر بار بار ہاتھ پھیرتے رہے۔ یہ مجھ سے پوچھتے رہے ۔۔ ہذا کوٹ جمیل جدا۔۔ من وین انت حصل ہذا؟۔۔۔ میں ایک دفعہ پھر کچّا ہوگیا۔ یہ ایک نازک صورتحال تھی۔ اگر میں سچ بول دیتا۔ اگر میں بتا دیتا کہ یہ زوجہ کا کوٹ ہے۔یہ میں بائی مسٹیک پہن کے آگیا ہوں تو سوچیے کتنا بڑا بحران پیدا ہوجاتا ہے۔ میزبان غصے میں آجاتا۔ یہ ہم سب کو پیلس سے نکال دیتا۔ دنیا تباہی کے کنارے پر پہنچ جاتی۔ میں نے حواس قائم رکھے۔ میں نے فون نکالا۔ سب کو ریڈی کہا اور ایک سیلفی لے لی۔ سب کا دھیان بٹ گیا۔ میں نے میاں صاحب کو آنکھ ماری۔ انہوں نے میزبان کو باتوں میں لگا لیا۔ یہ ہیومن ریس کے لیے ایک تاریخ ساز لمحہ تھا۔ اگر میں گھبرا جاتا۔ اگر میاں صاحب آنکھ مارنے کا اشارہ نہ سمجھتے تو آج میں یہ سب بتانے کے لیے یہاں نہ ہوتا۔ آپ دیکھیے۔ لوگوں نے میرا مذاق بنا لیا۔ یہ مجھے شوخا پرپل کوٹ والا کہنے لگے۔ یہ میری سیلفیوں پر اعتراض کرنے لگے۔ یہ جانتے نہیں تھے۔ ان کو معلوم نہیں تھا۔ آل ہیومن کائنڈ کو میرا تھینک فل ہونا چاہیے۔ یہ ایک ورلڈ سیونگ سیلفی تھی۔

38 thoughts on “Selfie Aur Saalisy

  • January 24, 2016 at 4:43 pm
    Permalink

    جعفرانہ طرز تحریر کا ایک نادر نمونہ – چوہدری صاحب ہیں ہی اتنے پیارے کہ ان پہ لکھتے ہی جانے کا دل کرتا ہے
    بہت اعلٰی

    Reply
    • January 24, 2016 at 6:32 pm
      Permalink

      چودھری صاحب پر جعفر صاحب ہی لکھ سکتے ہیں جنہوں نے بڑی بارک بینی سے ان کی عادتیں نوٹ کی ہیں مثلا جو شو وہ قارئین کو متاثر کرنے کے لیے مارتے ہیں جعفر صاحب نے اس پر بھی روشنی ڈالی ہے

      Reply
  • January 24, 2016 at 6:44 pm
    Permalink

    جادو ھے جعفر صاحب کی قلم میں.. ایک ایک جملہ تازہ، ایک ایک جملہ زندہ.. یہ ایک نازک صورتحال ھے ?.. اللّہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

    Reply
  • January 24, 2016 at 6:47 pm
    Permalink

    There are chances that you can survive a nuke blast, but no one can survive the Faisalabab’s indigenous humor.. Poor Javed Ch. He had this coming.

    Reply
  • January 24, 2016 at 6:57 pm
    Permalink

    ہمیشہ کی طرح بہترین

    Reply
  • January 24, 2016 at 7:10 pm
    Permalink

    وہ سب مصالحے جو صرف جعفر صاحب ڈال ہاہاہاہا سکتے ہیں۔

    Reply
  • January 24, 2016 at 7:13 pm
    Permalink

    کمال استاد جی
    ہمیشہ کی طرح
    واقعی تاریخ ساز تحریر

    Reply
  • January 24, 2016 at 7:23 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر، استاد جعفر کبھی مایوس نہیں کرتے

    Reply
  • January 24, 2016 at 7:47 pm
    Permalink

    Wah !! Jafar_Hussein bhai zabardast , aik cheez ke samjh nai ay ” Banday 3 teh keema walay Naan 4″”

    Reply
  • January 24, 2016 at 8:22 pm
    Permalink

    ھاھاھا ھاھاھا ??
    ھاھاھا ھاھاھا ھاھاھا بہت ہی عمدہ تحریر مزاح سے بھرپور اور بھرپور چماٹ…

    Reply
  • January 24, 2016 at 8:30 pm
    Permalink

    ہاہاہاہاہاہا بہت اعلٰی …..

    Reply
  • January 24, 2016 at 8:49 pm
    Permalink

    اس واقعے کا تنا اچھا اور اریجنلی تو شاید چودہری ساب خود بھی بیان نا کرپاتے. ٹو گڈ استاد جی ?

    Reply
  • January 24, 2016 at 8:52 pm
    Permalink

    بھائي کمال ہوگيا۔
    پرپل کوٹ۔ اور آنسٹ مسٹیک تھی۔

    Reply
  • January 24, 2016 at 9:19 pm
    Permalink

    جعفر بھائی کی لاجواب تحریر.
    اگر اس تحریر کے ممدوح پڑھ لیں تو انسانیت ان کی تحریروں سے محفوظ ہو جائے!!!!!

    Reply
  • January 24, 2016 at 9:22 pm
    Permalink

    جیدا سیلفی لے رہا ہے اور شرطہ ؟

    Reply
  • January 24, 2016 at 9:41 pm
    Permalink

    مدت بعد ایسی شگفتہ تحریر پڑھی ، بہت خوب۔ اس میں ایک ہی خامی پائی وہ یہ کہ تحریر بہت مختصر تھی جب کہ دل چاہتا تھا کہ یہ ختم ہی نہ ہو۔

    Reply
  • January 24, 2016 at 9:48 pm
    Permalink

    hahaha brilliant, please someone tag Ch sb here, i’m sure javed ch will die laughing his arse off, you sir never fail to amuse us, lmao. keep writing pls

    Reply
  • January 24, 2016 at 9:57 pm
    Permalink

    جیدا خُوش نصیب ہے۔۔۔ اُس کے پاس آئی فون ہے۔۔ بیوی ہے جو پرپل کوٹ پہنتی ہے۔۔۔میاں صاحب ہیں جو نان لاتے ہیں۔۔۔ اور آپ جو اُس کو تحریر میں لا کر تاریخی بنا دیتے ہیں۔۔۔بہت اچھے اُستاد

    Reply
  • January 24, 2016 at 10:21 pm
    Permalink

    , ایکسیلنٹ, فنٹاسٹک, ڈن!
    واقعی بہت نازک صورتحال تھی

    Reply
  • January 24, 2016 at 10:31 pm
    Permalink

    He is real Garnisher…Garnish wer…. Real Bassi of Makkhan pura….Jeeda Chuk program

    Reply
  • January 24, 2016 at 10:32 pm
    Permalink

    You are a real genius. Perfectly written
    Amazing
    Love you

    Reply
  • January 24, 2016 at 10:49 pm
    Permalink

    بہت خوب استاد جی

    Reply
  • January 24, 2016 at 11:27 pm
    Permalink

    بهت هى غمده……زبردست

    Reply
  • January 24, 2016 at 11:30 pm
    Permalink

    بهت هى عمده….زبردست

    Reply
  • January 24, 2016 at 11:58 pm
    Permalink

    بہت خوب۔ بہت دنوں کے بعد اس مطمین سی اداسی میں بے اختیار قہقہے لگایے۔

    Reply
  • January 25, 2016 at 12:04 am
    Permalink

    ہاہاہا کیا کہنے جو صاحب جاوید چوہدری کو پڑھتے ہیں وہ کچھ زیادہ ہی مزے لینگے جعفر صاحب کی اس تحریر سے
    ماشاء اللہ زورو قلم اور زیادہ

    Reply
  • January 25, 2016 at 12:40 am
    Permalink

    آپ کو پہلی بار پڑھا۔ مزا آ گیا۔ لگتا ہے اب جاوید چوہدری کی ہر تحریر کے بعد آپ کو بھی پڑھنا پڑے گا۔ لاجواب طرز تحریر

    Reply
  • January 25, 2016 at 1:19 am
    Permalink

    Excellent. Wahh waaah. Mazaa aa giaa. Keep it up.

    Reply
  • January 25, 2016 at 1:56 am
    Permalink

    واہ استادی سبحان اللہ سیانے سچ آکھ دے کھ فیصل آبادیو ں تو اللہ بچائے آخیر لکھا سے ماشاءاللہ

    Reply
  • January 25, 2016 at 12:23 pm
    Permalink

    super brilliant – یار جیدے ۔۔ کِی کرئیے؟۔۔۔ دوویں لڑ پئے نیں

    Reply
  • Pingback:Selfie Aur Saalisy – PakTvzone

  • Pingback:Selfie Aur Saalisy – PakTvzone

  • January 25, 2016 at 5:31 pm
    Permalink

    جب مجھے پتہ چلا کہ مجھے اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت ہی مقدس مشن کے لئیے چُن لیا ہے تو میرے اندر طوفان بلاخیز برپا ہوگیا، آنسوؤں کی لڑیاں آنکھوں سے بہہ رہی تھیں۔ ہچکیاں رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ کہ اتنے بڑی صحافتی برادری میں ایک چوہدری تُوہی ہے جس کے نام کا قرعہ فال نکلا ہے۔ میں اسے اپنی سعادت مندی سمجھتا ہوں اور کبھی کبھی تو اپنے آپکو ابوبن ادھم ہی سمجھتا ہوں کہ میرا نامہ گرامی حکومت اور فوج دونوں کی گُڈ بُک میں درج ہے۔ جنرل راحیل سے مُلاقات ہوئی تو اُن کی آنکھوں کی چمک نے ہی مجھے یقین دلا دیا کہ اللہ نے واقعی اپنے ٹھیک ٹھیک بندوں کو صلح کے لئیے چُنا ہے۔

    Reply
  • January 29, 2016 at 3:53 pm
    Permalink

    بہت اعلی جی
    ماحول کی منظر کشی کے بعد نان نے مجھے احساس دلا دیا کہ میں بھی ابھی تک بھوکا ھوں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.