Jamhooriat Ki Kamzor Kadiyan

جمہوریت کی کمزور کڑیاں
ہمارا جمہوری ڈھانچہ ویسے ہی بہت نحیف ہے اور اس پر مزید کمزوریاں بستر مرگ پر ہی پہنچانے کا سبب بنیں گی. موجودہ جمہوری سفر بمشکل سات سال کا ہوا ہے دیکھا جائے تو ابھی صغرسنی ہی میں ہے یعنی ابھی نماز بھی فرض نہیں ہوئی اور ہم روزوں کی توقع کر رہے ہیں
تاریخ سے کمزور رشتہ ہمارا قومی المیہ ہے لہٰذا ہم ہر ہاتھ ملانے والے کو دوست اور حوصلہ بڑھانے والے کو مسیحا سمجھ لیتے ہیں. یہ سلسلہ بغیر کسی توقف کے جاری و ساری ہے. تاریخ کی ورق گردانی میں مصروف نہیں کرنا چاہتا لیکن جہاں ضروری ہوا حوالہ دینے کی جسارت کروں گا
آج عمومی تاثر یہی ہے کہ جمہوریت اور کرپشن کا بہت گہرا رشتہ ہے. اطلاعا” عرض ہے کہ ایوب دور سے قبل ہمارے ایک وزیراعظم بیرون ملک نجی دورے پر تنگدستی کی بدولت نہیں جا سکے تھے یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ اس زمانے میں سیاست دانوں کے مالی حالات کیا ہوا کرتے تھے. لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سیاست دان معصوم ہیں بلکہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ بیماری دوسرے اداروں سے مستعار لی گئی اور چونکہ باقی معاملات میں ہاتھ پاؤں عموماً بندھے رہے ہیں اس کے سبب اس میدان میں اہل سیاست نے خوب ترقی کی بلکہ کئی مواقع پر تو اپنے اساتذہ سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے. جب جب سیاسی عمل جاری رہا عوام کی عدالت سے انہیں اپنی بد اعمالیوں کی سزا بھی خوب ملی اور انہیں مجبوراً تائب ہو کر نئے وعدے کرنا پڑے. گھٹن تب پیدا ہوتی رہی جب جب سیاسی عمل روک کر لوگوں سے حق حکمرانی چھین لیا گیا. بلکہ آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ یہ معاشرتی قحط کا زمانہ ہوتا ہے اور لوگ مجبوراً وہی مسترد شدہ مردار کھا کر معاشرے کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں. یوں سیاست کا چہرہ جلد ہی بدنامی میں ڈھل جاتا ہے. یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ہے
اگر ہم غور کرنے والے ہوتے تو ایوب دور سے لے کر مشرف کے دور تک کا جائزہ لیتے غور کرتے کہ فاطمہ جناح، مولانا مودودی، ولی خان اور دیگر اکابرین سیاست کو بے دخل کر کے کیا حاصل کیا، بھٹو کی پھانسی اور کارکنوں کو کوڑے مارنے سے کون سا اسلام نافذ ہوا. بینظیر اور نواز شریف کی حکومتوں کو برخاست کر کے کون سے معاشی اہداف حاصل کر لیے ہیں. لیکن چونکہ تاریخ سے رشتہ کمزور ہے اس لیے غور تو کرنا ہی نہیں ہے. مجھے ایک مرتبہ امارات میں ایک مجلس میں شرکت کا موقع ملا شرکاء ادب و تاریخ پر گفتگو فرما رہے تھے عجیب سرور کی کیفیت طاری تھی کہ یکایک ایک سوال نے چونکا دیا دوست مجھ سے آزاد کشمیر کی تاریخ و ادب سے متعلق کسی مستند کتاب کی بابت دریافت کر رہے تھے. یقین جانیں میں شرمندگی کے مارے منہ چھپاتا پھر رہا تھا. ان کے اصرار پر بمشکل اتنا منہ سے نکلا کہ مطالعہ پاکستان لازمی. وہ مجھے یوں دیکھ رہے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں
خیر واپس موضوع کی طرف آتا ہوں ایک مرتبہ پھر سے مملکت خداداد میں صیاد نئے انداز میں حاضر ہو رہے ہیں درباری سلام بجا لا رہے ہیں لوگوں کے کمزور حافظوں پر سے مشقت شروع کر دی گئی ہے. قوم کو کسی نئے کار خیر کے لیے تیار کیا جا رہا ہے. اور نہایت ممکن ہے ہم تیار بھی ہو جائیں کیونکہ سادہ لوحی میں ہم اپنی مثال آپ رکھتے ہیں. دوسرا اس کے لیے مواد کی بھی کمی نہیں ہے. ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی داستانیں زبان زد عام ہیں. گزشتہ سات سال سے دونوں جماعتوں نے مجرمانہ حد تک تساہل سے کام لیا ہے. بلوچستان کی صورتحال دن بدن ابتر ہوتی جا رہی ہے وہاں کی حکومت اچھا کر رہی ہے کہ برا ساری قوم بےخبر ہے کیونکہ میڈیا کی ترجیحات میں شاید وہاں کی سرزمین و عوام شامل ہی نہیں ہیں. پنجاب میں سپرمین طرز کا انداز حکومت ہے شہباز شریف کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا باوجود اس کے شہباز شریف ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں لیکن اختیارات کے ارتکاز کے باعث گلی محلے کی چپقلشوں پر بھی وہی ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں. پختون خواہ کا ذکر ہی نہیں کیونکہ ان کے میر کارواں کے نزدیک دوسروں کی رسوائی ہی ان کی کامیابی ہے. اس مجموعی صورتحال میں عوامی سطح پر بے چینی ضرور پائی جاتی ہے
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ سیاسی جماعتوں کو نشان عبرت بنا دیں سیاسی جماعتوں کے اس ملک پر بے پناہ احسانات ہیں اس ملک کو پہلا متفقہ آئین انہی سیاسی جماعتوں نے مہیا کیا. اسی سیاسی عمل نے سندھ میں جی ایم سید کی نصیحتوں کو تحلیل کر کے رکھ دیا ہے. آج معیشت اگر کچھ سانسیں لے رہی ہے تو اس میں بینظیر بھٹو کے آئی پیپیز اور نواز شریف کے بہتر انفراسٹرکچر کا حصہ بہت نمایاں ہے. ولی خان کی بے دخلی نے طالبان کا تحفہ دیا ہے اور بگٹی صاحب کی شہادت نے علیحدگی پسند بلوچ. یہ سیاست دان قانون شکن ضرور ہوں گے آئین شکن نہیں ہیں. اداروں کا کام فیصلے کرنا نہیں ہوتا بلکہ حکومتی فیصلوں پر عمل کرنا ہوتا ہے. سندھ سمیت ملک بھر میں جہاں کہیں اختیار دیا گیا ہے اپنے مینڈیٹ میں رہتے ہوئے کام کریں قوم ساتھ دے گی. یاد رہے لعل مسجد اور بلوچستان آپریشن بھی فوجی آپریشن تھے اور ضرب عضب بھی ایک فوجی آپریشن ہے فرق صرف یہ ہے کہ ایک ذمہ داری عسکری قیادت پر تھی اور دوسرے کی ذمہ داری سول حکومت پر. آج حالات یہ ہیں کہ بہادر کمانڈو کے دور میں جو فوج یونیفارم تک زیب تن نہیں کر سکتی تھی مسیحائی کے مقام پر ہے
آخر میں اپنے معزز اداروں سے ایک گزارش کہ مملکت گر زمین کا ایک خطہ ہوتی تو آپ کے حوالے کر دیتے بلاشبہ زمینوں کی آباد کاری اور تعمیرات پر آپ کے تجربات معراج پر پہنچے ہوئے ہیں. لیکن یہاں جیتے جاگتے انسان رہتے ہیں مختلف نظریات مختلف سوچ کے حامل جو آئین و قانون کو تسلیم کرتے ہیں. جو آئین کو تسلیم کرتے ہیں انہیں سول اداروں سے سزا وار ہونے دیں. جو آئین کو تسلیم نہیں کرتے ان کے لیے آپ اپنی خدمات ادا کرتے رہیں اسی میں سب کی عزت ہے

6 thoughts on “Jamhooriat Ki Kamzor Kadiyan

  • January 23, 2016 at 5:10 am
    Permalink

    Very nice . Comprehensive and true to the spirit
    Fully agree with your viewpoint !!!

    Reply
    • January 23, 2016 at 8:54 am
      Permalink

      Thank you sir

      Reply
  • January 23, 2016 at 6:41 am
    Permalink

    بہت اچھا لکھا ارشد صاحب

    Reply
  • January 23, 2016 at 11:19 am
    Permalink

    چونکہ جمہوریت ایک پراسس ھے، اور ھے بھی انسانی، لہذا کمیاں کوتاھیاں بھی رھیں گی اور بہتری کی گنجائش بھی. وقت آگیا ھے کہ اب ھم کم از کم جمہوریت و آمریت کے موازنے چھوڑ دیں.

    Reply
  • January 24, 2016 at 7:33 pm
    Permalink

    کچھ حقیقتیں تو بہت عمدہ بیان کیں، ایک دو نقاط ایسے ہیں جن پر بات کی جا سکتی ہے۔ بہت عمدہ تحریر، لکھتے رہئیے

    Reply
  • March 26, 2016 at 1:40 am
    Permalink

    جمہوریت کی کڑیاں پاکستان میں واقعی کمزور ہیں لیکن اُمید پر دُنیا قائم ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.