Social Media Teams Manual

ہدایت نامہ برائے اراکینِ سوشل میڈیا ٹِیمز

دعا دیجئیے سٹیو جابز اور گوگل کو کہ اس نے سمارٹ فون کو حقیقی سمارٹ فون بنا کر ہر انسان حتٰی کہ چوپایوں کو بھی انٹرنیٹ استعمال کرنے کے قابل بنا دیا ہے
فِدوی نے “ویکیپیڈیا” پر ایک “ریسرچ” کے حوالے سے پڑھا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے پچاس فیصد یوزر انسان ہونے کی تعریف پر پورے نہیں اترتے. واللہ عالم بالصواب
خیر، موضوعِ سُخن سمارٹ فونز کےساتھ فروغ پانے والا سوشل میڈیا اور اس پر کھمبیوں کی طرح پروان چڑھنے والی سوشل میڈیا ٹیمز ھیں
حالانکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے حزبِ مخالف کا نقطہِ نظر سمجھنے میں مدد مل سکتی تھی، مگر شائد ایسا کرنا انسان کی عزتِ نفس مجروح کردیتا ہے. لہذا چٹ اکاؤنٹ اور پَٹ ڈسپلے سیلفی لگانے کے بعد انسان سب سے پہلے اپنے جیسے “بقراطین” کی تلاش میں لگ جاتا ہے
اسی ضرورت کے نتیجے میں سوشل میڈیا ٹیمز وجود میں آئیں جن کا بظاھر مقصد تو اپنے خیالات کی ترویج ہوتا ھے مگر درحقیقت ان کا سارا زور مخالفین کا ازاربند ڈھیلا کرنے میں ہی صرف ھوتا ہے
اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو سوشل میڈیا پر ضائع کرنے کے بعد فِدوی اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ ایک ایسا ہدایت نامہ ترتیب دیا جائے جو سوشل میڈیا ٹیمز کے نئے ارکان کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہو
یہ قاری پر منحصر ھے کہ وہ ذیل میں درج ھدایات کو کاغذ پر عرقِ گلاب سے لکھ کر گلے میں لٹکا لے یا پھر عمل کرے
١. جس سیاسی، سماجی یا مذہبی پارٹی سے تعلق بنانا چاھتے ھیں، اس کا نام اپنے نام کیساتھ ایسے جوڑیں جیسے شناختی کارڈ پر آپکے نام کیساتھ ولدیت جُڑی ھوتی
٢. بیک گراؤنڈ پکچر میں سیاسی نشان یا جھنڈے کے رنگ واضح کریں
٣. جو کوئی مخالف نظر آئے، اسے بلاک کرنے سے پہلے اس پر دو حرف ضرور بھیجیں اور اس کا سکرین شاٹ سنبھال کر رکھ لیں. یاد رھے ھر سکرین شاٹ کی قدر ایک تمغہِ جراءت کے برابر ہوتی ہے. سو تمغے پورے کرنے پر اگلے گریڈ میں ترقی ملتی ہے
٤. اگر فوٹو شاپ سیکھنے کی دماغی صلاحیت سے عاری ھیں تو کوئی چھوٹی موٹی ایپ ڈاؤنلوڈ کر لیں جس سے تصاویر کو کیپشن دیا جا سکے
٥. تصاویر کو کیپشن دینے کیلئے تخلیقی ذہن ضروری نہیں. سٹیج ڈراموں کے ڈائیلاگز زیادہ کارگر رہیں گے
٦. خیال رکھیں کہ آپکے ہر جملے میں اُردو اور انگریزی املاء و گرائمر کی کم از کم ایک غلطی ضرور موجود ہو
٧. اپنا سوشل میڈیا ٹائم ٹیبل اپنی پارٹی کے سربراہ کا اکاؤنٹ چلانے والے کیساتھ رکھیں تاکہ اس کی ہر پوسٹ کو من و عن فارورڈ کرنے میں آسانی رھے
٨. دنیا میں چاھے قیامت برپا ھو جائے، اگر اپنے لیڈر کی ثناء بیان کرنی ہے، تو اُس وقت تک جاری رکھیں جب تک وہ ٹرینڈنگ ٹاپک نہ بن جائے
٩. اپنی مدد آپ کے تحت سونے اور کھانے سے وقت نکال کر سو دو سو اکاؤنٹ بنا لیں. پرنسس، پری، شہزادی الغرض وہ تمام نام جو کبھی پرانے وقتوں کی بیڈ فورڈ بسوں کے پیچھے لکھے ہوتے تھے، ان کا استعمال ممکن ھے
١٠. جب آپکو “نیک مقصد” کیلئے چُن لیا جائے تو آپکو وٹس ایپ گروپ میں داخل کیا جاوے گا. سمجھ جائیے کہ آپکی بے لوث خدمت کا وقت پورا ہوا. اب سے آگے آپکو اپنی شناخت، سوچ اور روئیے میں تبدیلی ضروری ہوگی
وٹس ایپ گروپ میں رُکنیت مل جانے کی صورت میں مندجہ ذیل راہنما اُصولوں پر عمل پیرا ھوں:-
١. فوراً اپنی ڈی پی بدلیں. معزز لگنے کی ہر ممکن کوشش کریں. کسی دوست سے کالی واسکٹ مانگ کر تصویر کھینچ لیں بیشک یہ معلوم نہ ھو کہ کہاں واسکٹ ختم ھوئی اور کہاں سے رُخِ انور شروع ھوا
٢. ڈائریکٹ مسیجز میں احمقانہ حد تک حاکمانہ رویہ شروع کریں
٣. نئے آنے والوں کو اُن کی اوقات مسلسل یاد کروائیں. کوئی قابل نظر آئے تو فوراً اس کا اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کریں
٤. جس وٹس ایپ گروپ میں آپ اتنی تپسیا کے بعد شامل ھوئے، اس کے اراکین کو یاد کروائیں کہ کیسے وہ آپ کے بِنا ماہی بے آب تھے
٥. ایک اپنا وٹس ایپ گروپ بھی شروع کریں جس میں آپ دوسرے اراکین پر اپنی فصاحت و بلاغت جھاڑ سکیں
٦. کبھی کبھار (یاد رکھئیے کبھی کبھار) اپنے لیڈر کی کلاس بھی لے لیں کہ کیسے اُن کی کارکردگی بہتر کی جاسکتی ھے
٧. جب آپ کے دوست دو درجن اور فالوورز چند ھزار ھو جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ چند لاکھ فالوورز خرید بھی لئے جائیں
٨. خود کو لائم لائٹ میں رکھنے کیلئے کبھی کبھار کسی مخالف کیساتھ سینگ بھی اڑا لیں
٩. سیکنڈل ایک مشہور شخصیت کی زندگی کا حصہ ھوتے ھیں. صنفِ مخالف کے چند اکاؤنٹ بنا رکھیں تاکہ اپنے سکینڈل بنانے میں آسانی رہے
١٠. چار پیسے بنانے کی سوچ در آئے تو اپنی پارٹی میں موجود اپنے دشمنوں کی معلومات کو حزبِ مخالف سے شئیر کرنے میں کوئی عار نہیں. آخر دوست ہی دوست کے کام آتا ہے
نوٹ:
١.یہ ہدایات برسوں کی ریاضت کا نتیجہ ھیں. ان پر عمل درامد سے کامیابی یقینی ہے. مگر ناکامی کی صورت میں مصنف کیخلاف منفی ٹرینڈ بنانے سے گریز کیجئیے
٢. اگر آپ بالفرض سوشل میڈیا پر مشہور ہو ہی گئے ہیں تو کسی ناکے پر سمارٹ فون نکال کر سمارٹ بننے کی کوشش میں پولیس سے بدتمیزی مت کر بیٹھئیے گا. اُنہاں فون وی لے لینا اے تے بُوتھی وی سیک دینی. (مصنف ایسے کسی واقعے کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں رائے دینے سے قاصر ھے لہذا مزید سوالات کر کے پرانی یادیں تازہ مت کروائیں. شکریہ)

12 thoughts on “Social Media Teams Manual

  • January 23, 2016 at 1:31 am
    Permalink

    hahahhaahhahahahahahha khurram bahi you are awesome as always, WISH YOU GOOD LUCK FOR FUTURE SIRRRRR

    Reply
  • January 23, 2016 at 6:45 am
    Permalink

    ہاہاہا بہت پیاری تحریر خرم صاحب:) دل مانگے مور

    Reply
  • January 23, 2016 at 9:21 am
    Permalink

    واہ عباسی صاحب..ایک ایک لفظ حقیقت ہے

    Reply
  • January 24, 2016 at 4:15 pm
    Permalink

    بہت مزیدار اور عمدہ تحریر

    Reply
  • January 24, 2016 at 7:20 pm
    Permalink

    وہ سب کچھ جو صرف خرم عباسی کے قلم کا ہی خاصہ ہے، بہت عمدہ تحریر

    Reply
  • February 5, 2016 at 4:43 pm
    Permalink

    interesting 🙂

    Reply
  • February 9, 2016 at 4:09 pm
    Permalink

    ھاھاھاھاھاھا۔۔
    کمال ہے حضرت کمال ہے۔۔۔
    “پرنسس، پری، شہزادی الغرض وہ تمام نام جو کبھی پرانے وقتوں کی بیڈ فورڈ بسوں کے پیچھے لکھے ہوتے تھے، ان کا استعمال ممکن ھے”
    دس از ٹُو گُڈ۔۔۔

    Reply
  • February 9, 2016 at 4:58 pm
    Permalink

    خرّم بھائی ، بہت عمدہ – ایسا ہدایت نامہ تو ہر دو تین ماہ بعد آتا رہنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر معاملات وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے بدلتے ہیں –

    Reply
  • February 9, 2016 at 5:30 pm
    Permalink

    چھا گیا ہے کاکے

    Reply
  • February 9, 2016 at 5:58 pm
    Permalink

    اعلی جی. بہت رہنما اصول ہیں. نئے آنے والوں کے لئے مشعل راہ. اور ہم جیسے پرانے لوگوں کو بھی اپنی ناکامی کا پتہ چل گیا.
    . آمین اللہ آپکو صحت اور کامیابی دے.

    Reply
  • February 17, 2016 at 3:15 am
    Permalink

    عباسی بھائی کی تحریر نے ہمیشہ اندر سے ہلادیتی ہے کیونکہ انکے لکھے ایک ایک لفظ ہم سب کی زندگی سے منسلک ہوتے ہیں.
    ھاھاھاھاھاھا

    Reply
  • May 11, 2016 at 10:22 am
    Permalink

    ہاہاہاہہاہا
    معزرت ۔۔۔دیر سے پڑھنے کا۔۔۔۔
    بہت عمدہ تحریر بھائی۔۔۔۔۔اخیر کر دتی تسی تے۔۔۔۔
    اللہ مزید ہمت دے لکھنے کی ۔۔۔آمین

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *