Social Media Issues

سوشل میڈیائی مسائل آپکے مشورے ہمارے

نوٹ: تمام کِردار،واقعات اور مُقامات فرضی ہیں ۔کِسی حقیقی کِردارسے مُماثلت مِحض اِتفاقی ہوگی ۔
سوال: میرامسلہ کافی گھمبیر ہے، میں اب عُمر کے اُس حِصے میں ہوُں جہاں میرے شیونگ برش کے بال بھی سفید ہوگئے ہیں اور میرے اپنے بچے اگر مُجھ سے بڑے نہیں تو کم از کم میرے ہم عُمر ضرورلگتے ہیں میں بسلسلہِ روزگارمشرقِ وُسطٰی کے ایک خُشک اور سخت گیر مُلک میں مقیم ہوں جہاں کِسی حسین مُلاقات کا اندیشہ تک موجود نہیں بلکہ سارا دِن پٹھان اور بنگالی مزدوُروں سے واسطہ رہتا ہے رنگینی کی تلاش میں سوشل میڈیا جا پُہنچا فیس بُک نے تسکین و تالیفِ قلب کا سامان تو مُہیا کیا مگر رسائی نہیں کیوُنکہ میں نے خُود تو اپنی تصویر کو نِہاں ہی رکھا مگر کُچھ ناہنجار حاسد دوست نُما دُشمنوں نے ٹیگ کرکے میری تصاویر لگانی شُروع کردیں پھِر کیا تھا ایک ایک کر کے سبھی حسینائیں غائب اور آخر میں وہی مسٹنڈے دوست رہ گئے اِس دلخراش تجربے کے بعد کسی ویڈیو چیٹ والے میڈیا کا خیال تو دِل سے نِکال ہی پھینکا ۔ مُجھے کوئی ایسا حل بتائیں کہ میں حسیناوں کے ساتھ بِلا خوف و خطر سِلسِلہ جُنبانی کر سکوں؟
جواب: مُحترم اب مزید مایوُس ہونے کی ضرُورت نہیں ۔ برسوں کی تحقیق کے بعد اب ماہرین نے ایک ایسا پراڈکٹ مُتعارف کروایا ہے جو آپکے تمام مسائل کا حل ہے اُس جادُوئی پراڈکٹ کا نام ہے ٹویٹر ۔ سب سے پہلے آپ اپنا ایک اکاونٹ بنائیں اپنے نام سے نہیں بلکہ کِسی فرضی نام جِس سے آپکی شخصیت کا تعین مُشکل ہو مثلاً آپ کوئی چٹپٹی کھانے کی چیز کا نام جیسے بن کباب، پراٹھا رول یا بھیل پُوری رکھ لیں اِس سے آپ کی ڈی پی کا مسلہ بھی حل ہو جائیگا اب آپ اچھے سے رُومانوی اشعار کی کِتاب اگر آپ کے پاس نہیں ہے تو پاکِستان سے منگوالیں اور انہے وا مشہُورلوگوں کو ٹیگ کرکے ٹویٹنا شُروع کر دیں کُچھ دِنوں میں ہی مُثبت نتائج کی توقع ہے
ایک اور پُرانا مگر موثر طریقہ حالیہ دِنوں میں دوبارہ سامنے آیا ہے جو اورکٹ کے دِنوں میں جنرل صاحِب کے مُتاثرین پر بخُوبی اِستعمال ہو چُکا ہے وہ ہے کہ آپ اُنکا ایک فین پیج بنائیں اور اُنکے حق میں لکھیں اور اُنکےحلقہِِِ اثر میں موجود خواتین کے بے سروپا اِرشادات کو بھی فلُووائرس کی طرح پھیلائیں اب آپ یہی نُسخہ ٹویٹر پہ بھی آزما سکتے ہیں مگر ٹھہرِیئے اب جنرل صاحب نہیں کیُونکہ اب وہ چلے کارتُوس سے بھی ایک درجہ بڑھکر پھٹے ہوئے لِتر کے منصب پر فائز ہوچُکے ہیں اب آپ اِسے ایک مشہوُرکھِلاڑی جو کہ اِس وقت موجُود کئی نانیوں دادیوں ، خالاوں ، امیوں  اور اُنکی بیٹیوں ، پوتیوں کے خوابوں کے شہزادے ہیں ، کے نام پر شُروع کر سکتے ہیں بس جناب کی بے بہا تعریف کریں ٹیگ ٹیگ کے اور اُن کے فین کلب کی بی بیوں کے ہر ٹویٹ کو فیورٹ اور ہر دُوسرے تیسرے کو ری ٹویٹ کریں اور اثر دیکھیں خواتین آپ کو اِتنے پیارسے اوئے بن کہہ کر مُخاطب کریں گی کہ روُح تک پھیل گئی تاثیر مسیحائی والا حال ہو جائے گا آزمائش شرط ہے
سوال: جناب میں بھی مِڈل ایسٹ میں ہی مُقیم ہوں اور بفضلِ تعالٰی آزاد خیال اور جدید ریاست کا مکین ہُوں مگر مسلہ یہ ہے کہ یہاں کُچھ بھی مُفت نہیں مِلتا پُورے دِن کی خواری کے بعد بھی وِنڈو شاپنگ کے نام پر ہی آپ نظریں سینک سکتے ہیں آپ کے گُزشتہ حل کا پہلا طریقہ کافی عرصے سے اِستعمال کر رہا ہُوں بلکہ میں نے تو کھانے پینے کی چیز کی بجائے خوبصُورت پھُولوں والی ڈی پی بھی لگائی ہوُئی ہے مگر اب تک کوئی افاقہ نہیں ہُوا۔رہنُمائی فرمائیے؟
جواب: جناب صِرف دوائی کھانا ہی عِلاج نہیں ہوتا پرہیز اور خوراک بھی اُتنی ہی اہم ہے ۔ آپ کے کیس میں آپ شعر تو بُہت لِکھتے ہیں مگر معذرت کے ساتھ اِنتہائی بیہُودہ (ادبی لحاظ سے نہیں بلکہ آپ کی صُورتِحال میں)  مُردہ یا عُمررسیدہ  شاعروں کےمرنے مارنے والے شعر خواتین کو کئی کِلومیٹر دُور لے جاسکتے ہیں اِسکے عِلاوە پنجابی شعروں سے پرہیزکریں آپ کے پنجابی شعر سُن کر امرتا پریتم کی کوئی ہمعصر یا پنجابی میں پی ایچ ڈی ، ایم فِل کرنے والی کوئی کھانگڑ خاتُون شائد آپکے حلقہِ احباب میں آجائے اِس سے زیادہ کی توقع فضُول ہے ۔ آپ کا ایک اورمسلہ آپکی آئی ڈی ہے یہ آپکی ڈی پی سے کوئی میل نہیں کھاتی اُلٹاایک پُرانے سیریل کے ایک کرپٹ تھانیدارکی یاد دِلاتی ہے اِسے تبدیل کریں ۔ آپکا آخری مسلہ آپکے جغرافیے میں ہےآپ کا تعلُق جِس علاقے سے ہے وہاں کا سُن کرکوئی لطیف اِحساسات نہیں بلکہ لطیفے یاد آتے ہیں اوراگلا بندہ آپ سے بات بے بات جُگت کی توقع رکھتاہے ۔ صِنفِ نازُک کیلیئے بھی یہ عِلاقہِ غیر ہی ہے ۔ اِسکے ذِکر سے مُکمل پرہیزکریں افاقہ ہوگا
سوال: میرامسلہ یہ ہے کہ میں نے بڑا صُوفیانہ سا نام رکھا ہے اوراُسی مُناسبت سے ڈی پی بھی ۔ مگر میری طبیعت پھکڑپن یاسیاست ( گو دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں  رہا اب) کی طرف زیادہ مائل ہے جو میری آئی ڈی اور ڈی پی سے لگا نہیں کھاتے ۔ مُجھے بتائیں کہ میں کیا کرُوں ۔ اِسکے عِلاوہ خواتین بارے بھی کوئی مشورہ عِنایت فرمائیں
جواب: آپکے پہلے مسلے کا حل تو اِنتہائی سادہ ہے کہ آپ دونوں میں سے ایک چھوڑ دیں یعنی غفلت یا مُلازمت میرا مطلب ہے کہ پھکڑپن یا آئی ڈی یا پھِرایک نئی آئی ڈی بنا کرآدھا کام اُدھر شِفٹ کردیں اپنے اِردگِرد نظر دوڑائیں تو آپکو کئی ایسے نام مِل جائینگے جِن سے مِلتی جُلتی آئی ڈی بنا کر آپ سیاست اور پھکڑ تو کیا پی جی اٹھارە پلس اشعار اور لطائف بھی باسہوُلت پوسٹ کرسکیں گے ۔ اگر آپ کو موجُودہ فالوور شِپ کے کھو جانے کا اندیشہ ہے تو مت گھبرائیں چول ہوکر آپکی پذیر ائی میں اِضافہ ہی ہوگا کمی نہیں ۔ بطورِسند پھِر اپنے سجے کھبے ہی نظر دوڑائیں ۔تیسری صُورت میں آپ موجُودہ رستے پہ ہی کان لپیٹ کر لگے رہیں کوئی فرق نہیں پڑتا
آپکے دُوسرے مسلے کا حل مُندرجہ بالا دونوں صُورتوں میں مُمکِن نہیں کیُونکہ آجکل نہ تو خواتین صُوفیوں میں کوئی دِلچسپی رکھتی ہیں اور نہ ہی پھکڑوں میں ۔ اِس کام کیلیئے آپکو پِچھلے دو جوابات سے رُجوع کرنا پڑے گا اور آخرمیں آپ بھی اپنے جغرافیے کے ذِکر سے پرہیز ہی فرمائیں
مزید مُفید مشوروں کے ساتھ دوبارہ حاضِر ہونگے ۔ اگر آپ کا بھی کوئی سوشل میڈیائی مسلہ ہے تو بِلاجھِجک پچاس رُوپے کے جوابی لِفافے کےساتھ ارسال فرمائیں

10 thoughts on “Social Media Issues

  • January 23, 2016 at 12:28 am
    Permalink

    ھاھاھاھاھاھا زبردست??✌️

    Reply
  • January 23, 2016 at 1:41 am
    Permalink

    hahahahahahhaha kamaaal hai mansoor bahi, khush rahain likhtay rahain bss 😀

    Reply
  • January 23, 2016 at 1:42 am
    Permalink

    منصور بھائی اِس سوال جواب سے کافی مدد ملے گی بہت اچھا لکھا ہے.
    آگے بھی آپ ایسے ہی لکھیں اور ہمیں دانشور بننے میں مدد کریں.
    شکریہ

    Reply
  • January 23, 2016 at 2:24 am
    Permalink

    بی بیوں کے ہر ٹویٹ کو فیورٹ اور ہر دُوسرے تیسرے کو ری ٹویٹ کریں اور اثر دیکھیں خواتین آپ کو اِتنے پیارسے اوۓ بن کہہ کر مُخاطب کریں گی کہ روُح تک پھیل گئی تاثیر مسیحائی والا حال ہو جائے گا ۔
    کیا بات ہے بہت خوب۔۔
    God Bless u bhai jan

    Reply
  • January 23, 2016 at 3:56 am
    Permalink

    ھاھاھاھا زبردست منصور بھائی ہمیشہ کی طرح

    Reply
  • January 23, 2016 at 9:56 am
    Permalink

    بہت خوب جناب، سلسلہ جاری رکھیں

    Reply
  • January 23, 2016 at 11:02 am
    Permalink

    شُکر ھے آپ نے تارکِ وطن لکھ دیا ورنہ تو یوں لگا کہ ھمارا ھی شخصی خاکہ لکھ مارا ھے

    Reply
  • January 23, 2016 at 1:27 pm
    Permalink

    اینڈ رزلٹ میں ایک لنڈے کا دانشور بن کر اُبھرے گا

    Reply
  • January 24, 2016 at 7:30 pm
    Permalink

    بہت خوب منصور بھائی، اسکو سلسلہ وار چلائیں۔ سوشل میڈیائی مسائل کا تو انبار لگا ہوا ہے۔ بہت خوبصورت تحریر

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *