Factory Ka Ghughu

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں
حصہ اول

یہ منظر تھا فیصل آباد کے میدان دھوبی گھاٹ کا اور مسلم لیگ ن کے جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے نوازشریف

یہ کہتے ہیں کہ باریاں لگاتے ہیں۔ کونسی باریاں ؟
یہ دو دو سال کی باریاں ؟
اس عوام نے ، فیصل آباد کی عوام نے ، تو مجھے پانچ سال کے لیے منتخب کیا تھا۔ کیا تھا یا نہیں کیا تھا؟ تو یہ دو سال میں حکومت توڑنے والے کون ہوتے ہیں ؟ کون ہوتے ہیں ؟ ہم نے پاکستان کے اندر عوام کے مینڈیٹ کا دفاع کرنا ہے۔ اور آج بھی جو کھیل کھیلتے ہیں ایجینسیوں کا، ان کے کھیل کو ہم نے ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ دیکھیں ۔۔۔ ایبٹ آباد میں حملہ ہوتا ہے ، ان سب کی ٹانگیں کانپتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ان سب کی ٹانگیں کانپتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان سب کی ٹانگیں کانپتی ہیں

فیصل آباد میں 20 نومبر 2011 کے دن نوازشریف کا جلسہ عام سے خطاب

***************************************************

ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنا یا لگادیا جانا ایک ایسا جُملہ ہے جو کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کئی دفعہ سنتے یا استعمال کرتے ہیں ۔ اس جُملے کی ابتداء کیسے اور کیونکر ہوئی ، اس بارے میں کوئی ٹھوس شواہد تو دستیاب نہیں لیکن کہانیاں کئی بتائی جاتی ہیں ۔ تاہم جو کہانی سب سے زیادہ سننے کو ملی وہ کچھ یوں ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی دور دراز کے دیہات میں بسنے والے ایک سادہ لوح آدمی کو ایک کام کے سلسلے میں کسی قریبی شہر کی طرف سفر کا مسئلہ درپیش تھا ۔ وہ اپنے گاوں سے شہر کی طرف روانہ تو ہولیا مگر تھوڑی ہی دیر بعد اس کی سمجھ بوجھ جواب دے گئی کہ وہ کس طرف کا رُخ کرے ۔ رستے میں ہی اس سادہ لوح آدمی کی ملاقات ایک ایسے صاحب سے ہوگئی جو کہ بذات خود اسی کی طرح رستوں سے نابلد تھے ۔ وہ سادہ لوح آدمی ہمت کرکے ان صاحب سے منزل کا رستہ معلوم کرنے کے لیے کھڑا ہوگیا۔ سوال سننے کے بعد ان صاحب کو اندازہ ہوا کہ رستے کا علم تو انھیں بھی نہیں لیکن وہ اپنی لاعلمی بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ چنانچہ انھوں نے پاس سے گزرتے ہوئے ایک ٹرک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس ٹرک کی بتی کے پیچھے پیچھے چلتے جاوگے تو اپنی منزل تک پہنچ جاوگے ۔ وہ سادہ لوح شخص اس ٹرک کی بتی کے پیچھے پیچھے خوار ہوتا رہا لیکن منزل کو نہ آنا تھا اور نہ ہی آئی۔ بالآخر اس شخص نے ٹرک ڈرائیور سے ہی پوچھا کہ وہ اپنی منزل پر کیوں نہیں پہنچ پارہے؟ ٹرک ڈرائیور نے سارا ماجرہ سننے کے بعد اس ساہ لوح شخص کو بتایا کہ کسی نے اسے بیوقوف بنایا ہے اور یہ ٹرک اسے اس کی منرل کی طرف نہیں لے جاسکتا

آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو ایک اور قصہ سناتے چلیں۔ ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں میں ایک چھوٹا سا قصبہ واقع ہے، اگرچہ اب وہ شہر بن چکا ہے، نام ہے لالہ موسیٰ، اسی کی دہائی کے آخری برسوں میں جی ٹی روڈ لالہ موسیٰ پر پاکستان اور چین کے اشتراک سے سفید مٹی کے برتن بنانے کی فیکٹری قائم کی گئی۔ ایک طرف اردگرد کے عاجزانہ پس منظر رکھنے والےرہائشیوں میں خوبصورت نقش و نگار سے مزین اس فیکٹری کے تیارکردہ برتن خوب مقبول ہوئے تو دوسری طرف انھی لوگوں کے لیے فیکٹری میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ۔ لیکن بچہ پارٹی کے لیے فیکٹری کا سب سے دلچسپ پہلو وہ سائرن تھا جو کہ شفٹ کے آغاز، اختتام ، کھانے یا چائے کے وقفے کے اعلان کے لیے بجایا جاتا تھا۔ اردگرد کے رہائشیوں میں یہ سائرن “گھُگو” کے نام سے مشہور تھا ۔ ابتدائی دنوں میں جب یہ گھُگو بجایا جاتا تو گلی محلے میں کھیلتے بچے اس گھُگو کی آواز سنتے ہی خوشی سے بے قابو ہوجاتے اور اسی جوش میں جب کچھ اور نہ سوجھتا تو یکدم دوڑ اور چھلانگوں کا مظاہرہ کرنا شروع ہوجاتے ۔ فیکٹری کے ملازمین کے لیے بہرحال اس کا مطلب خاصا مختلف تھا ۔ اپنی شفٹ کے آغاز کے لیے بجائے جانے والے گھُگو کی آواز سنتے ہی ملازمین اپنی تمام تر مصروفیات ترک کرکے فیکٹری اور کام کی طرف دوڑ لگا دیتے کیونکہ اسکا مقصد یہی تھا ۔ اردگرد کے رہائشیوں کے لیے رفتہ رفتہ یہ گھُگو روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنتا چلا گیا ۔ حتیٰ کہ رمضان کے دنوں میں عوام نے انتہائے سحر اور وقتِ افطار کے لیے بھی اسی گھُگو پر انحصار کرنا شروع کردیا [ کیونکہ پاکپور چائنہ فیکٹری اپنے ملازمین کے لیے سحری اور افطار کے اوقات کار کا اعلان بھی اسی سائرن کے ذریعے ہی کیا کرتی تھی] رفتہ رفتہ پاکپور چائنہ کے تیارکردہ برتنوں کی مانگ ایک طرف جہلم تو دوسری طرف گوجرانوالہ تک پھیل گئی ۔ جو لوگ یکمشت اس فیکٹری کے تیار کردہ ڈنر سیٹ اور ٹی سیٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے انھوں نے بھی اس مقصد کے لیے بچت کرنا شروع کردی ۔ وقت گرزتا گیا اور لالہ موسیٰ نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے پاکپورچائنہ کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو وہاں کے “ہُنرمند” دوسری عالمی مصنوعات کے ساتھ روا رکھنے کے لیے مشہور ہیں ۔ لالہ موسیٰ کے رہائشیوں نے اسی فیکٹری سے سیکھے گئے ہُنر کو آزادانہ آزمانا شروع کردیا اور کچھ ہی عرصے کے اندر اندر، پاکپورچائنہ کے گردونواح میں کئی چاردیواریوں کے اندر چھوٹی چھوٹی پاکپور چائنہ فیکٹریاں کام کرنا شروع ہوگئیں ۔ ڈنر اور ٹی سیٹ کے ساتھ ساتھ کھلی پلیٹوں اور چائے کے کپ سرعام دستیاب ہونا شروع ہوگئے ۔ پاکپور چائنہ کے مقابلے میں کم قیمت پر دستیاب برتنوں نے رنگ دکھانا شروع کیا تو پاکپورچائنہ کا کاروبار سمٹنا شروع ہوگیا ۔ نتیجہ ۔۔۔ پاکپور چائنہ تاریخ کے صفحات میں کہیں کھوگئی۔ نہ فیکٹری رہی اور نہ ہی اس کا گھُگو

مذکورہ بالا دونوں کہانیوں کا تعلق اس تحریری سلسلے سے کس طرح جوڑا جا سکتا ہے یہ سمجھنا قارئین کے لیے چنداں مشکل نہیں۔ اب تک آپ یقینی طور پر سمجھ چکے ہوں گے کہ فیکٹری کہاں واقع ہے۔ کونسا گھُگو ہے جو کہ ملازمین کو دوڑتے ہوئے ٹرک کی ایک نئی بتی کے پیچھے لگادیتا ہے ۔ اسی طرح یہ بھی سمجھنا بالکل مشکل نہیں کہ فیکٹری کی دیکھا دیکھی کونسی نئی نویلی ایسی فیکٹریاں کھلی ہیں جن کی جانب سے کھلے اور سستے برتن سوچے سمجھے بغیر مارکیٹ میں لانے سے فیکٹری کا رعب و دبدبہ نہ صرف کہیں کھو چکا ہے بلکہ اب اصل فیکٹری خود سے آہستہ آہستہ تاریخ کے صفحات میں گُم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ لیکن ٹرک کی یہ بتیاں ، جن سے ہماری سیاسی تاریخ بھری پڑی ہے، الف لیلوی داستانوں سے کم نہیں ہوتیں۔ اس تحریری سلسلے میں تمام کہانیوں کا احاطہ تو ممکن نہیں لیکن حالیہ عرصے میں دھوم مچانے والی چند بتیوں کا تذکرہ دلچسپی سے عاری نہ ہوگا۔

میموگیٹ

میموگیٹ کی کہانی اس قدر ہوشربا ہے کہ اس کی تفصیل لکھنے بیٹھیں تو چھ سات قسطوں سے پہلے کہانی مکمل نہ ہوسکے گی۔ تاہم اس تحریر کا مقصد میموگیٹ کی تفصیل بیان کرنا نہیں۔ اس لیے انتہائی اختصار کے ساتھ بات صرف چند جہتوں تک ہی محدود رکھنی پڑے گی ۔ کہانی کے مطابق امریکہ میں موجود پاکستانی نژاد ایک امریکی شہری منصوراعجاز نے ایک آرٹیکل لکھا کہ اسے واشنگٹن ڈی سی میں موجود پاکستانی سفیر حسین حقانی نے پاکستانی صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر ایک میمورنڈم لکھنے کی درخواست کی جو کہ، بذریعہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز ، امریکی چئیرمین آف جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک ملن تک پہنچایا گیا ۔ اس میمو کے مطابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے امریکی حکومت سے درخواست کی تھی کہ ان کی جانب سے 2 مئی کے روز ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف کی گئی کاروائی کے بعد پاکستان میں موجود جمہوری حکومت کو ایک اور فوجی بغاوت کا خطرہ درپیش ہے ۔ آصف علی زرداری سمجھتے ہیں کہ اس وقت جنرل کیانی صرف ایڈمرل مائیک مُلن کی بات ہی سُنیں گے۔ اگر امریکی حکام جنرل کیانی اور ان کے ساتھیوں کو ایسے کسی اقدام سے باز رکھ سکیں تو آصف علی زرداری کی حکومت نہ صرف پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام پر امریکی نگرانی قبول کرسکتی ہے بلکہ امریکی حکام کی خواہش کے مطابق ایسی تحقیقات کا آغاز بھی کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے ان فوجی افسران کا کھوج لگانے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف کاروائی بھی کی جاسکے گی جو کہ اسامہ بن لادن کو پاکستان کے اندر پناہ دینے میں ملوث تھے ۔ اس کے علاوہ بھی چند ایسی رعایتوں کی پیشکش کی گئی تھی جن کا براہ راست تعلق پاکستان کی قومی سلامتی کے معاملات سے تھا ۔ یقینی طور پر یہ ایک انتہائی خوفناک کہانی تھی ۔۔۔۔ اگر یہ حقیقت تھی تو ۔ اگرچہ اس کہانی کے متعلق بہت سی باتیں منصور اعجاز کے پہلے آرٹیکل کے بعد سامنے آئیں تھیں لیکن ترتیب کی خاطر انھیں ایک ساتھ بیان کردیا گیا ہے

منصور اعجاز کے اس آرٹیکل کے بعد پاکستان میں تو جیسے ایک طوفان برپا ہوگیا۔ پاکستانی میڈیا کو ہمیشہ کی طرح ایک نئی سرکس لگانے کا موقع مل گیا اور قومی سلامتی کے رنگ میں رنگے عقابوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ایسی ایسی توجیہات پیش کرنا شروع کردیں کہ آصف علی زرداری کی گردن کا سائز ناپنا شروع کردیا گیا ۔ دوسری طرف ایسے ہی “محب وطن” لوگوں کے ذریعے صدرپاکستان تک پیغامات پہنچائے جانے شروع کردیے گئے کہ جناب استعفیٰ دے کر پتلی گلی سے نکل لیں ورنہ یہ آپ کو نہیں چھوڑیں گے ۔ 30 اکتوبر کی اس شام جب مینارپاکستان پر صاف چلی شفاف چلی کی تقریب رونمائی منعقد کروائی جارہی تھی تو اسی دوران عمران خان نامی بچے جمورے کے ذریعے حیسن حقانی کا نام پہلی دفعہ منظر عام پر لایا گیا ۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس وقت تک منصوراعجاز کی طرف سے بذات خود بھی یہ نام سامنے نہیں لایا گیا تھا ۔ دوسری طرف اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ صدر پاکستان سے ملنے کے لیے جاتے تو ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے چھڑی گھماتے ہوئے پوچھتے ” صدر صاب ایہہ کی ہویا اے؟ [ صدر صاب ۔۔۔ یہ کیا ہوگیا؟]”

بہرحال ۔۔۔ کہانی میں اچانک نوازشریف کود پڑے ۔ انھوں نے اپنے انتہائی قریبی ساتھیوں بشمول چوہدری نثارعلی خان کے مشوروں کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے کالا پینٹ کوٹ زیب تن کیا اور سپریم کورٹ میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے درخواست لے کر پہنچ گئے ۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی فوری طور پر جوڈیشل کمیشن قائم کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے حکم دے دیا ۔ حسین حقانی کو پاکستان بلایا گیا۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ان سے اس بابت پوچھا گیا تو انھوں نے صحت جرم سے انکار کردیا لیکن ان سے استعفیٰ بہرحال لے لیا گیا ۔ حسین حقانی پاکستان تو آگئے تھے لیکن اب ان کا واپس جانا بھی ایک معمہ بن چُکا تھا ۔ جب تک انھیں سپریم کورٹ کی جانب سے سفر کی اجازت نہ ملی، آصف علی زرداری نے انھیں ایوان صدر میں چھپا کر رکھا کہ کہیں “گُمشدہ” ہو کر محمودمسعود ہی نہ بن بیٹھیں ۔ اس سارے کھیل میں سیاسی حکومت کس طرح سے تماشہ بن کر رہ گئی تھی اس کا اندازہ کرنے کے لیے ایک مثال ہی کافی ہے ۔ جنرل ریٹائر ندیم خالد لودھی اس وقت پاکستان کے سیکرٹری دفاع تھے ۔ جنرل لودھی دراصل جنرل کیانی کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے ۔ سپریم کورٹ کے طرف سے تشکیل دیے گئے بنچ میں تحقیقات کے لیے جب مختلف فریقین سے بیانات حلفی مانگے گئے تو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی اپنے بیان حلفی سیاسی حکومت کے خلاف جمع کروانے کے لیے وزارت دفاع کے حوالے کردیے ۔ سیاسی حکومت چاہتی تھی کہ یہ بیانات عدالتی بنچ کے سامنے نہ جائیں کیونکہ جنرل پاشا نے ان تحقیقات کے لیے کی گئی ملاقاتوں کے لیے اپنے باس یعنی کہ وزیراعظم سے اجازت لینا بھی گوارہ نہ کیا تھا۔ لیکن سیکرٹری دفاع نے حکومتی منشاء کے خلاف نہ صرف یہ بیانات سپریم کورٹ تک پہنچائے بلکہ عدالت کے سامنے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ فوج اپنے ہر عمل کے لیے حکومتی اجازت کی تابع نہیں ۔ اپنی سیاسی حکومت کی یہ حالت زار دیکھنے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ایک طرف پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر “ریاست کے اندر ریاست” کی دہائی تو دیتے پائے گئے لیکن دوسری طرف چوہدری شجاعت اور پرویزالٰہی کے ذریعے جنرل کیانی سے صلح صفائی کی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے تھے ۔ بالآخر صلح ہوگئی اور میموگیٹ جیسی خوفناک کہانی یوں بھلا دی گئی کہ جیسے بقول چوہدری نثار ” گُڈے گُڈی ” کا کھیل ہو

حقیقت تو یہ ہے کہ ایبٹ آباد کے واقعے نے فوج کو انتہائی دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا تھا ۔ ابھی ایبٹ آباد کا قصہ تازہ ہی تھا کہ کراچی میں مہران بیس پر یوں حملہ ہوگیا جیسے ڈی ایچ اے کی کسی کوٹھی میں ڈاکو دیوار پھلانگ کر داخل ہوجائیں۔ ایک طرف فوج ایسے واقعات سے پریشان تھی کہ سلیم شہزاد کے قتل کے واقعے نے میڈیا کو بھی بے قابو کردیا ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ صرف مئی 2012 نے پاکستانی فوج کے ساتھ وہ کچھ کردیا جو کہ ان کے ساتھ گذشتہ 65 برسوں میں نہیں ہوا تھا۔ اسی ماحول میں نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن نے فوج کو آڑھے ہاتھوں لیا ۔ اگر کبھی ایبٹ آباد کے واقعے کے بعد ہونے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے ممبران کی جانب سے جنرل احمد شجاع پاشا کی ہونے والی “عزت افزائی” کی مکمل تفصیل سامنے آئی تو ہم سب یقینی طور پر جنرل پاشا سے ہمدردی کا اظہار کرنا لازمی سمجھیں گے ۔ فوج اپنے اوپر آنے والے اس بے پناہ دباو کو برداشت نہ کرپائی ۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ سیاسی حکومت نے فوج کا دفاع کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت جانی ۔ بے بسی کے اس عالم میں تنہاچھوڑ دیے جانے کا شکوہ کیا گیا تو آصف علی زرداری نے نوازشریف کے خلاف “لوہار” ، “مولوی ضیاءالحق” اور ” سی او ڈی ۔۔۔ سی او ڈی ۔۔۔ سی او ڈی ” والی مشہور زمانہ تقریر تو جھاڑ ڈالی لیکن بات کو اس سے آگے بڑھانے سے احتراز ہی برتا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مئی 2012 میں اپنے اوپر آنے والا گند فوج نے سیاسی حکومت کے سر ڈالنے کا فیصلہ کرلیا اور اسی فیصلے کے نتیجے میں میموگیٹ کی سازش نے جنم لیا ۔ اس سازش کا سکرپٹ اس قدر خوفناک تھا کہ اس کے انجام میں یہ ثابت ہوتا کہ صدرپاکستان کو 2 مئی کی امریکی کاروائی کا پیشگی علم تھا اور انھی کے حکم پر امریکی کاروائی کو روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ ہوسکی ۔ خود کو سب سے بڑا محب وطن سمجھنے والوں کو اللہ عقل و ہدایت دے کہ وہ اپنے علاوہ بھی کسی کو پاکستان کا وفادار سمجھنا شروع کردیں

میموگیٹ میں کس قدر حقیقت تھی یا یہ مکمل طور پر ایک افسانہ تھا ۔۔۔ یہ ایک الگ کہانی ہے ۔ فی الحال تو یہی کہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے اپنی ناکامیوں کا طوق آصف علی زراداری کے گلے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی مقصد کے لیے قوم کو میموگیٹ نامی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا تھا ۔ ہوا مگر یہ کہ آصف علی زرداری نے کسی بھی دباو میں آنے سے انکار کرتے ہوئے استعفیٰ تو نہ دیا لیکن خراب صحت اور بے پناہ دباو نےانھیں دوبئی روانگی پر مجبور ضرور کردیا ۔ وہ کہانی جو کہ آصف علی زرداری سے بند دروازوں کے پیچھے استعفیٰ لینے کے لیے گھڑی گئی تھی ، نوازشریف کی سیاسی چال بازی کے تحت سپریم کورٹ پہنچ گئی ۔ فوج کے لیے کاغذ کے ایک ٹکڑے کی بنیاد پر آصف علی زرداری کو مجرم ثابت کرنا ممکن نہ رہا اور استعفے کا پیغام لے کر جانے والوں کو انکار سننے کے بعد واپسی پر، بقول مشتاق منہاس، اے سی والی گاڑیوں میں پسینے آتے رہے ۔ جب کچھ نہ بن پایا تو انھیں بذریعہ چوہدری شجاعت اور پرویزالٰہی آنے والا صلح کا پیغام ہی قبول کرنا پڑا ۔ نوازشریف چند دنوں کے بعد ہی عطااللہ مینگل کے ساتھ کراچی میں بیٹھے فوج کے سیاسی کردار کے لتے لیتے پائے گئے اور باقی کسر اپنے مختلف انٹرویوز میں نکال کر کسی اشارے کے تحت سپریم کورٹ جانے کا اثر زائل کرنے میں کامیاب رہے ۔ احمد شجاع پاشا ایک اور توسیع کی خواہش دل میں ہی لیے سابق ہوگئے اور ایسا ہی کچھ انجام جنرل کیانی کا ہوا ۔ میموگیٹ کے دنوں میں آصف علی زرداری کی گردن کا ماپ لینے والے بقراطی ملازمین اس کے بعد سونامی برپا کرنے میں الجھ گئے اور ان کا سلسلہ روزگار آج تک کسی نہ کسی نت نئی کہانی سے چل ہی رہا ہے ۔ ایمان ان کے آج بھی سلامت اور وطن سے ان کی بے پناہ محبت تو روز روشن کی طرح عیاں ہی ہے

وقت مگر انتہائی ظالم چیز ہے کیونکہ یہ سدا ایک سا نہیں رہتا ۔ ایک دن آیا کہ آصف علی زرداری بھی قصر اقتدار سے روانہ ہوگئے اور اقتدار کا ہما ایک دفعہ پھر سے نوازشریف کے سر آن بیٹھا ۔ نوازشریف کے خلاف لندن پلان کی سازش گھڑی گئی تو اس کی مہاریں جس شہسوار کو تھمائی گئیں وہ بھی احمد شجاع پاشا ہی تھے ۔ اس مقصد کے لیے جب انھیں دوبئی کے حکام سے خصوصی درخواست کے ذریعے دس ماہ کی رخصت دلوائی گئی تو انھوں نے سب سے پہلے جس دروازے پر دستک دی وہ دروازہ بھی آصف علی زرداری کا ہی تھا ۔ جس آصف علی زرداری کے سامنے بیٹھے وہ ایک وقت میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ، چھڑی گھماتے ہوئے جواب طلبی کررہے تھے ۔۔۔ اسی آصف علی زرداری صاحب سے معافی کے طلبگار ہوتے ہوئےکہا کہ باس کا حکم تھا اس لیے کرنا پڑا ۔ اب نوازشریف کو گھر بھیجنا ہے ، آپ عمران خان کے ساتھ چلیں۔ آصف علی زرداری نے معافی تو قبول کرلی لیکن عمران خان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ۔ لندن پلان کی سازش کے تحت آزادی و انقلاب نامی براڈوے شو کئی ماہ تک ڈی چوک پر جھک مارنے کے بعد شرمناک ناکامی سے دوچار ہوا اور اس کے اثرات آج تک محسوس کیے جارہے ہیں لندن پلان نے نگلنا تو نوازشریف کو تھا لیکن نگل عمران خان کو گیا ۔ اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عمران خان کی مسلسل بری کارکردگی سے مایوسی کےبعد اسی جنرل احمد شجاع پاشا کو ایک دفعہ پھر سے اسی آصف علی زرداری کے پاس دوبئی میں بھیجا گیا کہ اگر آصف علی زرداری خود سیاست سے علیحدہ ہوتے ہوئے پارٹی کی لگامیں مکمل طور بلاول بھٹو کو تھمادیں تو فوج اور پیپلزپارٹی میں ایک دفعہ پھر سے صلح ہوسکتی ہے ۔ فی الحال تو بات نہیں بن سکی کیونکہ آصف علی زرداری نہ تو اعتماد کرنے کو تیار ہیں اور نہ ہی حکومت گرانے کو ۔ مستقبل میں کیا ہوگا اس کی پیشگوئی کرنا تو ممکن نہیں لیکن میموگیٹ کی آڑ میں جس شخص کی گردن کو پھندہ لگانے کی تیاریاں تھیں اسی شخص سے معافی تلافی اور مدد کا طلبگار ہونے کا یہ ایک خاصا دلچسپ اور منفرد واقعہ ہے

***************************************************

یہ منظر تھا جیونیوز کا اور ثناء بُچا کے مہمانوں میں شامل تھے عمرسرفرازچیمہ

ثناء بُچا: تیس اکتوبر کا جلسہ ، عمران خان صاحب نے بڑی اہم بات کی ۔ آج ہمیں معلوم ہے کہ 22 اکتوبر کو جنرل شجاع پاشا گئے، منصوراعجاز سےانھوں نے ملاقات کی ، میمو کی ساری تفصیلات انھوں نے حاصل کیں ۔ ہمیں یہ بات آج معلوم ہے۔ حسین حقانی صاحب کا نام ہمیں پچھلے ہفتے معلوم ہوا ہے۔ عمران خان صاحب کو یہ نام 30 اکتوبر کو کیسے پتا تھا؟

عمر سرفراز چیمہ : دیکھیں عمران خان صاحب ایک عوامی ۔۔۔۔۔۔ [ لمبی خاموشی]

ثناء بُچا : جی عمر چیمہ صاحب

رانا ثناءاللہ : ان کو اب آپ آواز نہیں آئے گی

عمر سرفراز چیمہ : ہیلو ہیلو

ثناء بُچا : جی جی آپ گذارش کیجئیے، میں سُن رہی ہوں آپ کو

عمر سرفراز چیمہ : جی میں آپ سے یہی گزارش کررہا تھا کہ تحریک انصاف کی جو پندرہ سال کی سیاسی جدوجہد ہے وہ قوم کے سامنے ہے کہ ہم نے اگر اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر اقتدار میں آنا ہوتا تو اس سے پہلے بھی ہمیں مواقع مل چُکے ہیں

ثناء بُچا : جدوجہد اپنی جگہ لیکن خفیہ معلومات جو کہ عوام کے پاس نہیں تھیں، میڈیا کے پاس نہیں تھیں وہ عمران خان صاحب کے پاس کیسے تھیں ۔ حسین حقانی صاحب نے بتایا تھا؟ منصور اعجاز صاحب نے بتایا تھا یا زرداری صاحب نے بتایا تھا؟

عمر سرفراز چیمہ : جی اس سے پہلے منصوراعجاز جو ہیں وہ فنانشل ٹائمز کے اندر لکھ چُکے تھے

ثناء بُچا : اس میں حقانی کا نام نہیں لیا تھا۔ یہ صرف اندازے تھے

عمر سرفراز چیمہ : جی میں آپ سے یہی کہہ رہا ہوں کہ منصور اعجاز یہ راز افشاں کرچکے تھے۔

ثناء بُچا : انھوں نے حقانی کا نام نہیں لیا تھا۔ 13 نومبر تک نہیں لیا تھا۔ مجھے یہ بتادیں کہ 30 اکتوبر کو عمران خان صاحب کو یہ نام کیسے پتا تھا؟

عمر سرفراز چیمہ : آپ یہ دیکھیں کہ عمران خان صاحب ایک عوامی لیڈر ہیں اور یقینا ان کے ایسے ذرائع ہیں جن سے انھیں ایسی اطلاعات موصول ہوتی ہیں۔

ثناء بُچا : کون سے ذرائع؟ اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع؟؟

جیونیوز کے پروگرام “لیکن” کے 20 نومبر 2011 کی قسط سے اقتباس

***************************************************

پسِ تحریر: فیکٹری کے گھگو پر جل اٹھنے والی چند مزید ٹرک کی بتیوں کا ذکر آئندہ نشست میں بھی جاری رہے گا

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ دوئم پڑھیئے

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ سوئم پڑھیئے

فیکٹری کا ” گھُگو” اور ٹرک کی بتیاں – حصہ چہارم پڑھیئے

11 thoughts on “Factory Ka Ghughu

  • January 23, 2016 at 12:12 am
    Permalink

    wowwww, can’t wait to read next part. keep it up mudassir bahi.

    Reply
  • January 23, 2016 at 1:11 am
    Permalink

    Truly gripping..from very start to end…thirst increased to know more behind the scenesl complete stories
    Well done and well written Mudassir Iqbal sb

    Reply
  • January 23, 2016 at 3:58 am
    Permalink

    ہمیشہ کی طرح بےحد دلچسپ تحریر پڑھ کے اگلے حصے کا انتظار ہے اب ?

    Reply
  • January 23, 2016 at 6:34 am
    Permalink

    You never disappoint Midassar, live long and prosper.

    Reply
  • January 23, 2016 at 8:07 am
    Permalink

    زبردست اگلی قسط کا انتظارہے

    Reply
  • January 23, 2016 at 10:21 am
    Permalink

    Zardari nama , as if he’s the best & flawless person on earth

    Reply
  • January 23, 2016 at 2:20 pm
    Permalink

    سگنیچرمدثر بلاگ…زبردست…کیا سچ ھے کیا نہیں، یہ شائد عام آدمی کو کبھی معلوم نہ ہو پائے مگر کڑیاں مِلانے کا فن آپ اچھی طرح جانتے ھیں.

    Reply
  • January 23, 2016 at 3:06 pm
    Permalink

    Nailed so beautifully the whole. A brilliant writeup cracking the reality, from past to present.
    ALLAH keray zorr e qalam aur ziyada

    Reply
  • January 26, 2016 at 8:39 pm
    Permalink

    Brilliant Write Up sir.

    Reply
  • Pingback:Factory Ka Ghughu – 2 – Chaikhanah

  • January 30, 2016 at 3:53 am
    Permalink

    میرا نہیں خیال کہ تمام ٹویپس میں سے بلاگنگ کا استعمال مدثر سے بہتر کوئی کر رہا ہے۔ کیپ اِٹ اَپ

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.